عالمی ادب

گبرئیل گارشیا مارکیز کی اہلیہ مرسیدس بارچا پارڈو ک…

گبرئیل گارشیا مارکیز کی اہلیہ مرسیدس بارچا پارڈو کا انتقال

نوبیل انعام یافتہ ادیب گبرئیل گارشیا مارکیز کی اہلیہ مرسیدس بارچا ستاسی برس کی عمر میں میکسیکو سٹی میں پندرہ اگست کو وفات پا گئیں۔ انہوں نے گارشیا کے شاہکار "تنہائی کے سو سال" کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا اور گارشیا کی دیگر تخلیقات پر مرسیدس نے واضح اثرات مرتب کیئے۔ ان کے بیٹے روڈریگو گارشیا نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی سالوں سے نظام تنفس کی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔

یہ گارشیا مارکیز کی اہلیہ ہی تھیں جنہوں نے تفریحی چھٹیوں پر جاتے ہوئے جب تنہائی کے سو سال کا آغاز گارشیا کے ذہن میں کوندا تو انہیں تفریح پر جانے کی بجائے گھر جا کر لکھنے پر قائل کیا۔ گارشیا نے انہیں تفریح کی بکنگ اور بچوں کے جذبات کے متعلق کہا تو مرسیدس کا کہنا تھا "تمہارے ناول کا آغاز بچوں اور ان کی چھٹیوں سے زیادہ اہم ہے۔"

گبرئیل گارشیا مارکیز اپنی کتاب The fragrance of Guava (امرود کی مہک: مترجم اجمل کمال) میں لکھتے ہیں "مرسیدس سے میری ملاقات سیوکرے میں ہوئی تھی جو کیریبیئن کے ساحل سے ذرا سا اندر کی طرف واقع ایک قصبہ ہے۔ وہاں ہمارے گھرانوں نے کئی سال گزارے تھے اور ہم اپنی اپنی چھٹیاں گزارنے وہاں جایا کرتے تھے۔ اس کے والد اور میرے والد بچپن کے دوست تھے۔ ایک روز، جب اس کی عمر صرف تیرہ سال تھی، طلباء کے ایک رقص کے موقعے پر میں نے اسے شادی کی درخواست کر ڈالی۔ اب پیچھے مڑکر دیکھنے پر مجھے خیال آتا ہے کہ شادی کی یہ درخواست اس تمام کھکھیڑ سے بچنے کی ایک استعاراتی کوشش تھی جو اس زمانے میں کسی لڑکی کو دوست بنانے کے سلسلے میں اٹھانی پڑتی تھی۔ اس نے بھی اس بات کو اسی انداز میں سمجھا ہوگا، کیونکہ ہم ایک دوسرے سے کبھی کبھی، اور محض سرسری طور پر ملتے تھے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہم دونوں میں سے کسی کو بھی اس بات پر شبہ نہیں تھا کہ یہ استعارہ ایک نہ ایک روز حقیقت بن جائے گا۔ اس نے افسانے کے کوئی دس برس بعد حقیقت کی شکل اختیار کی، لیکن ہماری کبھی باقاعدہ منگنی نہیں ہوئی۔ ہم محض دو افراد تھے، جو بغیر کسی عجلت یا ہیجان کے، اس ناگزیر واقعے کے پیش آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم اپنی شادی کی چھبیسویں سالگرہ جلد ہی منانے والے ہیں، اور اس عرصے میں ہمارا کبھی کوئی سنگین نوعیت کا جھگڑا نہیں ہوا۔ میرے خیال میں اس کا راز یہ ہے کہ ہم اب بھی چیزوں کو اسی انداز میں دیکھتے ہیں جس انداز میں شادی سے قبل کے زمانے میں دیکھتے تھے۔ شادی خود زندگی کی طرح، اس قدر ناقابل یقین طور پر دشوار ہے کہ آپ کو ہر روز نئے سرے سے آغاز کرنا پڑتا ہے، اور ایسا ساری عمر کرتے رہنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلسل، اور اکثر تھکا دینے والی جنگ ہے، لیکن آخر کار قابل قدر ہے۔ میرے ایک ناول کے ایک کردار نے اس سے زیادہ مناسب الفاظ میں بیان کیا ہے:"محبت ایک ایسی چیز ہے جسے سیکھا جاتا ہے۔"

میرے ناولوں کا کوئی کردار مرسیدس سے مشابہ نہیں۔ وہ "تنہائی کے سو سال" میں دو بار نمودار ہوتی ہے، اپنے ہی روپ میں، اپنے ہی نام کے ساتھ، مگر اس کی شناخت ایک کیمیاداں کی ہے۔ اسی طرح "ایک پیش گفتہ موت کی روداد" میں بھی وہ دو بار داخل ہوتی ہے۔ میں اس کا اس سے زیادہ ادبی استعمال اس وجہ سے نہیں کر سکا جو بظاہر خیالی معلوم ہوگی لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے— میں اسے اتنی اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے ذرا اندازہ نہیں کہ وہ کیسی ہے۔"

مرسیدس اور گارشیا نے 1965ء میں میکسیکو میں سکونت اختیار کی، یہ وہ زمانہ تھا جب گارشیا اپنے ناول تنہائی کے سو سال پر کام کر رہے تھے۔ اٹھارہ مہینے تک گارشیا جو اس وقت تک معمولی درجے کے صحافی تھے نے اپنے گھر کو دفتر بنائے رکھا۔ 1966ء میں جب انہوں نے ناول مکمل کرلیا تو گارشیا کہتے ہیں کہ مرسیدس نے حیرانگی سے پوچھا "کیا تم نے واقعی اسے ختم کر لیا، کیونکہ ہم بارہ ہزار ڈالر کے مقروض ہیں۔" مرسیدس نے اس کے بعد گھر کی معمولی اشیاء جیسا کہ ہیئر ڈرائیر، بلینڈر تک گروی رکھ کر قرضہ لیا، تاکہ ناول کا مسودہ ارجنٹائن میں ایڈیٹر کو پہنچایا جا سکے۔ اس ناول کی 50 ملین سے زائد جلدیں اب تک فروخت ہو چکی ہیں۔

روڈریگو گارشیا کے مطابق گبرئیل اپنی اہلیہ کو محکمہ بحران کا منیجر کہا کرتے تھے۔ مرسیدس 6 نومبر 1932ء کو کولمبیا میں پیدا ہوئیں۔ وہ سات بہن بھائیوں میں بڑی تھیں۔ 1958ء میں ان کی شادی گارشیا مارکیز کے ساتھ ہوئی جو 2014ء میں گارشیا مارکیز کی وفات تک قائم رہی۔ 1982ء میں گبرئیل گارشیا مارکیز کو نوبیل انعام ملنے کے بعد ان کی شہرت اور مصروفیات میں اضافے کے سبب مرسیدس کا بطور چیف آف سٹاف کردار بڑھ گیا۔

ان کے دوست خورخے ایڈورڈو ریٹر کہتے ہیں "وہ اسے بتاتی تھی، جو اسے جاننے کی ضرورت ہوتی۔ وہ اس سے زیادہ باخبر رہتی اور صبح سویرے تمام اخبارات پڑھ لیتی جب وہ ناول پر کام کر رہا ہوتا، تاکہ بعد میں اسے خبروں کے متعلق بتایا جا سکے۔" گارشیا مارکیز اپنے ایک انٹرویو میں فیڈل کاسترو کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا "فیڈل مجھ سے زیادہ مرسیدس پر بھروسا کرتا ہے۔"

گارشیا کے دوست اینڈرسن مرسیدس کی وفات پر کہتے ہیں "ایک ہسپانوی فقرہ ہے "polo a tierra"، ایک ایسی چیز جس سے گھر کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور مرسیدس گارشیا کے گھر کی بنیاد اور زمین سے اس کا واسطہ تھیں۔"

راشد بٹ




بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2857108837852964

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/