روسی مصور واسیلی ویریشاگن دنیا میں واسیلی ویریشاگ…

روسی مصور واسیلی ویریشاگن
دنیا میں واسیلی ویریشاگن کو جنگ کشی کا مصور مانا جاتا ہے- مصور کا فن، ان کی زندگی، تاحتی ان کی موت بھی جنگ سے مربوط ہے- ان کے فن پاروں میں جنگ اپنی پوری ہولناکی سے منعکس ہوتی ہے- تصویرکشی میں مصور نے انسان کی جنگ سے نفرت کا جذبہ پورے کا پورا ہی بھر دیا ہے۔
واسیلی ویریشاگن پڑھ نہی پایا تھا کیونکہ بچہ بچپن سے ہی تصویرکشی پسند کرتا تھا- بہرحال واسیلی ویریشاگن نے جنگی تعلیم چھوڑی نہیں تھی تاحتی اسی عسکری سکول میں وہ تربیت دینےوالے کے طور پر کام بھی کرتے رہے تھے- وہ مصوری کے سکول میں داخل ہوۓ اور بےحد کامیاب رہے- نوجوان بحری افسر کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد واسیلی ویریشاگن سینٹ پیٹرزبرگ کی مصوری کی اکادمی میں داخل ہوگئے تھے۔
سیاحت واسیلی ویریشاگن کا جنون بن گئی تھی جن سے انہیں نئے نئے مہیج ملتے تھے، جس کے بغیر ان کے خیال کے مطابق مصور کی روح نہیں جاگتی- وہ ترکی گئے جہاں تب جنگ چھڑ گئی تھی- واسیلی ویریشاگن نے اس جنگ کو بطور مصور ہی نہیں بلکہ بطور ماہر جنگ کے بھی دیکھا تھا، اور وہ اس میں براہ راست ملوث دکھاۓ دیتے تھے- بظاہر سردمہر لیکن حقیقتا ً بے دھڑک طور پر جرأت مند یہ مصور جنگ کی خوفناکیوں اور مظالم سے دھل کر رہ گئے تھے اور یہی وقت تھا جب واسیلی ویریشاگن کے دل میں جنگ کو حقیقی معنوں میں مصور کرنے کا تصور اجاگر ہوا تھا- انہوں نے "ترکستان" نام سے تصویروں کا ایک سلسلہ بنایا جس کی لندن اور سینٹ پیٹرزبرگ میں نمائش ہوئی۔
1874 میں واسیلی ویریشاگن ہندوستان گئے تھے- ہندوستان کے حسن نے انہیں مسحور کر دیا تھا- انہوں نے "ہندوستان" نام کا ایک سلسلہ سوچا جس کا موضوع بقول ان کے انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان کی لوٹ تھا- اس سلسلے میں مصور دکھانا چاہتے تھے کہ اپنے سو سال کے نوآبادیاتی دور میں برطانویوں نے کس طرح اس ملک کی دولت پر ہاتھ صاف کیا تھا- لیکن واسیلی ویریشاگن اپنا کام مکمل نہیں کر سکےتھے- انہوں نے چند شہ پارے بناۓ جن میں "جےپور میں انگریزوں اور مقامی حکومت کا تعلق"، تاج محل آگرہ"، "جےپور کے فوجی گھڑسوار" اور "شیخ سلیم چشتی کا مزار" شامل ہیں۔
ان شہ پاروں میں سے ایک "پرنس آف ویلز کا دورہ ٔہند" کلکتہ کے ملکہ وکٹوریہ میموریل میوزیم میں محفوظ ہے- اس شاندار تصویر میں شہزادے کی جےپور میں آمد کو مصور کیا گیا ہے- واسیلی ویریشاگن نے فن مہارت سے ہندوستان کے فن معماری کو تصویرمیں ڈھالا ہے۔
1877 میں روس اور ترکی کے درمیان چھڑنےوالی جنگ نے واسیلی ویریشاگن کو جنگ کے زندہ تھیٹر میں گھسیٹ لیا تھا- اور یوں وہ پہلے ہی کی طرح بطور مصور اور بطور سپاہی کے اس انتہائی ہیبتناک جنگی کارروائی میں شریک تھے- ایک معرکے میں وہ زخمی ہوگئے تھے، بہت دیر تک ہسپتال میں رہے تھے اور مرتے مرتے بچے تھے- مصوری کی طرف لوٹ آنے کے بعد واسیلی ویریشاگن نے ترک روس جنگ کے بارے میں تصویروں کا سلسلہ بنایا۔
1882 میں انتھک واسیلی ویریشاگن ایک تار پھر ہندوستان گئے- اس سفر کی اہم ترین تصویر "ہندوستان میں برطانوی سزا" کو قرار دیا جا سکتا ہے جس میں توپ کی نالی سے ٹانگ کر لوگوں کو پھانسی کے گھاٹ اتارا جاتا دکھایا گیا تھا- اس تصویر میں نوآبادکاروں کی وہاں کی اصلی آبادی کے ساتھ برتی جانےوالی درندگی کا عکس ملتا ہے- برطانوی نوآبادکاروں کی اس سزا کا مکارپن یہ تھا کہ وہ ہندو مذہب کے اس عقیدے کو برتتے تھے جس کے مطابق اس طرح سزا پانےوالے کی روح سورگ تک نہیں پہنچتی اور یوں وہ اس سزا سے لرزآں تھے- چنانچہ یہ سزا محض جسمانی ہی نہیں بلکہ روحانی تشدد بن جاتی تھی۔
اس کے بعد واسیلی ویریشاگن مسلسل حالت سفر میں رہے تھے- وہ شام، فلسطین، امریکہ، جاپان، قفقاز اور شمالی روس گئے تھے — وہ یورپ میں قیام پذیر تھے جب انہیں جاپان سے جنگ چھڑجانے کی اطلاع ملی تھی- اپنے کنبے کو الوداع کہے بغیر واسیلی ویریشاگن پورٹ آرتھر چلے گئے تھے — یہ جنگ ان کے لیے آخری جنگ تھی- یہ انتھک مصور "پیتروپاولوسک" نامی بحری جنگی جہاز میں جاپانی بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوۓ تھے- یہ واقعہ 31 مارچ 1904 کو پیش آیا تھا۔
واسیلی ویریشاگن نے جنگ سےاپنی نفرت کا مرقع اپنی معروف تصویر "جنگ کے نتائج" میں پیش کیا ہے- خشک زمین پر انسانی کھوپڑیوں کے ڈھیر تلے تحریر ہے "ماضی اور مستقبل کے تمام فاتحین کے نام"۔




بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2779238462306669



