عالمی ادب

جمالیاتی زوق۔۔۔؟ آگر کسی آدمی کی پہچان کرنی ہو&#0…

جمالیاتی زوق۔۔۔؟
آگر کسی آدمی کی پہچان کرنی ہو' یا اس کی شخصیت کے جوہر کو دریافت کر کے اس پر فیصلہ کرنا ہو ' تو یہ نہ دیکھیں کہ وہ کتنا زہین' کتنا چست یا کتنا بااخلاق ہے' بلکہ یہ دیکھیں کہ اس کا ""جمالیاتی ذوق"" کیسا ہے۔ احمد جاوید صاحب
????۔
جمالیات ????
(Aesthetics)
فلسفے کی ایک صنف جو فن کے حسن اور "فن تنقید" کی قدروں اور معیاروں سے بحث کرتی ہے۔ جمالیات کی اصطلاح پہلی بار باؤم گارٹن نے 1750ء میں استعمال کی اور اس سے مراد علم حیسات لی، جس کا بنیادی مقصد حسن کی تلاش قرار دیا۔ کانٹ نے ماورائی جمالیات کی ترکیب استعمال کی جس سے حیساتی تجربے کے بنیادی اصول لیے۔ اس اصطلاح کے جدید معنی ہیگل نے 1820ء میں متعین کیے۔ پرانے زمانے میں جمالیات سے مراد وہ علم تھا جو حسن یا جمال اور رفعت کی ہیئت سے متعلق مجرد تصورات پر بحث کرتا تھا۔
مگر جدید فلسفہ کے نزدیک جمالیات وہ سائنس ہے جو تخلیقی تجربہ، تحربۂ حسن اور نقدونظر کی قدروں اور معیاروں سے بحث کرتی ہے اور نوعیت اور عمل کے اعتبار سے منطق اور نفسیات سے مختلف ہے۔

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2840232526207262

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/