Rich Dad Poor Dad Urdu Audio Book || Part 6 || Rich Dad Poor Dad by Robert Kiyosaki in Urdu & Hindi

رابرٹ کیاسکی کی شاہکار تصنیف
رچ ڈیڈ پور ڈیڈ
اردو آڈیوبک
امیر باپ کہتا رہا " دیکھو مائیک یا تو تم ایک کم ہمت انسان ہو جو ذرا سی مشکل پر بھاگ جاتا ہے، اگر تو ایسا ہے تو تم ایک محفوظ زندگی کے لیے کسی محفوظ پچ پر کھیلو گے ، درست کام کرو گے اور اچھے دنوں کا انتظار کروگے، وہ اچھے دن جو تمھاری زندگی میں کبھی نہیں آئیں گے۔ اور آخر میں بے کار سے ایک بڈھے بن کرتم مرجائو گے۔ تمھارے بہت سے دوست ہونگے جوتمھیں اس لیے پسند کریں گے کہ تم ایک محنتی اور اچے انسان تھے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ زندگی نے تمھیں دھکے دے کر اپنے سامنے جھکا لیا۔ درحقیقت تم خطرہ مول لینے سے ڈرتے تھے۔ تم جیتنا چاہتے تھے مگر ہار کا خطرہ تمھاری جیت کی خوشی سے زیادہ تھا۔ صرف تم جانتے ہو کہ تم نے کوشش نہ کی۔ تم نے ہمیشہ محفوظ رہ کر کھیل کھیلا۔ "
ہماری آنکھیں دوبارہ ملیں۔ 10 سیکنڈ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا جب پیغام موصول ہو گیا تو میں نے نظریں پھیر لیں۔ "تم مجھے دھکیلتے رہے ہو" میں نے پوچھا۔
" کچھ لوگوں کا شاید یہی خیا ل ہو" وہ مسکرایا " میں زندگی سے محض تمھار ا تعارف کروا رہا تھا "۔ "کیسا تعارف " میں نے پوچھا۔ میں ابھی تک ناراض تھا لیکن آہستہ آہستہ تجسس کا احساس مجھ پر غالب آرہا تھا۔ تم دونوں پہلے لڑکے ہو جنہوں نے پیسہ بنانے کے متعلق مجھ سے پوچھا ہے۔ میرے 150 ملازم ہیں لیکن کسی نے آج تک مجھ سے پیسہ کمانے کے ڈھنگ کے بارے میں نہیں پوچھا۔ وہ مجھ سے تنخواہ لیتے ہیں یا اضافے کی بات کرتے ہین اور بس۔ چناچہ ان کی اکثریت پیسے کے لیے کا م کرتے گزر جائے گی، انہیں یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ وہ درحقیقت کس شے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ چناچہ جب مائیک نے مجھے بتا یا کہ تم پیسہ کمانے کے بارے میں سیکھنا چاہتے ہو تو میں نے ایک راستہ چنا جو زندگی کے قریب تھا۔ میں چاہے کتنا بھی بولتا حتی کہ میری رگیں بھی پھول جاتیں تب بھی تمھارے پلے کچھ نہیں پڑنا تھا۔ چناچہ میں نے کوشش کی زندگی تمھیں تھوڑا بہت دھکیلے تاکہ تم میری بات سننے کے قابل ہوجا ئو۔ اس لیے میں تمھیں 10 سینٹ فی گھنٹہ دیتا رہا۔ اب یہ بتائو کہ تم نے 10 سینٹ فی گھنٹہ کے حساب سے کام کر کے کیا سیکھا؟"
میں نے کہا یہی کہ تم ایک استحصالی بزنس مین ہو جو اپنے ملازموں کو بلیک میل کرتا ہے۔ امیر باپ نے کرسی آگے پیچھے جھلائی اور زور سے ہنسا۔ جب یہ ہنسی رکی تو اس نے کہا " تمھیں اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنا چاہیے۔ مجھ پر الزام تراشی بند کرو اس سوچ سے نجات حاصل کر و کہ میں تمھاری مشکل کا ذمہ دار ہوں۔ اگر تم سمجتے ہو کہ میں قصور وار ہوں تو پھر مجھے بدلو اور اگرخود تم پر یہ الزام آتا ہے تو خود کو بدلو۔ کچھ سیکھو اور عقل میں اضافہ کرو۔ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ماسوا اپنے تمام دنیا کو بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ میری ایک بات کو پلے سے باندھ لو کہ دنیا کی نسبت خود کو بدلنا کہیں آسان ہے۔ اپنے مسائل کے لیے مجھے قصور وار مت ٹھرائو۔ " لیکن تم مجھے صرف 10 سینٹ فی گھنٹہ دوگے تو کیا میں جواب میں تم پرکیا تنقید بھی نہ کروں۔ میرا امیرباپ میری بات سن کرمسکرایا اور کہا کہ میں نے تمھہیں اتنے کم پیسے دیے اس سے تم نے سیکھا کیا۔ میں نے کہا یہی کہ میرے کام کی، میری محنت کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ امیر باپ نے کہا توتمھارے خیال میں اس معاملے میں سارا قصور میرا ہے۔ میں نے فورا کہا، بالکل۔ اب وہ سنجیدہ ہوا اور اس نے کہا کہ اگر تمھارایہی رویہ رہا تو تم کبھی کچھ نہ سیکھ سکو گے۔ اگر تم یہی سمجھتے رہے کہ میں پرابلم ہوں، میں تمھارا درد سر ہوں تو تم اپنی راہیں کبھی نہ بنا سکو گے۔ اچھا مجھے بتائو کہ اس وقت تمھارے پاس کیا اور متبادل آپشن ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر تم نے میرے پیسے نہ بڑھائے اور مجھے عزت نہ دی اور مجھے نہ سکھایا تو میں اس نوکری کو چھوڑ دوں گا۔ امیر باپ نے کہا کہ بالکل ٹھیک۔ اور زیادہ تر لوگ یہی کرتے ہیں۔ وہ ایک نوکری چھوڑ کر دوسری نوکر ی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ جہاں پیسے زیادہ ہوں اور بہتر مواقع ہوں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح زیادہ تر مسائل حل ہوجائیں گے لیکن ایسا ہوتانہیں ہے۔
میں نے پوچھا کہ تو پھر مسئلہ حل کیسے ہوگا۔ کیا انہی دس سینٹ پر مطمئن ہوجائوں تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔
امیر باپ مسکرایا
مکمل تفصیل اس لنک میں
https://www.youtube.com/watch?v=o1ag7TF9miM
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2832527283644453



