عالمی ادب
ہندی نظمشاعرہ روپم مشرمترجم: آفتاب احمد …

ہندی نظم
شاعرہ روپم مشر
مترجم: آفتاب احمد
***
تب موسم بہت چمکیلے ہوا کرتے تھے
جیسے ساون خوب ہرا ہوتا
جاڑے کی دھوپ خوب چٹکیلی
اور چیت کی چاندنی بہت سُہانی!
یہی سجیلے سردی کے سلونے دن تھے
پیار اور دن کا دوسرا پہر
تم ہتھیلی میں گُل دوپہریا لاکر
اس سے میرے سنگاردان پر ہارٹ سَرکِل بناکر
ہونٹوں پر ہنسی دبائے میرا نام لکھتے!
مجھے تھوڑا سا بچکانا اور مصنُوعی لگتا پھر بھی
یہ کومل سی پیار کی سیج دیکھ کر میں نہال ہو جاتی!
تب ہم دونوں بّچے ہُوا کرتے تھے
تب تک سمجھداری کی نظر ہم پر نہیں پڑی تھی!
تم بدمعاشیاں کیا کرتے تھے!
میں تمھارے گالوں پر جھٹ سے چپت لگا دیتی
تم بس ہنسنے لگتے!
پھر ہم بڑے ہوئے!
میں عورت ہو گئی
اور تم مرد
پیار کچھ سُست ہوا تھا شاید
یا ہم دُنیا دار ہوئے تھے!
تمھاری کسی شرارت پر میں جیسے ہی ہاتھ اُٹھاتی
تم ہاتھ کَس کر پکڑ لیتے!
مجھے لگا کہ یہ بھی کوئی شرارت ہوگی
پر ایک دن جیسے ہی ہاتھ گالوں تک گیا
تم نے ذرا سی آنکھ دکھا کر کہا!
چوٹ لگتی ہے یار!
ایسا نہیں تھا کہ ایک دُبلی پتلی
نازُک سی لڑکی کے ہاتھ سے تمھیں چوٹ لگتی تھی!
چوٹ تمھاری اَنا کو لگتی تھی!
تمھارے اندر جنم لے چکے مرد نے کہا!
تم عورت سے مار کھاتے ہو!
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2816127505284431



