نظم شام کے اوائل ہیں اور حالِ موجود میں ، اپنی …

نظم
شام کے اوائل ہیں
اور حالِ موجود میں ،
اپنی لکھنے کی میز پر
اک آدمی جھُک رہا ہے
اپنا سر آہستگی سے اُٹھاتا ہے ؛
اک عورت نمودار ہوتی ہے
گُلاب پکڑے۔
اُس عورت کا چہرہ ،
آئینے کی سطح پر تیرنے لگتا ہے
گُلاب کی سبز ڈنٹھلوں پہ کانٹے لئے ۔
یہ رنج کی اک قسم ہے
پھر ہمیشہ کی طرح شفاف صفحہ
کھڑکی تک اُٹھتا ہے
جب تک اُس کی رگیں تن جائیں
جیسے ہی سیاہی میں ڈوبے لفظ
نمودار ہونے لگتے ہیں
اور مُجھے اس کی خوب سمجھ ہے
انھیں کیا جوڑے رکھے ہے
یا سرُمئی مکاں جسے ،
اجُڑتی شام نے اپنی جگہ پر
روکے رکھا ہے۔
کیونکہ مجُھے ان کی زندگیوں میں
لازماً داخل ہونا ہے؛
یہی بہار ہے
کہ آڑو کے درخت کی
کمزور ہوتی جلد
سفیدی ِنمو انگیزی سے
ِکھلنے لگی ہے۔۔
ترجُمہ : نودخان
۲۰۲۰ کی نوبل انعام برائے ادب
لوئیس گلیک کے مجموعات سے انتخاب
POEM
In the early evening,
as now,
a man is bending over his writing table.
Slowly he lifts his head;
a woman
appears,
carrying roses.
Her face floats to the surface of the mirror, marked with the green spokes of rose stems.
It is a form of suffering:
then always the transparent page raised to the window until its veins emerge as words finally filled with ink.
And I am meant to understand
what binds them together
or to the gray house held
firmly in place by dusk
because I must enter their lives:
it is spring,
the pear tree filming with weak,
white blossoms.
From the collection of Poetry,Louise Glück.
Noble Prize for Literature 2020.
Urdu by : Nod Khan
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2912624385634742



