عالمی ادب

شاعری کی ویکسین۔ پیٹر پمیرنٹسوو (کیوو م…

شاعری کی ویکسین۔
پیٹر پمیرنٹسوو
(کیوو میں پیدا ہوئے اب لندن میں مقیم ہیں ٹی وی پروڈیو سر ہیں اور ان کی تحریریں موقر جرائد میں چھپتی رہتی ہیں)
ترجمہ باقر رضا
قرنطینہ اور سرحدی بندشوں نے ابا کی سرد جنگ کی یادیں تازہ کردیں۔جب کووڈ 19 موت اور زندگی کو شماریاتی ہندسوں میں تبدیل کر رہی تھی ابا اپنی شناخت کو قائم رکھنے کے لیے ادب کا سہارا لے رہے تھے۔
"جو تمہاری سنتے تو کب کے مر چکے ہوتے" ابا نے مجھ سے کہا جب کو رونا نے ایک کے بعد ایک ان کے دوستوں کو قبروں میں لے جانا شروع کیا۔ دراصل میں چاہتا تھا کہ وہ فروری کے مہینے میں لندن ہی میں رہیں اور یہ وہ وقت تھا جب انگلش سیاستدان اور ان کے خصوصی مشیر کو رونا کو معمولی بیماری گردان رہے تھے۔ابا پراگ کے ریڈیو اسٹیشن سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے اور اماں کے ساتھ لندن آئے تھے۔یقینا" وہ میرے بچوں اور بیوی کے ساتھ کچھ اچھا وقت گزارنے کے خیال سے آئے تھے پر انہوں نے جلد واپس جانے پر زور دیا اور شاید وہ ان کے فلیٹ کے معاہدے کی تجدید کا معاملہ تھا۔اب سوچتا ہوں تو یقین جانیں وہ بال بال بچ گئے۔میری بیوی، میں خود اور ہمارے بچے سبھی اس مہینے کے آخر تک کورونا کا شکار ہوچکے تھے۔ ہم سب ہفتوں پہلے وبائی مخرج بنے پھر رہے تھے اور ابا اماں کو بیمار کرنے کے لیے ہماری ایک سانس ہی کافی تھی۔پراگ میں وہ محفوظ تھے کیونکہ وہاں لاک ڈاؤن بہت پہلے ہوگیا تھا جبکہ انگلینڈ میں ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ جاری تھا۔
بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد پہلا کام جو میں نے کیا وہ عالمی وبا کے بارے میں بی بی سی ریڈیو 4 کی ڈاکیومینٹری تھی۔اس کا موضوع تھا کہ کووڈ سوسائٹی میں قربت پیدا کررہا ہے یا فاصلے بڑھا رہا ہے۔پروگرام کا تعلق میری لندن اسکول آف اکنامکس میں کی گئی تحقیق سے تھا جو اس بارے میں تھی کہ تقطیبیت یا گروہ بندی کو کیسے قابو کیا جائے۔گزشتہ چند برس سوسائٹی کی گروہی تقسیم کی نذر ہوئے تھے جیسے بریکسٹ کے حامی اور مخالف گروہ، جو درحقیقت دونسلوں کی تقسیم تھی بزرگ بریکسٹ کے حامی تھے اور نوجوان مخالف تھے۔
پروگرام بنانا میری توقعات سے بڑھ کر مشکل ثابت ہوا۔ہرچند کہ وائرس کی شدید علامات مثلا" بخار، سانس پھولنا،پسینہ آنا،اور چکر آنا ختم ہوچکی تھیں پھر بھی میں بے چینی اور توجہ کے ارتکاز میں دشواری محسوس کرتا رہا۔میرا کووڈ سے متاثرہ دماغ جو پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے آکسیجن کے قحط کا شکار ہوا تھا جلد چکرا جاتا تھا۔میرا سب سے کامیاب انٹرویو تحلیل نفسی کے ماہر جوش کوہین کا رہا جس نے کووڈ کی وبا کے دوران نسلوں کے درمیان رشتوں میں جزویاتی کھنچاؤ کو دریافت کیا تھا۔
"فرائڈ کے ہاں یہ تذکرہ ملتا ہے کہ بیٹوں نے قدیم زمانے میں مل کر باپ کو قتل کیا اور پھر وہ احساس ِجرم کا شکار ہوگئے۔اور یہی احساس جرم کا دباؤ آج ہماری معاشرت کی بنیاد ہے۔لہذا معاشرت دراصل احساس جرم کا ہماری ذات کے اندرون میں موجزن ہونا ہے۔یہ احساسِ جرم نتیجہ ہے اس تشدد کا جو ہم نے اپنے راستے میں آنے والے لوگوں کو ہٹانے کے لیے اپنے اندر محسوس کیا۔ ہم نے اخلاقی طور پر ترقی انہی لوگوں کا خیال رکھ کر کی جن کو ہمارا تشدد راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔
کوہین اسی منطق کو کووڈ کی وبا کے دوران کام کرتے دیکھتا ہے خصوصی طور پر "ریوڑ کی مدافعت" کے نظر یہ کے پیچھے جو اس عالمی وبا کی ابتدا میں انگلینڈ میں بہت مقبول تھا۔" اس تبلیغ کا مرکزی خیال یہ تھا کہ یہ وبا بوڑھوں اور کمزوروں کو چاٹ لے گی اور باقی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی" کوہین نے بتایا۔سر پیٹرک ویلانس یو کے کے چیف سائنٹفک مشیر نے ریوڑ کی مدافعت کے منصوبے کو اپنے سکائی نیوز اور بی بی سی پر دئیے گئے انٹرویو میں یوں بتایا تھا " ہمارا مقصد بڑھاؤ کو کم کرنا ہے پھیلانا ہے مکمل دبانا نہیں ہے۔۔۔۔تاکہ ہم ریوڑ کی مدافعت پیدا کرسکیں"۔بعد ازاں بورس جانسن کے چیف سیاسی مشیر ڈومینک کممنگس کے تعلق سے سنڈے ٹائمز نے لکھا کہ وہ محفلوں میں یہ کہتے پائے گئے کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ معیشت کو تحفظ فراہم کیا جائے، چاہے نتیجے میں کچھ پینشن یافتہ افراد کی قربانی ہی کیوں نہ دینے پڑے،مشکل وقت ہے۔
تاہم جب اعدادوشمار نے دکھانا شروع کیا کہ اندازے سے کہیں زیادہ اموات واقع ہوسکتی ہیں تو قلابازی کھائی گئی اور حکومت صاف مکر گئی کہ ریوڑ کی مدافعت کا نظریہ کبھی اس کی پالیسی کا حصہ تھا اور کممنگس کے کہے کو من گھڑت اور بدنام کرنے کی سازش قرار دیا جانے لگا!
میں نے کوہین سے اسکی رائے مانگی۔
" ہم یا تو سینہ ٹھونک کر یہ کہہ رہے تھے کہ صرف بوڑھے اور کمزور شکار ہوں گے یا پھر یہ صورت ہوئی کہ ہم نے کہنا شروع کیا کہ ہمیں اپنے معاشرے کے حساس اور اہم افراد کو بچانا ہوگا۔یہ ایک بڑی چھلانگ تھی ہمارے معاشرتی رویے کی۔پشیمانی اور احساس جرم کا مظاہرہ کہ ہم نے اپنے والدین کو یوں اپنے متشدد رویے کا نشانہ بنایا اب عمومی گفتگو کا موضوع بن چکا تھا"۔
اس انٹرویو کے بعدمیں سوچتا رہا کہ کیا میرا ابا اور اماں کے رک جانے پر اصرار کرنا کسی فرائڈین جبلت کا نتیجہ تھا ؟
ابا کا تو ضرور یہ خیال ہوگاکہ کو رونا وائرس نے والدین کی طرف بچوں کی کسی چھپی ہوئی جبلت کو ظاہر کیا ہے۔وہ پیراگ میں اس موضوع پر شاعری کر رہے تھے۔وہ تمام زندگی ایک شاعر ہی رہے تھے اور یہ ریڈیو کی ملازمت تھی جس نے ان کو شاعری کی ہر سال ایک کتاب ہی لانے کی گنجائش دی۔اب جب وہ ریٹائرمنٹ اور وبا کی آسائش میں تھے تو وہ ہر مہینے شاعری کی کتاب لانے کو تڑپ رہے تھے۔
پرانے وقتوں میں کنواریوں اور بچوں کو
قربان کیا جاتا تھا۔
کیا رسم تھی!
معاشرہ اپنا مستقبل قربان کرتا تھا۔
سوائے اس کے بھلا ایسی قربانی کا کیا مطلب نکالا جاسکتا ہے۔
مگر آج کے زمانے میں
وہ ہم بوڑھوں کی قربانی دینا چاہتے ہیں۔
کیا یہ سمجھا گیا کہ دیوتا اندھے ہیں۔
سٹھیا گئے ہیں؟
سو ہم قربانی کے استھان پر کپکپاتے، لرزتے ہوا خارج کرتے
کھڑے ہیں۔
کوئی یہ بتائے کہ ہم ناکارہ پرزے ہیں۔
ابا ہمیشہ مذاق کیا کرتے تھے کہ وہ روسی زبان میں لکھتے ہیں اور میں انگریزی میں تو ادب میں باپ بیٹے کے تصادم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ہم دونوں کے اظہار کی زبانیں مختلف تھیں۔اور یوں بھی کہ تصادم سے بچنے کے لیے ہم دونوں مختلف سمتوں میں چلے گئے۔ میں ٹی وی کی طرف گیا اور وہ ریڈیو کے آدمی تھے پھر میں سوشل سائنس کے کھیت کو ہو لیا اور اینگلو سیکسن نامہ نگاری کرنے لگا جبکہ وہ روسی شاعری کی فضاؤں میں اڑے۔جب کبھی میرا کوئی مضمون سیاست اور پروپیگنڈے کے بارے میں چھپتا تو وہ ایک آہ بھر کے کہتے کہ یہ نا بھولو کہ تم بنیادی طور پر ایک شاعر ہو۔
میرے ابا کے لیے شاعری سوویت نظام کے جبر سے بغاوت کا ایک ذریعہ تھی، جو انفرادی آواز کو نظریے کے بوجھ سے دبانا چاہتا تھا۔جب وہ ستائیس برس کے تھے اور کے جی بی کی تفتیش کی زد میں سینسر زدہ مواد رکھنے کی وجہ سے آئے تھے تو اپنے ایک ابتدائی ناولٹ میں ان کا ہیرو ،ایک نیا لکھاری اپنے باپ کی درباری ، غیر جذباتی اور دفتری تحریروں کا اپنی تحریروں سے موازنہ کرتا ہے۔ایک اور نسل نظریات کی جنگ کا اظہار اپنی زباں میں کرتی ہے۔
پہلے دیکھیں باپ کا طرزِتحریر ٹھوس سوشلسٹ اسلوب میں،
اس ملک نے سرمایہ داری غلامی کی زنجیروں کو اتار دیا ہے۔بورژوا کلچر ہمیشہ سے عوام کے لیے اجنبی اور غیر تھا،اور اب اس کا چہرہ صاف ظاہر ہوگیا ہے ایک سرمایہ دارآمریت کی ملازمہ کا روپ۔سوشلسٹ سورج کو خوش آمدید اور اندھیرے کو الوداع۔
پھر ہم ابا کے ہیرو کا بیانیہ دیکھتے ہیں۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہم سڑک پر چہل قدمی کررہے تھے سانس لے رہے تھے اور حروف ادا کررہے تھے۔اور اب تم صفحوں سے پھٹ چکے ہو اور باہر بہہ رہے ہو ان بیروں کی طرح جو کوٹ کی جیبوں میں چھپے تھے اس سے بڑا کیا مزہ ہے کہ جب تم خود کردار بن کر لکھتے ہو؟
اب پراگ میں قرنطینہ اور سرحدوں کی بندش کے بعد ابا کو سرد جنگ کی یادیں ستا رہی ہیں۔اور جب کووڈ نے زندگی اور موت کو اعداد وشمار میں ڈھال دیا ہے تو ابا پھر ادب کو اپنی انفرادی آواز کو بچانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
تم کتنی بھی کوشش کرو
تم کتنا بھی چاہو
تم اعداد وشمار بن جاؤ گے
مالک مکان، مخالف جنس پرست، ناکام ادیب
سب بے کار اعداد وشمار ہیں
شماریات نے زندگی کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے
اب ہمارے پاس نئے حوالے ہیں
کتنے متاٹر ہوئے اور گنتی جاری ہے
کتنے متاثرین فوت ہوگئے اور گنتی جاری ہے
کتنے مرنے والے ستر سے زیادہ کے تھے اور گنتی جاری ہے۔
وہ میری انفرادی آواز کے بارے میں بھی پریشان تھے اور اس بات کا کووڈ کی وبا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
جب میں نے ان کو اپنے بی بی سی کے لیے بنائے گئے پروگرام کا بتایا تو انہوں نے مجھے انتباہ کیا کہ خیال رکھنا، کہیں تم بھی بی بی سی کے دیگر لوگوں کی طرح بولتے نہ پائے جاؤ، وہ سب ایک اسلوب اور لہجے میں بولتے ہیں۔تمہارے آخری پروگرام میں تم انڈریو مارر کی طرح بولتے پائے گئے تھے۔مجھے خوف ہے کہ کہیں تم اپنی انفرادی آواز نہ کھو بیٹھو۔
ریڈیو ابا کے لیے آواز کا ایسا جادو تھا جو روحانیت سے ملتا جلتا تھا۔ابا نے خود بی بی سی کے لیے کام کیا تھا بطور سوویت سیاسی پناہ گزین سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں۔اس وقت آواز حدوں اور ان خاردار باڑھوں کو عبور کرنے کا واحد ذریعہ تھی جنہوں نے دنیا کو سیاسی جغرافیائی حدوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔وہ جو ایک کبھی کبھار کی فون کال جو ابا اور اماں اپنے والدین کو سوویت یونین میں کرتے تھے گھنٹوں لیتی تھی کہ پہلے آپریٹر اس کا بندوبست کرے اور پھر خفیہ والے ہر لفظ پر کان لگائے بیٹھے ہوتے تھے۔پھر دیواریں گر گئیں جب ابا کی بی بی سی کے ریڈیو اسٹوڈیو تک رسائی ہوئی جہاں انہوں نے خود کو سینسر کی بندشوں سے آزاد محسوس کیا۔ دنیا سے محفوظ، ساؤنڈ پروف بوتھ اور کنٹرول پینلس پھر کسی کھڑکی کا نہ ہونا ریڈیو اسٹیشن کو خلائی جہاز سا بنا دیتا ہے۔پھر آپ کی آواز ہی ہوتی ہے جو اس منطقے سے باہر جاتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ سامعین بھی پوری دنیا میں ایک سفر کی حالت میں ہوتے ہیں جیسے باہر خلاء میں ہوں۔میں خود سفر کا دیوانہ ہوں اور خود کو سماعت کے سفر کے دوران ایک لہر سے دوسری لہر تک چھلانگیں مارتا محسوس کرتا ہوں۔
کئ دہائیاں اس خلائی جہاز نما اسٹوڈیو میں بتانے کے بعد ابا ریڈیو کو ناصرف سینسر شپ بلکہ موت پر بھی قابو پانے کا ذریعہ سمجھنے لگے تھے۔جو آوازیں انہوں نے ریکارڈ کرائی تھیں جو زندہ جاوید تھیں ایک دفعہ ریڈیو ویوز پر جانے کے بعد آوازیں کائنات میں گھومتی رہتی تھیں بے بدن ارواح کی طرح جو زمین کے ماحولیاتی کرہ کے باہر حرکت کرتی ہیں۔انہوں نے ایک شاعری کی کتاب لکھی تھی جس کا مرکزی کردار ایک ریڈیو پروڈیوسر ہوتا ہے جو اپنے پاگل پن میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں کو بے تار برقی سے زندہ کرسکتا ہے۔اپنے کووڈ سائیکل میں وہ ریڈیو کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کو اداسی و مایوسی کو شکست دینے کی علامت بتاتے ہیں۔
قرنطینہ میں صرف ریڈیو بولتا رہتا ہے
دنیا ایک ڈوبی ہوئی آبدوز کی مانند ہوگئی ہے
جس میں بند ایک ملاح اس کی دیواریں بجا رہا ہے
اس امید پر کہ شاید باہر کوئی اس کی آواز سن لے۔
وہ تصور کرتے ہیں ایک آدمی کا جو میرا ہم شکل ہےاور خالی ڈھنڈھار پراگ میں جادوئی ڈکٹا فون لے کر کووڈ 19 سے پہلے کی آوازیں ریکارڈ کرنے نکلا ہے۔شراب خانے میں بوتلوں کے کھنکنے کی آوازیں، رسی کودتے بچوں کی رسی کی تیز آوازیں
اور خالی چرچراتے جھولوں کی آوازیں۔
ادھر بی بی سی پر میرا پروگرام بس چل رہا تھا آگے بڑھ رہا تھا اور میں سانس کی کمی سے آہستہ آہستہ باہر نکل رہا تھا۔میں نے جن کا انٹرویو کیا وہ زیادہ تر تحقیقی افراد تھے جنہوں نے طویل ریسرچ کررکھی تھی کہ کیسے ہم اس دنیا میں روابط قائم کرسکتے ہیں جو سرحدوں کی پابند نہیں ہے بلکہ جس میں ہر گروہ اپنی بنائی حقیقت میں محصور ہے۔کووڈ 19 نے اس گروہ بندی کو اب صحت عامہ کے لیے خطرہ بنا دیا تھا جب کچھ گروہ سازشی نظریوں اور جعلی علاج کی افواہیں انٹر نیٹ پر پھلانے میں مصروف ہیں ۔ ٹالنا سٹراؤڈ جو ابلاغ کی یونی ور سٹی آف ٹیکساس کی پروفیسر ہیں نے مجھے ایک دلچسپ تجربے کے بارے میں بتایا جو انہوں نے ترتیب دیا تھا ۔انہوں نے فیس بک پر پسند کے بٹن کو عزت کے بٹن میں تبدیل کردیا ۔دیکھا یہ گیا کہ ایک گروہ کے لوگوں نے دوسرے گروہ کے لوگوں کے مواد کو عزت کا بٹن دبا کر زیادہ پڑھا۔ایک چھوٹی سی تبدیلی نے کیسےکمپیوٹر پروگرام کا ہمارے احساسات اور جذبات کا ایک نیا استعارہ متعارف کرا دیا اور ہماری سوسائٹی کا رویہ تبدیل ہوگیا۔
اسٹوڈ نے ایک تجربہ یہ بھی کیا کہ کیسے نامہ نگار اپنے قاری کو معروضیت کا قائل کرسکتا ہے اور اپنی جانب داری اور افواہ سازی کی تہمت سے عہدہ بر آ ہوسکتا ہے۔ایک طریقہ تو یہ ہے کہ نامہ نگار کچھ اپنے بارے میں بھی اپنے قاری کو بتائے اور اپنی تحریر کی لکھت میں اپنے قاری کو بھی شامل کرے ۔قاری کا اعتماد بڑھ جاتا ہے جب نامہ نگار اپنے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے ۔اور کیسے مضمون کے لیے مواد اکھٹا کیا گیا اور کس کے کہنے پر مضمون لکھا گیا۔اپنی موزونیت کے اظہار کے بعد نامہ نگار بہتر معروضی گفتگو میں اپنے قاری کو مصروف کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔۔تاہم جیسے ہی آپ یہ رشتہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ویسے ہی یہ رشتہ پختہ ہوکر کلیسے کا روپ دھار لیتا ہے اور پھر ٹھوس دیواریں آپ اپنے گرد پاتے ہیں ۔
ہمیں ہمیشہ نئے گفتگو کے زاویے دریافت کرنا ہوتے ہیں تاکہ نئے نکات سے قاری کو متعارف کروا سکیں اور قاری کو مروجہ شناخت کے بلبلوں سے باہر لا سکیں۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم مسلسل دنیا کو نئی نظروں سے دیکھیں اور ڈیموکریٹ یا ریپبلکن اور بریک سٹ مخالف اور بریک سٹ حامی کی گروہ بندی سے بالا ہوں۔حقائق سے زیادہ آپ کا تصور اور تخیل اس متضاد اور گروہی صورتحال سے اجتماعی حقیقت کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی کے حالیہ کچھ برس یونی ور سٹی کی عمارت میں گزارے جو سوشل سائنٹسٹ سے خوب آباد تھی یہ لوگ سوالنامے ، مرکزی گروہی مزاکرے ، اعداد و شمار کے جائزے اور شماریات کے اہداف سے اندازہ لگا رہے تھے کہ گروہوں کے مابین کھینچی برلن دیوار کو کس قسم کی معلومات عبور کر سکتی ہے۔یہ ایک سست رفتار کام تھا مگر مفید تھا جس نے مجھے یاد دلا یا کہ معاشرت کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے جبک شاعری شناخت کو واشگاف کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔شاعری کے میدان میں ہم بدلتی معروضیت اور تبدیل ہوتے نقطہ نظر سے ہمیشہ تجربے کر رہے ہوتے ہیں۔
جب میں اپنی اب تک کی لکھی آخری کتاب ترتیب دے رہا تھا تو میں نے ایک پی ایچ ڈی کی تحقیق دیکھی جس کے مطابق وہ لوگ جو ریاستی پروپیگنڈا ہضم نہیں کرپاتے تھے ان کی قدر مشترک فکشن کا بے پناہ مطالعہ تھا جو انہوں نے اپنی بڑھو تری کے دوران کیا تھا۔ان کی خاصیت یہ تھی کہ وہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی بتائ ہوئی لائن کے علاوہ بھی سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔پھر مجھے یاد آیا کہ میرے والد کے لیے بھی سوویت روس میں شاعری سیاسی بغاوت کا راستہ تھی ایک طریقہ معروضیت کو بدلنے کا اور اتنا شدید جو ہر شناخت تبدیل کردے۔شاید شاعری ہی انفارمیشن کی وبا سے بچاؤ کی ویکسین ہے۔
آج بھی ابا سیاق و سباق کو من قلب کرتے ہیں جب بھی وہ فیس بک پر اپنی نئی نظم پوسٹ کرتے ہیں۔وہ لیب میں تجرباتی چوھے کی نظر سے وائرس کو دیکھتے ہیں، یا انفارمیشن وائرس کی نظر سے جو کو رونا وائرس سے رقابت محسوس کرتا ہے۔وہ تصور وائرس کی آواز سننے کی کوشش کرتے ہیں جو فاتحانہ طور پر لیب میں داخل ہوچکا ہے اور ٹیسٹ ٹیوب توڑ رہا ہے۔کچھ نظموں میں انہوں نے قرنطینہ پر طنز کیا ہے جیسے ایک میں وصیت لکھنے کے لیے وکیل تک نہ پہنچنا موضوع ہے۔
میں نے اس کو نظم ہی جانا تھا جب تک کہ ان کا فون نہ آگیا چھوٹتے ہی بولے تم نہیں سمجھتے کہ ہمارا مسئلہ موت کی تیاری ہے۔میں نے معذرت کی کہ میں ان کی نظم کو شاعری سمجھا تھا جبکہ وہ استغاثہ تھی میں نے کہا کہ ریڈیو کے کاموں سے فرصت ملتے ہی میں وصیت کے لیے وکیل ڈھونڈ دوں گا۔
میں نے اپنی دوست ڈیوورا باہم سے دریافت کیا کہ کیسے کووڈ کے دوران ہمارے تعلقات بزرگوں اور عمر رسیدہ افراد کے ساتھ تبدیل ہو چلے ہیں۔اس کا خیال تھا کہ ہم نے اپنے والدین کو اعلی اور محفوظ مقام مہیا کردیا ہے اور یوں ادب اور تحفظ کی آڑ میں ان پر حکومت کر رہے ہیں۔ہمارے والدین اب بچوں کی طرح ہم پر انحصار کرنے لگے ہیں جیسے کبھی ہم ان پر اپنے چھٹپن میں انحصار کرتے تھے۔یہ ہمارا ریوڑ کی مدافعت سے تحفظ تک کا سفر تھا جو ایک طرح سے والدین پر حاوی ہونا ہی تھا۔
مجھے بالکل تعجب نہیں ہوا جب میں نے ابا کی تازہ نظم اس نئے تعلق کے بارے میں دیکھی۔
کیا سردی ہے منہ سے بھاپ نکل رہی ہے
ڈاکٹر نے کہا ان کو سپینش فلُو ہوا ہے
ماں کے رخ سے ایک رنگ گزرا اور وہ مر گئیں۔
یہ میخائیل زوشنکو نے لکھا تھا
میری کھانسی پر کون لکھے گا
زوشنکو کی ماں خوش قسمت تھی
یوں تو میرا بیٹا بھی ادیب ہے
پر سرحدیں بند ہیں
اور میرے نزد کے وقت اس کا آنا ممکن نہیں ہے۔
یہ سوچنا اچھی بات ہے کہ ریڈیو موت پر فتح پا سکتا ہے حقیقت میں یہ ہمارے بچے ہیں جو حیات جاوید کی نوید ہیں جن کے قبضے میں طاقت ہے۔
جب میرا ریڈیو پروگرام نشر ہو چکا تو ابا نے مجھے لکھا “میں نے تمہارا پروگرام سنا بہت اچھا تھا تم بول رہے تھے میرا بیٹا جو ریڈیو کے لیے بنا ہے۔” میں نے ان کو بتایا کہ اب میں کووڈ سے مکمل صحت یاب ہوچکا ہوں اور اب مجھے ایک نئے دس قسطوں کے بی بی سی پروگرام کا کام ملا ہے۔سوشل سائنس سے فرار اور آواز اور کہانی کی دنیا اچھی تھی اسٹوڈیو کے خلائی جہاز میں کام کرنا پرسکون تھا جب کووڈ بہت سے سانچے ڈھا چکا تھا تب میں اپنے ابا کی وراثت میں مزے کررہا تھا۔
ادھر پراگ میں لگتا ہے کہ ابا کی شاعری نے قربانی کے تصور سے ہم آہنگی پیدا کرلی تھی یا پھر یوں تھا کہ انہوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ خطروں سے کھیلنا بہتر ہے اس بات سے کہ اپنی لگام بچوں کے ہاتھ میں دے دی جائے۔
شکار بننا بھی خوب ہے
چہل قدمی کرو دھوپ سینکو کھڑکی کے پاس بغیر ماسک پہنے جاؤ
وہ جلدی نہیں کرتا، نشانہ بناتا ہے ،اپنے ماتھا سے پسینہ پونچھ لو
وہ مزے لیتا کہ کہاں مارنا ہے اور کیسے مارنا ہے
ناک اور منہ کی خلاء میں یا پھیپھڑوں میں یا گلے میں
یہ اچھا کہ ہم شکار ہیں۔
کیونک اگر نشانہ ہمارے بچے ہوتے
تو ہم ان کو کہاں چھپاتے
تہہ خانے میں یا گودام میں؟
پھر ان کو خبردار کرتے کہ میں تمہارے کان اکھاڑ لوں گا اگر تم نے باہر جھانکا
پھر ہم ایک کان ہاتھ میں پکڑے ادھر ادھر پھرتے کان ایسی شے نہیں ہے کہ آپ اس کو کچرے کے ڈبے کی نذر کردیں
یہ نشانچی بہت ماہر ہے
اپنے کام سے عشق کرتا ہے
اپنے کپڑوں سے پھپھوند جھاڑتا ہے
سوٹ کیس ہاتھ میں لیے آتا ہے دروازہ کھٹکھٹایا ہے
کیا آپ کے گھر میں چوہے ہیں؟
نہیں بلیاں ہیں جو چوہے پکڑ لیتی ہیں۔
اچھا چمگاڈریں ہیں ؟
جواب کے انتظار میں کھڑا رہتا ہے
جانے سے انکار کر دیتا ہے
آپ بچوں کو برتنوں کی الماری میں چھپا دیتے ہیں
المختصر ہم خوش قسمت ہیں
مجھے کھڑکی کھول لینے دیں تاکہ وہ نشانہ لے سکے۔
اگلے دن بی بی سی سے کام سے واپس آنے کے بعد میں نے اپنے دس سالہ جڑواں بچوں کو جو پچھلے دو ماہ سے اسکول نہیں گئے تھے ابا سے زوم پر باتیں کرتا پایا۔وہ ان کو سبق پڑھا رہے تھے۔ان کو شاعری لکھنا سکھا رہے تھے۔ اس امید پر کہ ان میں سے کوئی ان کی طرح کا شاعر نکل آئے گا۔

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2833327076897807

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/