عالمی ادب

The Alchemist Audiobook in Urdu & Hindi || Alchemist in Urdu || Alchemist in Hindi || Part 6

سب سے بڑا ناول

الکیمسٹ

اردو آڈیو بک

آج صبح لڑکا بہت جلد بیدا ر ہوا۔ اسے تانجیر میں آئے آج پورے گیارہ مہینے ہوگئے تھے۔ اس نے خالص اۤج کے لیے یہ عربی لباس خرید ا تھا۔ وہ اۤہستہ اۤہستہ سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ شہر پر ابھی تک نیند کا سکو ت تھا۔ وہ پہلے قہوہ خا نے میں اۤیا اور پھر اس نے کرسٹل کے گلاس میں قہوہ پیا۔ اور پھر قہوہ خانے کے دروازے میں بیٹھ کر حقے کے چھوٹے چھوٹے کش لینے لگا۔

وہ اپنے چہرے پر تازہ ہوا محسوس کر سکتا تھا اس ہوا میں صحر اکی مہک رچی ہوئی تھی۔اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور رقم کا بنڈل نکا ل کر اسے غور سے دیکھنے لگا۔ اس رقم سے وہ نہ صرف 120 بھیڑیں خرید سکتا تھا بلکہ واپسی کا ٹکٹ بھی لے سکتا تھا اور افریقہ سے دراۤمدی تجارتی لائسنس بھی لے سکتا ہوں۔ اس نے سوچا۔

یہ سب کچھ اس نے پہلے گیا رہ ماہ میں کمایا تھا۔ یہی سب کچھ سوچتے سوچتے وہ دکاندار کا انتظار کرنے لگا۔ جب دکاندار اۤیا تو اس نے قہوہ کا ایک گلا س لیا اور وہ دونوں دکا ن کے ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ اۤج میں جا رہا ہو ں، لڑکے نے انکشاف کیا۔ میرے پاس اتنے پیسے ہیں کہ میں اۤسانی سے اپنا ریوڑ بنا سکتا ہوں اور اۤپ کے پاس بھی اتنی رقم ہے کہ اۤپ حج پر جا سکتے ہیں۔ دکاندار خاموشی سے لڑکے کی بات سن رہاتھا۔

کیا اۤپ مجھے اپنی دعائوں میں رخصت کرو گے۔ لڑکے نے دکاندار سے سوال کیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میرے اس مشکل دور میں آپ نے میری بہت مدد کی تھی۔ دکاندار خاموش تھا پھر اس نے اپنے گلاس میں مزید قہوہ انڈیلا اور پہلی بار بولا۔

"مجھے تم پر فخر ہے تم نے واقعی میرے کاروبار کو ترقی دی لیکن تمھیں معلوم ہے کہ میں مکہ نہیں جائوں گا جس طرح مجھے معلوم ہے کہ تم ریوڑ نہیں بناو گے۔

اۤپ سے کس نے کہا کہ میں ریوڑ نہیں بنائوں گا؟۔ لڑکے نے حیرت کا اظہا ر کیا۔

"مکتوب"دکا ندار نے یہ کہا اور اس نے لڑکے کو گرم جوشی اور اپنی نیک تمنائوں سے رخصت کیا۔ لڑکے نے کمرے میں جا کر اپنا سامان باندھنا شروع کردیا۔

جب وہ یہاں اۤیا تھا تو اس کے پاس ایک تھیلہ تھا جس میں ایک جیکٹ اور کتا ب تھی۔ اۤج اس کے پاس اتنا سامان تھا کہ تین تھیلے بھر گئے۔ جب وہ کمرے سے روانہ ہو رہا تھا تو اس کی نظر اپنے تھیلے پر پڑی وہ اسے بالکل ہی بھول چکا تھا۔ اس نے تھیلا اٹھایا اور اس میں سے جیکٹ نکا لی تاکہ گلی میں کسی غریب کو دے دے۔ جیسے ہی اس نے جیکٹ نکا لی دو پتھر اس میں سے گر پڑ ے۔ یوریم اور تھومیم۔ پتھروں کو دیکھ کر اسے بوڑھا بادشاہ یا د اۤگیا۔

کبھی بھی خواب دیکھنے سے گریز نہ کرنا۔ اسے بوڑھے بادشاہ کی کہی ہوئی بات یاد آئی۔ اس نے یوریم اور تھومیم کو فرش پر سے اٹھایا اسے یوں محسوس ہوا کہ جیسے بوڑھا بادشاہ اس کے قریب ہی ہے۔ ایک سال کی سخت محنت کے بعد اۤخر وہ وقت اۤگیا تھا کہ وہ واپسی کا سفر اختیار کر سکے۔ اس نے سوچا کہ میں واپس جا کر اپنا ریوڑ پھر سے بنائوں گا۔ باوجود اس کے کہ میں بھیڑوں کے ساتھ رہ کے عربی نہیں سیکھ پایا تھالیکن میں نے بھیڑوں کے ساتھ رہ کے اس سے بھی زیادہ اہم چیز سیکھی ہیں۔ ایسی چیزیں جن کا استعمال میں نے دیا ر غیر میں مسلسل کیا۔ اسی کی وجہ سے میں کرسٹل کا کا روبار عروج پر لایا اور اسی کی وجہ سے میں ایک کامیاب اور بے مثال قہوہ خانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ اور وہ چیز تھی،جذبہ۔ کام کو انجام دینے کی محبت اور اپنے مقصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا۔

تانجیر اب اس کے لیے اجنبی جگہ نہیں تھی اور اس کا خیال تھا کہ اس نے اس اجنبی جگہ کو فتح کیا تھا۔ اس طرح وہ جذبے اور لگن سے پوری دنیا کو فتح کرنے کے لیے تیار تھا۔

جب تم کسی چیز پوری شدت سے چاہتے ہو تو پوری کائنات تمھاری اس چاہت کی تکمیل میں لگ جاتی ہے۔ اسے بوڑھے بادشاہ کی کہی بات یاد آئی۔ پھر اسے یاد اۤیا کہ بوڑھے بادشاہ نے سب کچھ لٹ جانے کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا تھا اور نہ ہی تا حدنظر پھیلے صحرا کے بارے میں اور نہ ان لوگوں کے بارے میں بتایا تھا جو یہ تو جانتے ہیں کہ ان کا مقصد کیا ہے اور ان کی منزل کیا ہے لیکن وہ کبھی اس کے لیے تیا ر نہیں ہوتے۔ بوڑھے بادشاہ نے اسے یہ بھی نہیں بتایا کہ اہرام فقط ایک پتھروں کا ڈھیر تھے اور ہر کوئی ایسے اہرام اپنے صحن میں بنا سکتاہے۔ اور بوڑھے بادشاہ نے یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ جب اس کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ دوبارہ ریوڑ خرید سکے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟

لڑکے نے تھیلا اٹھایا اور اپنے سامان کے ساتھ رکھ دیا۔ وہ اۤہستہ اۤہستہ سیڑھیوں سے نیچے اتر اۤیا اور دکان میں چلا گیا۔ دکانداردوغیر ملکی مہمانوں کے ساتھ مصروف تھا اور کئی لوگ قہوہ خانے میں قہوے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اۤج معمول سے زیادہ گہماگہمی تھی۔ اۤج اس نے پہلی بار دکاندار کے بالوں کو دیکھا تو اسے لگا کہ دکان دار کے بالوں کا رنگ بوڑھے بادشاہ کے بالوں کے رنگ جیسا تھا۔ اوراسے یہ بھی یا د اۤیا کہ اس مٹھائی والے کی مسکراہٹ جس سے وہ تانجیر میں ملا تھا وہ بھی بوڑھے بادشاہ جیسی تھی۔ ایسا لگتا تھاجیسےبوڑھا بادشاہ یہا ں بھی اپنے نشان چھوڑ گیا ہو اوریہ بھی حقیقت تھی کہ ان میں سے کوئی بھی بوڑھے بادشاہ سے نہیں ملاتھا۔ اور دوسری طرف اس کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ان لوگوں کی مدد کے لیے موجود ہوتا ہے جو اپنی منزل کی جستجو کرتے ہیں۔

اس نے رخصت ہوتے ہوئے دکاندار کو الوداع بھی نہیں کہا۔ وہ عام لوگوں کی طرح الوداع ہوتے ہوئے اۤنسو نہیں نکال سکتاتھا۔ اسے اس جگہ کے چھوڑنے کا ہمشہ افسوس رہے گا اور یہاں کے لوگ بھی یاد اۤئیں گے۔

مکمل تفصیل اس لنک میں

The Alchemist Audiobook in Urdu & Hindi || Alchemist in Urdu || Alchemist in Hindi || Part 6

The Alchemist Audiobook in Urdu & Hindi || Alchemist in Urdu || Alchemist in Hindi || Part 6 Subscribe LIFE: https://www.youtube.com/channel/UCc0N-kaXZ3aiuRt…
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2815026635394518

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/