عالمی ادب

گراوٹ کی اتھا ہ گہرائی (ناولٹ/طویل کہانی)مصنف : ان…

گراوٹ کی اتھا ہ گہرائی (ناولٹ/طویل کہانی)
مصنف : انتون چیخوف (روس)
تلخیص ، تالیف و ترجمہ : پروفیسر غلام محی الدین
روس میں ایک چھوٹے سا گاؤں تھا جس کا نام یوکلیو تھا۔ اس کی کل آبادی چار سو نفوس پر مشتمل تھی۔ اس گاؤں کی خصوصیت یہ تھی کہ وہاں بید کے گھنے جنگل پائے جاتے تھے۔ اس گاؤں میں سُوتی کپڑے اور چمڑے کی فیکٹریاں تھیں جہاں آس پاس کی آبادی مزدوری کرتی تھی۔ اس گاؤں کے نزدیک ایک قصبہ تھا جس میں میونسپل کمیٹی، کلیسا، ریلوے سٹیشن، پوسٹ آفس، پولیس سٹیشن اور ہسپتال قائم کئے گئے تھے۔ ان ایام میں وہاں بجلی نہیں پہنچتی تھی۔ آپسی رابطہ وائر لیس ریڈیو سے ہوتا تھا۔ اگر وائر لس کا نظام خراب ہو جاتا تو رابطہ منقطع ہو جاتا۔
بید کے جنگل اور گاؤں میں مکھیوں اور مچھروں کی بہتات تھی۔ اُس کی وجہ کارخانوں کا بد بودار کیمیائی اخراج تھاجس کی ترسیل کا کوئی بند و بست نہیں تھا۔ وہ بدبودار اخراج کیچڑ اور دلدل پیدا کرتا تھا اورملیریا، تپدق جیسی بیماریوں کا باعث بنتا تھا۔ حکومت نے اگرچہ ان کارخانوں کو بند کر دیا ہوا تھالیکن حکومتی عملے کی ملی بھگت سے وہ ابھی بھی غیر قانونی طور پر چل رہے تھے۔
یوکلیو گاؤں کا معزز ترین نام ’گریگر۔کوسٹیکوف۔سائی۔بیوکن‘ تھا ۔ اُس چھپن سالہ شخص کا گاؤں کی معیشت پر راج تھا۔ اس علاقے کا سٹور اور فارم ہاؤس اس کی ملکیت تھیں۔ اس کی زمینیں یوکلیو کے علاوہ بٹ یوکن نامی گاؤں اور ان کے گرد ونواح میں سینکڑوں ایکڑ وں تک پھیلی تھیں جو زیادہ ترخالی پڑی تھی۔ وہ ایک دبنگ آدمی تھا اور بڑے اثر و رسوخ والا شمار کیا جاتا تھا۔ بے حد رعب و دبدبہ رکھتا تھااور آن بان اور شان سے رہتا تھا۔ اپنا سموری کوٹ پہنے، کالر اونچے کئے، خود کو پوری طرح ڈھانپے، تکبرانہ انداز میں کاروبار چلا رہا تھا۔ کبھی اپنے شاندار گھوڑے پر سوارگاؤں کی بڑی سڑک یاگرجا گھر کے ارد گرد مٹر گشتی کرتے نظر آتا تو کبھی کھیلوں کے میدان میں کھیل کھیلتا پایا جاتا۔ کسی کی کیا مجال تھی جو اس کے سامنے دم مارے۔ وہ مزدوروں اور بھکاریوں کو آڑھے ہاتھوں لیتا۔ اسے ان سے شدید نفرت تھی۔ وہ بھکاریوں کو بھیک مانگنے پر ہمیشہ کہتا کہ مجھ سے کیا مانگتے ہو؟ خدا سے جا کر مانگو۔ اس میں ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے خاندان سے بہت محبت کرتا تھا۔ خاندان کے ہر فرد کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کو بھی پوری کرتا تھا۔ ہر ایک کو اعلی رہائش و طعام مہیا کرتا۔ اُس کی بیوی گزرچکی تھی جس سے اس کے دو بیٹے تھے۔ بڑے کا نام اینیسم اور چھوٹے کا نام سٹیفن تھا۔ اپنے بیٹوں کی شادیوں میں اس نے لڑکیوں کے خاندان یا جہیز کی بالکل پرواہ نہیں کی۔ صرف اس بات کا خیال رکھا کہ لڑکی ہر لحاظ سے خوبصورت ہونی چاہئے۔ چھوٹے بیٹے کی شادی پہلے ہوئی کیونکہ بڑا شادی کرنے پر راضی نہ تھا۔ اُس کے لئے اس نے ایک خوبصورت لڑکی جو کہ غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی،کا انتخاب کیا۔ اس لڑکی کا نام’اسکنیا‘ تھا۔ چھوٹا بیٹا سٹیفن تقریباً بہرہ، کم عقل اور بیمارتھااور اس میں قائدانہ صلاحیات مفقود تھیں۔
اسکنیاایک چالاک، ہوشیار، معاملہ فہم، گفت و شنیدکی ماہر خاتون تھی او ر خاصکر کاروباری سودا بازی میں یکتا صلاحیت رکتی تھی۔ اس نے شادی کے بعد فورا ہی گریگر کا کاروبار سمجھ لیا۔ گریگر جائز کاروبار کے ساتھ غیر قانونی دھندے بھی کرتا تھا جس میں بغیر اجازت بھٹی چلانا، شراب اور منشیات کی سمگلنگ اور خرید و فروخت شامل تھے اور ان چیزوں کا وہ کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا تھا۔ اسکنیایہ امور سمجھ گئی اور بڑی کامیابی سے کاروبارکے فروغ میں مدد دینے لگی۔ گریگر اُس کی خوبیوں کا معترف ہو گیا اور اس سے بیٹی کی طرح برتاؤ کرنے لگا۔ اُس کے دل میں خواہش تھی کہ اسکنیااُس کے چھوٹے بیٹے کی بجائے بڑے بیٹے اینیسم کی بیوی ہوتی تو وہ اس کے حسن اور دانشمندی کو زیادہ سراہ سکتا۔
اسکنیا ایک چھلاوہ تھی۔ صبح ناشتے کے بعد سٹور کھولتی۔ تہہ خانے کا معائنہ کرتی۔ فارم ہاؤس کا جائزہ لیتی۔ گودام کے معاملات دیکھتی۔ گاہکوں اور سپلائی والوں سے سودا بازی کرتی۔ اس کے ہاتھ میں چابیوں کا ایک گچھا ہوتا تھا اور اس کے زور دار قہقہے ہر جگہ گونج رہے ہوتے تھے۔ وہ کاروباری امور میں اس حد تک محو تھی کہ اسے ہر دم خدشہ رہتا تھا کہ کہیں کسی حصے میں کوئی گڑبڑ نہ ہو رہی ہو۔ اس فکرمندی میں اس کی نیند بڑی ہلکی ہو گئی تھی۔ رات کو آدھ گھنٹہ سوتی اور اچانک اٹھ بیٹھتی کہ کہیں کوئی مزدور یا ملازم گڑبڑ یا چوری نہ کر رہا ہو۔ ہر چیز کا دھیان رکھتی لیکن اپنے خاوند کو جوتے کی نوک پر رکھتی۔
کاروبار سے حاصل شدہ تمام مال و رقوم ہمیشہ گریگر کے پاس ہی ہوتی تھیں جویا تو چاندی، سونے اور تانبے کی شکل میں ہوتے یا کوسک (سکوں)یا چوتھائی، آدھ،ایک روبل کاغذی کرنسی کی صورت میں ہوتے تھے۔ وہ اپنے مال کو خوب حفاظت میں رکھتا اور اپنے مال و دولت کو اپنی مرضی سے خرچ کرتا تھا۔
سٹیفن کی شادی کے کچھ عرصے بعدگریگر نے خود بھی ایک اچھے خاندان کی خوبصورت باربرا نامی خاتون سے بیاہ رچا لیا۔ باربرا گریگر، سٹیفن اور اسکنیا کے ساتھ ان کے گھر میں رہنے لگی۔ ملازموں کے لئے اس گھر کے اندر رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ خوراک کی فراوانی تھی۔ چار بار کھانا اور چھ بار چائے کا دور چلتا تھا۔ صبح کا ناشتہ عموماً پورچ میں ہوتا تھاجس میں پورا خاندان شامل ہوتا تھا۔ باربرا ایک مذہبی اور نیک دل خاتون تھی۔ اس نے گھر کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ گھر کو سجایا، نئے پردے لگائے،کھڑکیوں میں گلاب کے پھول رکھے،ہر کمرے میں نئے خوبصورت شمعدان رکھے،باورچی خانے کے لئے بہترین برتن خریدے۔ وہ غریبوں کی مدد بھی کرتی تھی اور پرانے کپڑے ان میں بانٹتی تھی۔ گریگر کو باربرا سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔
ایک دفعہ باربرا سٹور سے چائے کے دو بڑے پیکٹ لے آئی تو اس پر سٹیفن پریشان ہو گیا۔ اس نے گریگرسے شکایت کر دی اور پوچھا کہ چائے کا بل کس کے کھاتے میں ڈالے؟ گریگر نے سوچا اور کہا کہ ایسے اخراجات کی پرواہ نہ کرے اور باربرا جو بھی چاہے اسے بغیر ادائیگی کے لے جانے دیا جائے۔
گریگر کا بڑا لڑکا اینیسم منحنی، پستہ قامت، پھولی گالوں والا بدشکل آدمی تھا۔ وہ ہر ایک کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہتا تھا۔ اس کے بارے میں یہ عجیب بات تھی کہ وہ کافی وقت کے بعدپلکیں جھپکتا تھا۔ اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ پولیس کا آدمی ہے۔ وہ اپنے خاندانی گھر میں نہیں رہتا تھا بلکہ کسی دوسرے شہر میں رہائش پذیر تھا۔ اینیسم بھی اپنے خاندان سے محبت کرتا تھا۔ جب بھی اسے اپنے آبائی گاؤں کا کوئی شخص ملتا تو اس کے ہاتھ اپنے والد اور سوتیلی والدہ کے لئے تحائف بھجوا یا کرتا۔ اپنے خطوط بڑے خوبصورت الفاظ میں بہترین کاغذ پر لکھتا تھا۔ ان کی طرزِ ادائیگی عام خطوط سے مختلف ہوتی جودستاویزات لکھنے کے انداز میں ہوتی ہے۔ لکھائی نہایت خوش خطی سے ہوئی ہوتی اور آخر میں اس کا نام درج ہوتا۔ چونکہ اینیسم کا اپنا رسمِ خط اچھا نہیں تھا اس لئے وہ یہ کام خود نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے ایک دوست’سمورود‘ سے کرواتا تھا۔ اینیسم تہواروں یا سرکاری چھٹیوں پر گھر آیا کرتا تھا۔ گریگر ہمیشہ اسے روک کر خاندانی کاروبار میں شرکت کے لئے قائل کرنے کی کوشش کرتالیکن وہ انکار کردیتا اور واپس چلا جاتا۔ ایک دفعہ وہ خلاف معمول برفانی گاڑی کو گھسیٹا ہوا آیا۔ اس کی طبیعت اکھڑی اکھڑی تھی اور وہ کملایا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ اس کے رویے سے ایسا لگتا تھا کہ اسے واپسی کی جلدی نہیں۔ کسی نے یہ اطلاع بھی دی کہ اسے پولیس کی نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
اس خبر پر گریگر اور باربرا نے یہ مشورہ کیا کہ مچھلی اب جال میں پھنس گئی ہے اور اب کی بار اُسے شادی کے بغیر کہیں نہ جانے دیا جائے۔ اینیسم کی عمر اس وقت ستایئس برس کی تھی۔ ان دنوں مروج نظام کے مطابق بچوں کے رشتے والدین اپنی مرضی سے کرتے تھے۔ بیوی بیاہ کر اپنے خاوند کے خاندانی گھر آ جاتی اور بعد ازاں عام طور پرخاوند اپنی بیوی کو والدین کے پاس چھوڑ کر اپنے کام دھندے والے مقام پر چلا جایا کرتا جبکہ بیوی اپنے سسرال کے گھریلو، کھیتی باڑی یا تجارتی امور میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ گریگر نے رشتہ کروانے والی ایجنسی کو پیغام بھیجا تو اس نے ایک انتہائی خوبصورت اور کم سن لڑکی کا رشتہ بتا یاجو نزدیکی گاؤں ٹورگو میں رہتی تھی۔ ٹورگو ایسا گاؤں تھا جو آدھا تو دیہی تحصیل میں ہی تھی لیکن آدھا شہر میں شامل ہو چکا تھا۔ لڑکی کو دیکھنے کے لئے اس کی خالہ کا گھر منتخب کیا گیا۔ باربرا، گریگر اور اینیسم مقررہ وقت پر اس گھر پہنچ گئے جہاں وہ لڑکی’لپیا‘ اور اس کی ماں ’پراسکوویا‘ موجود تھیں۔
لپیا ایک عسرت بھری زندگی گزار رہی تھی۔ اس کا باپ وفات پا چکا تھا۔ اس کی ماں گھر گھر جا کر کام کرتی یا فیکٹری میں مزدوری کر کے ان کا پیٹ پالتی تھی۔ ایک دفعہ پراسکوویا کسی جاگیردار کے گھر کام کر رہی تھی کہ وہ کسی وجہ سے طیش میں آ گیااوراس کو ٹھوکریں مار یں۔ وہ لاغر عورت تھی اور اسے شدید چوٹیں آئیں۔ اب وہ امیر لوگوں کے نام سے ہی لرزنے لگتی۔ لپیا کو اس کی خالہ نے گلابی رنگ کا نیا لباس سلوا کے دیا تھا۔ اس کے خوبصورت سیاہ بالوں کی سرخ رنگ کے ربن سے چوٹی کی گئی تھی۔ اس کی ماں دروازے کے پیچھے خوفزدہ کھڑی تھی۔ جب لپیا سامنے آئی تو اس کی شکل و صورت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ اس کی غزالی آنکھیں،کتابی چہرہ، کم سنی، معصومیت اور سادگی سے مرعوب ہو گئے۔ اس کی والدہ کو کہا کہ وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرے لیکن وہ اپنے سابقہ تجربے سے سہمی ہوئی تھی اس لئے وہ ان کے ساتھ نہ بیٹھی اور کھڑی کھڑی ہی نہایت ادب سے باتیں کرنے لگی۔ اس نے بیان کیا کہ وہ بہت غریب ہے اور محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنی بیٹی کا پیٹ پالتی ہے۔ وہ نہ تو کوئی جہیز دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی شادی کے اخراجات سہار سکتی ہے۔ اس پر گریگر نے اسے تسلی دی کہ وہ اس مسئلے کی بالکل پرواہ نہ کرے۔ ہمارے نزدیک جہیز وغیرہ کی کوئی وقعت نہیں۔ ہم صرف لڑکی کو ہی دیکھتے ہیں اور جو پسند آ جائے تو اسے گھر لے جاتے ہیں، اور یہ کہ شادی کے بعد تم بھی لپیا کے ساتھ رہ سکتی ہو۔
شادی کی تاریخ طے کر دی گئی۔ شادی کے رسوم گاؤں کے گرجا گھر میں منعقد کرنے کا انتظام کیا جانا تھا۔ کلیسا کا پورا سٹاف رسوم کی ادائیگی کے وہاں موجود ہونا تھا۔ شادی کا اہتمام کے لئے ایک قریبی خاندانی دوست حزیمن اور اس کے بیٹوں کی مددلی گئی۔ انہوں نے ضیافت کے لئے بہترین کھانا اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے ریستوران سے معائد ہ کیا جس میں ہر قسم کے مشروب اور گوشت کی ڈشیں شامل تھیں۔ موسیقی کے لئے شہر کے بہترین بینڈ کو چنا گیا۔ خاندان کے شادی کے جوڑوں کی تیاری کے لئے قریبی گاؤں شکالوو سے دو درزنوں کی خدمات لی گئیں جو کثرت سے ان کے گھر میں ناپ لینے یاسلے ہوئے کپڑوں میں ردوبدل کرنے آتی رہتیں تاکہ سارا کام خاندان والوں کی تسلی کے مطابق ہو۔ اِس دوران اُن کی چائے سے تواضع کی جاتی۔ شادی سے تین روز پہلے خاندان کے تمام ملبوسات تیار ہو گئے۔ جب درزنوں نے اپنی مزدوری مانگی تو گریگر نے نقدی دینے سے صاف انکار کر دیا او ر بدلے میں سٹور سے ایسا سامان دلوا دیا جس کی انہیں قطعی ضرورت نہ تھی مثلاً صابن بنانے والا کیمیا، ڈوریاں، بھوسہ وغیرہ۔ درزنیں یہ دیکھ کر گھنٹوں بیٹھی روتی رہیں۔
بہرحال شادی کا دِن آ ن پہنچا اور عظیم الشان محفل گرجا گھر میں سجائی گئی۔ اینیسم اس گرجا گھر میں اُس دن سے پہلے صرف ایک دفعہ داخل ہوا تھا جب بچپن میں اُس کی ماں اسے عیسائی مذہب اختیار کرنے کی تقریب میں لائی تھی۔ آج وہ شادی کے لئے یہاں دوسری مرتبہ آیاتھا۔ اس نے شاندار لباس زیبِ تن کیا ہوا تھا۔ چمڑے کے ایسے موزے پہنے ہوئے تھے جو کہ جوتوں کے اوپر سے پہنے جاتے ہیں۔ اس کے گلے میں ٹائی کی جگہ سرخ ڈوری لٹکی تھی جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ گریگر اور اینیسم نے شادی پر آئے خاص مہمانوں کو نقدی کی صورت میں تحائف دینے کے لئے چمکدار نئے نکور روبل اور کوسک کا ذخیرہ کیا ہوا تھا۔ کچھ تھیلیاں گریگر کے پاس پڑی تھیں جبکہ کچھ اینیسم کے پاس۔ دلہن سرخ لباس میں ملبوس پٹولا لگ رہی تھی۔ بڑے پادری نے شادی کی رسوم ادا کیں۔ اینیسم نے اسے بارہ روبل، دیگرسٹاف کو دس دس روبل، اسکنیا کو بیس روبل اور باربرا کو پندرہ روبل بطور تحفہ ادا کئے۔ ان دنوں روبل کی قیمت بہت زیادہ تھی مثلاً شاہی طرز کی بہترین تقریب پانچ روبل فی فرد کے حساب سے منعقد ہو جاتی تھی۔ گریگر نے شادی کی تقریب پر دل کھول کر خرچہ کیا۔
گرجے کے بڑے ہال میں استقبالیہ کا بندو بست کیا گیا۔ اس سے ملحقہ ایک بڑا سا صحن تھا جہاں موسیقی کا انتظام کیا گیا تھا۔ تمام گاؤں کو سجایا گیا۔ دولہا،دلہن، والد،والدہ شاہی بگی میں آئے میں آئے جو عالیشان انداز میں سجائی گئی تھی۔ تمام گاؤں اور فیکٹری کے مزدوروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ مزدور بگی کے آگے بھنگڑا ڈال رہے تھے۔ مستی میں جھوم رہے تھے۔ لپیا وہ سب ایک تماشے کی طرح سمجھ رہی تھی۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سب کیا تھا؟ تاہم وہ بڑی سنجیدگی سے تمام تقریبات دیکھ رہی تھی۔ مزدوروں کی بیویاں اور بچے بھی آئے ہوئے تھے جو اپنے پرس اور اپنے بچوں کی جیبیں کھانے سے بھر رہی تھیں۔ انہوں نے ایسا شاندار کھانا پہلے نہ کبھی دیکھا نہ کبھی کھایا تھا۔ کھانا اور شراب پی پی کر براتی بدمست ہو چکے تھے۔ بینڈ کی مدھر دھنوں کی لو میں وہ سب کھلے صحن میں آ کر اچھل اچھل کر ناچ رہے تھے۔ گریگر بھی قیمتی کوٹ پہنے اور ہاتھ میں سنہری چھڑی پکڑے کندھے ہلا کر ناچتے ہجوم میں شامل ہو رہا تھا۔ رات بیت رہی تھی۔ اس محفل میں ایک بوڑھا بڑھئی بھی تھا جس کو لوفٹی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس کا اصل نام’یلیزور‘ تھا۔ وہ گریگر کی فیکٹری میں مرمت کا کام کرتا تھا۔ وہ ایک قریبی گاؤں یگوروسک کا رہائشیتھا لیکن گریگر کے کارخانے میں کام کرنے روزانہ یوکلیو آتا تھا۔ وہ ایک مذہبی شخص تھا۔ کھانا کھاتے کھاتے وہ اونچی آواز میں بولا کہ شراب نوشی ایک غلط کام ہے۔ اس کی بہتات سے بہت بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ یہ ایک قابلِ نفرت اقدام ہے۔ لوگوں نے اسے سنکی سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
رات گئے تک استقبالیہ جاری رہا۔ واپسی پر اینیسم نے ہر باراتی کو تحفتاًاڑھائی روبل دیئے۔ ان میں کاغذی نوٹ بھی تھے اور چمکتے سکے بھی۔ جب باراتی واپس جا رہے تھے تو گریگر ہر ایک کو بڑے فخر سے اعلان کر رہا تھا کہ شادی کی تقریب پر اس نے ہزاروں روبل خرچ کئے ہیں۔ یہ بات سن کر لوگ بہت متاثر ہو رہے تھے۔
دلہن کو گھر لایا گیا۔ اینیسم نے اس کے ساتھ پانچ دن گزارے اور پھر اس نے ماں باپ سے اجازت مانگی۔ انہوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہے، کاروبار میں مدد کرے لیکن وہ نہ مانا اور شہر روانہ ہو گیا۔ شوہر کے جانے کے بعد لپیا پریشان ہوئی اور اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ کہاں سوئے۔ وہ اور اس کی ماں اپنی اپنی چٹائیاں لے کر باہر چھجے پر سونے لگیں۔ گرمی کا موسم تھا اس لئے انہیں کھلی ہوا میں بہتر نیند آتی تھی۔ اینیسم کے جانے کے اگلے دن سے ہی لپیا نے گھر کا کام کاج شروع کر دیا۔ وہ صبح صبح اٹھ کر سیڑھیاں دھوتی، جھاڑ پونچھ کرتی، گرم پانی سے کپڑے دھوتی اور صحن کی تار پر لٹکا دیتی۔ وہ باقی خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھاتی تھی۔ باورچی اس کو اور اس کی ماں کو الگ کھانا دیا کرتا جو اُن کے لئیبہت ہوتا۔
اسکنیا تمام کاروبار پر حائل تھی۔ خاندانی دوست حزیمن کے لڑکے،جو اس کے قریبی دوست بن گئے تھے،نے اسے مشورہ دیا کہ گریگر کی جو سو ایکڑ کی زمین بے کار پڑی ہے وہاں اینٹوں کا بھٹہ بنا دے تو اس سے بے پناہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔ اور اگر انہیں حصہ دار بنایا جائے تو وہ اس میں رقم لگانے کو بھی تیار ہیں۔ جس پر اسکنیا نے کئی بار گریگر سے درخواست کی کہ وہ زمین اس کے نام کردی جائے تاکہ وہ بھٹہ لگایا جا سکے لیکن گریگر نے سختی سے منع کر دیا۔ گریگر نے کہا کہ جب تک وہ زندہ ہے تب تک اُس کی جائیداد تقسیم نہیں ہو گی اور جووہ وصیت کر جائے گا اسی کے مطابق جائیداد بٹے گی۔
لپیا کی شادی کو تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا تھا۔ ایک دن وہ اپنی ماں کے ساتھ کچھ زیارتوں سے واپس آ رہی تھیں۔ اس دوران وہ بوڑھا لوفٹی بھی اپنے تئیں آ رہا تھا۔ اس نے ان دونوں کو ستائشی نظروں سے دیکھااور لمبے لمبے سانس لے کو منہ میں کچھ بڑبڑانے لگا۔ لپیا نے اسے دیکھا تو آداب کہا۔ وہ جوتے اپنے بغل میں دبائے ننگے پاؤں چل رہی تھی۔
پھر لپیا نے گفتگو کا آغاز کر تے ہوئے کہا، مسٹر یلیزور، مجھے پھلوں کاجام بہت پسند ہے۔ میں کبھی اکیلے اور کبھی باربرا کے ساتھ بیٹھ کرڈھیروں فروٹ اور جام کھاتی ہوں۔ مجھے کوئی پابندی نہیں کہ میں زیادہ کھاؤں یا کم کھاؤں۔ کھانے پینے میں مجھے اور میری ماں کو کوئی تکلیف نہیں۔ طرح طرح کا کھانا ہمیشہ فراوانی میں موجود ہوتا ہے۔ جب میں باربرا کے ساتھ بیٹھی ہوتی ہوں تو وہ مجھے کہانیاں سنایا کرتی ہے۔ یوں تو میں ایک بہادر لڑکی ہوں اور کسی سے نہیں ڈرتی لیکن اس گھر میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو مجھے خوفزدہ کرتی ہیں۔
میری بچی! ایسی کون سی چیز ہے جو تمہیں ڈرا دیتی ہے؟ لوفٹی نے پوچھا۔
باتیں کرتے ہوئے لپیا نے پیچھے مڑکر دیکھا تو اس کی ماں نقاہت کی وجہ سے پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چل رہی تھی۔
شادی سے بعد سب سے پہلے تو میں اپنے خاوند اینیسم سے ڈر گئی تھی حالانکہ اس نے مجھے کبھی برا بھلا نہیں کہا اور نہ ہی کوئی غلط بات کی۔ لیکن جب بھی وہ میرے پاس آتا،مجھے چھوتا یا اور کچھ کرتا تو میرے جسم میں سرسراہٹ پیدا ہو جاتی۔ میں رات بھر سو نہیں سکتی تھی۔۔ کانپتی رہتی اوردعائیں مانگتی رہتی تھی۔ اس کے بعد مجھے اسکنیا سے خوف آتا ہے۔ وہ ایک عمدہ خاتون ہے،خوبصورت ہے،ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ خوش رہتی ہے اور قہقہے لگاتی رہتی ہے لیکن مجھے اسکی آنکھوں میں ہمیشہ عیاری کی چمک نظر آتی ہے۔ وہ ہر وقت حزیمن کے بیٹوں کے ساتھ ہوتی ہے اور بڑے لڑکے کے ساتھ خصوصاً پائی جاتی ہے۔ وہ دونوں آپس میں بے حد بے تکلف ہیں۔ وہ اسے مجبور کرتے رہتے ہیں کہ بوٹویو کی زمین اپنے نام کرا لے اور انہیں اپنا حصہ دار بنا لے تاکہ وہ وہا ں اینٹوں کا بھٹہ تعمیر کر لیں۔ آج کل اینٹوں کی قیمت بیس روبل فی ہزار ہے۔ اس پر وہ دانت پیستے ہوئے کہتی ہے کہ بوڑھا نہیں مانتا۔ پھر بات ٹال کر کسی اور چیز کا ذکر چھیڑ دیتی ہے اور انہیں جام اور کیک کھلاتی ہے۔
کیا وہ جام اور کیک خود نہیں کھاتی؟ لوفٹی نے حیرانگی سے پوچھا۔
نہیں۔ ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ اس کے سونے کی عادت بہت خراب ہے۔ سونے کے آدھ گھنٹے بعد ہی وہ گھبرا کے اٹھ بیٹھتی ہے اور پریشانی سے اِدھر اُدھر بھاگتی ہے اور کہتی ہے کہ مزدوروں نے کوئی گڑبڑ تو نہیں کر دی۔ کہیں گودام میں آگ تو نہیں لگا دی یا سٹور سے چوری تو نہیں ہو گئی وغیرہ۔ حزیمن کے بیٹے بھی کبھی سکون سے نہیں بیٹھتے۔ وہ ہر وقت آپس میں یا دوسروں سے پنگا لیتے رہتے ہیں۔ کسی نہ کسی بات پر ان میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ معاملہ معمولی نوعیت کا بھی ہو تو ان کی کوک عدالت تک جاتی ہے اور مہینوں کاروبار بند رہتا ہے یہاں تک کے ان کے ملازم بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہ بہت نا معقول لوگ ہیں۔ اس بار کی زیارت ہمیں بہت پسند آئی ہے کیونکہ ہم نے جی بھر کے زیارات دیکھیں اور اچھی خوراک اور مشروب کھائے پیئے، لپیا باتیں کرتی گئی۔
ان کا گاؤں ابھی دور تھا سو وہ چلتے رہے۔ چلتے چلتے جب گاؤں کے قریب پہنچے تو انہیں گریگر کا کارخانہ نظر آیا۔ کارخانے کی عمارت کی چھتیں سبز رنگ کی تھیں جن کا رنگ و روغن کچھ پھیکا پڑ چکا تھا۔ اس کے پاس ہی شراب کی بھٹی تھی جس کے نواح میں جوار بکھر ی پڑی تھی۔ اس کے تھوڑے ہی آگے گرجا گھر اور چشمہ بھی تھاجو اس وقت خاموش اور پر امن لگ رہے تھے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے جوتے پہن لئے۔ کھیتوں میں جو کی بہار تھی اور فصلیں کٹنے کے لئے تیار تھیں۔ کچھ مقامات پر تو کٹائی شروع ہو چکی تھی۔
اس دوران انہوں نے دیکھا کہ بہت سے مرد،خواتین اور بچے جوق در جوق دوسرے راستے سے زیارتوں سے لوٹ رہے تھے۔ ان میں اگلے روز کی کٹائی کے لئے آنے والے مزدور بھی شامل تھے۔ ان میں ایک شخص ایسا بھی تھا جس کے پاس لکڑی کی ایک شہنائی تھی اور وہ اسے بجاتا ہوا جا رہا تھا۔
لوفٹی انہیں دیکھتے ہوئے بولا کہ گرمی کا موسم ہے اور اس موسم میں کارخانے کے مزدور کچھ زیادہ ہی پریشان ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات مالک اور مزدوروں کے درمیان تو تکرار ہو جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایک مہینہ پہلے ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔ میں اپنے کام میں ماہر ہوں اور اپنا کام دیانت داری اورمحنت سے کرتا ہوں۔ تمہیں تو معلوم ہو گا کہ میں گریگر کے کارخانے میں ہی ملازم ہوں۔
ایک دن گریگر میرے پاس آیا اور مجھے غصے سے کہا، لوفٹی کیا تمہارے دماغ میں خلل ہے؟ تم ضرورت سے زیادہ سامان استعمال کرتے ہوجس سے مجھے نقصان ہوتا ہے۔
میں نے اسے جواب میں کہا کہ مسٹر گریگر کوسٹی کوف، میں اتنا سامان ہی استعمال کرتا ہوں جتنے مجھے چاہئے ہوتا ہے۔ میں اس سامان کو کھا نہیں سکتا۔ وہ میرے کسی کام کا نہیں۔
میرے جواب سے وہ مزید سیخ پا ہو گیا اور بولا، دو ٹکے کا آدمی!تمہاری ایسی بات کرنے کی جرات بھی کیسے ہوئی۔ اس نے مجھے گالیاں بکنا شروع کر دیں۔ پھر کہنے لگا، تم اپنی اوقات بھول گئے ہو۔ تم احسان فراموش ہو،میں ہی تھا جس نے تمہیں یہاں نوکری دی۔
میں نے اسے کہا، خاموش رہو۔ میں ہنر مند ہوں اور میری اتنی اہمیت ضرور ہے کہ میں اگر کوئی ملازمت نہ کروں تو بھی اپنا گزر بسر کر سکتا ہوں۔
یہ بات سن کر وہ کچھ ٹھنڈا ہوااوربولا کہ اگر اس نے کوئی خراب بات کہہ دی ہےجو مجھے بری لگی تو میں اسے در گزر کر دوں۔ میں نے بھی اسے کہا کہ وہ میری طرف سے کہی گئی تلخ باتوں کو نظر انداز کر دے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ میں ہنر مند ہوں۔۔ اوروں سے بہتر ہوں۔
اس نے پھر جواباً مجھے بتایا کہ وہ چیمبر آف کامرس کا رکن ہے اور مجھ سے بدرجہا بہتر ہے۔ میں بھی چپ نہ ہوا اور اسے باور کرایا کہ میں ایک ترکھان ہوں۔ خدا سے ڈرتا ہوں اور اس کی خشنودی کے لئے محنت اور ایمانداری سے اپنا فرض نبھاتا ہوں۔ اگر تم سمجھتے ہوکہ تم مجھ سے بہتر ہو تو خدا کا شکر کیا کرو۔
بہرکیف اس کا طریقہ کار یہی ہے۔ وہ ہر ایک پر دھونس جماتا ہے۔ خدا کا خوف نہیں ہے اس میں۔ اپنے تکبر اور غرور میں سرشار رہتا ہے، لوفٹی نے گفتگوکوختم کرتے ہو کہا۔
لپیا اور اس کی ماں ابھی بھی اپنی غربتسے مکمل جڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو کسی آسائشوں کا عادی نہیں بنایا تھا۔ انہیں اپنی اوقات بالکل یاد تھی اور اگر وہ پھر سے بھی غریب ہو جائیں تو انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ ان کے نزدیک خدا کی رضا، دوسروں کی بھلائی اور سچائی سب سے مقدم تھی۔ وہ گھر واپس پہنچ گئیں اور حسب معمول روز مرہ کے امور سر انجام دینا شروع کر دیے۔
اسکنیامیں یہ بھرپور صلاحیت تھی کہ وہ دوسروں پر سحر انداز ہو سکے۔ اس کی خوبصورتی،اندازِگفتگو،مکاری اور عیاری اس میں نمایاں کردار ادا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک خوبرو ادھیڑ عمر جاگیردار اس کے پاس ایک ایک قیمتی نسل کا گھوڑا بیچنے آیا۔ اس نے باتوں باتوں میں اس جاگیردار کا من موہ لیا اور اپنی شرائط پر سودا کیا۔ جاگیردارنے جذبات کی رو میں بہہ کر اس کا ہاتھ چوما اور درخواست کی کہ وہ اس سے کاروبار کے علاوہ کہیں اور بھی ملاقات کا شرف بخش سکتی ہے تو اسکنیا بولا کیوں نہیں، جب تم کہو اور جہاں کہوگے میں مل سکتی ہوں۔
ایک شام لوفٹی ایک مزدور کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بتا رہا تھا کہ اس نے سنا ہے کہ اینیسم نے شادی کے رات جو رقم بطور تحفہ تقسیم کی تھی وہ جعلی تھی۔ ایک مزدور قصبے میں ان پیسوں سے کچھ خریداری کرنے گیا تو دکانداربولا کہ وہ کرنسی اصلی نہیں۔ اس نے پولیس کو مطلع کر دیا اور پولیس نے اس مزدور کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش ہوئی تو مزدور نے بتایا کہ وہ رقم اسے اینیسم نے دی تھی۔ پولیس مزید تحقیقات کر کے اور شہادتیں حاصل کر کے مقدمہ درج کرے گی اور کاروائی کرے گی۔
اسکنیا اور گریگر اس وقت اپنے گھر کی بیٹھک میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جب ان کی کانوں میں اس بات کی بھنک پڑی۔ گریگر یہ بات سن کر فکرمند ہو گیا۔ اتفاقاً اُس روز اُس نے فصلوں کی کٹائی کے لئے مزدور بلائے ہوئے تھے اور وہ اپنا دن کا کام ختم کر کے مزدوری مانگ رہے تھے۔ گریگر اس معاملے کو اگلے روز تک ٹالنا چاہتا تھاکیونکہ کاشتکاروں کی قلت تھی اور اسے خدشہ تھا کہ وہ اگلے روز چھٹی نہ کر لیں اس لئے وہ اس روز کی مزدوری دبانا چاہتا تھا۔ مزدور ہلکی ہلکی آواز میں گانے گاتے اپنی مزدوری کا تقاضہ کرتے رہے۔ ایک مزدور اونچی آواز میں بولا کہ کم از کم آدھی مزدوری تودے دی جائے تاکہ اس کے گھر کا چولہا تو جلے لیکن گریگر نے وہ بات بھی سنی ان سنی کر دی۔
پھرگریگر اچانک اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں کئی تھیلیاں تھیں جو اس نے اسکنیا کے سامنے الٹ دیں۔ تھیلیوں میں بھری کرنسی میز پر پھیل گئی۔ گریگر نے اسکنیا کو کہا کہ اسے اصلی اور جعلی کرنسی کہ پہچان نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی قانونی کاروائی ہو، یہ تمام رقم کنویں میں پھینک آئے۔
یہ سب کرنسی مجھے شادی سے پہلے اینیسم نے دی تھی، یہ کہہ کر گریگر واپس اندر چلا گیا۔
کچھ عرصے میں وہ باہر لوٹا تو دیکھا کہ مزدور جا چکے تھے۔ اس نے دل میں اسکنیا کی تعریف کی کہ ضرور اس نے انہیں دلائل سے مطمئن کر کے بھگا دیا ہو گا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ حسنِ اتفاق سے جعلی کرنسی کی شکایت بھی کہیں سے نہ آئی۔ کاروبار پنپتا رہا۔ دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی رہی۔ اسکنیا روز بروز نئی تدابیر سے کاروبار کو چاند لگا رہی تھی۔ گریگر اس سے بے حد خوش تھا۔ اسے لپیا میں اتنی صلاحیت نظر نہ آئی کہ وہ کاروبار چلا سکے۔ لپیا اور اس کی ماں قناعت پسند تھیں اور گھر کے کام کاج،صفائی ستھرائی اور کپڑوں کی دھلائی تک ہی محدود اور مطمئن تھیں۔ گریگر یا دیگر اہل خانہ ان کے کام میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اسکنیا نے اجازت نہ ملنے کے باوجود حزیمن خاندان کے ساتھ مل کربھٹہ بنا کر پیداوار شروع کر دی تھی۔
ایک دن گریگر کو ایک روح فرسا خبر پہنچی کہ اینیسم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ گریگر کو جعلی کرنسی کی بات یاد آ گئی۔ اِس ڈر سے کہ مدعا اُس پر بھی نہ ڈل جائے، اُس نے اسکنیا سے پوچھا کہکیا اس رات اس نے وہ ساری رقم کنوئیں میں ڈال دی تھی؟
اسکنیا نے جواب دیا، رقم بہت زیادہ تھی تو میں نے اس سے مزدوروں کی مزدوری ادا کر دی تھی۔
گریگر نے یہ سن کر اپنا سر پیٹ لیا۔ اینیسم کی گرفتاری سے گریگر کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ اس نے اپنے تعلقات آزمائے، جاگیرداروں،جرنیلوں،کرنیلوں، کارخانہ داروں وغیرہ کی مدد حاصل کی، وکلا کی خدمات حاصل کیں لیکن دال نہ گلی۔ اس کی صحت دن بدن خراب ہونے لگی۔ روپیہ پیسہ پانی کی طرح بہنے لگا۔ پولیس نے مقدمہ تمام تر شہادتوں کے ساتھ درج کیا تھااس لئے اس کی کاوشیں کاریگر ثابت نہ ہوئیں۔ اینیسم کے ساتھ اس کا پرانادوست سمورود بھی انہیں الزامات میں قید تھا۔ انہیں جیل گئے چھ ماہ ہو گئے تھے لیکن مقدمے کی سنوائی کی تاریخ ابھی تک نہیں پڑی تھی۔ چند ماہ اور بیت گئے کہ تاریخ پڑ گئی۔ پہلی سنوائی پر ان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ اگلی تاریخ پر گواہوں کی فہرست طلب کی گئی۔ اس سے اگلی تاریخ پر چند گواہوں کو طلب کیا گیا،کوئی پیش نہ ہوا تو اگلی تاریخ پرسمن جاری کئے گئے۔ اس کے بعد مزید تاریخیں پڑنے کے بعد فیصلے کا وقت آن پہنچا۔ گریگر اپنے نوکر کے ساتھ فیصلے سے تین دن پہلے شہر پہنچ گیا تاکہ فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کچھ مزید کوششیں کر سکے۔ فیصلے سے اگلے دن اس کی واپسی متوقع تھی لیکن ایک ہفتہ گزر گیا اور اس کی طرف سے کوئی خبر نہ آئی۔ اگلے دن نوکر نمودار ہوا اور بتایا کہ اینیسم کو چھ سال سزا با مشقت ہو گئی ہے جو اسے سائبیریا کی سخت ترین برفانی جیلوں میں گزارنا پڑے گی۔ گریگر کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ بھی آرہا ہے لیکن اس میں لوگوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں اس لئے وہ رات ڈھلے آئے گا۔ گریگر نے بھرپور کوشش کی کہ اس کے بیٹے کی ضمانت ہو جائے یا کم از کم اسے سائبیریا نہ بھیجا جائے لیکن لا حاصل۔
شادی کے نو ماہ بعد لپیا نے اولادِ نرینہ جنم دی۔ وہ بچہ بہت کمزور،پتلے پتلے بازؤں اور ٹانگوں والا تھا لیکن اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔ وہ ہر وقت ماں کی طرف دیکھتا رہتا جو اسے بہت پیارا لگتا تھا۔ وہ کام کرتے وقت اسے اپنے ساتھ رکھتی اور قریب ہی لٹا دیتی تھی۔ وہ سمجھ نہ پاتی کہ وہ اس بچے کو ہمیشہ اپنے ساتھ اتنا قریب کیوں رکھنا چاہتی ہے؟ وہ اس کا اتنا خیال کیوں رکھتی ہے؟ اس کے ضروریات کا احساس اسے کیوں ہو جاتا ہے؟ کیونکہوہ معصوم تھا،باتیں نہ کر سکتا تھا لیکن اس کے چہرے کے تاثرات اس کی آنکھوں سے ظاہر ہو جاتے تھے اور اسے اندازہ ہو جاتا تھا کہ اسے کس چیز کی ضرورت ہے۔ وہ اسے لوری سناتی رہتی اور کہتی کہ جب وہ بڑا ہو جائے گا تو وہ دونوں مل کو مزدوری کریں گے۔
باربرا اسے ٹوکتی اور کہتی کہ وہ مزدوری کیوں کرے گا؟ وہ تاجر بنے گا۔ گریگر بھی اپنے پوتے کی پیدائش پر بہت خوش تھا کہ اس کا کوئی وارث آ گیا۔ وہ اس کی ضروریات کا پورا خیال رکھتا تھا۔ اس کی طرف کبھی کبھار آتا اور پیار سے دیکھتا۔ چونکہ لپیا کا کوئی علیحدہ کمرہ نہ تھا اس لئے گریگر کو احساس ہوتا کہ گھر میں مزید کمرے ڈالنے کی ضرورت ہے۔ لپیا اپنے بچے کو چھجے پر اپنے ساتھ لٹا کر سونے لگی۔
گریگر خوش تھا اوراس نے لپیا کو کھلی چھوٹ دے دی ہوئی تھی کہ جو چاہے کھائے پئے اور اس کے پوتے کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے۔ اس کا چھوٹا بیٹا سٹیفن تو مٹی کا مادھو ہے۔ نہ ہی اس میں کوئی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد۔ اس کی بیوی بانجھ لگتی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ وہاں سے چلا گیا۔
اگلے روز چائے کی پیالی پر باربرا نے گریگر سے کہا، ہمارے گھریلو حالات میں بہتری کی ضرورت ہے۔ حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ اینیسم قید میں ہے،اسکنیا بے اولاد ہے، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، عمر دن بدن ڈھل رہی ہے۔ مقامِ شکر ہے کہ اس گھر میں بہار آئی ہے اور ننھا منا فرشتہ آ گیا ہے۔ وہ لڑکا ہے جو نسل آگے بڑھائے گا اس لئے اس کی پرورش کی خاطر اور مستقبل میں اپنے کاروبار کے تحفظ کی خاطربوٹویو کی زمین اپنے پوتے کے نام کر دے۔
گریگر شہر گیا اور عدالت میں اس زمین کو پوتے کے نام کر دیااوروصیت بھی رجسٹرکروا دی کہ باقی جائداد کا بھی زیادہ تر وہی وارث ہو گا۔ اسکنیا کو کسی نے یہ خبر پہنچا دی۔ یہ سن کر وہ بے حد طیش میں آ گئی۔ گریگر اور باربرا برامدے میں بیٹھیچائے پی رہے تھے۔ لپیا اپنے بچے کو باورچی خانے میں لٹا کر کپڑے دھو رہی تھی۔ ساتھ ہی چولہے پر پانی کا بڑاپتیلہ اُبل رہا تھا کیونکہ اس نے وہ ابلتا ہوا پانی گندے کپڑوں میں ڈال کر اُن کی میل اتارنا تھی۔
اسکنیا غصے میں پھونکتی ہوئی گریگر کے پاس گئی اور چابیوں کا گچھا میز پر دے مارا اور کہا، اب میں تمہارے لئے کام نہیں کروں گی۔۔ اور ہچکیوں بھر کے رونے لگی۔ میں تمہاری بیٹی نہیں ہو۔ تم مجھے نوکرانی سمجھتے ہو،تمام لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ گریگر کو کتنی اچھی نوکرانی مل گئی ہے۔ میں نے تو تم سے کبھی بھی نوکری کی درخواست نہیں کی تھی۔ یاد رکھو کہ میں لپیا کی طرح بھکارن نہیں ہوں۔۔ میں اپنا گزارا خود کر سکتی ہوں۔ میرے ماں باپ زندہ ہیں، وہ میری اس میں مدد کریں گے۔ پھر اسکنیا نے تر آنسوؤں سے آنکھیں صاف کئے بغیر گریگر کو دیکھا۔ اس وقت اس کا چہرہ اور گردن شدتِ جذبات سے سرخ ہو گئے تھے اور سخت تناؤ میں نظر آ رہے تھے۔
میں مزید تمہاری نوکرانی نہیں بنوں گی۔ تم نے میری حیثیت کوڑیوں سے بھی کم تر کر دی ہے۔ صبح سویرے اٹھنا، سٹور کھولنا، ہر معاملے کی دیکھ بھال کرنا، بھاگ بھاگ کر خریداری کرنا اور مہنگے داموں بیچنا۔۔اور جب دیگر معاملات کو نپٹانے کی ضرورت ہو تو اس وقت میں تمہاری بیٹی ہوں لیکن جب جائیداد کے بٹوارے کا معاملہ ہو تو میری کوئی حیثیت نہیں، اس وقت میں نوکرانی ہوں۔ میرا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ وہ بھٹہ جو میں چلا کر معقول منافعہ کما رہی ہوں،وہ تم نے مجرم کے بچے اور فاحشہ عورت کے نام کر دی۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ وہ حرافہ ایک رکھیل ہے۔۔ ایک چالاک کتیاہے۔ اور تم بھی ایک مجرم کی بیوی کو سب کچھ دے دو خواہ وہ نا اہل ہو اور کسی قابل نہ ہو۔۔۔۔ میں گھر جا رہی ہوں اور تم اپنے لئے کوئی اور نوکر یا نوکرانی ڈھونڈ لو بوڑھے سور! گریگر نے اپنے بچوں کو کبھی بھی گالی نہیں دی تھی۔ وہ ان کو سزا دینے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ جب اس کی بہو نے اسے گالی دی تو وہ بہت پریشان ہو گیا۔ اس وقت وہ اس علاقے کا معزز ترین شخص تھا۔ کوئی بھی اس سے سخت لہجے میں بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ کوئی اس کی اس طرح بے عزتی کرے گا، اس کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی نہ تھا۔ جب اس کی بہو اس حد تک چلی گئی تھی تو وہ اس کی مزید بے عزتی بھی کر سکتی تھی اس لئے وہ ناگوار ماحول سے اٹھ کو اپنے اندر کمرے میں چلا آیاحالانکہ وہ باربرا اور اسکنیا کہ باتیں وہاں بھی سن سکتاتھا۔
باربرا وہیں بیٹھی رہی اوراسکنیا کی بدتمیزی دیکھ کر سکتے میں آ گئی اور اپنے ہاتھ ہوا میں ایسے لہرا دئے جیسے وہ کسی مکھی کو اڑا رہی ہو اور کہا، پیاری بچی! پیاری بچی! یہ تم نے کیا کر دیا؟ تم اتنی زور سے اپنے باپ پر کیوں چلائی؟ تم نے اسے گالیاں کیوں دیں؟ لہجہ دھیما رکھ کر بات کرو۔
اُس نے بوٹویو کی زمین مجرم کے بیٹے کے نام کر دی ہے۔ تم باقی سب کچھ بھی اس کے نام کر دو۔ مجھے تم لوگوں سے کچھ نہیں چاہئے! تم سب جھنم میں جاؤ! میرے ساتھ بہت برا ہوا ہے۔ اب مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔ تم شاطر اور عیار ہو۔ دھوکے باز ہو۔ تمہارے پاس امیر، غریب، جوان، بوڑھا، بچہ، عورت، مرد جو بھی آئے۔۔۔ تم نے اسے لُوٹا ہے، یہاں تک کہ وہ بھی جو اِس راستے سے گزرا ہے۔ تم بے ایمان لوگ ہو! شراب کی بھٹی بغیر لائسنس کے لگائی ہوئی ہے، ووڈکا بغیر اجازت کے کون بیچتا ہے؟۔۔۔ اور کون کون سی جعل سازیاں کی ہیں؟ انہوں نے جعلی کرنسی چلائی ہے اور اب میری ضرورت نہیں! میں دیکھتی ہو تمہاری جاگیر اور کاروبار کس طرح سے قائم رہ سکتا ہے۔
اسکنیا اس کے بعد باورچی خانے گئی جہاں برتنوں اور فرش کی صفائی کی جا چکی تھی لیکن لپیا میلے کپڑوں کا ڈھیر لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ کپڑے باورچی ایک چشمے پر نچوڑنے کے کئے لے گیا تھا۔ باورچی خانے میں چولہے پربڑے پتیلے میں پانی ابھی بھی ابل رہا تھا۔ اور اس کا نومولود بیٹا پاس ہی فرش پر لیٹا ہو امیں ٹانگیں چلا رہا تھا۔
اسکنیانے طیش میں نفرت سے نتھنے سکوڑتے ہوئے لپیا کوکہاکہ اس کے کپڑے اس کے حوالے کر دے اوراپنے گندے ہاتھ انہیں نہ لگائے۔ تم ایک سزا یافتہ شخص کی بیوی ہو، کیا تمہیں اس کا علم نہیں؟ تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ میرے کپڑوں کو پاتھ لگاؤ۔ تم اپنی اوقات پہچانو۔
لپیا نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، اسے کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ اس پر اتنا کیوں بگڑ رہی ہے؟ اسے کیا ہو گیا ہے؟۔۔۔ اسی وقت اسے اسکنیا کہ آنکھوں میں ایک شیطانی چمک نظر آئی جو وہ اس کے بیٹے پر ڈال رہی تھی۔۔۔ وہ سہم گئی اور اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد ہو گیا۔
تم نے مجھ سے میری زمین چھین لی ہے۔ اب اسے برداشت کرو۔ اسکنیا نے یہ کہتے ہوئے ابلتے ہوئے پانی کا پتیلہ اٹھایا اورلپیا کے نو مولود بچے پر انڈیل دیا۔
اس وقت یوکلیو گاؤں نے ایسے دل خراش چیخیں سنی جو اُس سے پہلے وہاں کسی نے نہ سنی ہوں گی۔ اورپھر ایک مکمل خاموشی چھا گئی۔
اسکنیا نے ہنستے ہوئے کہا، اگر کسی نے اِس معاملے کی شکایت کرنے کا سوچا بھی تو میں سب کو اُڑا کے رکھ دوں گی۔ یہ کہہ کر وہ گھرسے باہر نکل گئی۔
گریگر اور باربرا سہم گئے۔ حادثے کی رپورٹ کرانا بڑا مسئلہ تھا۔
لپیانے اپنے نومولود بچے کو اٹھایا اور بڑے ہسپتال کی طرف دوڑ پڑی جو نیا بنا تھا اور چند میل کے فاصلے پر تھا،لیکن بچہ وہاں پہنچنیسے پہلے ہی مر چکا تھا۔ لپیا نے رات گزرنے کا انتظار نہ کیا اور بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر واپس چل پڑی۔ واپسی کے راستے میں نقاہت کی وجہ سے وہ پہاڑ سے اترتے اترتے تھک گئی۔ رات ڈھل رہی تھی۔ اسے راستے میں ایک آلاؤ نظر آیا جس میں کچھ کوئلے ادھ جلے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ کچھ لوگوں نے وہاں کچھ دیر پہلے ہی قیام کیا تھا اور آگ جلائی تھی۔ وہ وہاں بیٹھ کر سستانے لگی۔ پاس ہی چشمہ بہہ رہا تھا۔ دور پار کہیں بگلے کی غم ناک مدھم سی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس اثنا بلبل کی درد بھری آواز بھی ا یک انجان سمت سے آنے لگی۔ ہر طرف ویرانی ہی ویرانی اور دکھ ہی دکھ تھا۔
ستاروں کے جھرمٹ میں سرمئی روپہلا چاند آب و تاب سے دمک رہا تھا۔ لپیا نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر سوچا کہ جانے اس کے بیٹے کی روح اس وقت کہاں ہو گی؟۔۔۔پھر وہ اٹھی اور ستاروں کو دیکھتے ہوئے خالی ذہن سے چلنے لگی۔ کھلے میدان میں رات کے اندھیرے میں نوحہ خانی کرنے والے پرندوں، چرندوں اور دوسری خلقت کی چیختی چلاتی آوازوں کی پرواہ کئے بغیر وہ چلتی جا رہی تھی۔ کونسا دن، وقت اور موسم تھا، اسے کوئی خبر نہ تھی۔ لوگ زندہ تھے یا مرے ہوئے تھے،سردی تھی یا گرمی، کچھ سوچے بغیر اپنے مردہ بچے کو کپڑے میں لپیٹے ٹھنڈی آہیں بھر رہی تھی۔
جب کسی کا دل ٹوٹا ہو،صدمے کی کیفیت طاری ہو تو آس پاس کسی غم گسار کی موجودگی تھوڑا بہت آسرا دے دیتی ہے۔ اس کے جاننے والوں میں اگر اس وقت اس کی ماں، ترکھان لوفٹی یا باورچی ہوتا تو وہ اس کا دل کا بوجھ ہلکا کر سکتے تھے لیکن وہاں تو اس وقت کوئی بھی نہ تھا۔ وہ چپ چاپ تنہا چلتی گئی۔ رستے میں لپیا کوایک مرد کی آواز سنائی دی۔ وہ کہہ رہا تھا، واؤلا!گھوڑے کو وہیں باندھ دو۔ لپیا نے جب آواز کی سمت دیکھا تو اسے اندھیرے میں دو چھکڑوں کے ہیولے نظر آئے۔ ایک میں بوریاں لدی ہوئی تھیں اور دوسرے میں گھانس پھونس۔ ساتھہی دو آدمی بھی دکھے جن میں سے ایک کے پاس بندوق تھی اور ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا۔ وہ کچھ دیر سستانے کے لئے رکے تھے۔ کتا لپیا کو دیکھ کر غرایا۔
آدمی نے کتے کو مخاطب کرتے ہو کہا، شارک خاموش ہو جاؤ۔ یہ آواز ایک بوڑھے شخص کی معلوم ہوتی تھی۔ لپیا یہ سن کر کھڑی ہو گئی۔ وہ شخص اس کے پاس آیا اور اسے ہیلو بولا۔
تمہارا کتا کاٹے گا تو نہیں دادا؟ لپیا نے پوچھا۔
نہیں! اس نے جواب دیا۔
کچھ دیر خاموشی رہی پھر لپیا نے کہا، میں ہسپتال گئی تھی۔۔میرا بچہ فوت ہو گیا اور اب میں گھر جا رہی ہوں۔
وہ یہ سن کر چونکا۔ ایک قدم پیچھے ہوا اور پھر کہا، مجھے افسوس ہے۔۔موت کے آگے کسی کا زور نہیں۔
پھر وہ اپنے ساتھی کی طرف مڑا اور کہا، لڑکے! میرے پاس وقت نہیں، ہمیں دور جانا ہے۔ جلدی سے پانی پلاؤ اور گھوڑے کو جوت دو۔
تمہارے گھوڑے کی جوت نہیں مل رہی، لڑکے نے جواب دیا۔
بوڑھے نے ایک انگارہ اٹھایا، روشن کیا اور جوت ڈھونڈ نکالی۔ پھر اس نے لپیا کی طرف ترس کھا کر دیکھا اور کہا، تم ماں ہو! ہر ماں اپنے بچے کو بہت محبت کرتی ہے۔ تم کہا ں جا رہی ہو؟
میں یوکلیو جا رہی ہوں، لپیا نے بتایا۔
ہم آگے جا رہے ہیں۔ ہماری منزل فرسانو ہے لیکن ہم تمہیں تمہارے گاؤں کے نزدیک چھوڑ دیں گے۔ دو شاخے سے تم سیدھی چلی جانا اور ہم بائیں طرف مڑ جائیں گے۔
کیا تم عالم ہو دادا؟ کیونکہ جب تم نے میری طرف دیکھا تھا تو تمہارا دل مجھے دیکھ کر پسیج گیا تھا۔ تمہیں مجھ پر رحم آ گیا تھا اس لئے میں نے سوچا کہ تم ایک نیک شخص ہو اور عالم ہو۔ یہ کہہ کر وہ اس کے پاس بیٹھ گئی۔
میرا بیٹا سارا دن بے حد اذیت میں رہا۔ وہ چھوٹی چھوٹی خوبصورت آنکھوں سے ہر وقت میری طرف دیکھتا رہا۔ کچھ بھی نہ بولا۔ وہ مجھے کچھ بتانا چاہتا تھالیکن کچھ بھی نہ کہہ پایا۔ میں غمگین ہو کر تمام وقت اس کے ساتھ رہی دادا! مجھے بتاؤ کہ اگر اس ننھے منے نے مرنا ہی تھا تو اسے اتنی اذیت کیوں دی گئی؟ کوئی شخص بیمار ہوتا ہے یا مصائب و الممیں ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کے گناہ جھڑ رہے ہیں لیکناس کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟ وہ تو بالکل معصوم تھا۔ اس نے تو کوئی گناہ کیا ہی نہیں تھا۔
خدا ہی اس بات کا جواب دے سکتا ہے۔ وہی جانتا ہے۔۔۔ ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ صبر کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں، بوڑھے نے جواب دیا۔ پھر وہ آدھا گھنٹہ خاموشی سے سفر کرتے رہے۔ تم اچھی یا بری باتوں کے بارے میں رائے نہیں قائم کر سکتے۔ پرندوں کے دو پر ہوتے ہیں چار نہیں، کیوں؟ پتہ نہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے لئے دو پر ہی کافی ہیں۔ یہی صورت حال انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ وہ ہر کام نہیں کر سکتا۔ وہ وہی کام کر سکتا ہے جس کی خدا نے اسے صلاحیت دی ہو۔ صبر کرو۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمہیں چین آ جائے گا۔ زندگی لمبی ہے۔ اچھائی اور برائی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ میں بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن میں بیس سال مزید زندہ رہنا چاہتا ہوں کیونکہ میں اور اچھائیاں کمانے کی خواہش رکھتا ہوں۔ میرا ملک روس ایک عظیم ملک ہے۔ میں نے تمام ملک کی سیر کی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تمہاری زندگی میں خوشیاں بھی آئیں گی، بوڑھے نے بتایا۔
جب کوئی شخص مر تا ہے تو اس کی روح کتنی دیر تک زمین پر رہتی ہے، لپیا نے پوچھا۔
میرے خیال میں پانچ دن! کیوں لڑکے کیا تمہیں اس بارے میں کوئی علم ہے؟ بوڑھے نے پوچھا۔
میرے خیال میں تیرہ دن! لڑکے نے جواب دیا۔
وہ کیسے؟ بوڑھے نے پوچھا۔
جب چچا سمتھ فوت ہوا تھا تو وہ تیرہ دن تک چولہے پر چوٹ لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہاتھا، لڑکے ناے جواب میں کہا۔
دہ راہے پر لپیا اتر گئی۔ صبح کاذب تھی۔ کاشت کار،مزدور اور چرواہے اپنی اپنی منزل کو جا رہے تھے۔ وہ گھر پہنچی تو سب لوگ سو رہے تھے اور گیٹ بند تھا۔ وہ باہر ہی بیٹھ گئی اور گھر والوں کے جاگنے کا انتظار کرنے لگی۔ بچہ ابھی بھی اس کی گود میں تھا۔
سب سے پہلے گریگر ہی اٹھ کر باہر نکلا۔ اس کے ہونٹ سختی ہے بند تھے۔ لپیا کو دیکھ کر وہ کافی دیر خاموش رہا پھر آخرکار دکھ بھرے لہجے میں بولا، آہ! تم اپنے بچے کو نہ بچا پائی لپیا۔ تم میرے پوتے کو نہ بچا سکی۔ اس کے بعد باربرا اٹھی، لپیا کو دیکھ کرزاروقطار رونے لگی۔ بچے کو اٹھا کر بولی، وہ کتنا خوبصورت تھا۔۔ افسوس گریگر اپنے ایک بھی بچے کو ساتھ نہ رکھ سکا۔
انہوں نے صبح شام بچے کی مغفرت کے لئے دعائیں کی۔ اگلے دن اسے دفنانا تھا۔ جب بچے کو لے جایا جانے لگا تو لپیادکھ بھری آواز میں بین کرنے لگی۔اسکنیا اچانک دروازے میں آئیاور اونچی آواز میں بولی، لپیا شور نہ مچاؤ۔۔اور اپنا منہ بند رکھو۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ کوئی انوکھی بات نہیں ہوئی مجرم کی بیوی! سب تمہارا قصورہے۔ اسکنیا نے جنازے کے لئے نیا کالے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھااور پورے میک اپ کے ساتھ جنازے میں شریک ہوئی تھی۔
لپیا نے خاموش ہونے کی کوشش کی لیکن اس سے رہا نہ گیا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ زور سے رونے لگی۔
اسکنیا نے اپنے پاؤں زار سے زمین پر مارتے ہوئے غصے سے کہا،کیا تم نے سنا نہیں؟ اپنی آواز بند کرو۔ تم خود کو کیا سمجھتی ہو؟ یہاں سے دفعہ ہو جاؤ اور پھر کبھی اپنا چہرہ نہ دکھانا۔ ایک مجرم عورت! یہاں سے فوراً نکل جاؤ۔ تم نے یہ گھر تباہ کر دیا ہے۔
اسکنیا ذرا رک جاؤ! تھوڑا سانس لو۔۔ یہ باتیں ختم کر دو۔ اس کا رونا ایک فطری عمل ہے۔ اس کا بیٹا مر گیا ہے، بوڑھے گریگر نے کہا۔
صرف آج رات! کل وہ یہ گھر خالی کر دے۔ اس کی یہاں کوئی جگہ نہیں۔۔۔ہاہاہا۔۔یہ فطری عمل ہے۔۔ اس نے ایک طنزیہ انداز میں قہقہ لگایا اور چابیاں اٹھا کر سٹور کی طرف چل پڑی۔
اگلی صبح لپیا اپنی ماں کے پاس چلی گئی۔
مکان اور سٹور پر رنگ و روغن کیا جانے لگا اور وہ بالکل نئے دکھنے لگے۔تین سال گزر گئے اور اس گھر میں جو حادثہ پیش آیا تھا،سب لوگ اسے بھول گئے۔
سب کچھ اسکنیا کے ہاتھ میں منتقل ہو چکا تھا۔ گریگر محض نمائشی سربراہِ خانہ رہ گیا تھا۔ وہ سیاہ و سفید کی مالکہ بن چکی تھی۔ اینٹوں کا بھٹہ بہت زیادہ نفع دے رہا تھا۔ حکومت نے ریلوے سٹیشن کی توسیع کے منصوبے پر کام شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے اینٹوں کی طلب میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ان اینٹوں کی فی ہزار قیمت چوبیس روبل ہو چکی تھی۔ مزدور ریڑھیوں میں اینٹیں لادھ کر اور گھسیٹ کر سٹیشن میں لایا کرتے تھے۔ ایک دن کی دیہاڑی ایک چوتھائی روبل ملتی تھی۔ اس نے حزیمن کی شراکت سے سٹیشن کے نواح میں ایک عمدہ سا شراب خانہ بھی کھول دیا تھا جس میں ہمیشہ مدھر موسیقی بجتی رہتی تھی اور وہ بھی بڑا کامیاب جا رہا تھا۔
اسکنیا کے نام کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔ گریگر کو تمام کاروبار سے باہر کر دیا گیا تھا۔ وہ کنگھال ہو گیا تھا لیکن پھر بھی وہ خاموش رہتا اور اپنی پریشانی ظاہر نہ ہونے دیتا۔ اگرچہ وہ غیر حاظر دماغ رہنے لگا تھا لیکن اس کی یاد داشت ابھی بھی بہت تیز تھی۔ وہ ارد گرد کے ماحول سے بخوبی آگاہ تھا لیکن اس پر کوئی رد عمل پیش نہیں کرتا تھا۔ کھانے پینے کے معاملے میں لا پرواہ تھا۔ کھانا مل جاتا تو کھا لیتا ورنہ بھوکا رہ کر اپنی دھن میں مست رہتا۔ باربرا کا رویہ بھی اب اس سے تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی عزت اپنی بیوی کے نظروں میں بھی گر چکی تھی جیسے کہ وہ کہتی کہ بوڑھا آ ج بھی بغیر کھائے سو گیا ہے۔ یہ اطلاع وہ اس
انداز میں دیتیجیسے گریگر اس گھر کے لئے بے معنی ہو گیا ہے۔
گریگر کی لمبا کوٹ پہن کر سڑکوں پر گھومنے اور گرجا گھر کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھنے کی عادت ابھی بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ گرمی سردی میں وہ اپنے روز مرہ عادت کے تحت یہ سیر کرتا رہا۔ وہ گھر سے آکر سڑکیں ناپتا ہوا گرجا گھر کے باہر پڑی بنچ پر بیٹھ جاتا۔ صبح سے شام تک وہیں بیٹھا رہتا۔ لوگ اس کے پاس سے گزر کر اسے ہیلو کہتے تو وہ ان کا کوئی جواب نہ دیتا۔ مزدور اور غریب لوگ اسے اب بھی اتنے ہی برے لگتے تھے۔ وہ بولتا نہیں تھا لیکن سوجھ بوجھ قائم تھی۔ اگر کوئی اس سے سوال کرتا تو وہ عمدہ طریقے سے بڑا مختصر جواب دیا کرتا تھا۔
گاؤں بھر میں یہ بات پھیل گئی کہ اسے گھر سے نکال دیا گیا ہے۔ اسے کھانے کو کچھ نہیں دیا جاتا تھا۔ دوسرے لوگ اس پر ترس کھا کر کھانے کو کچھ دے دیتے تھے۔ اس کی حالت زار اور کسمپرسی کی حالت دیکھ کر کچھ تو غمزدہ ہو جاتے اور کچھ خوش۔
باربرا اب کچھ موٹی ہو گئی تھی۔ اس کا رنگ روپ کملانے لگا تھا لیکن اسکنیا پتہ نہیں کیوں ابھی تک اس کے ساتھ ٹھیک تھی۔ اس نے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں لگائی تھی۔ اینیسم کے بارے میں تمام خاندان بھول چکا تھا۔ ایک بار اس کا خط آیا تھاجو اس نے اسی طرح کے خوبصورت انداز میں لکھوایا تھالیکن اس کے ایک کونے میں بڑی بھدی لکھائی میں یہ التجا کی گئی تھی کہ مجھے کسی نہ کسی طرح بچا لو۔ مجھ پر رحم کھاؤ لیکن اسکنیا نے اسے پڑھ کر پھاڑ کر پھینک دیا۔
موسمِ خزاں کے ایک سہ پہربوڑھا گریگر حسب معمول لمبا کوٹ پہنے، کالر اونچے کئے گرجا گھر کے سامنے بنچ پر گم سم بیٹھا تھا۔ اسی بنچ کے دوسرے کنارے پر بڑھئی لوفٹی اور علاقے کے سکول کا بوڑھا کلرک جیکب بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
اولاد کا یہ فرض ہے کہ اپنے والدین کو بڑھاپے میں خوراک فراہم کریں اور ان کی تحریم و تکریم کریں لیکن اِس کے بیٹے سٹیفن اور اس کی بہو نے اسے گھر سے نکال دیا ہے۔ اس نے بے سرو سامانی کی حالت میں تین دن اور تین راتیں اس بنچ پر بغیر کھائے پئے گزاری ہیں۔ یہ بوڑھا شخص اب کہاں جائے؟ اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، جیکب نے آگاہ کیا۔
لوفٹی یہ سن کر حیران رہ گیا اور پوچھا، کیا واقعی؟
ہاں! وہ یہیں بیٹھا رہتا ہے۔ ایک لفظ تک ادا نہیں کرتا۔ وہ بے حد نحیف ہو گیا ہے۔ خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ اسے اسکنیا کو عدالت لے جانا چاہئے تھا۔ وہ آسانی سے بچ نہ پاتی۔
گریگر تمام باتیں خاموشی سے سنتا رہا۔ لوفٹی اور جیکب دونوں اس بات پر متفق ہوئے کہ اب گریگر کے پاس عیش و عشرت والی جگہ کی ضرورت نہیں۔ اب خواہ وہ اپنے گھر میں یا پرائے میں،کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جگہ سردیوں میں گرم ہو اور اسے زندہ رہنے کے لئے کچھ نہ کچھ ملتا رہے۔ یہ بات کہنے کے بعد دونوں نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔
دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کیا آپ کے اندر کسی طرح کا احساس پایا جاتا ہے۔ یہاں تو اس قسم کی کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی۔ میں اپنی بیوی کا بڑا مداح ہوں۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔ جب میں جوان تھا تو اس نے میرے پیار کی خاطر بڑی محنت مشقت کر کے میرے لئے گھر بنایا تھا،میرے آرام کے لئے بہترین بگھی خریدی تھی اور ہمیشہ میرے ساتھ چمٹی رہتی۔ میرا بہت خیال رکھا کرتی تھی اور سوچو! میں نے اس کے لئے کیا کیا؟ صرف دو وقت کی روٹی۔ لیکن اس بوڑھے گریگر کا بیٹا کم عقل ہے اس لئے اس کی بیوی اس کو گھانس نہیں ڈالتی۔ وہ اس کے سامنے بے بس ہے۔ اس کی ہر خواہش پر عمل کرتا ہے اس لئے اس بڈھے گریگر کی یہ حالت ہے۔ اس کے سر پر جوتے مارنے چاہئیں،اس کے بغیر وہ نہیں سمجھے گا، جیکب نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
لوفٹی نے انگڑائی لی اور اٹھ کھڑا ہوااور کہا کہ اس نے سٹیشن پہنچنا ہے۔ جیکب بھی اس کے ساتھ باتیں کرتے کرتے سٹیشن کی طرف چل پڑا۔ جب وہ گریگر سے پچاس گز دور گئے ہوں گے تو وہ بھی اٹھا اور مردہ قدموں سے ایسے چلنے لگا جیسے کہ جمی ہوئی برف پر چل رہا ہو۔ اس وقت گاؤں میں اندھیرا چھانے لگا تھا۔ سورج پہاڑی سے نیچے غروب ہو کر اپنا جلوہ دکھا رہا تھا۔ خواتین جنگلوں سے کھمبیاں توڑ کو لا رہی تھیں۔ سٹیشن کے پاس لڑکیا ں اور خواتین ریڑھیوں سے اینٹیں اتار کر سٹیشن پر رکھ رہی تھیں۔ ان کے چہرے،آنکھیں اور کپڑے اینٹوں کی دھوڑ کی وجہ سے سرخ ہو گئے تھے۔ ان مزدوروں میں لپیا اور اس کی ماں بھی شامل تھیں۔ ان کے لبوں پر کرسمس کے نغمے تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر دعا مانگ رہی تھیں کہ ان کا آنے والا دن اچھا گزرے۔ لپیا کی ماں نے اپنے ہاتھوں میں ایک چھوٹی سی تھیلی پکڑی تھی۔ بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے سب سے پیچھے کمزور قدموں سے آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔
لپیا نے لوفٹی کو دیکھا اور ہیلو کہا، اونچی آواز میں بولی کہ سب لوگ اسے ہیلو کہیں، یہ شخص بہت اچھا ہے۔ عزت کے لائق ہے۔ برے وقتوں کا ساتھی ہے۔
میری بچی! میری پیاری بچی! خدا تمہیں خوش رکھے۔ امن و امان قائم کرنے والی حور! خدا تم پر بخشش کرے۔۔یہ کہتے ہوئے لوفٹی چلا گیا۔
کچھ دیر بعد مردہ قدموں سے چلتا ہوا گریگر نمودار ہو ا۔ نقاہت سے وہ لپیا اور اس کی ماں کے پاس سستانے کے لئے بیٹھ گیا۔ لپیا نے اسے دیکھا تو ہیلو! آج عمدہ دن ہے، کہتے ہوئے وہ تعظیم سے جھکی۔ اس کی ماں نے بھی گریگر کو ہیلو کہا۔
بوڑھے گریگر کی بے بسی دیکھ کر لپیا کا دل پسیج گیا۔ اپنے ماں کی تھیلی میں سے تین ڈبل روٹیاں نکال کر اسے کھانے کے لئے دیں۔

اندھیرا ہو رہا تھا اور گھر جانے کا وقت ہو چکا تھا۔ لپیا اور اس کی ماں اپنی کھولی کی طرف چل دیں۔ بوڑھا ڈبل روٹی کھانے لگا۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔

Ghulam Mohyuddin

نوٹ:
1. انتون چیخوف کے اس ناولٹ/طویل کہانی پر 1991ء میں ایک بالی ووڈ مووی "قصبہ" کے نام سے بنی ہے۔ جس کے ہدایتکار اور اسکرین پلے لکھنے والے "کمار شہانی" ہیں۔ اس مووی کو اس لنک کے ذریعے یو ٹیوب پر دیکھا جاسکتا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=yLok44bLd7Q
2. انتون چیخوف کے اس ناولٹ کا مکمل ترجمہ بھی اس گروپ "عالمی ادب کے اردو تراجم" میں "گھاٹی میں" کے عنوان سے افسانہ نمبر 14 میں پوسٹ ہوچکا ہے۔ جس کا ترجمہ "خورشید جاوید " نے کیا تھا۔ اور یہ ترجمہ کتاب "عالمی ادب کے اردو تراجم (حصہ اول)" ، میں شائع ہوچکا ہے۔ اس کتاب کے حصول کے لیے پبلیشر "سٹی بک پوائنٹ کراچی" کے اس نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ موبائل نمبر 03122306716
English Title: In The ravine
Written by:
Anton Pavlovich Chekhov (29 January 1860 – 15 July 1904]) was a Russian playwright and short-story writer who is considered to be among the greatest writers of short fiction in history.


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2813788532184995

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/