عالمی ادب

"میٹامورفوسس” ___ Metamorphosis ناول نگار فر…

"میٹامورفوسس” ___ Metamorphosis
ناول نگار فرانز کافکا
اردو:_ ماجد اقبال چودھری
-< مرکزی خیال > –
ناول میٹامورفوسس میں کردار”گریگر سمسا”Gregor Samsa تبدیلی کی علامت ہے، جس میں وہ ایک بڑےکیڑے میں تبدیل ہوجاتا ہے،تبدیلی ایک شخص کی زندگی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہےتبدیلی وہی ہےجو کسی کی زندگی کو معمول سے مختلف بنادے اوریہ کہ زندگی کی روانی کو برقرار رکھنے کے لئےافراد کے رویوں میں بدلاؤ کی ضرورت ہے فرنز کافکا نے اس کہانی میں قاری کو زندگی کی تلخ حقیقت دکھانے کی کوشش کی ہےجدید معاشرے میں رشتوں اور تعلقات کا دارومدار اس بات پر ہےکہ آپ دوسرے کے لئے کتنے مفید ہیں؟ اگر آپ مفید نہیں تو پھر دوسروں کے نزدیک آپ میں اور ایک کیڑے مکوڑے میں کوئی فرق نہیں۔”
تلخیص:_
اس کہانی کا مرکزی کردار “گریگر سمسا”(Gregor Samsa) ہے۔ایک دن وہ صبح سو کر اُٹھا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ “کوکروچ” بن گیا ہے ایک بڑا سا کاکروچ۔اسے لگا وہ خواب دیکھ کے ہٹا ہےلیکن وہ جلد ہی سمجھ گیا کہ یہ خواب نہیں اصل میں ایسا ہوا ہےوہ کمرے میں ادھر اُدھر نظر دوڑاتا ہےتاکہ اس کے کپڑے مل جائیں جنہیں پہن کر وہ اپنے دفتر جاسکے کام پہ جانے کا الارم بج چکا ہے۔یہ ایک ٹریول ایجنسی میں ملازم ہےوہ کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے اور اداس ہو جاتا ہے کہ آج کا دن اچھا نہیں ہے وہ واپس بستر پہ آکر سونا چاہتا ہےلیکن اسے جو کاکروچ کی شکل میں نیأ وجود ملا ہے اس کے ہوتے وہ صحیح طرح سے سو نہیں پا رہا اور خود کو بے آرام محسوس کرتا ہےاپنے پیٹ پہ خارش کرنا چاہتا ہے لیکن کر نہیں پاتا اس حا ل میں بھی یہ اپنے کام اور اپنے باس کے بارے میں فکر مند ہےکیونکہ گھر چلانے کی ساری ذمہ داری اسی کے کندھوں پر ہے اسےپورا کرنے کے لئے کام تو بہر حال کر نا ہے اس کی فیملی پر قرض کا بڑا بوجھ ہے جو سالوں کام کرنے کے باوجود ادا نہیُں کر سکا یہ سوچتا ہے کہ اگرمزید کچھ سال کام کرے تو قرض اتار سکے گالیکن ہوا یہ کہ الارم بجنے کے باوجود یہ اُٹھ نہیں پایا اور آج صبح پانچ بجے والی ٹرین بھی نکل گئیں اور پچھلے پانچ سال سے اس نے ایک بھی چھٹی نہیں لی آج اسے پہلی باربیماری کی چھٹی لینی پڑے گی اس کی ماں بھی سوچتی ہے کہ آج بیٹا اُٹھا نہیں وجہ جاننے کے لئے وہ اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اسے اچھا محسوس ہوا کہ ماں آگئی ہےاب کچھ کرے گی دروازہ اندر سے لاک تھا باپ اور بہن بھی آ جاتے ہیں ماں زور سے کھٹکھٹاتی ہے دفتر کا ہیڈ کلرک اور دیگر کو لیگ بھی پہنچ گئے ڈاکٹر کو بلایا جائے ماں کہتی ہے گیگر بیٹا جواب دو کچھ تو بولو! اس سے اٹھا نہیں جارہا تھاوہ سوچتا ہے کہ ایک بار اُٹھ جاؤں تو بہتر محسوس کروں گا لیکن کا کروچ والے نئے جسم کے ساتھ نمٹنا اسے مشکل لگ رہا تھاکہ اٹھنے کی کوشش میں اپنے آپ کو زخمی نہ کر بیٹھے وہ پھر سے کوشش کرتا ہے کہ اُٹھ پاؤں اور دروازے کا لاک کھول سکوں کافی کوشش بسیار کے بعد بالآخر دروازہ کھولنے میں کا میاب ہو جاتا ہے باہر کھڑے ہوئے سب لوگ رونے لگے اسے کیا ہو گیا ہے گریگر ایک بڑا سا کاکروچ بن گیا ہے سارا دن پریشانی اور رونے دھونے میں بیت گیابیٹے کی بری حالت دیکھ کرباپ نے بیڈ تک پہچانے کے لئے سہارا دیا۔اگلے دن صبح جب یہ اٹھا تو کیا دیکھتا ہے کہ کمرے کے باہر اس کےگھر والوں نے ایک دودھ کا پیالا اور بریڈ رکھ دی تاکہ بیٹا بھوک سے مر نہ جائے اس نے کھانے کی کوشش کی لیکن کھا نہیں پایا حالانکہ یہ اس کی پسندیدہ چیزیں تھیں لیکن آج اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ فکر مند ہونے لگا کہ گھر میں پہلے ہی کیا کم مسائل تھے کہ یہ ایک نئی مصیبت آن پڑی،وہ رونے لگا کہ اب وہ اپنے گھر والوں کے لئے کچھ نہیں کر پائے گا ساری امیدیں دم توڑ گئیں اور خواب چکنا چور ہوگئے جب تھوڑا سکون ملتا تو یہ کمرے میں رینگنے لگتا اگلے دن اس کی بہن نے دیکھا کہ کمرے کے باہر دودھ اور بریڈ ویسی کی ویسے ہی پڑی ہے اس نے اسے بالکل کھایا تک نہیں اس کی بہن نے کھانے کے لئے وہ چیزیں رکھیں جو یہ کھا سکتا تھا اس کی بہن جب اندر آتی تو وہ کمرے کے ایک کونے میں چھپ جاتا تھا تاکہ اس کی بہن کو ڈر نہ لگے اب اس کے گھر والے اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے یہ سب باتوں کو سُنتا اور سمجھتا تھاوہ کھانے کے میز پہ باتیں کر رہے تھے کہ خانساماں نے اس گھر کے لئے کھانا پکانے سے انکار کر دیا ہےاب یہ کام اس کی بہن اور ماں کو کرنا ہوگا اس کا باپ کہتا ہے کہ گھر کے مالی حالات پہلے ہی خراب تھےاوپر سے یہ ایک نئی مصیبت کھڑی ہو گئی ہے گریگر سوچتا ہے کبھی میں بھی اس گھر کے لئے کما کے لاتا تھا تب مجھے بڑا سراہا جاتا تھا اب اخراجات پورے کرنے کے لئے والد جو قدرے بوڑھے ہو چکے ہیں ان کو میدان میں اترنا پڑے گا ماں کو بھی بڑھاپے میں بھی کھانا پکانا پڑے گا وہ اس حالت میں ہونے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔بہن اس کے کمرے کی صفائی تو کر دیتی تھی لیکن اس کا رویہ تبدیل ہو گیا تھا ، اس کا کام کرنے سے چِڑھنے لگی تھی ایک مہینہ گزر گیا بہن کئی کئی گھنے اس کو دیکھنے کمرے میں نہیں آتی تھی جبکہ ماں اور باپ اب بھی اس کی پرواہ کرتے تھے پھر دو مہینے بعد اس کی ماں اسے دیکھنے کمرے میں آئی اور بیٹی کے ساتھ مل کر فرنیچر سرکانی لگی یہ دیکھ کر گیگر ڈر گیا آخر اس کا سامان ادھر ادھر کیوں کیا جارہا ہے؟کیوںکہ بچپن سے ہی اس سامان کے ساتھ اس کی انسیت تھی والد نے صندوق سے اس کے کپڑے لے لئے پہن کر کا م پر جانے کے لئے جنہیں پہن کر یہ اپنے آفس جایا کرتا تھا اسے ڈر بھی لگا رہتا تھا کہیں یہ اپنے باپ کے پاؤں کے نیچے نہ آجائے۔ ایک دن بے خیالی میں اس نے بہن کو پریشان کردیا جس پہ غصہ ہو کر باپ نے ایک سیپ پھینک کر اس کو مارا،سیب لگنے سے یہ تھوڑا زخمی ہوگیا تاہم ماں نے آگے بڑھ کر بیچ بچاؤ کرا دیا ۔ پھر اس کے گھر والوں نے کمرے کا دروازہ کھلا رہنے دیا تاکہ یہ باتیں سُن سکے کہ گھر کے افراد کیا چاہتے ہیں اب اس کی ماں اور بہن بھی کام کرنے لگے تھے اور باپ بھی سارا دن کام کرکے تھکا ماندہ شام کو گھر لوٹتا اور بغیر کپڑے تبدیل کئے ہی سو جاتا گھر والے حالات سے پریشان روتے رہتے تھے مالی صورتحال بہتر بنانے کے لئے انہوں نے اپنے زیورات تک بیچ ڈالےدرایں حالات اس پرسے سے گھر والوں کا دھیان کم ہوگیا وہ سارا سارا دن کام کرتے اور اپنےاپ کو ملائم کرکے سو جاتے یہ بات قریباً بھول ہی گئے تھے کہ گھر میں ان کا ایک بیٹا بھی ہے جو زندہ ہے ابھی مرا نہیں،وہ سوچتا تھا کہ وہ بھی ایسے ہی تھکا ہارا کام سے واپس لوٹتا تھا لیکن گھر والوں کا ساتھ پا کر اس ساری تھکاوتٹ دور ہو جاتی تھی مزید اس سے بُرا یہ ہوا کے پیسوں کے لئے اس کے گھر والوں نے سو چا اس کا کمرہ خالی پڑا ہے کیو ں نہ اس میں کرایہ دار رکھ لیں اور انہوں نے کرایہ دار رکھ بھی لیا۔ اس کو یہ دیکھ کر بہت بُرا لگا کہ اس کے والدیں اس کے مقابلے میں کرایہ داروں کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں اور کرایہ داربھی اس کی بہن کی طرف بہت ملتفت تھےجبکہ بہن بھی کرایہ داروں کی طرف کافی میلان رکھتی تھی گریگر اس بات سے بڑا ناخوش تھاپھر اسی کی حرکتوں کی سے وجہ سے کرایہ دار گھر چھوڑ کر چلے گئے اور کرایہ بھی نہیں دے کر گئے۔آخر کار اس کی بہن بول ہی پڑی کہ ہمیں اس گندے کیڑے کے ساتھ نہیں رہنا اور ہمیں ہر صورت اس گند ے کیڑے سے چھٹارا حاصل کر نا ہے وہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے والد کہتا ہے چُپ ہو جا بیٹی! وقت کے ساتھ حالات بہتر ہو جائیں گے اسے ہماری مشکلات کا ادراک ہو جائے گا کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔لیکن بہن چلا کے بولتی ہے یہ کاکروچ نہیں سمجھے گا ہماری مشکلات کو وہ میرا بھائی نہیں ہے یہ کہ ہم انسان کیڑوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے وہ چاہتا ہی نہیں کہ ہم خوش و خر م زندگی گزاریں اگر سمجھتا تو وہاں چلا جاتا جہا ں کا کروچ رہتے ہیں۔گریگر یہ باتیں سُن کر چُپ چا پ رینگتا ہواکمرے کے اندر چلا گیا زخمی ہونے کی وجہ سے پہلے ہی کا فی کمزور ہوگیا تھا وہ اندر ایک طرف بیٹھ کر اپنی فیملی کے بارے میں سوچتا رہا اور پھرسو چتا سوچتا مر گیا۔ اس کی موت کے بعد پتہ چلنے پر اس کے گھروالوں کو بڑا دُکھ ہوا کہ ہمارا بیٹا مر گیا وہ اب دُنیا میں نہیں رہا وہ رونے اور چلانے لگے۔
پھر چند دن گزرنے بعد سب کی زندگی اپنے معمول کے مطابق چلنے لگی۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2922077524689428

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/