مختصر کہانیاں

باطن تحریر فریال خان حصہ دوم آرزو ، نادیہ اور…

???? باطن
???? تحریر فریال خان
حصہ دوم ????

آرزو ، نادیہ اور فاطمہ تینوں شاپنگ پر آئی ہوئی تھیں۔اور اس وقت ایک ریسٹرونٹ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔فاطمہ کو اپنے کزن کی برتھڈے پر جانے کیلئے کچھ شاپنگ کرنی تھی۔اور تینوں کا گھر چند گلیاں چھوڑ کر ہی تھا۔اس لئے فاطمہ آرزو اور نادیہ کو بھی ساتھ لے آئی تھیں۔
"یار نادی ، تم اسامہ سے اتنا تلخ برتاؤ کیوں کرتی ہو؟۔آرزو نے کہا۔
"اور تمہیں اسکا چھچھورپن نظر نہیں آتا!۔نادیہ نے کہا۔
"یار پھر بھی تم کچھ زیادہ ہی تلخ ہوجاتی ہو”۔آرزو نے کہا۔
"یار ویسے یہ اسامہ مجھے بھی اتنا اچھا نہیں لگتا”۔فاطمہ نے کہا۔
"بندہ تو جنید ہے ، کتنی ریسپیکٹ کرتا ہے ہم سب کی ، اور خاص طور پر لڑکیوں کی ، سہی سے نظر اٹھا کر دیکھتا بھی نہیں ہے کسی لڑکی کو”۔فاطمہ نے مزید کہا۔
"ہممم! سہی بول رہی ہے یہ ، سچ میں جنید جیسا شریف لڑکا میں نے پہلی بار دیکھا ہے”۔نادیہ نے بھی فاطمہ کی تائید کی۔
"ہممم! خیر چلو اب جاکر کچھ کھانے کیلئے لے کر آؤ میڈیم ، کب سے ہمیں گھوما گھوما کر تھکا دیا ہے”۔آرزو نے فاطمہ سے کہا۔
"ہممم ! ابھی لائی”۔فاطمہ نے کہا۔اور کاؤنٹر کی جانب چلی گئی۔کاؤنٹر پر تھوڑا رش تھا۔فاطمہ اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔کہ تب ہی اسے پیچھے سے دھکا لگا۔فاطمہ نے یکدم پلٹ کر دیکھا۔تو اسکے پیچھے ایک لڑکا کھڑا تھا۔فاطمہ کے گھومنے پر لڑکے نے مسکرا کر "سوری” کہا۔فاطمہ واپس سیدھی ہوگئی۔پھر فاطمہ کو اپنی کمر پر کچھ محسوس ہوا۔وہ پھر پلٹی۔پر لڑکا کہیں اور دیکھ رہا تھا۔فاطمہ تھوڑا آگے ہوکر کھڑی ہوگئی۔اور اب کی بار تو فاطمہ نے باقاعدہ طور پر بہت واضح اپنی کمر پر اسکا ہاتھ محسوس کیا۔اس سے پہلے کے فاطمہ کچھ بولتی۔لڑکے کو کسی نے پکڑ کر اپنی جانب کھنچا اور ایک زوردار تھپڑ مارا۔آس پاس کے سب لوگ یہاں متوجہ ہوگئے۔
"میں کب سے تجھے دیکھ رہی تھی ، شرم نہیں آتی یہ سب کرتے ہوئے”۔آرزو نے کہا۔آرزو نے ہی اس لڑکے کو تھپڑ مارا تھا۔
"کیا ہوگیا میڈیم ! کیا کیا ہے میں نے؟۔لڑکے نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
"ابھی اسکے ساتھ کیا کررہا تھا تو؟۔آرزو نے فاطمہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
"وہ تو غلطی سے انکو ٹچ ہوگیا تھا”۔لڑکے نے کہا۔
"غلطی ایک بار ہوتی ہے ، دوسری بار ارادہ ہوتا ہے ، اور اگر اتنا ہی شوق ہے ناں یہ سب کرنے کا ، تو یہاں پبلک پلیس پر اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے ! تمہارے گھر میں بھی تو ماں بہن ہوں گی ناں ، انکے جسم کی بناؤٹ بھی ایسی ہی ہوگی ، ان کے ساتھ کرلیا کرو ناں یہ سب بے فکر ہوکے”۔آرزو نے کہا۔
"زبان سمبھال ک……!
"چٹاخ”۔لڑکے نے غصے سے بولتے ہوئے آرزو کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا۔پر اس سے پہلے ہی کسی نے پھر بہت زوردار تھپڑ اسے مارا۔اور اسکی بات ادھوری رہ گئی۔
"تمیز نہیں ہے لڑکیوں سے بات کرنے کی؟۔جنید نے کہا۔جنید نے ہی اسے تھپڑ مارا تھا۔ پورا ریسٹرونٹ ہی ان لوگوں کی جانب متوجہ تھا۔اور ان کے آس پاس کافی لوگ جمع ہوگئے تھے۔
"یہ لڑکی میری ماں بہن کو کیوں بیچ میں لارہی ہے؟۔لڑکے نے غصے سے کہا۔
"اور جو تو دن دھاڑے سب کے سامنے کسی کی بہن بیٹی کو بے عزت کررہا ہے اسکے بارے میں کیا خیال ہے تیرا؟۔جنید نے اس لڑکے کا گریبان پکڑتے ہوئے کہا۔لڑکے نے کوئی جواب نہیں دیا۔
"تیرے جیسے لوگوں کو تو پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے”۔جنید نے غصے سے اس لڑکے کا گلا پکڑ لیا۔
"چھوڑو جنید ، صرف اسکو مارنے سے کیا ہوگا ، اس جیسے ہزاروں لوگ ہمارے معاشرے میں بھرے پڑے ہیں”۔آرزو نے جنید کو پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا۔
"سدھار تو تب آئے گا جب انکی کمینگی کا نشانہ بننے والی لڑکی خود انکو جواب دے”۔آرزو نے کہا۔اتنے میں ریسٹرونٹ کا منیجر بھی کچھ اور لوگ کے ساتھ بیچ میں آگیا۔اور اس لڑکے کو اپنے ساتھ لے گیا۔اور سب لوگوں کو واپس اپنی جگہ پر جانے کا کہا۔اور تھوڑی دیر میں ہی رش چھٹ گیا۔ان لوگوں کا بھی اب کچھ کھانے کا موڈ نہیں رہا تو یہ لوگ بھی باہر آگئے۔جنید بھی ان لوگوں کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
"آپ نے مجھے روک لیا آرزو جی ، ورنہ آج تو یہ لڑکا میرے ہاتھوں مرتا”۔جنید نے کہا۔چاروں بس اسٹاپ کی جانب جارہے تھے۔
"اپکا غصہ جائز تھا ، پر میں نے کہا ناں کہ ایسے لوگوں کو انہی لڑکیوں کو جواب دینا چاہئے ، جو انکی اس طرح کی گری ہوئی حرکتوں کا نشانہ بنتی ہیں”۔آرزو نے کہا۔
"ہاں ، اور سب کے سامنے اپنا تماشا بنالیں ، تا کہ جس کو نہیں بھی پتہ ہوگا کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے ، اسکو بھی پتہ چل جائے ، اور ہم سب کے سامنے شرمندہ ہوجائیں”۔فاطمہ نے کہا۔
"تم کیوں شرمندہ ہوگی ، غلط کام تو وہ کررہا ہے ناں ! اور تم جیسی لڑکیوں کی اسی سوچ کی وجہ سے ایسے لوگوں کو حوصلہ ملتا ہے ، کہ ہم کچھ بھی کرلیں ، لڑکی آگے سے اس لئے کچھ نہیں بولے گی کہ کہیں اسکا تماشا نا بن جائے ، جبکہ یہ غلط ہے ، میں تو کہتی ہوں کہ جہاں کوئی لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہوئے پائے ، وہیں رکھ کے ایک زوردار تھپڑ لگائے”۔آرزو نے کہا۔
"بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آرزو جی”۔جنید نے بھی تائید کی۔
"ویسے ان سب تماشے میں ہم یہ تو پوچھنا بھول ہی گئے کہ آپ یہاں کب آئے تھے ؟۔نادیہ نے پوچھا۔
"وہ میں ایک دوست سے ملنے آیا ہوا تھا، واپس جاہی رہا تھا کہ تب ہی آرزو جی نے اس لڑکے کو تھپڑ مار دیا، اور پھر سب آپکے سامنے ہے”۔جنید نے کہا۔
"اچھا ، چلیں اب ہم چلتے ہیں ، مدد کیلئے شکریہ ، پھر کل کالج میں ملاقات ہوگی”۔آرزو نے کہا۔
"نہیں میں کل کالج نہیں آؤں گا”۔جنید نے کہا۔
"کیوں ؟۔تینوں نے یک زبان پوچھا۔
"وہ دراصل میری خالہ کی طبیعت خراب ہے ، اور وہ حیدرآباد میں رہتی ہیں ، آج مغرب کے بعد میں امی کو لے کر انکے گھر جارہا ہوں ، عیادت کیلئے ، تو پھر کل شام تک ہی واپسی ہوگی”۔جنید نے بتایا۔
"اوہ اچھا ! اللّه پاک انکو صحت دے ، تو پھر پرسوں ملاقات ہوگی کالج میں”۔آرزو نے کہا۔
"جی ان شاء،اللّه، اچھا اب میں چلتا ہوں، اللّه حافظ”۔جنید نے کہا۔تینوں اپنے راستے چلی گئیں۔اور جنید اپنے راستے۔
*******
"یار نادی تجھے خدا کا واسطہ ، خدا کا واسطہ اب بس کردے ، چپ ہوجا ، صبح سے یہی باتیں کر کرکے پکا دیا ہے تو نے”۔صارم نے نادیہ کے آگے باقاعدہ ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔پورا "Cadena Group” اس وقت کینٹین میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا ہوا تھا۔اور نادیہ اور فاطمہ صبح سے ہی ان لوگوں کو کل والے واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے جنید کی تعریفوں میں لگی ہوئی تھیں۔اور صبح سے ہی ان لوگوں کو یہ بات بار بار بتا کر پکا دیا تھا۔اور اب صارم کی برداشت جواب دے گئی تھی۔
"کیا ہوگیا ، اب جب ایک بندہ تعریف کے قابل ہے تو اسکی تعریف کیوں نا کروں!۔نادیہ نے تنک کر کہا۔
"یار تعریف کرنا الگ بات ہے ، اور ایک ہی بات کرکے پکانا الگ بات ہے”۔صارم نے کہا۔
"ہممم! اور تم لوگ جو جنید کی اتنی تعریفیں کررہے ہو ، کیا پتہ جنید نے اس لڑکے کو نا حق مارا ہو ، سچ میں اس لڑکے کا ہاتھ غلطی سے ٹچ ہوا ہو”۔اسامہ نے اس لڑکے کی حمایت کی۔
"دیکھا ! کیسے اپنی برادری کے لوگوں کی حمایت کررہا ہے”۔عماد نے صارم کے کان میں کہا۔کسی کو بھی اسامہ کی بات پسند نہیں آئی تھی۔
"غلطی ایک بار ہوتی ہے اسامہ ، اور وہ بار بار ایسا کررہا تھا ، ہے ناں فاطمہ!۔آرزو نے کہتے ہوئے آخر میں فاطمہ سے تائید چاہی۔فاطمہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔
"یار تم لوگوں کی باتیں سن سن کر مجھے اتنا افسوس ہورہا ، قسم سے اتنا اچھا ڈرامہ مس کردیا میں نے ، کاش کل میں بھی وہاں ہوتی ، اور جنید کو اس لڑکے کو مارتے ہوئے دیکھتی”۔عظمیٰ نے حسرت سے کہا۔
"اوہ میڈیم اس نے بس ایک تھپڑ مارا تھا ، اور اس طرح کے تماشے بھی بھلا کوئی دیکھنے کی چیز ہوتے ہیں”۔آرزو نے کہا۔
"نیکسٹ پیریڈ کا ٹائم ہوگیا ہے”۔ارمان نے کہا۔اور سب سر ہلاتے ہوئے اٹھ گئے۔
*******
"آرزو ! تمہاری اور ارمان کی لڑائی ہوئی ہے کیا، تم دونوں کھنچے کھنچے سے لگ رہے تھے آج؟۔نادیہ نے پوچھا۔دونوں اس وقت اسٹاپ سے اپنے گھر کی جانب جارہی تھیں۔کیونکہ فاطمہ کو تو اسکے ابو لینے آتے تھے۔
"پتہ نہیں”۔آرزو نے کہا۔
"مطلب ہوئی ہے ، کس بات پر؟۔نادیہ نے کہا۔
"ابے یار کوئی بات نہیں تھی ، بس یہ ارمان کو ہی شوق ہے بات بڑھانے کا”۔آرزو نے کہا۔
"ہاں تو کیا بول دیا اس نے؟۔نادیہ نے پوچھا۔
"کل میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی ، تو اس پر تم سب نے ہی کوممنٹ کیا تھا ، اس میں اسامہ کا بھی کوممنٹ تھا ، تو میں نے جواب میں سب کے کوممنٹ میں لو والا ری ایکٹ کردیا ، تم تو جانتی ہی ہو کہ میں ایسا ہی کرتی ہوں ، بس اس پر رات میں وہ مجھے میسیج کرکے بول رہا تھا کہ میں نے اسامہ کے کوممنٹ پے لو والا ری ایکٹ کیوں کیا؟ بس اسی بات پر ضد بحث ہوگئی”۔آرزو نے بتایا۔اور نادیہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔اور رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
"اب اس میں ہنسنے والی کون سی بات ہے!۔آرزو نے پوچھا۔
"یار یہ بھی کوئی لڑنے والی بات تھی”۔نادیہ نے ہنوز ہنستے ہوئے کہا۔تب تک نادیہ کے گھر کی گلی آچکی تھی۔
"اچھا یار میں چلتی ہوں ، اور تم ایک کام کرو اپنا لو والا ری ایکٹ واپس لے لو ، صلح ہوجائے گی”۔نادیہ نے ہنستے ہوئے مشورہ دیا۔اور اپنے گھر چلی گئی۔آرزو بھی آگے بڑھ گئی۔کیونکہ اس کا گھر بھی اگلی گلی میں ہی تھا۔
*****
وقت گزرتا گیا۔جنید اور اسامہ کو انکا گروپ جوائن کئے ہوئے دو ماہ ہوگئے تھے۔اور اب وہ لوگ پچھلی پڑھائی بھی پوری کرچکے تھے۔سب کچھ ویسے ہی اپنی روٹین پر چل رہا تھا۔اسامہ سے سب ویسے ہی چڑتے تھے۔اور جنید کے گن گاتے تھے۔اور اب تو جنید بھی ارمان وغیرہ کے گھر آنے جانے لگا تھا۔اور ایک دفعہ جنید نے بھی پورے گروپ کو اپنے گھر بلایا تھا۔اور اپنی امی سے بھی ملوایا تھا۔اور سب کو ہی جنید کی امی بھی بہت اچھی لگیں تھیں۔
*******
"آرزو !۔اسامہ نے پکارا۔آرزو رک گئی۔آرزو کلاس کے بعد کینٹین کی جانب جارہی تھی۔جہاں باقی گروپ تھا۔کہ تب ہی اسامہ نے اسے پیچھے سے پکارا۔
"ہاں بولو”۔آرزو نے پوچھا۔
"وہ کل میں کالج نہیں آیا تھا ، تو مجھے نوٹس چاہیے”۔اسامہ نے بتایا۔دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔
"ہاں ضرور ، جاتے ہوئے لے لینا”۔آرزو نے کہا۔
"اوہ تھینکس”۔اسامہ نے کہا۔
"ارے ابھی میں نے نوٹس دیے نہیں ہیں ، جب دوں گی تب بولنا تھینکس”۔آرزو نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"تب دوبارہ بول دونگا”۔اسامہ نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔
"ویسے تم کل رات میں ہی ارمان یا وقار وغیرہ کے گھر جاکر ان سے نوٹس لے سکتے تھے، اب تک تو تم اپنے نوٹس بنا چکے ہوتے”۔آرزو نے کہا۔
"میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ لوگ مجھے اتنا پسند نہیں کرتے”۔اسامہ نے کہا۔
"ارے نہیں ، تم ابھی نئے ہو ناں ، اس لئے ایسا محسوس کررہے ہو ، دیکھنا آہستہ آہستہ کتنی گہری دوسری ہوجائے گی تم سب میں”۔آرزو نے مسکراتے ہوئے کہا۔اسامہ نے بھی مسکرا کر سر ہلادیا۔اور لوگ کینٹین میں آچکے تھے۔اور دونوں کو یوں مسکرا کر باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر ارمان کے ماتھے پر بل پڑگئے تھے۔
********
اگلا پیریڈ شروع ہوچکا تھا۔سب لوگ کلاس میں تھے۔اور بہروز سر بورڈ پر کچھ لکھنے کے ساتھ ساتھ لیکچر بھی دے رہے تھے۔جسے سب جلدی جلدی نوٹ کررہے تھے۔
"ارمان ! بورڈ پر "The” کے برابر میں کیا لکھا ہوا ہے ؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا”۔آرزو نے اپنے برابر میں بیٹھے ارمان سے کہا۔ارمان نے کوئی جواب نہیں دیا۔اور ہنوز اپنی نوٹ بک پر لکھتا رہا۔
"ارمان میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں”۔آرزو نے دوبارہ کہا۔
"ان سے ہی پوچھ لو جن سے آج کل تمہاری کچھ زیادہ ہی دوستیاں چل رہی ہیں”۔ارمان نے ہنوز لکھتے ہوئے ہی سپاٹ لہجے میں کہا۔آرزو ارمان کے اس انداز پر دنگ رہ گئی۔کیونکہ آج سے قبل ارمان نے آرزو سے کبھی اس طرح بات نہیں کی تھی۔
"کس کی بات کررہے ہو تم؟۔آرزو نے ناسمجھی سے پوچھا۔
"اسامہ اور جنید کی”۔ارمان نے آرزو کی جانب دیکھ کر کہا۔
"تم پاگل ہوگئے ہو ارمان”۔آرزو نے حیرت و صدمے سے کہا۔سر کی موجودگی کی وجہ سے دونوں سرگوشیوں میں بات کررہے تھے۔ارمان نے آرزو کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔اور واپس اپنی نوٹ بک پر جھک گیا۔
******
"کلاس میں کیا بکواس کررہے تھے تم؟۔آرزو نے اپنا رجسٹر تقریباً ارمان کے سامنے میز پر پٹختے ہوئے کہا۔ارمان نے ایک نظر سر اٹھا کر آرزو کو دیکھا۔پھر دوبارہ اپنے فون میں مگن ہوگیا۔ارمان اس وقت کینٹین میں بیٹھا ہوا تھا۔اور باقی کا "Cadena Group” لائبریری میں کچھ نوٹس بنا رہا تھا۔ان لوگوں نے ارمان کو بھی ساتھ چلنے کا کہا۔پر وہ سر درد کا بہانہ بنا کر یہاں آگیا۔اور موقع دیکھ کر آرزو بھی یہاں ارمان کے پاس آگئی۔
"میں تم سے بات کررہی ہوں ارمان”۔آرزو نے جواب نا پاکر دوبارہ کہا۔
"تم آج کل ان دونوں سے کچھ زیادہ ہی بات چیت کرنے لگی ہو”۔ارمان نے آرزو کی جانب دیکھ کر کہا۔
"کیا مطلب؟۔آرزو نے ناسمجھی سے پوچھا۔وہ بھی اب کرسی کھینچ کر بیٹھ چکی تھی۔
"مطلب کہ جب سے ان دونوں نے ہمارا گروپ جوائن کیا ہے ، تب سے تمہیں ان لوگوں کے علاوہ کوئی اور نظر ہی نہیں آتا ہے”۔ارمان نے کہا۔
"تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ! ان دونوں کے ساتھ بھی میں ویسے ہی برتاؤ کرتی ہوں جیسے باقی سب کے ساتھ ، اور ان دونوں کے آنے سے قبل وقار ، عماد اور صارم سے بھی میں ایسے ہی بات کرتی تھی ، تب تو تمہیں کوئی مسلہ نہیں تھا”۔آرزو نے کہا۔
"ہاں ، کیونکہ وہ لوگ ہمارے دوست ہیں”۔ارمان نے کہا۔
"ہاں تو وہ دونوں بھی تو ہمارے دوست ہیں”۔آرزو نے کہا۔
"تم سمجھتی کیوں نہیں ہو ، کہ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا”۔ارمان نے کہا۔
"ارمان تم پاگل ہوگئے ہو ، بس الٹی سیدھی باتیں کرتے رہتے ہو ، آخر تم چاہتے کیا ہو؟”۔آرزو نے کہا۔
"میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تم ان دونوں سے دور رہا کرو”۔ارمان نے کہا۔
"کیوں دور رہا کروں؟۔آرزو نے پوچھا۔
"کیونکہ مجھے اچھا نہیں لگتا”۔ارمان نے کہا۔
"واہ! اور تمہیں اچھا کیوں نہیں لگتا؟۔آرزو نے پوچھا۔
"کیونکہ میں……..!۔ارمان بولتے بولتے رک گیا۔
"کیا کیونکہ ! بتاؤ !۔آرزو نے کہا۔
"کیونکہ میں…….
"ارے یار آرزو تم یہاں کیوں آگئی؟۔عظمیٰ نے قریب آتے ہوئے کہا۔پورا گروپ بھی کرسیاں کھینچ کر بیٹھ چکا تھا۔ اور دونوں کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
********
اگلے دن پھر کلاس کے بعد پورا گروپ کینٹین میں جمع تھا۔آرزو اور جنید ابھی تک نہیں آئے تھے۔دونوں کو لائبریری سے کچھ بکس لینی تھیں۔ارمان کینٹین میں بیٹھا ہوا باہر کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔جہاں سے گرونڈ صاف نظر آرہا تھا۔کہ تب ہی جنید اور آرزو باتیں کرتے ہوئے کینٹین کی جانب آتے ہوئے نظر آئے۔سب نے ہی انھیں دیکھ لیا تھا۔اور ارمان کے ماتھے پر حسب معمول بل پڑگئے تھے۔جسے عماد نے نوٹ کرلیا۔
"یار میرا ناں اس وقت شدت سے ایک گانا گنگنانے کا دل چاہ رہا ہے”۔عماد نے کہا۔
"ارشاد ارشاد”۔صارم نے کہا۔
"نہیں ارشاد آج کالج نہیں آیا”۔عماد نے کہا۔
"ارے بھئی سناؤ تم”۔عظمیٰ نے کہا۔
"ہاں تو بات کچھ یوں ہے کہ شاعر نے اپنی محبوبہ کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر عرض کیا کہ…..
"تمہیں کوئی اور دیکھے ، تو جلتا ہے دل”
"بڑی مشکلوں سے پھر ، سمبھلتا ہے دل”
"کیا کیا جتن کرتے ہیں ، تمہیں کیا پتہ”
"یہ دل بےقرار کتنا ، یہ ہم نہیں جانتے”
"مگر جی نہیں سکتے ، تمہارے بنا”
"ہمیں تم سے پیار کتنا ، یہ ہم نہیں جانتے”
"مگر جی نہیں سکتے ، تمہارے بنا”
"ہمیں تم سے پیار”
عماد نے پورے سروں کے ساتھ ارمان کو دیکھتے ہوئے گانا گیا۔آرزو اور جنید بھی ان لوگوں کے قریب آچکے تھے۔اور عماد کو سن چکے تھے۔سب نے ہی عماد کو داد دی۔اور عماد معنی خیزی سے ارمان کو دیکھنے لگا۔
"خریت یہ اچانک یہاں پر پاکستان آئڈیل کیوں شروع ہوگیا!۔جنید نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
"بس ایسے ہی ، سچویشن ہی کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ بے ساختہ یہ گانا یاد آگیا”۔عماد نے کہا۔
"کیا ! اس طرح کی سچویشن یہاں کب ہوئی؟۔نادیہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
"تو رہنے دے بہن، اپنے ننھے سے دماغ پر زور مت ڈال”۔عماد نے کہا۔پھر تھوڑی دیر سب وہاں بیٹھے ہنسی مذاق کرتے رہے۔اور پھر اگلے پیریڈ کا ٹائم ہوتے ہی سب کلاس کی جانب چلے گئے۔
********
کچھ دنوں سے جنید کالج نہیں آرہا تھا۔وقار اور صارم نے جنید کے گھر جاکر معلوم کیا تو پتہ چلا کہ جنید کی طبیعت خراب ہے۔اور وہ مزید کچھ دن کالج نہیں آئے گا۔سب کو ہی افسوس ہوا۔سوائے ارمان کے۔پھر سب نے پلان بنایا کہ کیوں ناں سب مل کر جنید کے گھر چلیں۔اسکی طبیعت پوچھنے۔وہ خوش ہوجائے گا۔پھر اسی تجویز پر عمل کرتے ہوئے۔اگلے دن مغرب کے بعد پورا گروپ جنید کے گھر گیا۔سوائے ارمان کے۔
*******
"تم سب مجھ سے ملنے آئے، مجھے بہت خوشی ہوئی”۔جنید نے کہا۔جنید اپنے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔اور باقی سب اسکے آس پاس ہی کچھ بیڈ پر تو کچھ صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔
"ہممم! اور ہمیں بھی بہت خوشی ہوگی جب تم ٹھیک ہوکر دوبارہ کالج جوائن کروگے”۔صارم نے کہا۔
"ہممم! ان شاءاللّه بہت جلد ، اچھا ارمان نہیں آیا تم لوگوں کے ساتھ!۔جنید نے پوچھا۔
"ہاں وہ بھی آرہا تھا، پر اسکو کچھ کام پڑگیا تو وہ آنہیں سکا ، ارمان کہہ رہا تھا کہ تم سے ملنے آئے گا”۔وقار نے جھوٹ بولا۔کیونکہ ارمان پہلے ہی صاف صاف منع کرچکا تھا کہ وہ جنید سے ملنے نہیں جائے گا۔
"مجھے بہت شرمندگی ہورہی ہے ، تم سب میرے گھر آئے ہوئے ہو ، اور میں تم لوگوں کی مہمان نوازی بھی نہیں کرپارہا”۔جنید نے کہا۔
"ارے کوئی بات نہیں یار ، دوستوں میں بھلا کیسا تکلف”۔صارم نے کہا۔پھر کافی دیر تک وہ لوگ وہاں بیٹھے رہے۔اور قریب نوں بجے تک واپس آگئے۔
*******
آج اتوار تھا۔اور آج آرزو اپنی نیند پوری کرکے آرام سے اٹھی تھی۔آرزو جیسے ہی فریش ہوکر کمرے سے باہر جانے لگی۔تو اسکا فون بجا۔
"ہاں جنید بولو”۔آرزو نے فون کان سے لگا کر کہا۔
"ہاں آرزو ، وہ میں نے تمہیں یہ بتانے کیلئے فون کیا ہے کہ آج پورا گروپ پھر سے میرے گھر جمع ہورہا ہے ، اور تمہیں پتہ ہے کیوں؟۔جنید نے کہا۔
"کیوں ! ابھی دو دن پہلے ہی تو ہم تمہارے گھر آئے تھے”۔آرزو نے تعجب سے کہا۔
"کیونکہ دو دن بعد تمہاری سالگرہ ہے ناں ، اس لئے سب نے تمہیں سرپرائز دینے کا پلان بنایا ہے ، ان لوگوں کا پلان ہے کہ وہ تمہیں اچانک سے فون کریں گے کہ جنید کی طبیعت خراب ہوگئی ہے ، تم جلدی اسکے گھر آؤ ، اور پھر جب تم یہاں پہنچو گی تو تمہیں سرپرائز دیں گے”۔جنید نے بتایا۔
"کیا ! میری سالگرہ تو دو دن بعد ہے ، ابھی سے سرپرائز ، اور وہ بھی ایسا ، ویسے تم مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہو؟۔آرزو نے حیرت سے کہا۔
"ان لوگوں سے بدلہ لینے کیلئے ، کیونکہ ان لوگوں نے مجھے غیروں کی طرح بس صبح عین وقت میں فون کرکے سب بتایا ، اس لئے میں تمہیں یہاں پہلے سے بلا کر ان لوگوں کو سرپرائز دینا چاہتا ہوں”۔جنید نے بتایا۔
"ہاہاہاہا اچھا مقابلہ ، چلو ٹھیک ہے ، میں تھوڑی دیر میں تمہارے گھر آتی ہوں ، اور ان لوگوں کا سرپرائز انہی کو دیتے ہیں”۔آرزو نے ہنستے ہوئے کہا۔اور فون رکھ دیا۔
*******
"ہیلو ارمان!۔صارم نے کہا۔
"ہاں بولو”۔ارمان نے چاۓ پیتے ہوئے کہا۔
"میں نے یہ پوچھنے کیلئے فون کیا ہے کہ تم نے کیا سوچا ہے پھر آج جنید کے گھر جانے کے بارے میں؟۔صارم نے پوچھا۔
"یار میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میں وہاں نہیں جاؤں گا”۔ارمان نے چڑ کر کہا۔
"یار ارمان بری بات ، ایسے کسی کیلئے اپنے دل میں بغض نہیں رکھتے ، آخر تم اتنا چڑتے کیوں ہو جنید سے؟۔صارم نے کہا۔
"بس ایسے ہی ، مجھے لگتا ہے کہ وہ کچھ زیادہ ہی اچھا بننے کی ایکٹنگ کرتا ہے ہم سب کے سامنے، اور مجھے اسکے اس دکھاوے سے سخت چڑ ہوتی ہے”۔ارمان نے کہا۔
"یہ سب تمہارا وہم ہے ، اور اب یہ بیکار کی ضد چھوڑو ، اور اس سے ملو جاکر”۔صارم نے کہا۔
"اچھا جی ، اور کوئی حکم!۔ارمان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"نہیں ، ابھی تو فلحال یہی حکم ہے ، باقی بعد میں اگر کچھ یاد آیا تو بتا دوں گا”۔صارم نے بھی مصنوئی اکڑ سے کہا۔
"ٹھیک ہے”۔ارمان نے کہا۔
"اب چلے جانا ہاں”۔صارم نے پھر تاکید کی۔
"ارے ہاں ہاں”۔ارمان نے کہا۔اور فون رکھ دیا۔
********
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/