باطن تحریر فریال خان حصہ سوئم آرزو جنید کے گھ…

???? تحریر فریال خان
حصہ سوئم ????
آرزو جنید کے گھر پہنچ چکی تھی۔گھر پر آرزو یہی بول کر آئی تھی کہ اپنی دوست کے گھر جارہی ہے۔آرزو نے ڈور بیل بجائی۔تھوڑی دیر میں ہی جنید نے دروازہ کھولا۔
"آؤ اندر”۔جنید نے راستہ دیتے ہوئے کہا۔آرزو اندر آگئی۔جنید بھی دروازہ بند کرکے اندر آگیا۔
"کب تک آنے کا پلان تھا ان لوگوں کا؟۔آرزو نے پوچھا۔
"ابھی بارہ بج رہے ہیں، ایک بجے تک آنے کا پلان تھا ان لوگوں کا”۔جنید نے بتایا۔
"ہممم! اور تمہاری امی کہاں ہیں؟۔آرزو نے پوچھا۔
"اندر ہیں کمرے میں ، چلو مل لو چاہو تو”۔جنید نے کہا۔
"ہاں ضرور ، کہاں ہیں؟۔آرزو نے پوچھا۔اور جنید اندر کی جانب بڑھا۔آرزو بھی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔جنید ایک کمرے میں داخل ہوا۔اور آرزو بھی اسکے پیچھے ہی کمرے میں آگئی۔آرزو نے اندر آکر دیکھا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا۔آرزو حیران ہوگئی۔اس سے پہلے کہ آرزو کچھ بولتی پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔آرزو نے پلٹ کر دیکھا تو جنید نے دروازہ بند کردیا تھا۔
"یہ کیا کررہے ہو جنید ! دروازہ کیوں بند کردیا؟۔آرزو نے پوچھا۔
"تا کہ تم باہر نا جاسکو”۔جنید نے آہستہ آہستہ قریب آتے ہوئے کہا۔
"یہ کیا مذاق ہے جنید ، دروازہ کھولو ، مجھے ایسا مذاق بالکل پسند نہیں ہے، اور تمہاری امی کہاں ہیں!”۔آرزو نے کہا۔
"یہ مذاق نہیں ہے جانِ من ، یہ بالکل حقیقت ہے ، بلکہ اسی لئے تو میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے، اور میری امی کی تم فکر مت کرو ، وہ تو حیدرآباد گئی ہوئی ہیں ، اپنی بہن کے گھر”۔جنید اب آرزو کے بہت قریب آچکا تھا۔
"ہٹو ، جارہی ہوں میں”۔آرزو نے کہا۔اور جانے کی کوشش کرنے لگی۔پر جنید نے اسے بازو سے پکڑ کر پھر وہیں کھڑا کردیا۔
"چلی جانا اتنی بھی کیا جلدی ہے ، پر پہلے میری بات تو سن لو”۔جنید نے آرزو کو بازؤں سے پکڑ کر قریب کرتے ہوئے کہا۔
"چٹاخ”۔آرزو نے پوری قوت سے جنید کو تھپڑ مارا۔
"یہ کیا گھٹیا حرکت ہے ! میں تمہیں کتنا شریف سمجھتی تھی ، اور تم اندر سے کیا نکلے”۔آرزو نے کہا۔
"ہاں تو اگر میں یہ شرافت کا ڈھونگ نہیں کرتا تو تم یہاں تک کیسے آتی! اور آج بھی میں نے تمہیں جھوٹ بول کر ہی یہاں بلایا ہے”۔جنید نے اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا۔آرزو ان سب پر دنگ ہوگئی تھی۔آرزو نے جنید کو دھکا دے کر دروازے کی جانب جانے کی کوشش کی۔پر جنید نے آرزو کو بازو سے پکڑ کر واپس کھینچ لیا۔اور زور سے بیڈ پر تقریباً پھینکا۔اور خود بھی اس کے اوپر جھک گیا۔اس زور زبردستی میں آرزو کا فون بھی گر کر ٹوٹ گیا تھا۔آرزو نے آس پاس ہاتھ مارا تو اسکا ہاتھ سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلدان سے ٹکرایا۔آرزو نے ایک سیکنڈ بھی ضائع کئے بغیر گلدان پوری قوت سے جنید کے سر پر مارا۔جنید اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھا۔اس لئے سر پکڑ کر بیڈ پر گر گیا۔آرزو جلدی سے دروازے کی جانب بھاگی۔اس سے پہلے کے وہ لاک کھول کر باہر نکلتی۔جنید نے پھر اسے پکڑ لیا۔اور واپس کمرے میں لے آیا۔جنید کے سر سے خون نکل رہا تھا۔پر وہ کسی بھی قیمت پر آرزو کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔
"تم یہ ٹھیک نہیں کررہے ہو ، میں تمہارے بارے میں سب کو بتا دوں گی”۔آرزو نے چیختے ہوئے کہا۔
"بتاؤ گی تو تب ناں ، جب تم یہاں سے زندہ واپس جاؤگی، ایسی جگہ تمہاری لاش ٹھکانے لگاؤں گا کہ کوئی ڈھونڈ بھی نہیں پاۓ گا”۔جنید نے کہا۔آرزو کو جنید سے بہت خوف آرہا تھا۔اور اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔اور اس وقت بس اللّه کے حکم سے کوئی فرشتہ ہی آکر اسے بچا سکتا تھا۔اس سے پہلے کے جنید کچھ اور کرتا اچانک ڈور بیل بجی۔ڈور بیل کی آواز سن کر جنید کو تعجب ہوا اور آرزو کو ایک امید ملی۔
"بچا……..!۔آرزو پوری قوت سے چلانے والی تھی کہ جنید نے اسکے منہ پر کس کر ہاتھ رکھ دیا۔ڈور بیل مسلسل بج رہی تھی۔جنید کچھ دیر خاموشی سے ایسے ہی آرزو کے منہ پر ہاتھ رکھے کھڑا رہا۔جنید نے ایک ہاتھ آرزو کے منہ پر رکھا ہوا تھا۔اور دوسرے ہاتھ سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔نازک سی آرزو کو قابو کرنا لمبے چوڑے جنید کیلئے زیادہ مشکل نہیں تھا۔آرزو مسلسل روئے جارہی تھی۔تھوڑی دیر ڈور بیل بجتی رہی۔پھر بند ہوگئی۔دروازے پر جو بھی تھا وہ جاچکا تھا۔جنید نے اپنی گرفت آرزو پر تھوڑی ڈھیلی کردی۔اور ہاتھ اب منہ کے بجائے گردن کے گرد لپیٹ دیا۔کہ تب ہی آرزو نے پوری قوت سے اپنی دانت اسکے ہاتھ پر گاڑ دیئے۔اور جنید درد سے چلا اٹھا۔آرزو پھر باہر بھاگی۔پر کمرے سے باہر نکل نہیں پائی۔جنید نے پھر اسے پکڑ لیا۔اور بیڈ پر پٹخ دیا۔اور پھر اس پر جھک گیا۔آرزو نے اپنے ہونٹ اور آنکھیں بند کرکے کس کے سے میچھ لی۔اس سے پہلے کے جنید اپنے ارادوں میں کامیاب ہوتا۔زوردار آواز کے ساتھ کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا۔اور ارمان فرش پر آکر گرا۔دونوں نے ہی اسکی جانب دیکھا۔ارمان ایک جھٹکے سے اٹھا اور جنید کو گریبان سے پکڑ کر آرزو کے اوپر سے ہٹایا۔اور اس پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔جواب میں جنید بھی اسے مارنے لگا۔آرزو جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہوگئی۔اس زور زبردستی میں آرزو کا دوپٹہ بھی کہیں گر گیا تھا۔آرزو نے جلدی سے فرش پر سے اپنا دوپٹہ اٹھا کر اوڑھا۔ارمان اور جنید بری طرح ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔آرزو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ! کیسے یہ سب روکے! کہ تب ہی آرزو اچانک سے کمرے سے باہر بھاگی۔اور لاؤنچ میں رکھے پی۔ٹی۔سی۔ایل کی جانب آئی۔اور پولیس کو فون کرنے لگی۔پولیس کو فون کرکے آرزو جلدی سے باہر کی جانب بھاگی۔پر میں گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا۔جو یقیناً جنید نے ہی لگایا تھا۔آرزو پھر واپس اندر آئی۔جہاں جنید اور ارمان لڑ رہے تھے۔دونوں بہت بری طرح زخمی ہوچکے تھے۔پر ایک دوسرے کو چھوڑنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔اچانک سے جنید نے ارمان کو ایک جانب پھینکا۔اور سائیڈ ٹیبل کی جانب آیا۔آرزو نے جلدی سے بھاگ کر ارمان کو سہارا دے کر اٹھایا۔تب تک جنید دراز سے ایک تیز دھار چاکو نکال چکا تھا۔اور ان دونوں کے قریب آیا۔ارمان نے آرزو کو اپنی آڑ میں کر لیا۔اور خود اسکے آگے کھڑا ہوگیا۔
"تیرے بارے میں میرا اندازہ بالکل ٹھیک تھا، تو انہی لوگوں میں سے ہے جن کا ظاہر کچھ اور ہوتا ہے اور باطن کچھ اور”۔ارمان نے کہا۔
"پر اب تمہارے اس اندازے کا کوئی فائدہ نہیں ہے”۔جنید نے دونوں کی جانب بڑھتے ہوئے کہا۔
"تو نے یہاں آکر اچھا نہیں کیا ، پر کوئی بات نہیں ، پہلے میں صرف ایک قتل کرتا ، پر اب مجھے دو قتل کرنے پڑیں گے، پر میں کسی بھی قیمت پر آرزو کو یہاں سے جانے نہیں دوں گا، اور نا ہی تو واپس جائے گا”۔جنید نے کہا۔اور ارمان پر حملہ کردیا۔ارمان نے بچنے کی کوشش کی پر پھر بھی چاکو اسکا بازو زخمی کرگیا۔دونوں میں پھر ہاتھا پائی شروع ہوگئی تھی۔اور جنید نے ارمان کو چاکو سے بہت زخمی کردیا تھا۔اور جگہ جگہ سے ارمان کے جسم سے خون نکل رہا تھا۔کہ تب ہی باہر سے بہت زوردار فائر کی آواز آئی۔تینوں ہی اس پر چونک گئے۔آرزو جلدی سے باہر آئی۔ایک پولیس والا دیوار کود کر اندر آیا تھا۔اور تالے پر فائر کرکے اسے توڑ کر دروازہ کھولا۔اور باقی کی ٹیم بھی اندر آگئی۔
"آپ نے ہمیں فون کیا تھا؟۔انسپکٹر نے پوچھا۔
"جی ، جلدی چلیں”۔آرزو نے کہا۔اور اندر کی جانب بھاگی۔پولیس نے کمرے میں پہنچ کر جنید کو حراست میں لے لیا۔جنید کے پاس اب فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔جنید کو وہ لوگ پولیس اسٹیشن لے گئے۔اور آرزو اور ارمان کو ایک حوالدار کے ساتھ ہوسپٹل بھیج دیا۔کیونکہ ارمان بہت زخمی ہوگیا تھا۔
*******
جنید نے آرزو کو جھوٹ بول کر اپنے گھر بلایا تھا۔وہ تو آرزو کی قسمت اچھی تھی کہ ارمان بھی اسی وقت صارم کے بہت کہنے پر جنید سے ملنے آگیا تھا۔پر جب کافی دیر تک کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔تو ارمان کو تشویش ہوئی۔اور وہ گھوم کر گھر کی پچھلی سائیڈ پر آگیا۔اور کھڑکی سے اندر دیکھنے لگا۔اتفاق سے جنید اور آرزو اسی کمرے میں تھے۔ارمان کو کھڑکی سے یہ تو نظر نہیں آیا تھا کہ وہ لڑکی آرزو ہے۔پر اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ جنید کسی لڑکی سے زبردستی کرنے کی کوشش کررہا ہے۔اور ارمان فوراً کھڑکی توڑتے ہوئے اندر آگیا۔اور تب اسے پتہ چلا کہ وہ لڑکی آرزو تھی۔جنید کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔اور اب وہ اتنی آسانی سے رہا ہونے والا نہیں تھا۔آرزو اور ارمان ہوسپٹل آگئے تھے۔
آرزو نے وقار کو فون کرکے سب بتا دیاتھا۔اور وقار نے پورے گروپ کے ساتھ ساتھ آرزو اور ارمان کے گھر والوں کو بھی اطلاع کردی تھی۔اور وہ لوگ بس کسی بھی وقت وہاں آنے والے تھے۔ڈاکٹر نے ارمان کی پٹی وغیرہ کرکے اسے انجکشن دے دیا تھا۔ارمان اس وقت ہوسپٹل کے ایک روم میں بیڈ پر سرہانے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔اور آرزو ابھی ابھی فون کرنے کے بعد کمرے میں داخل ہوئی تھی۔آرزو آہستہ سے چلتے ہوئے بیڈ کے پیرہانے پر بیٹھ گئی۔
"میں نے وقار کو فون کردیا ہے ، سب لوگ بس کچھ دیر میں آنے والے ہوں گے”۔آرزو نے ناخن سے کھیلتے ہوئے بتایا۔
"تم اکیلے وہاں کیا کرنے گئی تھی؟۔ارمان نے پوچھا۔پھر آرزو نے اسے ساری بات بتائی کہ کیسے جنید نے اسے جھوٹ بول کر وہاں بلایا تھا۔
"میں جب کہتا تھا کہ اس سے دور رہو ، تو تم الٹا مجھ سے لڑتی تھی”۔ارمان نے کہا۔
"مجھے لگا کہ تمہیں جنید کے بارے میں غلط فہمی ہے ، کیوں بظاہر تو وہ……..!
"ضروری نہیں ہے کہ جو انسان ظاہری طور پر جیسا ہو باطنی طور پر بھی ویسا ہی ہو ، اب جیسے اسامہ ہے ، ٹھیک ہے میں اسے بھی اتنا پسند نہیں کرتا ، پر وہ جیسا اندر سے ہے ، ویسا ہی باہر سے ہے ، اور جنید جیسے لوگ ، جو باہر سے کچھ اور ، اندر سے کچھ اور ہوتے ہیں ، وہ بہت خطرناک ہوتے ہیں ، اور خاص طور پر لڑکیوں کو چاہیے کہ بہت احتیاط برتیں ، کیونکہ تمہیں تو خوش قسمتی سے میں نے بچالیا ، پر ضروری نہیں ہے کہ ہر لڑکی کو عین وقت پر کوئی ارمان بچانے آجائے”۔ارمان نے آرزو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔آرزو نے کچھ نہیں کہا۔بس نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔
ارمان نے بھی آرزو کی شرمندگی کو نوٹ کرتے ہوئے اس بارے میں اور بات نہیں کی۔
"تمہیں پتہ ہے مجھے تمہارا جنید سے بات چیت کرنا اور بھی اچھا کیوں نہیں لگتا تھا!۔ارمان نے پوچھا۔
"کیوں ؟۔آرزو نے ارمان کی جانب دیکھ کر پوچھا۔
"کیونکہ میں……!
"یار یہ سب کیا ہوگیا؟۔اس سے پہلے کے ارمان اپنی بات مکمل کرتا۔عماد بولتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔اور اس کے پیچھے باقی کا گروپ بھی آگیا۔اور ارمان کی بات ایک بار پھر ادھوری رہ گئی۔پر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں۔جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔بس ان کو سمجھنے کیلئے سمجھنے والی نظر چاہیے ہوتی ہے۔اور آرزو بھی ارمان کے بولے بنا ہی سمجھ چکی تھی۔
ختم شد
********
Note From : Faryal Khan
السلام و علیکم !
تمام پڑھنے والوں کا بہت شکریہ کہ انھوں نے پڑھنے کیلئے وقت نکالا۔یہ تحریر حقیقت پر مبنی تو نہیں تھی۔پر حقیقت سے قریب تر ضرور ہے۔ہمارے آس پاس ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جن کا ظاہر کچھ اور ہوتا ہے۔اور باطن کچھ اور۔اس لئے ہم سب کو چاہیے ، اور خاص پر ہم لڑکیوں کو کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں۔ضروری نہیں ہے کہ ہر کوئی جنید کی طرح ہی دوغلا ہو۔پر یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اندر سے بھی اتنا ہی پارسا ہو۔ہر کہانی میں چاہے وہ میری لکھی ہوئی ہو یا کسی بھی اور لکھاری کی۔ایک سبق ضرور ہوتا ہے۔جسے تمام پڑھنے والوں کو چاہیے کے کہانی کو تفریح کے ساتھ ساتھ اپنے لئے سبق بھی بنائیں۔اللّه پاک نے انسان کو دماغ دے کر سوچنے سمجھنے کی اور سہی غلط کا فرق سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔تو لہٰذا اس صلاحیت کو اچھی طرح استمعال کریں۔ (شکریہ)
(فریال خان)


