کتاب چور مارکوس زوساک The Book Thief (2005) by M…

کتاب چور
مارکوس زوساک
The Book Thief (2005) by Markus Zusak
در بارے کتاب
ایک چھوٹی سی حقیقت ہے۔
آپ مرنے والے ہو۔
1939۔ نازی جرمنی۔ملک تشویشناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ موت اتنی مصروف پہلے کبھی نہیں رہی۔ نو سالہ لیزل، اپنے مربی گھرانے کے ساتھ حیمل سٹریٹ میں رہتی ہے۔اس کے والدین کو حراستی پڑاؤ میں اٹھا کر لے گئے ہیں۔ لیزل کتابیں چوری کرتی ہے۔برستے ہوئے بموں کے درمیان یہ اس کی اور اس کی گلی میں بسنے والے مکینوں کی ایک داستان ہے۔
چند اہم معلومات
موت اس ناول کی راوی ہے۔
یہ مختصر کہانی ایک لڑکی، ایک اکاردہ نواز، چند جنونی جرمنوں،ایک مکہ باز اور بہت ساری سرقہ بازی سے متعلق ہے۔
ایک اور بات جو آپ کے علم میں ہونی چاہیے، موت تین بار کتاب چور کے پاس آتی ہے۔
از قلم : خلیل الرحمان
????????????????????????????
آسٹریلوی ادیب مارکوس زوساک کا 2005 میں لکھا جانیوالا یہ ناول بہت جلد دنیا کی بہترین کتابوں کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ اس ناول کی کہانی دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی میں رہنے والی ایک لڑکی لیزل میمنجر کے گرد گھومتی ہے جس کے والدین کو نازی عقوبت خانوں میں قید کر دیا جاتا ہے اور وہ ایک اکاردہ نواز کے ہاں ان کی لے پالک کے طور پر رہ رہی ہوتی ہے۔ اسے پڑھنے لکھنے کا شوق ہوتا ہے اور وہ اپنی یہ پیاس بجھانے کو کبھی نازی جرمنوں کے ہاتھوں جلنے والی کتابوں کے ڈھیر میں کتابیں اٹھا کر اور کبھی اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر شہر کے میئر کے ذاتی کتب خانے سے چرا کر پورا کرتی ہے۔ یہ کتاب آپ کو لفظوں اور کتابوں سے محبت کرنا سکھا دیتی ہیں۔ اب تک تقریباً سولہ ملین کاپیوں کی ریکارڈ ساز فروخت کے ساتھ ساتھ اس کتاب کا دنیا کی 63 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ کتابوں سے محبت رکھنے والے افراد کو کم از کم ایک بار یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیئے۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2848429328720915



