افسانہ : مجرم مصنف : خلیل جبران ••••••••• ایک ن…

افسانہ : مجرم
مصنف : خلیل جبران
•••••••••
ایک نوجوان سرراہ بیٹھا، بھیک مانگ رہا تھا۔۔ قوی الجثہ نوجوان ، جسے بھوک نے بے جان کر دیا تھا، اور وہ سڑک کے موڑ پر آنے جانے والوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا، منتوں سے گڑگڑا کر سوال کر رہا تھا، اپنی ذلت و بدبختی کی کہانی دہرا رہا تھا، بھوک کی تکلیفوں کا دکھڑا رو رہا تھا۔۔
رات نے اپنا پرچم گاڑ دیا۔۔ نوجوان کے ہونٹ خشک ہوگئے اور زبان زخمی، لیکن ہاتھ پیٹ کی طرح خالی ہی رہا۔۔ وہ اٹھا اور شہر کے باہر چلا گیا۔۔ وہاں درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔۔ اس کے بعد اس نے اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائیں، جن پر آنسوؤں کا پرچہ پڑا تھا۔۔ اس عالم بھوک میں اس کا لہجہ کھرچے لیتی تھی، اس نے کہا :
" خدایا ! میں سیٹھ کے ہاں کام کی تلاش میں گیا، لیکن میرے بدن پر بسیرے لگے دیکھ کر اس نے مجھے نکلوایا۔۔ میں اسکول کا دروزہ کھٹکھٹایا، لیکن ہاتھ خالی ہونے کی وجہ سے مجھے گھسنے نہ دیا گیا، صرف دو وقت کی روٹی پر میں نے نوکری کرنی چاہی، لیکن میری بدقسمتی کہ اس سے بھی محروم رہا۔۔ مجبور ہوکر بھیک مانگنے کی کوشش کی، لیکن یا رب !! تیرے بندوں نے میری طرف دیکھا اور یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے کہ
" یہ موٹا اور مشٹنڈا ہے۔۔ ایسے ہڈ حرام کو بھیک دینا جائز نہیں۔۔"
یا رب !! مجھے میری ماں نے تیرے حکم سے جنا اور اب میں تیرے وجود کی بناء پر زندہ ہوں۔۔ پھر لوگ مجھے روٹی کا ٹکڑا کیوں نہیں دیتے، جب کہ میں تیرے نام پر مانگتا ہوں۔۔۔"
غم زدہ نوجوان کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آنکھیں شعلوں کی طرح چمکنے لگیں۔۔ وہ اٹھا اور خشک شاخوں میں سے ایک موٹی ٹہنی اٹھالی، پھر اس نے شہر کی طرف اشارہ کیا اور بلند آواز سے چلایا :
" میں نے ماتھے کے پسینے کے عوض زندگی طلب کی، لیکن اسے نہ پایا۔۔ اب میں اسے اپنے بازوؤں کی قوت سے حاصل کروں گا !! میں نے محبت کے نام پر روٹی مانگی، لیکن انسان نے کوئی توجہ نہ کی اب میں ظلم و سرکشی کے نام پر روٹی ہی نہیں بلکہ بہت کچھ اس سے لوں گا اور وہ دینے پر مجبور ہوگا۔۔ !! "
ایک زمانہ گزر گیا۔۔ نوجوان ہاروں کے لئے برابر گردنیں کاٹتا اور اپنے لالچ کے محل تعمیر کرنے کے لئے مسلسل روحوں کے ہیکل مسمار کرتا رہا۔۔ یہاں تک کہ اس کی دولت بے اندازہ اور شجاعت عام ہوگئی۔۔ ملک کے ڈاکو اس کو محبوب رکھنے لگے اور حکومت کے ارکان اس کے نام سے ڈرنے لگے۔۔ انجام کار بادشاہ نے اس شہر میں اسے اپنا نائب بنا دیا اور اپنے معتقدین کے حلقہ میں شامل کر کے اسے منصب امارت پر فائز کر دیا۔۔۔۔
اس طرح انسان اپنی کنجوسی سے مسکین کو بدمعاش اور اپنی سنگدلی سے امن پسند کو قاتل بناتا ہے۔۔!!
•••••••
حوالہ : کلیات خلیل جبران
مرتب : حیدر جاوید سید
ناشر : فکشن ہاؤس
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2759031377660711



