برتولت بریخت کی نظمیں (مترجم: بکل دیو) پامالی ک…

برتولت بریخت کی نظمیں
(مترجم: بکل دیو)
پامالی کا حسن
پیتل کا گلدان پرانا
جس پرکھڈا پڑا ہواہے
میز سے گرجانے کے باعث
جس کی کوریں گھسی ہوئی ہیں
ایک شکستہ بت
ایسا بت
جس کے بازو کٹے ہوئے ہیں
اور ڈھائے جانے پر بھی
جس کی آنکھیں چمک رہی ہیں
ان گن ہاتھوں سے گزرے یہ
چمچ کانٹے چھری پتیلے
مبہم مبہم نقش ہیں جن پر
نرم پڑچکے جن کے ہتھے
ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہیں
آئینہ تمثال ہو چکا
گھاٹ کے زینے کا اک پتھر
ہنستے ہنستے
دھوپ کو جیسے ٹھیل رہا ہے
ایک قدیم عمارت جس کو
کھنڈر کہیں تو ٹھیک رہے گا
کھنڈر کہ جس نے
شکل بنا رکھی ہے ایسی
جیسے اک تصویر مکمل ہونا چاہے
کب سے ہے یہ کیفیت جو
خبر نہیں ہے
لیکن سچ ہے
اک عرصے سے
اشیا جو پامال ہوچکیں
مجھ کو وہ احساس سکوں ہیں
منظر جو ویران ہوچکے
ساماں ہیں تسکین نظر کا
کار نمو سے اوب چکا میں
ایک چٹان سے پیٹھ ٹکائے سوچ رہا ہوں
پامالی کا اپنا حسن ہوا کرتا ہے
پامالی کے ضبط پہ دنیا ٹکی ہوئی ہے
بحوالہ
لالٹین
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2836640803233101



