عالمی ادب

نوبل انعام یافتہ نارویجن ادیب نٹ ہسمن کی کتاب Hung…

نوبل انعام یافتہ نارویجن ادیب نٹ ہسمن کی کتاب Hunger/بھوک سے اقتباس

یہ لوگ کتنی تابانی اور آسودگی سے اپنا سر بلند کئے ہوئے چل رہے تھے۔ اور زندگی میں اس طرح کودے ہوئے تھے جیسے زندگی ایک ناچ گھر ہو۔ ایک بھی نگاہ میں جو میری نگا ہ سے ملی غم و اندوہ کی جھلک نہیں تھی۔ کسی بھی کندھے پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔ ان کے ذہن میں کوئی پراگندہ خیال نہیں تھا۔ ان کی مسرور روحوں میں ایک بھی چھپی ہوئی ٹیس نہیں تھی۔ اور میں ان جوان اور خوش باش لوگوں کے ہجوم میں اپنی خوشی کے مصنوعی پیرہن کو بھی بھول چکا تھا۔ چلتے ہوئے میں ان خیالات سے اپنا دل بہلا رہا تھا۔ اور سوچ رہا تھا میرے ساتھ کتنی بڑی نااصافی ہوئی ہے۔ یہ پچھلے چند مہینے میرے لئے وبال جان کیوں رہے تھے۔ میں اپنی خوش مزاجی کو بھی پہچاننے میں دقت محسوس کر رہا تھا۔ چاروں طرف مجھے کوئی نہ کوئی ایسی بات مل رہی تھی جو میری برہم مزاجی میں اضافہ کر رہی تھی۔ میں کہیں بنچ پر بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ اور کہیں بھی اپنا قدم کسی حادثے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رکھ سکتا تھا۔ بڑی باریک باریک جزئیات میرے ذہن پر بوجھ ڈال رہی تھیں۔ ایک کتا جو میرے پاس سے سے گزر گیا تھا۔ وہ آدمی جو اپنے کوٹ میں پھول لگائے تھا۔ یہ سب مناظر اتنی طاقت رکھتے تھے کی میرے خیالوں کے تاروں کو جھنجھنا سکتے اور مجھے دیر تک ستا سکتے تھے۔
وہ کونسی چیز ہے جو مجھے تکلیف دے رہی تھی۔ کیا خدا میرے خلاف ہو گیا تھا؟ کیوں وہ میرے خلاف کیوں تھا؟ وہ جنوبی امریکہ میں رہنے والے کسی شخص کے خلاف کیوں نہیں تھا؟ جتنا میں اس معاملے پر غور کرتا وہ اتنا ہی میرے لئے ناقابل تفہیم ہوتا جاتا۔ میں خالق کے توہمات کا دارالتجربہ کیوں بنا جا رہا تھا؟ اس کے تجارب کی رو دنیا کے مختلف انسانوں سے گذرتی ہوئی مجھ تک کیوں اس طرح پہنچی؟۔ اس نے اپنے تجربات کے لئے پاسکا کتب فروش یا ہنے چن جہازوں کے ایجنٹ کو کیوں نہیں چنا؟
راہ چلتے ہوئے میں ان خیالات کو اہنے ذہن میں کھنگال رہا تھا۔ کوشش کے باوجود مجھے ان خیالات سے رہائی نہیں مل رہی تھی۔ مجھے خالق کی مطلق العنانی کے خلاف مضبوط دلائل سوجھ رہے تھے۔ کہ دوسروں کے گناہوں کی سزا مجھے ہی کیوں دے رہا تھا؟

How gaily and lightly these people I met carried their radiant heads, andswung themselves through life as through a ball-room! There was nosorrow in a single look I met, no burden on any shoulder, perhaps not evena clouded thought, not a little hidden pain in any of the happy souls. And I,walking in the very midst of these people, young and newly-fledged as Iwas, had already forgotten the very look of happiness. I hugged thesethoughts to myself as I went on, and found that a great injustice had beendone me. Why had the last months pressed so strangely hard on me? Ifailed to recognize my own happy temperament, and I met with the mostsingular annoyances from all quarters. I could not sit down on a bench bymyself or set my foot any place without being assailed by insignificantaccidents, miserable details, that forced their way into my imagination andscattered my powers to all the four winds. A dog that dashed by me, ayellow rose in a man's buttonhole, had the power to set my thoughtsvibrating and occupy me for a length of time.
What was it that ailed me? Was the hand of the Lord turned against me?But why just against me? Why, for that matter, not just as well against aman in South America? When I considered the matter over, it grew moreand more incomprehensible to me that I of all others should be selected asan experiment for a Creator's whims. It was, to say the least of it, a peculiarmode of procedure to pass over a whole world of other humans in order toreach me. Why not select just as well Bookseller Pascha, or Hennechen thesteam agent?
As I went my way I sifted this thing, and could not get quit of it. I found themost weighty arguments against the Creator's arbitrariness in letting me payfor all the others' sins.


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2896855023878345

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/