عالمی ادب

جب قاری کوئی ایسا ناول پڑھنا شروع کرتا ہے تو کئی دھائیوں سے ادبی منظر نامے پہ چھ…

جب قاری کوئی ایسا ناول پڑھنا شروع کرتا ہے تو کئی دھائیوں سے ادبی منظر نامے پہ چھایا ہوا ہو۔ اسے دنیا بھر میں کئی دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد بار ٹیلی ویژن سیریز ، اوپیرا، سٹیج ڈرامے اور فلمز کی صورت میں ڈھالا گیا ہو تو پڑھنے والا ناچاہتے ہوئے بھی ڈھیروں توقعات لگا بیٹھتا ہے ایسے ناول سے۔ دو ہزار بیس میں کووڈ کے دوران ٹالسٹائی کے دونوں عظیم ناول جنگ اور امن اور اینا کرینینا پڑھے۔ یہ دونوں ناول پڑھنا اتنا خوبصورت اور شاندار تجربہ تھا کہ بعض دفع اور خاص کر اینا کرینینا پڑھتے وقت دل سے اس وباء کا خیال نکل سا جاتا اور دماغ لیون ، اینا آرکائیدئیونا، ورونسکی، کیٹی شیرباتسکایا، استیپان اوبلونسکی، ڈالی، الیکساندر کرینین کی دنیا میں الجھا رہتا ۔ آنکھوں کے سامنے امپیریل روس کے بال روموں ، کلبوں ، گھڑ دوڑوں ، دھندلی صبحِ شاموں کے دوران ٹرینوں اور سٹیشنز کے مناظر ، دیہاتی زندگی کی رنگارنگی، اینا کا بے گناہ خوبصورت سراپا یا لیون کا بیوقوفی کی حد کو چھوتا اٹ پٹا پن گھوم جاتا۔
۔
خوشی غم، حسد،رشک، بے وفائی ، معاف کر دینے جیسی انسانی صفات کو جس حقیقی انداز میں اس ناول میں بیان کیا گیا ہے شاید ہی کوئی اور رائٹر اس انداز میں بیان کرپائے۔ زندگی کے بہت سے پہلو ہم ایک نئے زاویہ نظر سے دیکھنے لگتے۔اینا کی ورونسکی کی دیوانگی کی حدوں کو چھوتی محبت، اس کے پیار کو لیکر اس کی خود کو اذیت دینے سے بڑھ کے جیلسی، لیون کا زندگی کے مقصد بارے غوروفکر اور ایسے ہی بہت سے کرداروں کی مختلف حالتوں اور خیالات کا اتنا حقیقت پسندانہ بیان ہے لگتا ہے کہ یہ کوئی ناول نہیں جیسے کوئی شخص ان تمام حالات و حوادث سے خود گزر چکا اسی کا بیان کئے جا رہا
۔
کووڈ کے دنوں میں میں نے یہ ناول پہلی بار پڑھا تھا۔انگریزی میں یہ ناول اگرچہ بہت پسند آیا تھا پر جو مزہ اپنی زبان اردو میں یہ خوبصورت ترجمہ پڑھ کر آیا اس کا کوئی جواب نہیں۔ تقی حیدر صاحب کے ترجمے کو اطہر رسول حیدر نے تصحیح کے بعد جتنا خوبصورت اور رواں بنا دیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔
۔
اینا کرینینا ایک بہت بڑا ناول۔ جو پڑھنے کے بعد جہاں آپ کو سوچ کے نئے زاویئے سے روش شناس کرواتا ہے وہیں بقول اطہر رسول حیدر ایک افسوس بھی ہوتا کہ اس ناول کو پڑھنے کے ساتھ ہی بندہ اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت ناول کو ختم کر چکا ہوتا ہے


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3874743386089499

Related Articles

7 Comments

  1. ناول کی شروعات ہی ایسے جملے سے ہوتی ہے کہ وہ سیدھا دل و دماغ پر اثر کرتا ہے…
    "سارے سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں، مگر ہر دکھی گھرانا دوسرے سے مختلف ہے ۔

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/