منتخب غزلیں

دھڑکتے، سانس لیتے، رُکتے چلتے میں نے دیکھا ہے کوئی…

دھڑکتے، سانس لیتے، رُکتے چلتے میں نے دیکھا ہے
کوئی تو ہے جسے اپنے میں پلتے میں نے دیکھا ہے

تمہارے خون سے میری رگوں میں خواب روشن ہے
تمہاری عادتوں میں خود کو ڈھلتے میں نے دیکھا ہے

نہ جانے کون ہے جو خواب میں آواز دیتا ہے؟
خود اپنے آپ کو نیندوں میں چلتے میں نے دیکھا ہے

مری خاموشیوں میں تیرتی ہیں تیری آوازیں
ترے سینے میں اپنا دل مچلتے میں نے دیکھا ہے

بدل جائے گا سب کچھ، بادلوں سے دھوپ چٹخے گی
بجھی آنکھوں میں کوئی خواب جلتے میں نے دیکھا ہے

مجھے معلوم ہے اُن کی دعائیں ساتھ چلتی ہیں
سفر کی مشکلوں کو ہاتھ مَلتے میں نے دیکھا ہے

(آلوک شری واستو)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/