عالمی ادب

دی لاٹری ______ (The Lottery) “ساؤتھ افر…

دی لاٹری ______ (The Lottery)
“ساؤتھ افریقہ میں اس سٹوری کو بین کردیا گیا تھا”
تصنیف: ۔ شرلے جیکسن
اردو تلخیص:۔ ماجد اقبال چودھری
(شرلے جیکسن (Shirley Hardie Jackson) 14 دسمبر 1916 کو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں پیداہوئیں اور 8 اگست 1965 میں وفات پائی۔انہوں نے ۲۰۰ سے زائد شارٹ سٹوریز لکھیں ۔لاٹری (Lottery )کو بہت زیادہ پذیرائی ملی یہ کہانی Dystopian لٹریچر کا حصہ ہے جبکہ ساؤتھ افریقہ میں اس سٹوری کو بین بھی کردیا گیا تھا یہ 1948 میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی۔)
کہانی کی ابتدأ ہوتی ہے 27 جون سے،ایک نکھرے شفاف دن کے آغازکے ساتھ ،مطلع بالکل صاف اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ۔ ایک گمنام گاؤں میں بر لبِ جو پنڈال سجا تھا جہاں گاؤں کے لوگ جمع ہو رہے تھے یہ وسیع پنڈال ڈاکخانہ اور بینک کے وسط میں واقع ہے۔لوگ لاٹری کے لئے جمع ہو رہے تھے اس گاؤں میں لاٹری کا انعقاد ہر سال 27 جون کو ہوتا ہے۔جبکہ دیگر دیہاتوں ہیں یہ لاٹری26,27 جون دو دن تک چلتی ہے لیکن چونکہ یہ کم و بیش 300 نفوس پرمشتمل ایک چھوٹا گاؤں ہے اس لئے یہاں لاٹری کاعمل ایک ہی دن دو گھنوں میں مکمل ہو جایاکرتا ہے ۔
سب سے پہلے بچے پہنچنا شروع ہوئے آج کل موسمِ گرما کی چُھٹیاںں ہیں بچے سکو ل اور کتابوں کے بارے باتیں بھی کرتے جارہے تھے۔ان میں ایک بچہ تھا “بوبی مارٹن”اس نے اپنی جیب میں بہت سے گول گول پتھر بھر لئے ، دوسرے بچے بھی پتھر جمع کرنے میں لگے تھے بچوں نے مل کر ایک طرف پتھروں کا ڈھیر لگا لیا تھا بچوں میں لڑکیاں بھی تھیں جو آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ لوگ اکٹھا ہونا شروع ہو گئے تھے وہ ٹریکٹر ٹرالی ،زراعت ،بارش ، ٹیکس ،فصلوں اور ان کی کاشت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے وہ ہلکا ہلکا زیرِ لب مسکرا تے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے لیکن کھل کر کوئی بھی نہیں ہنس رہا تھا۔ پھر عورتیں بھی آنا شروع ہوگئیں، خواتین نے معمول کے گھریلو لباس زیبِ تن کئے ہوئے تھے وہ دھیرے دھیرے باتیں کرتی ہوئیں اپنےاپنے شوہروں کے پہلو میں آکر کھڑی ہوگئیں ۔ وہ بچوں کو اپنی طرف بلاتیں ہیں شروع میں بچے ان سُنی کرتے ہیں چار پانچ بار بلانے پر بچے والدین کے پاس آجاتے ہیں۔اس کے بعد قرعہ اندازی کا عمل شروع ہوتا ہے اس لاٹری کے منتظم مسٹر ثمرز(Mr.Summeres) ہیں۔ مسٹر سمرز(Mr.Summeres) کا گول بیضوی چہرہ تھا اور یہ کوئلے کا کاروبار کرتے تھے لوگوں کے دلوں میں ان کو لیکر ہمدردی موجود تھی ایک تو ان کی بیوی بیمار رہتی تھی دوسرا یہ بے اولاد بھی تھے وہ لوگوں کے بیچ لکڑی کا ایک کالے رنگ کا بکس لے کر آگئے، گاؤں والے آپس میں بات کرنے لگے۔ وہ سب سے معذرت کرتے ہوئے بولے آج تھوڑی دیر ہوگئی،ان کے پیچھے پیچھے گاؤں کے پوسٹ ماسٹر مستر (Mr.Graves) پہنچ گئے ان کے ہاتھ میں ایک تین ٹانگوں والا سٹول بھی تھا پنڈال کے درمیان میں اس کالے ڈبے کو سٹول پر رکھ دیا گیا۔سب گاؤں والے فاصلے پر ارد گِرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے۔مسٹر سمرز بولے”آپ میں سے کوئی میری مدد کرے گا”؟ گاؤں والے کُچھ نہیں بولے،وہ ہچکچا رہے تھےکہ مسٹر مارٹن اور اس کا بڑا بیٹا آگے بڑھے بکس کو پکڑنے کے لئے جس میں مسٹر سمرز قرعہ اندازی کی پرچیاں ڈال رہے تھے جو گذشتہ رات انہوں نے پوسٹ ماسٹر سے مل کر بنائی تھیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس گاؤں میں لاٹری کی یہ روایت ایک لمبے عرصے سے چلی آرہی تھی،اس کا اصلی سامان تو کہیں کھو گیا ہے یہ سٹول بھی گاؤں کے کسی بوڑھے آدمی کا ہے،وہ بھی اس لاٹری میں شریک ہے ۔ مسٹر سمرز نے کئی بار بولا ہے کہ نیا بکس بنوا لیتے ہیں گاؤں کی آبادی اب زیادہ ہو گئی ہے لیکن گاؤں والے اپنی روایات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے۔ مسٹر سمرز نے گذشتہ رات جو قُرعے پوسٹ ماسٹر سے مل کے بنائے تھے وہ اس نے اپنی کمپنی کے سیف میں رکھے تھے جس میں ہر خاندان کے سر براہ کے نا م کی پر چی تھی لاٹری شروع ہونے لگتی ہے اسی دوران مسز ہچنسن(Mrs. Hutchunson.)وہاں پر آئی اور بولی”میں تو بھول ہی گئی تھی کہ آج دِن کیا ہے؟میں نےکھڑکی سے دیکھا تو باہر کوئی بھی نہیں تھا بچہ نہ بڑا،تب مجھے یاد آیا کہ آج تو 27 جون ہے پھر میں بھاگی بھاگی یہاں پر آئی” مسٹرسمرز ہنس کر بولے مجھے تو لگا تھا کہ اس مرتبہ لاٹری کا انعقاد مسز ہچنسن کےبغیر ہی ہو گا۔ “اور کوئی ہے جو ابھی تک نہیں آیا یہاں پر”؟ مسٹر سمرز نے مجمع سے پوچھا۔ایک آواز آئی Dunbars “Dunbars وہ نہیں آ سکا،اس کا پاؤں ٹوٹ گیا ہے،پر اس کی پرچی کون نکالے گا؟ ایک خاتون آگے نکل کر بولتی ہے”میں” میں نکالوں گی “ڈن بر” کی پرچی؟ مسٹر سمرز کے علم میں تھا کہ جب گھر کا سر براہ شریک نہ ہو تو اس کی جگہ اس کی بیوی پرچی نکالتی ہے پھر بھی اس نے مسز ڈن برسے پوچھ لیا تمہارابیٹا کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا “اوہ ابھی سولہ سال کا نہیں ہوالہذا قوائد کے مطابق وہ پرچی نکالنے کا اہل نہیں” ٹھیک ہے مسٹر سمرز نے کہا۔ پھر مسٹر سمرز کہتے ہیں واٹسن کہاں ہے؟ اس کی پرچی کون نکالے گا؟واٹسن کا بیٹا جیک واٹسن تھوڑا نروس ہو کر آگے آتا ہے ،گاؤں کے لوگ جیک کی تعریف کرتے ہیں کہ کتنا اچھا لڑکا ہے اپنی ماں کے لئے پر چی نکالے گا۔اب مسٹر سمرزسوال جواب کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے لاٹری کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھتےہیں، سارے پنڈال پہ خا موشی ہے مسٹر سمرز بولتے ہیں “میں باری باری اونچی آواز میں ہر خاندان کے سربراہ کا نام پکاروں گاوہ سامنے آئے گا اور اپنے نام کی پرچی نکال کے اپنی جگہ پر جا کر کھڑا ہوجائے گا پرچی اپنے ہاتھ میں رکھنی ہےکسی کو دکھانی نہیں جب تک کہ ہم پر چی کھولنے کا نہیں کہتے ”سب کو اس قائدے کا پتہ تھا کیونکہ سالوں سے یہ روایت چلی آرہی تھی لہذا ادھوں نے تو اس کو ڈھنگ سے سُناہی نہیں اگلا مر حلہ شروع ہوتا ہے سب سے پہلے”ایڈم” Mr.Adams کا نام پکارا جاتا ہےاپنے نام کی پرچی نکالتا ہے اور سیدا جا کر اپنی جگہ پر کھڑا ہو جاتا ہے وہ پر چی کی طرف دیکھتا بھی نہیں ایک ایک کر کے سب کے نام پکارے جاتے ہیں Mr. Dunbar’s,Jenny Watson,اور Mr.Graves وغیرہ۔سب لوگ اپنی اپنی پرچی ہاتھوں میں لئے کھیل رہے تھے اسے ہاتھوں میں گھما رہے تھے۔ مسز ہچنسن کے خاوند Mr.Hutchinson کوبلایا گیامسز ہچنسن اپنے خاوند کوکہتی ہے کہ جاؤ۔
یہاں Steve Adams گاؤں کے اس بوڑھے آدمی(جس کی یہ تین پیروں والی سٹول تھی)کی طر ف متوجہ ہو کر بولا”شمال کی طرف ایک گاؤں ہے اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ لاٹری کے اس رواج کو ختم کرے گا” بوڑھا آدمی جواب میں بولا”وہ لوگ پاگل ہیں شائد ان کی نوجوان نسل چاہتی ہی نہیں کہ وہ کوئی کام کریں،وہ غاروں کے زمانے میں رہنا چاہتے ہیں وہ بولا “لاٹری جون میں ہونے کا مطلب ہے اچھی فصل ہونااس میں کچھ غلط نہیں ہے سالہا سال سے ایسے ہوتا چلا آرہا ہے”ایڈم کہتا ہے کہ “ میں تو صرف آپ کو بتا رہا تھاکہ کافی سارے لوگوں نے لاٹری بند کردی ہے”وہ بوڑھا کہنے لگا “میں خود اپنی77ویں لاٹری یہاں نکالنے آیا ہوں”خیر جب سب نے اپنی اپنی پرچی اٹھائی تو مسٹر سمرز نے کہا سب ٹھیک ہوگیا ہے ۔سارے خاموش ہوگئے اب سب پرچیاں کھولی جائیں۔ چہ
مگوئیاں ہونے لگیں کہ کون نکلا ؟کس کی پرچی نکلی؟تو آواز آئی بِل ہچنسن، بل ہچنسن (Bill Hutchinsn) نے اپنی پرچی نیچے کر لی۔ مسز ہچنسن چلائی کہ مسٹر سمرز آپ نے مسٹر ہچنسن کو پرچی نکالنے کا پورا وقت نہیں دیا؟یہ ٹھیک نہیں ہے ؟ وہ چلاتی رہی۔اس کے ساتھ کھڑی خاتون اسے کہتی ہے”سب کو برابر کا وقت دیا گیا ہے پر چی نکالنے کا”مسٹر ہچنسن اپنی بیوی کو کہتے ہیں چُپ رہو۔مسٹر سمرز بولے شروع کرتے ہیں مسٹر ہچنسن اس بار آپ کی فیملی کا نمبر ہے۔ مسز ہچنسن چلائے جارہی تھی مسٹر سمرز یہ صحح نہیں ہے آپ نے پورا وقت نہیں دیا مسٹر ہچنسن کو، مسٹر سمرز پوچھتے ہیں بِل ہچنسن سے”آپ تیار ہیں ؟ تاکہ لاٹری کا آخری مرحلہ شروع کیا جائے؟مسٹر ہچنسن اثبات میں سر ہلا دیتے ہیں۔تب چھوٹے بچوں سمیت ان کے گھر کے تمام افراد کے نام کی پر چیاں بنائی گئیں۔اور پھر ایک ایک کرکے گھر تمام افراد سے پرچی نکلوائی گئیں ، یکیے بعد دیگرے پرچیاں کھولی گئیں۔سب سے پہلے چھوٹی بچی کی پرچی کھولی گئی جو بالکل خالی نکلی ،بِل ہچنسن کی پرچی کھولی گئی تو خالی،دوسروں کی کھولی گئی تو خالی ۔آخر میں مسز ہچنسن نے پرچی نکالی تو اس پہ وہ سیا نقطہ “black Dot” تھا جو گذشتہ رات مسٹر سمرز نے بیٹھ کر بنایا تھا کہ کس کا نام آیئے گا؟ آخری پرچی بچی تھی جو مسز ہچنسن کے نام نکلی۔چلو ! اب سب کچھ طے ہوگیا اس سال جس کے نام قرعہ نکلا ہے اسے پتھروں سے مارا جائے گا سب نے اپنے اپنے پتھر اٹھا لئےبچوں نے بھی حتی کہ مسز ہچنسن کی چھوٹی بیٹی بھی پتھر لئے تھی اپنے ننھے ہاتھوں میں اپنی ماں کو مارنے کے لئے۔ مسز ہچنسن نے اپنی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈھک لیا اور بولی “یہ صحح نہیں ہے،یہ صحح نہیں ہے”تبھی ایک بڑا سا پتھر اس کے سر پہ آکر لگا وہ چلائے جا رہی تھی یہ غلط ہے ،یہ غلط ہے جبکہ گاؤں والے مسلسل اس پر پتھر برسارہے تھے ……!
(یوں اس سال27جون کی لاٹری کا انعقاد مکمل ہوگیا)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2831271450436703

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/