عالمی ادب

ناول پر تبصرہناول: Burnt Sugarمصنفہ: اونی دوشی (Av…

ناول پر تبصرہ
ناول: Burnt Sugar
مصنفہ: اونی دوشی (Avni Doshi)
تبصرہ نگار : شاہدہ باری
انگریزی سے اردو ترجمہ: ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی (نیوزی لینڈ)
۱۹۷۰ کی دہائی میں برطانوی بچوں کے ڈاکٹر اور نفسیاتی تجزیہ نگار ڈونالڈ وینیکاٹ( Donald Winnicott ) بچوں کی پرورش کے بارے میں بتاتا ہے کہ والدین کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایثار و قربانی کی مثال بنا دیں ، بلکہ بس کافی اچھے تعلقات رکھیں ۔ ایک ماں کو چاہیے کہ بچہ کی آواز پر فوری اس کے لیے اس کی خوراک لیکر دوڑنے کی بجاے ایک “ کافی اچھی” ماں اسے رونے دیگی تا کہ وہ مایوسی اور توقعات کی حقیقت کو جان لے۔لیکن ایک بری ماں سے کیا سیکھا جا سکتا ہے ؟
اونی دوشی کے بکر پرائیز کی آخری فہرست میں شامل ناول میں تارا اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑنے کو ترجیح دیتی ہے چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نا ادا کرنی پڑے۔۱۹۸۰ کی دہائی کی بےچین ، غیر مطمئین عورت ایک مقامی آشرم کے گرو کی اس قدر شیدائی بن جاتی ھیکہ وہ اپنے بچے کو نظرانداز کر دیتی ہے اور اپنی شادی کو ہی ختم کر دیتی ہے۔اپنی بیٹی انترا کے لیے ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی ندامت کے ، ایک غائب دماغ ، لاپرواہ سی ماں رہی۔ انترا نے آگے چل کر غیر جانبدارانہ انداز میں بتایا کہ کیسے "وہ ہر دن اسے بغیر دودھ پلاے ، ٹپکتے ہوے دودھ کے ساتھ غائب ہوجایا کرتی تھی۔"
تین دہائیوں بعد جب تارا ذہنی مرض(dementia)کی شکار ہوگئی تب ، بڑی ہوچکی انترا اسے اپنے گھر لے آئی۔ انترا کی اندرونی الجھن ہی دراصل ناول کا مرکزی موضوع ہے : کوئی کیسے اس ماں کی دیکھ بھال کرسکتی ہے جو تمھاری دیکھ بھال کرنے میں ناکام رہی ؟ انترا بلا ہچکچاہٹ خود کا جائزہ کچھ اس طرح لیتی ھیکہ سانس حلق میں رکنے لگتی ہے۔" میں جھوٹ بولونگی اگر میں یہ کہوں کہ میری ماں کی تکلیفوں نے مجھے خوشی نہیں دی ،" اس نے بڑے اطمینان سے کہا۔
ناول مغربی ہندوستان کے شہر پونے میں واقع ہوتا ہے -اور منظر ایک کے بعد دیگرے تبدیل ہوتے رہتے ہیں ___ ماضی کے وہ منظر جہاں چھوٹی سی انترا کیسے اس کے ساتھ کی جانے والی تکلیف اور غفلت کو برداشت کرتی ہے ، اور آج کا وقت جہاں انترا ایک متوسط طبقہ کی خوشحال زندگی گذار رہی ہے اور حال ہی میں دلیپ سے شادی کر لی۔ دونوں ایک ماڈرن اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں ، پارٹیاں کرتے ہیں ، خانگی ممبران کے کلب میں لنچ کرتے ہیں۔ چھوٹی سی انترا ، اس کے برعکس ، بے بس و لا چار جب تارا گھرچھوڑ کر آشرم میں مستقل رہائش اختیار کر لیتی ہے۔وہ انترا کو ساتھ لیجاتی ہے اور بہت دکھ کے ساتھ دوشی تفصیل بتاتی ہیں ،چھوٹی سی بچی اکیلی بھوک اور پیاس سے تڑپتی ، صحن میں پڑی گیلی توشک پر سو جاتی جہاں رات بھر گرو کے جنونی چیلوں کی چیخ و پکار چلتی رہتی۔
اونی دوشی … مادریت کی گھٹن کی تلاش کررہی ہے۔ فوٹو : ۲۰۲۰ بکر پرائیز / شیرون ہری داس/پی اے
دوشی اس خفیہ گرو کو مبہم انداز میں “ بابا” کہتی ہیں، لیکن آشرم میں ہونے والی اس کی خفیہ حرکات اس متنازعہ بھگوان شری رجنیش ( نیٹ فلکس پر سلسلہ وار خاکہ ‘وائلڈ وائلڈ کنٹری ‘ میں مصدقہ طور پر پیش کیا گیا) کے پیروکاروں کی حرکتوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔ ناول کے ان ماہرانہ قابلیت سے بھرپور حصوں میں وہ پجاریوں کے عجیب و غریب برتاؤ کا ذکر کرتی ہیں ___ بیوقوفوں کی طرح ہنسنا ، تالیاں بجانا ، ادھ ننگے بھکت فرش پر لوٹتے ہوے ، شوقیہ طور پر آنے والے مغربی بھکت کرتے کے ساتھ جینس پہنے ، بابا کے پیروں کو پکڑے روتی ہوئی عورتیں۔انترا کے نقطہ نظر سے لکھتےہوے دوشی اپنے قارئین کو دو طرح سے وہ منظر دکھانا چاہتی ہیں ، ایک تو اسی کے چشمہ کے ذریعہ اس کی بچکانہ عدم فہمی ، اور دوسرے ایک عجیب سا تصوف۔
آشرم کے منظر ، بہت حد تک ناول کا دلچسپ اور پیچیدہ حصہ ہیں، لیکن دوشی ، مایوسی کے ساتھ ، ہمیں وہاں زیادہ دیر ٹھہرنے نہیں دیتیں ، شائد اس لیے کہ وہ نہیں چاہتیں کہ قاری وہاں کی ہولناکی اور نفس پرستی کے ماحول میں ملوث ہو۔ان کی دلچسپی اس میں ھیکہ کیسے اس بیہودہ ماحول سے تارا آزادی حاصل کرتی ہے ، اور یہ کہ کتنا مشکل ہوتا ہے انترا کے لیے یہ سمجھنا کہ اس کی ماں کے حصول خود مختاری ، اور اس کے خودغرضانہ عمل کے درمیان کیافرق ہے۔
جب بابا مرتا ہے ، تارا سات سالہ انترا کو بری طرح پیٹتی ہے اور اسے “ موٹی کتیا “ کہتی ہے۔تارا ایک عفریت ہے ، لیکن دوشی کے ناول کی خصوصیت یہ ھیکہ وہ صرف اس کی شیطانیت کی ہی مزاحمت نہیں کرتی بلکہ دوشی کی منفرد اور غیر جذباتی انداز تحریر کچھ اور ہی جھلک دکھاتی ہے : مادریت کی گھٹن اور مایوسی کا احساس اتنا طاقتور کہ، “ وہ خود کو دیوار سے ٹکرا کر خاموشی سے تنہائی میں روتی رہتی ہے۔”
آگے جب انترا اسے خودغرضی کے لیے قصوروار ٹھہراتی ہے ، تارا کے “چہرے کے تاثرات اپنے زخموں کی طرف جاتے ہیں اور فوری واپس ہو جاتے ہیں”۔وہ جواب دیتی ہے، “ خود کے بارے میں سوچنے میں کوئی غلطی نہیں ہے۔” تارا شادی کے استحقاق سے مزاحمت کرتی ہے ، اور مادریت کے تقاضوں سے انکار کرتی ہے۔وہ معذرت کرنے سے بھی انکار کرتی ہے۔ایسے حالات نے انترا کو سخت مشکل میں ڈال دیا۔اسے تعجب ھیکہ “ آخر یہاں سے کہاں جائینگے ہم؟” لیکن یہ ایک تعطل ہے جہاں وہ خود کو کھڑا پاتی ہے۔وہ اپنی نوزائدہ بچی کے ساتھ سخت جدوجہد کرتی ہے ، اور قبول کرتی ھیکہ ، “ میں تو تھک چکی ہوں اس بچی سے”۔ وہ چاہتی ھیکہ بچی چلنے لگے ، کھانے لگے اور نہا بھی لے ، “ خود کی زندگی جیے ، اور آہستہ آہستہ دنیا میں داخل ہو جاے ، اس کا حصہ بن جاے۔”
مخبوط الحواسی ، دراصل ناول کی سب سے بڑی مشکل ہے جو دوشی بے حد سمجھداری سے سنبھالتی ہیں۔اگرچہ کہ تارا کی بیماری ان کے رشتوں کی بازیافت کرتی ہے لیکن انترا کو وہ بحالی نصیب نہیں ہوتی جس کی اسے ضرورت ہے۔وہ اس بات پر توجہ دیتی ھیکہ وہ جب بھی تارا کا ذکر کرتی ہے تو فعل ماضی کا استعمال کرتی ہے، کیونکہ “ میں غمگین ہوں” ، اور غور کرتی ہے ، “ لیکن خود کو جلانا قبل از وقت ہے۔” مخبوط الحواسی کا کوئی بدل نہیں ہے ، کوئی حل نہیں ہے۔ تارا کی بگڑتی ہوئی یادداشت نے ان کے مشترکہ ماضی کو پوری طرح سے مٹا دیا ، دونوں طرح کی یادیں __ چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور گہرے زخم ، لیکن انترا ابھی تک ان کے ساتھ جی رہی ہے ، نبھا رہی ہے ، لیکن معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس کی ماں بڑی تیز زبان اور کڑوے انداز میں کہتی ہے ، “ میری بجاے تم اپنے پاگل پن کی فکر کرو۔” یہ صحیح ھیکہ والدین کی غلطیوں کی وجہ سے ہونے والی ناانصافی جو بچوں کی ناکامی کا باعث ہے ،پاگل پن ہی ہے۔اور یہ ناقابل علاج ہے ، لیکن حل ہے ، ناول کے آخری مناظر میں ، اڑیل اور ضدی سمجھ۔یہ ایک دانشورانہ آغاز ہے ، اور بکر پرائیز کی آخری فہرست کی صحیح معنوں میں مستحق۔ Burnt Sugar ماؤں اور بیٹیوں کی ایک غمگین ، متشکک ، اور جوش سے بھری سچائی ہے۔

— with Sahba Shazli.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2958701701027010

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/