بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 45 فائیق نے فون …

???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 45
فائیق نے فون بند کردیا اور انھیں دیکھا جو نظریں جھکائے اپنے تسبی کو دیکھ رہی تھیں ۔ باہر بادل گرجنے کی آواز آرہی تھی عنقریب بارش ہونے والی تھی ۔ ہوا کے تیز جھونکے کھلی کھڑکھی سے لاوئنج میں آرہے تھے ۔
"مجھے معاف کردو فائیق ۔”
ان کی مدھم آواز کمرے میں گونجی ۔فائیق نے سر اُٹھا کر انھیں دیکھا ان کے مدھم لہجے میں اس نے نمی محسوس کی تھی ۔ اس کے آپس میں پیوست ہوئی وی انگلیاں کو دیکھتے ہوے اس نے ہولے سے سر نفی میں ہلایا ۔
"میں معاف کرنے والا ہوتا کون ہوں ، گناہگار تو میں آپ اور شفق کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کا بھی ہوں ۔”
"ایسے مت کہو فائیق ۔ سارا قصور میرا تھا ۔شفق سے زیادہ ظلم میں نے تمھارے ساتھ کیا ہے اور پھر یہاں آنے کے باوجود تم سے اور اس کے خاندان سے اسے دور رکھا ۔”ان کی آنکھوں میں اشک روا دوا ہونے لگا ۔
"چھوڑے پُرانی باتوں کو ، آپ نے جو کیا تھا ہما کے تحفظ کے لئے کیا تھا ۔ مجھے آپ سے کوئی گلہ یا شکوہ نہیں ہے ۔”
اس نے یہ کہہ کر گویا بات ہی ختم کردی ۔ نانو خاموشی سے اسے دیکھنے لگی پھر کہنے لگی ۔
"اب کیا کرو گئے ۔”
"زلنین کو ہما کو یہ بات اعتماد میں لاکر بتانی ہوگی کہ وہ اصل میں کیا ہے ۔ باقی ساری باتیں تو بات میں آتی ہیں ۔ دوسرا اس کے آنے پر میں آپ سب کو بتاوں گا ۔”
"ابھی بتانے میں کیا حرج ہے ۔”
"آپ جانتی ہیں اس گھر میں ایک جن نہیں بلکہ اکیس جن موجود ہیں ۔”
اس نے انھیں باوار کرایا تھا ۔
"زرین آخر میری بچی کی جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ۔ایک تو مر گئی لیکن دوسری نے اس کا کیا بگاڑا ہے ۔اللہ اس پر قہر نازل کرے اگر میری ہما کو کچھ ہوا ۔”
وہ جذباتی ہورہی تھی ۔ اور جذبات میں مزید اسے بُرا بھلا بول رہی تھی فائیق البتہ خاموش تھا ۔اور ان کی ملاقات کا سوچ رہا تھا مگر اس سے پہلے مزید سوچتا باہر بیل کی آواز آئی وہ آہستگی سے گہرا سانس لیتا ہوا اُٹھا کہ ضرور زلنین ہوگا مگر اس کی غلط فہمی تھی وہ اپنے انسان بنے پر بھی پچھتایا تھا اس حادثے کے بعد ۔
دروازہ کھول کر آنے والے کو دیکھتا لیکن ایک زور دار ڈنڈا اس کے سر پہ عین لمہے لگا تو وہ چکرا کر زور سے پیچھے گرا اس سے پہلے سنبھلتا دوسرے وار نے اس کی حالت مزید غیر کردی کہ وہ آواز کیا کہرا بھی نہیں سکا ۔
نانو کو کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی لیکن انھیں لگا بھتیجے ، چاچا کے درمیان کوئی گفتگو ہورہی ہوگی اس لئے بیٹھی رہے ۔
دوسری طرف پرمیس کپکپاتے ہاتھوں سے خون سے لت پت زمین بوس ہوے وے اپنے چاچو کو دیکھنے لگی ۔ اس کے چہرے پہ ملال رقم تھا ۔ آنکھیں بھی نم تھیں مگر وہ مجبور اور بے بس تھی ۔ اس پر زنجیریں تھی جس سے اسے باندھ کر رکھا تھا ۔
"آئیم سوری ماموں ۔”
اس نے کہتے ساتھ اپنے آنکھوں کے اشارے سے انھیں کھینچا ۔ اور باہر لے آئی اپنی چھ منٹ کے کاروائی سے اس نے ان کا بندوبست کیا ۔ اور پھر فائق کے روپ میں بدل کر اندر آئی ۔نانو نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا ۔
"کون تھا دروازے پر ۔”
وہ خاموشی سے چلتا ہوا صوفے پہ بیٹھا ۔
"زلنین نہیں آیا ابھی تک ۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا مگر کچھ کہا نہیں ۔
"کوئی بات ہوئی ہے ۔”
انھیں اس کی خاموشی اور عجیب رویہ پہ حیرانی ہوئی تھی ۔
فائیق نے سر اُٹھا کر انھیں دیکھا پھر شک نہ پڑنے پر گلا کنکھارتے ہوے بولا ۔
"کچھ نہیں میرا دوسرا بھتیجا آیا تھا ۔ کچھ بات کرنی تھی زلنین بس آتا ہوگا ۔”
مختصر سے بات کہہ کر وہ اب زمین کو گھور رہا تھا ۔
"مجھے یہ سب ڈرامہ کرنا بالکل نہیں اچھا لگ رہا فائیق پہلے اپنی بچی کو جھوٹی موت کا درد دیا اس کے بعد اسے اکیلا تنہا چھوڑ کر بے آسرا کردیا ۔وہ تو خواب میں بھی ڈر جاتی تھی اور اپنی ماں یا میرے ساتھ لپٹ جاتی تھی اب وہ کس سے لپٹا کرتی ہوگی ۔ اس پر اتنی مصیبتیں آئی اور میں اس کے لئے کچھ نہ کر سکی بس یادداشت جانے کا بہنا کر کے یہاں بیٹھی رہی ۔”
پرمیس حیرت سے یہ سب سُنتے جارہی تھی ۔ وہ نم لہجے میں اپنے دُکھ کو بار بار دہرا رہی تھی لیکن انھیں نہیں پتا تھا کہ مقابل کے لئے یہ بات نئی تھی ۔
•••••••••••••••
اس کی آنکھیں غصے سے لال انگارہ ہوئی تھی مگر اس میں وہ والی بات نہیں تھیں جو طاہرہ بیگم نے اس کو شفق سے الگ کرتے ہوے محسوس کی تھی . فائیق نے اپنے غصے کو قابو کیا پھر سٹرنگ پہ گرفت ڈھیلی کرتے ہوے انھیں دیکھتے ہوے بولا ۔
"آپ یہاں کیا کررہی ہیں ۔آپ پاکستان کیوں آئی ہیں جانتی بھی یہ جگہ آپ کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں ہے ۔”
نانو نے فائیق کو دیکھا پھر نظریں جھکا لیں ۔
"میں کچھ پوچھ رہا ہوں آپ سے ۔” اس نے دانت پیستے ہوے انھیں کہا ۔
"میں نے ہما سے کہا تھا کہ ہم امریکہ میں کہی رہ لے گئے مگر اس نے میری ایک نہ سُنی ، میں نے کہا دوسرا ملک بھی ہے پر وہ کہتی تھی اس کی ماما کی جہاں زندگی گزری ہے وہ وہاں رہنا چاہتی ہے ۔”
"آپ سوچ بھی سکتی ہیں اگر یہاں کسی کو معلوم ہوگیا کہ شفق کے بیٹی پاکستان آئی ہے تو پھر کیا ہوگا اس کے ساتھ ۔”
وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی پھر ان کے لب وا ہوے ۔
"تم کہنا کیا چاہتے ہو ۔”
"وہی جو آپ سمجھنا نہیں چاہتی ۔”
"فائیق ہما کے ساتھ کیا ہوگا بتاو مجھے ۔”
"پہلے مجھے آپ بتائیں کیا آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ میں جن ہوں ۔”
اس کے ایک دم سے سوال دغنے پر نانو ایک دم خاموش ہوگئی ۔
"بتائیں کیا آپ کو لگتا ہے میں اب بھی جنزادہ ہوں ؟”
وہ ایک بار پھر دہرا کر ان سے پوچھ رہا تھا ۔نانو اسے دیکھتی رہی پھر انھوں نے نفی میں سر ہلایا ۔فائیق نے حیرت سے دیکھا وہ اب بھی توقع کررہا تھا کہ ان کا جواب انکار میں ہوگا ۔ بے اختیار اس نے گاڑی روک دی تھی ۔
"مجھے اسی دن سے معلوم ہوگیا تھا فائیق جب شفق کے شادی ہم نے ریحان سے کروائی تھی ۔ اس دن اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی اتنی کے مجھے لگا وہ مرنے لگی ہے ۔ میں نے ہما کے نانا کو بھی نہیں بتایا تھا اس کی حالت کا کیونکہ وہ ریحان کے ساتھ نیچے بیٹھے ناشتہ کررہے تھے ۔ اگر ریحان کو پتا چل جاتا کہ شفق پہ کوئی جن حاوی یا کسی اور قسم کے اثرات ہیں تو اس نے اس دن ہی بھاگ جانا تھا اور پھر ہماری بیٹی کی الگ بدنامی !!! میں اسی بابا کے پاس جانا چاہتی تھی جن کے پاس میں شفق کو لے کر گئی تھی مگر ان کا کوئی آتا پتا نہیں تھا مجبوراً میں نے میری دوست کی بیٹی کو بلایا جو ڈاکڑ تھی اور اس کے آنے سے پہلے میں نے کسی بہانے سے ریحان اور ہما کے نانا کو بھیج دیا کہ ریحان کو گھما بھی لیں اور شام کے کھانے کے لئے کچھ چیزیں لے آئے۔ ڈاکڑ آئی اور اس نے مجھے جو بات بتائی اس نے میرے پیروں تلے زمین نکال دی ۔ شفق اُمید سے تھی پہلے تو میں حیران ہوئی اتنی جلدی اس کے بعد جب مجھے معلوم ہوا اس کے حمل کو ایک ماہ ہوگیا ہے تو بس ایسا لگا سارا جسم ہی مفلوج ہوگیا تو شفق جو کہہ رہی تھی وہ سچ تھا لیکن میں اس بات کو مانا نہیں چاہتی تھی ۔
"بیٹا ضرور تمھیں غلط فہمی ہوئی ہوگی ، ایسی حالت تو حمل کے مرحلے میں تو نہیں ہوتی ۔”
"آنٹی ایک بات کہوں بہت سی چیزیں شفق کے ساتھ ہورہی ہیں دھیان سے سُنیے گا ۔ پہلی اس کا ایک مہینے ہوا مگر میرے حساب سے یہ ایک مہینہ بھی نہیں لگ رہا ۔ اس سے بھی کچھ زیادہ ہی ہے ۔ دوسرا یہ کچھ کھا بھی نہیں رہی ۔”
"ہاں پانچ دن سے سوائے پانی کے اس نے اپنے اندر کچھ بھی نہیں ڈالا ۔”
"آپ اتنی اریسپونسپل کیسے ہوسکتی ہیں ۔ ابھی تو شفق کی چلنے کی کیا اُٹھنے کی بھی ہمت نہیں ہے ۔ مجھے ڈر ہے یہ بے بی آگئے مزید کیری نہیں کرسکے گی ۔”ڈاکڑ کی پریشان بات پر نانو چونک اُٹھی ۔
"کیا مطلب ہے آپ کا ۔”
"اب یہ مکمل چیک آپ سے کچھ کہہ سکو گی لیکن شفق کے حالت عام پریگنیٹ عورتوں سے خاصی مختلف ہے ۔ پہلا ایسا کیس دیکھا میں نے ۔”
اِدھر سے میں جان گئی یہ بچہ تمھارا ہی ہے لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ آیا تم انسان ہو یا جن ہو ۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوگیا ہے جس کا میں کفارہ بھی نہیں ادا کرسکتی ۔ شفق کے زندگی اور اس بچے سے جان چڑھانے کے لئے میں نے ہما کا ضائع کروانے کا بھی سوچ لیا ۔ ۔۔۔۔”
ان کی آخر میں آواز بھرا گئیں تھیں پھر انھوں نے فائیق کو دیکھا جو خاموشی سے انھیں دیکھ رہا تھا لیکن جو توڑ پھوڑ اس کے اندر ہورہی تھی وہ اچھی طرح جانتا تھا ۔
"ڈاکڑ نے جیسے ہی میری بات سُنی وہ بدک اُٹھی ۔ اس نے میری عمر کا لحاظ کے بغیر مجھے سُنانے لگ گئی ۔ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی ۔ ظاہر ہے قتل تھا اور قتل کا گناہ مجھ جیسی خاتون سے زیادہ بہتر کون نہیں جان سکتا تھا پھر بھی اس دُنیا اس معاشرے کی خاطر میں نے سارے حقائق سے آنکھیں پھیرتے ہوے کہہ دیا تھا ۔ میں مر کیوں نہیں گئی تھی یہ سب کہنے سے پہلے اور اس میں ہما کی قاتل نہیں شفق کی قاتل کہلاتی ویسے کہلوانا کیا ہے میں ہی شفق کی قاتل اس کی ساری خوشیاں چھین کر میں نے اسے بیس سال پہلے ہی مار دیا تھا ۔”
فائیق اب بھی خاموشی سے انھیں سُن رہا تھا ۔
"تم کچھ کہو گئے نہیں ۔۔۔۔۔۔”
وہ مزید آگئے بہت کچھ کہنا یا بتانا چاہتی تھی لیکن فائیق کی خاموشی ان کے لئے خوف کا باعث بنی ۔
جبکہ وہ ان کے چُپ ہونے پر پھر سے کار سٹارٹ کر چکا تھا ۔
اس کے آنکھیں وقت کی چلتی ، بڑھتی سوئی کے ساتھ ۔ احمر ہوتی جارہی تھی ۔ ان میں نمی کا عنصر بھی نمایا تھا ۔نانو نے بھی مزید بات کرنے کی سکت نہیں کی ۔
"ہما اس وقت کہاں ہے ۔”
اس نے بہت دھیرے سے کہا تھا ۔
"گھر پر اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔”
انھوں نے رُک رُک کر آہستگی سے بتایا ۔
"مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب کچھ وقت کے لئے ہما کو نہیں دیکھیے گئی اور نہ ہی ملے گی ۔”
اس کی بات پر انھیں جھٹکا لگا ۔
"یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔”
"اب کچھ عرصے کے لئے میری حراست میں رہے گی اور ہما کے ساتھ پورے مری کے علاقے میں یہ مشہور کیا جائے گا آپ مر گئی ہیں ۔”
اس نے موڑ کاٹتے ہوے اپنے سُنہرے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
"تم مجھے مارنا چاہتے ہو ۔”
وہ بے یقینی سے بولیں ۔
"میں نے یہ کب کہا آپ بالکل محفوظ رہے گی ۔ اس کی بالکل فکر نہ کریں ۔ بس ہما سے کچھ دنوں کے لیے آپ کا دور رہنا لازم ہے ۔”
"ایسا کیوں اب تو سب ٹھیک ہے ۔”
"بظاہر تو سب ٹھیک ہی لگے گا آپ کو ۔۔۔۔۔ مگر میں اس بار ہرگز نہیں چاہتا کہ جو چیز میرے ساتھ ہو وہ میری بیٹی کے ساتھ ہو ۔۔۔۔ کیونکہ شفق سے زیادہ ہما کو عبرت ناک سزا ملے گی ۔”
"ایسا کیوں ہما نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ۔وہ تو اتنی معصوم سی ہے ۔”
"معصوم تو شفق بھی تھی اس نے بھی تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا ۔”
فائیق کی دُکھ بھرے لہجے پر وہ خاموش ہوگئی ۔
"میری بات مان جائے بھروسہ رکھے میں بس اس چھپے ہوے شکاری کو منظر عام پہ لاکر اس کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں اس بدلے کی آگ میں بیس سال سے جل رہا ہوں ۔ آپ میرے یا شفق کی خاطر نہیں اپنے نواسی کی خاطر مان جائے ۔۔۔۔ میں اس پیچھے سے وار کرنے والی ڈائن کو ختم کرنا چاہتا ہوں ۔ جس نے میری شفق میری شفق کے ساتھ ساتھ میری بیٹی کو بھی اپنے باپ سے محروم کیا ۔”
ان کی بات پر طاہرہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
یہ کیا ہوگیا ان سے ۔۔۔۔
"بکواس اپنی بند رکھو ۔”
ریحان نے ایک زور دار تھپڑ تیرہ سالا ہما کو مارا ۔
"یہ جو تم نے توڑا ہے ہما اسے صاف کرو ۔”
اس کے زخمی پیروں کی بھی پروا کیے بغیر وہ حکم صادر کررہے تھے ۔
"جب تک یہ وانی سے معافی نہیں مانگی گی اسے کھانا نہیں ملے گا شفق ۔۔۔۔ اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم اس کا انجام اچھی طرح جانتی ہو ۔”
"ماما آ آنٹی نے مجھے دھکا دیا تھا ۔”
اس کے زخمی چہرے کی بھی پروا کیے بغیر ریحان نے اسے تھپڑ جھاڑ دیا تھا ۔
"وانی پہ الزام لگاتی ہو ، اپنی ماں کو بچانے کے لئے ۔”
سارے واقعات ان کی نظروں کے سامنے آرہے تھے ۔ جو بہت تکلیف دے تھے شفق سے زیادہ واقعی میں ہما ہر چیز سے محروم رہی تھی ۔ ہر قسم کی سزا اس نے جھیلی اور کھبی اُف تک نہیں گیا اور اس تکلیفوں کو جھیلتے ہوے وہ کب بڑی ہوئی انھیں پتا ہی نہیں چلا ۔ فائیق ان کی دلی کیفیت بھانپ گیا تھا لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ہما کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے اگر اسے پتا چلتا تو ایک سیکنڈ نہ لگاتا امریکہ پہنچنے میں اور ریحان کو قبر میں اتارنے میں ۔۔۔۔۔
"جب کسی کا کوئی نہیں ہوتا ، اس کا صرف اللہ ہوتا ہے ۔ اور میری بیٹی کا سہرا صرف اس کا رب ہے ساری چیزیں اس کے حوالے کردے ۔”
زلنین کی کہی ہوئی بات آج فائیق کے لبوں سے نکلی تھی۔ آج وہ زندہ ہی اللہ کے سہارے کی بدولت تھا ۔ورنہ شفق کے دوری کی بعد اس کے اندر باہر سب کچھ ختم ہوگیا تھا ۔
"ک ب تتت ک کے لئے ۔”
ان کی زبان لکنت ہوگئی تھیں ۔ فیصلہ بھی بے حد بھاری تھا ۔ الفاظ تو جیسے گُم ہوگئے تھے ۔
"یہ آپ کو وقت آنے پر بتاوں گا ۔”
"اور میری موت کا کیسے یقین آیا گا ۔۔۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ۔۔۔۔”
"میں بیشک انسان ہوں لیکن میرا پورا خاندان جنات ہیں ۔تو اس کی فکر نہ کرے مجھے خوشی ہوئی کہ زندگی میں ایک احسان تو کیا کاش آپ یہ احسان یہ مہربانی مجھ پر پہلے ہی کر دیتی ۔”
جاری ہے


