عالمی ادب

#یوم_پیدائش #فیودر_دوستوفسکی ایک مغربی نقاد طالس…

#یوم_پیدائش
#فیودر_دوستوفسکی

ایک مغربی نقاد طالسطائی اور دوستوفسکی کا مقابلہ کرتے ہوئے کہتا ہے :

" دوستوفسکی کو دولت سے محبت تھی یا وہ یہ سمجھتا تھا کہ اسے دولت سے محبت ہے، مگر دولت کو اس سے قطعاً محبت نہیں تھی۔۔ طالسطائی دولت سے نفرت کرتا تھا یا وہ یہ سمجھتا تھا کہ اسے دولت سے نفرت ہے، مگر دولت کو اس سے نفرت نہیں تھی۔۔ روپیہ پیسہ خودبخود اس کی طرف کھینچا آتا ہے۔۔ "

طالسطائی صحت مند اور تندرست تھا مگر دوستوفسکی سدا بیمار رہا۔۔ وہ مرگی جیسے موذی مرض کا شکار تھا۔۔ اس کے پہلے دورے اسے سائبیریا میں پڑے تھے۔۔ یہ مرض اسے باپ سے وراثت میں ملا تھا۔۔

دوستوفسکی زندگی بھر مفلس رہا۔۔ قرض خواہ ہمیشہ اس کے پیچھے پیچھے لگے رہتے تھے اور وہ ان کے آگے آگے بھاگتا رہتا تھا۔۔

یہ سچ ہے کہ اس کی زندگی بہت دکھ بھری تھی لیکن اگر وہ ضروریات زندگی سے بے نیاز ہوتا، اس کے پاس آرام کی زندگی بسر کرنے کے لئے دولت ہوتی، تو اس کی شہرہ آفاق تصانیف کبھی معروض وجود میں نہ آتیں۔۔

اگر اس نے تکلیفیں نہ سہی ہوتیں تو دوستوفسکی کے نام سے آج کوئی بھی واقف نہ ہوتا۔۔

دراصل " غریب لوگ " ، " مردوں کا گھر " ، " جرم و سزا " ، اور " کرامزوف برادران " اس کے روحانی اور جسمانی دکھ ہیں، جن کو اس نے اپنے مضطرب قلم سے کاغذوں پر منتقل کر لیا۔۔۔

وہ دنیا کا سب سے بڑا ناول نویس اس لئے ہے کہ اس نے ظلمت کے اتھاہ سمندر میں غوطے لگا کر روشنی کی کرنیں باہر نکالیں، جو سدا اپنا نور پھیلاتی رہیں گئی۔۔!!

••••••
تحریر : سعادت حسن منٹو
حوالہ : فیودر دوستوفسکی، فکر، فن اور ادب کا مطالعہ
مرتب : توقیر احمد رضا
انتخاب و ٹائپنگ احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2932591153638065

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/