عالمی ادب

فورٹی رولز آف لو از ایلف شفق اردوآڈیوبک میرا د…

فورٹی رولز آف لو
از
ایلف شفق
اردوآڈیوبک
میرا دل مائل بہ بغاوت ہوگیا۔ بابا زمان جانتے تھے کہ میری بغداد آمد کا سبب ہی یہی تھا، پھربھی وہ مجھے میرے مقدر کی تکمیل کے موقع سے محروم کیے دے رہے تھے۔ "کیوں آفندی؟ انتظار کیوں جب کہ میں اسی لمحے سے تیار ہوں؟ مجھے صرف شہر اور عالم کانام بتائیے اور میں اپنے رستے پرچلوں۔ میں نے بے ساختہ کہا۔ لیکن شیخ نے فورا ہی ایسے سرد اور سخت لیجے میں جواب دیا جو میں اُن سے سننے کا عادی نہ تھا۔ "بحث نہیں۔ اجلاس ختم ہوا۔"وہ ایک طویل اور سخت موسم سرما تھا۔ باغ منجمد تھا اور میرے لب بھی۔ اگلے تین ماہ میں نے کسی سے ایک لفظ تک نہ کہا۔ ہر روز میں مضافات میں لمبی سیر کیا کرتا، اس امید میں کہ کوئی ایسا درخت دکھائی دے جائے جس پر شگوفے پھوٹ رہے ہوں۔ لیکن برف باری کے بعد مزید برف باری ہوئی۔ بہار افق پر کہیں نہیں تھی۔ پھر بھی، باہر سے میں جتنا مایوس اور دل شکستہ دکھائی دیتا تھا، اپنے ذہن میں ایک اور اصول رکھتے ہوئے اندر سے اتنا ہی شکر گزار اور پُرامید رہا۔ ایک اصول تھا جو میرے مزاج سے موزوں تھا: "زندگی میں کچھ بھی رونما ہوجائے، زندگی چاہے کتنی ہی دشوار گزار لگنے لگے۔ مایوسی کے کبھی قریب مت پھٹکنا۔ حتیٰ کہ جب سب دروازے بند ہوجائیں، تب اللہ صرف تمھارے لیے کوئی نیا در وا کر دے گا۔ شکر گزار بنو! سب اچھا ہو تو شکر گزاری کرنا بڑا آسان ہوتا ہے۔ لیکن ایک صوفی نہ صر ف ان نعمتوں کے لیے شکر گزار ہوتا ہے جو اُسے بخشی جائیں بلکہ اُس سب کے لیے بھی مشکور رہتا ہے جس سے اُسے محروم رکھا جائے۔" پھر ایک صبح آخرکار مجھے برف کی پرتوں تلے سے پھوٹتا، کسی شیریں نغمے جیسا پُرمسرت ایک خیرہ کن رنگ کا نظارہ دکھائی دیا۔ وہ ننھے ننھے کاسنی پھولوں سے بھری گھاس کی ایک جھاڑی تھی۔ میرا دل مسرت سے بھر گیا۔ خانقاہ واپس آتے ہوئے مجھے سنہری بالوں والا نومرید ملا اور میں نے خوشی خوشی اُسے سلام کیا۔ وہ مُجھے اپنی ترش رُو خاموشی میں گم دیکھنے کا اس قدر عادی ہوچکا تھا کہ اس کا منہ کھلا رہ گیا۔"مسکرائو لڑکے! میں چلایا،"دیکھتے نہیں کہ بہار آگئی ہے؟"اس روز کے بعد قدرتی مناظر حیران کن تیزی سے بدلنے لگے۔ برف پگھلی، درختوں پر شگوفے، بلبلیں اور گانے والی چڑیاں لوٹ آئیں اور زیادہ دیر نہ گزری کہ فضا ایک ہلکی سی خوشبو سے معطر ہوگئی۔ ایک صبح پھر سے تانبے کی گھنٹی بجتی سنائی دی۔ اس مرتبہ بڑے کمرے میں پہنچنے والا پہلا شخص میں تھا۔ ایک بار پھر ہم شیخ کے گرد ایک بڑے دائرے کی صورت بیٹھ گئے اور انہیں اس ممتاز مسلمان عالم کے بارے باتیں کرتے سنا جو سب کچھ جانتے تھے، ماسوائے داغِ محبت کے۔ ایک بار پھر میرے سوا کسی نے خدمات پیش نہ کیں۔ "میں دیکھتا ہوں کہ صرف شمس تبریز ہی نے خدمات پیش کی ہیں۔" بابا زمان نے اعلان کیا۔ ان کی آواز کا آہنگ بلند ہورہا تھا اور پھر بھی وہ ہوا کی سرسراہٹ جیسی تھی۔ "لیکن فیصلے پر پہنچنے سے پہلے میں موسم خزاں کا انتظار کروں گا۔" میں ہکا بکا رہ گیا۔ جو کچھ ہورہا تھا مجھے اس پر یقین نہیں آرہا تھا۔ التوا کے تین طویل مہینوں بعد میں یہاں روانہ ہونے کو تیاربیٹھا تھا اور شیخ مجھے مزید چھ ماہ سفر ملتوی کرنے کا کہہ رہے تھے۔ ڈوبتے دل کے ساتھ میں نے احتجاج کیا، شکایت کی اور شیخ سے التجا کی مجھے شہر اور عالم کا نام بتا دیں۔ مگر ایک بار پھر انہوں نے انکار کر دیا۔ تاہم اس مرتبہ مجھے معلوم تھا کہ انتظار آسان ہوگا کیوں کہ مزید تاخیر نہ کی جا سکتی تھی۔ سرما سے بہا ر تک ثابت قدم رہنے کے بعد میں بہار سے خزاں تک اپنی آتش پر قابو رکھ ہی سکتا تھا۔ بابا زمان کے انکار نے مجھے بددل نہ کیا۔ اگر کچھ کیا تو میرے جذبے کو فروزاں اور عزم کو مزید توانا کر دیاتھا۔ ایک اصول کے مطابق،"صبر، بے بسی سے براداشت کیے جانے کا نام نہیں۔ اس سے مراد ہے، اتنی دوراندیشی کہ کسی عمل کے انجام پر بھروسا کیا جائے۔ صبر سے کیامراد ہے؟اس کا مطلب ہے خار پرنگاہ کرتے پھول دکھائی دے، رات نظر میں ہواور دکھائی صبح کا اجالا دے۔ بے صبری کا مطلب ہے، کوتاہ بینی یعنی کوئی شخص انجام کو دیکھنے کے قابل نہ ہوپائے۔محبانِِ ِ الٰہی صبر کا دامن تھا مے رکھتے ہیں کیوں کہ وہ خوب آگاہ ہوتے ہیں کہ ہلال کو ماہ کامل بننے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔" موسم خزاں کے آغاز پر تانبے کی گھنٹی تیسری بار بج اُٹھی، میں بلا عجلت اور پورے اعتماد سے آگے بڑھا، اس بھروسے کے ساتھ کہ اب معاملات بالآخر طے ہوجائیں گے۔ جب بابا زمان نے ایک بار پھر مجھے ہاتھ اٹھاتے دیکھا تو انہوں نے نگاہ چرائی نہ موضوع بدلا۔ اس کی بجائے انہوں نے میری طرف دیکھ کر عزم سے اثبات میں سر ہلایا۔"ٹھیک ہے شمس، کوئی سوال نہیں کہ آپ ہی کو اس سفر پر روانہ ہونا چاہیے۔ کل صبح آپ اپنے راستے پر ہوں گے، ان شا اللہ۔ میں نے شیخ کی دست بوسی کی۔ آخر کا ر عرصے بعد میں اپنے رفیق سے ملنے جارہا تھا۔ بابازمان مجھے دیکھ رہے تھے وہ کسی گہری فکر میں ڈوبے تھے، مگر ا سکے باوجود وہ گرمجوشی سے مسکرائے۔ بالکل ویسے، جیسےکوئی باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو میدان جنگ کی طرف روانہ کرتے مسکراتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے لمبے خاکی جبے سے ایک مہر بند خط نکالا اور وہ مجھے تھمانے کے بعد خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔ ہر کسی نے اُن کی پیروی کی۔ میں کمرے میں تنہا رہ گیا، میں نے موم کی مہر کھولی۔ اس کے اندر نفیس تحریر میں دو معلومات تھیں۔ شہر اور عالم کا نام۔ مجھے کسی مولاناجلال الدین رومی سے ملنے کے لیے قونیہ جانا تھا۔
مکمل تفصیل اس لنک میں
https://youtu.be/b6OAmxaGAuM

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2856160261281155

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/