"تمبولا" فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینی…

"تمبولا"
فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینی Réné Goscinny کے ناولLe Petit Nicholas A Des Annuis کے اردو ترجمے "ننھّے نصیر کی پریشانیاں" کا گیارہواں باب
ترجمہ : شوکت نواز نیازی
آج کلاس کے بعد میڈم نے اعلان کیا سکول تمبولا کے کھیل کا انعقاد کر رہا ہے۔ پھر انہوں نے لطیف کو سمجھایا کہ تمبولا ایک قسم کی لاٹری ہوتی ہے۔ لوگوں کے پاس نمبروں والی ٹکٹیں ہوتی ہیں۔ پھر قرعہ اندازی سے نمبر نکالے جاتے ہیں۔ جس کا نمبر پہلے نکل آتا ہے اسے انعام ملتا ہے۔ اس مرتبہ انعام میں موٹرسائیکل دی جائے گی۔
میڈم نے یہ بھی بتایا کہ ٹکٹوں کی فروخت سے ملنے والی رقم سے علاقے کے بچوں کے لئے کھیلوں کا میدان بنایا جائے گا جہاں وہ کھیل سکیں گے۔ یہ بات ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی کیونکہ سکول کے قریب ہی ایک بہت زبردست خالی پلاٹ تھا جہاں ہم اکثر کھیلنے جاتے تھے۔ وہاں ایک پرانی گاڑی بھی کھڑی تھی۔ اس کے پہّیے تو نہیں تھے لیکن پھر بھی ہمیں اس گاڑی میں کھیلتے بہت مزا آتا تھا۔ میں نے سوچا کہ معلوم نہیں اس نئے کھیل کے میدان میں بھی ایک گاڑی رکھی جائے گی یا نہیں۔
لیکن تمبولا کی ایک بات بہت زبردست رہی اور وہ یہ کہ میڈم نے ایک دراز سے تمبولا کی ٹکٹوں کی کاپیاں نکالیں۔ پھر انہوں نے کہا، "دیکھو، بچّو، یہ ٹکٹیں تم سب کو بیچنا ہوں گی۔ میں ہر ایک بچّے کو ایک کاپی دوں گی اور ہر کاپی میں پچاس ٹکٹیں ہیں۔ ایک ٹکٹ کی قیمت دس روپے ہے۔ تم سب یہ ٹکٹیں اپنے والدین، اپنے ہمسائیوں، اپنے دوستوں اور ایسے لوگوں کو بھی بیچ سکتے ہیں جو تمہیں کہیں بھی ملیں۔ اس سے نہ صرف تم سب کو ایک فلاحی کام میں حصّہ لینے کی خوشی ہو گی بلکہ اس سے تم میں خود اعتمادی بھی پیدا ہو گی۔" پھر میڈم نے لطیف کو سمجھایا کہ فلاحی کام کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ہر ایک بچے کو ٹکٹوں کی ایک ایک کاپی دی۔
ہم سب بہت خوش ہوئے۔ سکول کے بعد باہر فٹ پاتھ پر ہم سب اپنی اپنی کاپی پکڑے کھڑے تھے کہ جعفری نے کہا کہ وہ تو ایک دم اپنی ساری ٹکٹیں اپنے ابّا کو بیچ دے گا۔ جعفری کے ابّا بہت امیر تھے۔
رفیع بول اٹھا، "ایسے نہیں ہوتا۔ اصل طریقہ یہ ہے کہ ٹکٹیں ایسے لوگوں کو بیچنا ہیں جنہیں ہم جانتے نہیں۔ یہی تو اچھی بات ہے اس کھیل میں !"
اصغر بولا، "میں تو اپنی ٹکٹیں اپنے قصائی کو بیچوں گا۔ ہم اس سے روزانہ بہت زیادہ گوشت خریدتے ہیں اور وہ انکار نہیں کرے گا۔"
لیکن ہم سب جعفری سے متفق تھے کہ سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ ٹکٹیں اپنے اپنے ابّا کو بیچنی چاہئیں۔ رفیع بولا یہ غلط بات ہے۔ وہ قریب سے گزرنے والے ایک انکل کے پاس جا پہنچا اور انہیں ٹکٹیں خریدنے کا کہا۔ لیکن وہ انکل رکے تک نہیں۔ پھر لطیف کے سوا ہم سب اپنے اپنے گھر کو چل دئے۔ لطیف واپس سکول میں چلا گیا کیونکہ وہ اپنی ٹکٹوں کی کاپی اپنے ڈیسک میں ہی بھول آیا تھا۔
میں ٹکٹوں کی کاپی ہاتھ میں پکڑے بھاگتا ہوا اپنے گھر میں داخل ہوا۔
میں چیخا، "امّاں، امّاں، ابّا کہاں ہیں ؟"
امّاں بولیں، "تمیز اور خاموشی کے ساتھ گھر میں گھسنا اتنا ہی مشکل ہے کیا ؟ تمہارے ابّا گھر پر نہیں ہیں۔ تمہیں کیا کام ہے اپنے ابّا سے ؟ تم نے ضرور کوئی الٹی سیدھی حرکت کی ہو گی۔"
"نہیں، امّاں۔ میں ابّا کو اس لئے ڈھونڈ رہا ہوں کہ وہ مجھ سے تمبولا کی ٹکٹیں خریدیں تاکہ ہم ایک کھیلوں کا میدان بنا سکیں جہاں ہم کھیلیں گے۔۔۔ سارے محّلے کے بچّے وہاں کھیلیں گے اور شاید وہاں ایک پرانی گاڑی بھی رکھی ہو گی اور پتہ ہے اس کا انعام ایک موٹر سائیکل ہے، یہ ہوتا ہے تمبولا !" میں نے اماّں کو ایک ہی سانس میں سمجھایا۔
امّاں نے اپنی آنکھیں گھمائیں اور بولیں، "نصیر، مجھے تمہاری ایک بھی بات سمجھ نہیں آئی۔ جب تمہارے ابّا آئیں تو تم انہیں یہ ساری کہانی سنانا۔ اس وقت تک چلو اپنے کمرے میں اور اپنا سکول کا کام مکمل کرو۔"
میں فوراً اپنے کمرے میں چلا آیا کیونکہ مجھے اپنی اماّں کی بات ماننا اچھا لگتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جب میں کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کرتا تو وہ خوش ہوتی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ابّا کی آواز سنائی دی۔ میں اپنے ہاتھ میں ٹکٹوں کی کاپی پلڑے بھاگتا ہوا نیچے پہنچا۔
میں چیخا، "ابّا، ابّا، آپ کو مجھ سے ٹکٹ خریدنا ہوں گے۔ یہ تمبولا کے ٹکٹ ہیں۔ اس سے وہ کھیلوں کے میدان میں ایک پرانی گاڑی رکھیں گے، پھر ہمیں بہت مزا آئے گا !"
امّاں بولیں، "معلوم نہیں اسے کیا ہوا ہے۔ آج جب سے سکول سے واپس پہنچا ہے تو کچھ زیادہ ہی جوش و جذبے میں ہے۔ لگتا ہے سکول والے تمبولا کرا رہے ہیں۔ یہ اس کے ٹکٹ بیچنا چاہتا ہے۔"
ابّا ہنسے اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"اچھا ؟ تمبولا ؟ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ جب میں سکول میں تھا تو ہمارا سکول بھی بہت مرتبہ تمبولا شام منعقد کراتا تھا۔ اس وقت ہمارا مقابلہ ہوا کرتا تھا کہ سب سے زیادہ ٹکٹیں کون بیچ پاتا ہے۔ میں ہمیشہ پہلے نمبر پر آیا کرتا تھا۔ بات یہ تھی کہ میں بہت پراعتماد ہوا کرتا تھا اور کسی کا انکار قبول نہ کیا کرتا تھا۔ اچھا تو جوان، بتاؤ کتنے کی ایک ٹکٹ ہے ؟"
میں نے کہا، "دس روپیہ !" پھر میں جلدی جلدی نے حساب لگایا کہ ایک کاپی پانچ سو روہے کی بنی۔
میں نے کاپی ان کی جانب بڑھائی۔ لیکن انہوں نے کاپی کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا۔
"ہمارے زمانے میں تو ٹکٹ کافی سستا ہوتا تھا۔ اچھا، خیر چلو مجھے ایک ٹکٹ دے دو !"
میں بولا، "جی نہیں۔ ایک ٹکٹ نہیں، آپ کو پوری کاپی خریدنا ہو گی۔ جعفری نے ہمیں بتایا کہ اس کے ابّا پوری کاپی خریدیں گے اور ہم سب سے فیصلہ کیا کہ ہم سب بھی ایسا ہی کریں گے۔"
ابّا بولے، "تمہارا دوست جعفری کیا کرتا ہے مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں تم سے صرف ایک ٹکٹ خرید سکتا ہوں۔ اور اگر تمہیں قبول نہیں تو ٹھیک ہے ایسا ہی سہی !"
میں چیخا، "لیکن یہ غلط بات ہے ! جب دوسرے سارے ابّا پوری کاپی خرید رہے ہیں تو آپ کیوں نہیں خرید سکتے ؟"
پھر میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ ابّا کو نجانے کیوں غصّہ آ گیا اور امّاں باورچی خانے سے بھاگتی ہوئی آئیں۔
امّاں نے پوچھا، "اب کیا ہو گیا ؟"
ابّا بولے، "ہوا یہ ہے کہ میں سمجھ نہیں پایا کہ سکول والے یہ کام بچوں کے حوالے ہی کیوں کر دیتے ہیں۔ میں نے اپنے بچّے کو اس لئے تو سکول میں نہیں ڈالا کہ وہ اسے پھیری والا یا بھکاری بنا دیں ! میں تو سوچتا ہوں کہ قانون نجانے یہ تمبولا وغیرہ کی اجازت بھی دیتا ہے یا نہیں ! میرا تو جی چاہتا ہے کہ ابھی ہیڈ ماسٹر کو ٹیلی فون کروں !"
امّاں بولیں، "کیا یہاں ایک منٹ کے لئے خاموشی ہو سکتی ہے ؟"
لیکن میں نے منہ بسورتے ہوئے ابّا سے کہا، "لیکن آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ بھی تمبولا کے ٹکٹ بیچا کرتے تھے اور ہمیشہ اوّل نمبر پر آتے تھے۔ پھر میں وہ سب کیوں نہیں کر سکتا جو باقی سب لوگ کرتے ہیں ؟"
ابّا نے اپنی پیشانی پونچھی۔ پھر وہ بیٹھ گئے اور مجھے اپنے گھٹنے پر بٹھا لیا۔
"وہ تو ٹھیک ہے، نصیر، لیکن وہ مختلف بات تھی۔ اس وقت ہمیں خود اعتمادی کا سبق سکھایا جاتا تھا تاکہ ہم خود انحصاری سیکھ سکیں۔ یہ بہت اچھی تربیت ہوتی تھی تاکہ ہم زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہونا سیکھ سکیں۔ ہمیں یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ 'یہ لو ٹکٹیں اور جا کر اپنے ابّا کے ہاتھ بیچ ڈالو !' "
میں بولا، "لیکن رفیع نے سڑک پر چلتے ایک انکل کو ٹکٹ بیچنے کی کوشش کی تھی۔ وہ انکل رکے ہی نہیں۔"
ابّا بولے، "تمہیں کس نے کہا کہ راہ چلتے اجنبی لوگوں کو روک کر ان سے باتیں کرنا شروع کردو ؟ تم ہمارے ہمسائے بدرالدین صاحب کے پاس کیوں نہیں گئے ؟"
میں بولا، "مجھے ڈر لگتا ہے۔"
ابّا ہنسے اور کہنے لگے، "چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ میں تمہیں بتاؤں گا کہ تمبولا کے ٹکٹ کیسے بیچے جاتے ہیں۔ اپنی ٹکٹوں کی کاپی نہ بھول جانا !"
اماّں پکار کر بولیں، "دیر مت کرنا۔ کھانا تیار ہونے کو ہے !"
ہم نے بدرالدین صاحب کے گھر کی گھنٹی بجائی تو انہوں نے خود ہی دروازہ کھولا۔
وہ بولے، "ارے ! یہ تو نصیر ہے اور ساتھ۔ ۔ ۔ تم !"
میں تیزی سے بولتا گیا، "انکل، میں آپ کو تمبولا کے ٹکٹوں کی کاپی بیچنے آیا ہوں تاکہ ہم بچوں کے لئے کھیلوں کا میدان بنا سکیں۔ اس کی قیمت پانچ سو روپے ہے۔"
بدرالدین صاحب بولے، "کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟"
ابّا نے پوچھا، "کیوں کیا ہوا بدرالدین ؟ یہ تمہاری فطری کنجوسی بول رہی ہے یا تم بھی قلاش ہو گئے ہو ؟"
بدرالدین صاحب نے جواب دیا، "اچھا ؟ تو کیا تم نے یہ لوگوں کے گھر جا کر بھیک مانگنے کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے ؟"
ابّا چیخے، "بدرالدین، صرف تم ہی ایک معصوم بچّے کی خوشیوں کا مذاق اڑا سکتے ہو !"
"میں بچّے کی خوشی کا مذاق نہیں اڑا رہا۔ میں صرف اسے اس خطرناک راستے پر چلنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں جس پر اس کے غیر ذمہّ دار والدین چلا رہے ہیں۔ خیر ایک بات تو بتاؤ، تم خود ہی اس سے ٹکٹوں کی کاپی کیوں نہیں خرید لیتے ؟"
ابّا بولے، "میرے بچّے کی تعلیم سے میرے علاوہ کسی کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اور میں تمہیں ایک ایسے معاملے پر رائے زنی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا جس کے بارے میں تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں۔ اور رائے بھی ایک کنجوس بخیل کی۔۔۔ "
بدرالدین صاحب چیخے، "بخیل ؟ بخیل، جس نے آج تک تمہیں گھاس کاٹنے والی مشین ادھار دینے سے انکار نہیں کیا !"
ابّا چلّائے، "اپنی منحوس گھاس کاٹنے والی مشین اپنے پاس رکھو ! اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو جاتے، اچانک مسز بدرالدین، جو بدرالدین صاحب کی بیوی تھیں، بھاگتی ہوئی باہر نکلیں۔
وہ زور سے بولیں، "کیا ہو رہا ہے یہاں ؟" اس پر میں رونے لگا اور پھر میں نے انہیں تمبولا والا قصّہ سنایا، کھیلوں کے میدان کی کہانی سنائی اور آخر میں بتایا کہ کوئی بھی مجھ سے ٹکٹوں کی کاپی خریدنے پر تیار نہیں ہے اور یہ کہ یہ میرے ساتھ بہت زیادتی ہے اور یہ کہ میں خود کو مار ڈالوں گا۔
مسز بدرالدین بولیں، "میری جان، کیوں روتے ہو ! میں تم سے پوری کاپی خرید لوں گی۔" پھر انہوں نے مجھے گلے لگایا اور پھر اپنے پرس سے پیسے نکال کر پورے پانچ سو روپے میرے ہاتھ پر رکھ دئے۔ میں نے انہیں اپنی کاپی پکڑائی اور میں خوشی خوشی واپس گھر لوٹ آیا۔
بس ایک مسئلہ باقی ہے جس پر ابّا اور بدرالدین صاحب دونوں کافی پریشان ہیں۔ مسز بدرالدین نے انعام میں ملنے والی موٹرسائیکل گیراج میں بند کر رکھی ہے اور وہ اس کی چابی ان دونوں میں کسی کو دینے پر تیار نہیں ہیں۔
ترجمہ : شوکت نواز نیازی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2907977252766122



