بک کارنر کی فخریہ پیش کش ۔۔۔۔ بہت جلد منظرِ عام پر…

بک کارنر کی فخریہ پیش کش ۔۔۔۔ بہت جلد منظرِ عام پر !!!
*** کلاسیک ناول … کلاسیک ترجمہ ***
ایک قیامت تو خود ناول کا مصنف جارج آرول ہے۔ دوسری قیامت ابوالفضل صدیقی کو سمجھیے جنھوں نے اس کتاب کو اُردو میں پیش کیا ہے۔ صدیقی صاحب کا اصل افسوں تو ان کے افسانے ہیں، اس ترجمے کو زبان اور بیان کے اس سامری کی ادائے خاص جانیے۔
1984ء بڑا خطرناک ناول ہے، اس میں نام بھی ہیں، مقام بھی اور کہانی بھی… لیکن یہ سب مل کر انسان کے بنائے ہوئے ظالمانہ نظام کی نئی داستان سناتے ہیں۔ اس کی اصل تو اصل ہے، طرزِ ادا کا جواب مشکل سے نکلے گا۔ اسے پڑھ کر آپ کا ردِعمل کیا ہو گا، یہ بتانا ناممکن ہے، ممکن ہے کہیں آپ کو غصہ آئے کہیں محبت، کہیں خوف، کہیں نفرت… لیکن آپ اسے ختم ضرور کریں گے۔
جارج آرول نے یہ ناول 1949ء میں لکھا تھا۔ اس اکہتر برس کے عرصے میں اس ناول کی کئی لاکھ جلدیں صرف انگریزی میں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ دُنیا کی پچاس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔
ہم آپ کو اصل ناول سے دُور رکھنا پسند نہیں کرتے۔ وزارت الفت کے دلچسپ احکام، کمرہ نمبر 101 کے اسرار، ’’خیال خواں‘‘ مشین کے انکشافات، 4انگلیوں کو 5گننے کے طریقے، انشراح قلب کے تھانوں کا حال اس ذکر سے زیادہ دلچسپ ہے۔
اس ناول کو سچ پوچھیے تو عاشقانہ کہہ سکتے ہیں نہ حسرت موہانی کی زبان میں ’’فاسقانہ‘‘۔ اس کے تخیل اور تصور سے انکار نہیں ہو سکتا، اس کا سماجی اور سیاسی طنز بھی نمایاں ہے، کہیں نرم، کہیں گرم۔ مجموعی حیثیت سے یہ کتاب انسانی آزادی اور انسانی زندگی کا کیا تصور پیش کرتی ہے اس کا فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں اور یہی فیصلہ صحیح بھی ہو گا۔
کتاب: انیس سو چوراسی 1984
مصنف: جارج آرویل
مترجم: ابو الفضل صدیقی
ناشر: بک کارنر، جہلم
فیس بک آفیشل پیج: Book Corner Showroom
آرڈر آن لائن: https://bookcorner.com.pk/book/1984-
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2915593145337866



