ایک دفعہ میں کسی گنجان شہر سے گزرا۔۔!! ایک دفعہ م…

ایک دفعہ میں کسی گنجان شہر سے گزرا۔۔!!
ایک دفعہ میں کسی گنجان شہر سے گزرا
ایک رونق تھی عیاں شہر کے بام و در سے
فن تعمیر کی تابندہ مثالیں دیکھیں
شہر کی رسم و روایات بھی تھی پیش نظر
مری آنکھوں نے اس انداز سے سب کچھ دیکھا
کہ میرے ذہن میں باقی رہے ہر چیز کا نقش
تاکہ اس نقش سے کچھ کام لوں آگے چل کر
اب جو کرتا ہوں نظر ذہن کے تہہ خانوں پر
تو وہاں نقش کسی چیز کا موجود نہیں
شہر کی یاد دھند لکے میں یوں پیوست ہوئی
جیسے بھولا ہوا قصہ ہو، یا گم گشتہ خیال
گو مرے ذہن کو اس شہر سے کچھ ربط نہیں
بات اک ایسی ہے جو دل سے نکلتی ہی نہیں
اور وہ بات اس شہر سے وابسطہ
یاد آتا ہے اسی شہر کی اک عورت نے
روک رکھا تھا مجھے کیونکہ محبت تھی اسے
شہر کو بھول گیا، اس کو نہ میں بھول سکا
دن گزرتے گئے اور جذبہ باہم کی بنا
پختہ تر ہوتی گئی صبح اور ہر شام کے ساتھ
قرب باہم کے لئے کوئی رکاوٹ نہ رہی
محو ہوئی جاتی ہے گو حافظے سے شہر کی بات
غرق تھی جذبہ الفت میں مگر وہ عورت
جو مری ذات پیوستہ ہوئی جاتی تھی
ہم کبھی شوق کے جذبے میں بہک جاتے تھے
ہاتھ سے ہاتھ چھڑا لیتے کبھی ہم دونوں
پھر اسی جذب محبت کا سہارا لے کر
اس نے پھر ہاتھ دبایا مرا اصرار کے ساتھ
" مجھ سے تم دور نہ ہو، آؤ مرے ساتھ رہو "
آج بھی دیکھتا ہوں میں اسے اس عالم میں
کہ مرے پاس کھڑی ہے لب خاموش کے ساتھ
پیکر حزن بنی، کانپتی تھراتی ہوئی۔۔!!
••••
شاعر : والٹ وِھٹ مین
کتاب : والٹ وِھٹ مین کی 21 نظمیں
مترجم : عبدالروف
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2922940424603138



