مختصر کہانیاں

#تو_ہی_میری_دعا #عنایہ_احمد #قسط_نمبر_01 یہاں …

#تو_ہی_میری_دعا
#عنایہ_احمد
#قسط_نمبر_01

یہاں بیٹھے وہ تین وجود اندر سے مر چکے تھے۔
وہ جیتے جی مر گئے تھے ۔
یہاں بیٹھے لوگوں میں طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہو رہیں تھیں۔
توبہ توبہ ۔کیا دن آگئے ہیں ۔ایسی نافرمان اولاد ۔ایسی تربیت کی تھی۔
تو کوئی کہتا۔
"ایسی اولاد تو پیدا ہوتے ہی مر جاتی۔”
کوئی کہتا ۔
"اب دوسری بہن کا کیا ہو گا۔”
"یہ بھی اس پہ ہی جائے گی۔ناک ہی کٹوا دی ہماری تو پورے خاندان میں۔بھائی اگر میرا بیٹا اتنا ہی ناپسند تھا پہلے ہی بتا دیتی "اسکی تائی بولی۔
وہ وجود ساکن تھا بلکل ۔ایسے الزامات پہ دل تو کیا کہ روح چیخ پڑے۔مگر وہ نہیں کر سکتی تھی۔وہ رسوا ہو گئی تھی بنا کسی گناہ کے۔
لوگ بھی عجیب ہیں کسی کے گناہ کی سزا کسی اور کے حصے میں ڈال دیتے ہیں۔اور اسے بھی بے راہ راوی کے سر ٹیفکیٹ سے نواز دیتے ہیں ۔
سرمد صاحب تو ہلنے کے قابل نہ تھے ۔انکی بیگم کا بھی حال اس سے کچھ کم نہ تھا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
احمر ولا میں چار فیملیوں رہتی تھیں ۔ایک بہن تھی تانیہانکے والد انتقال کر چکے تھے ۔تانیہ اپنے باپ کی پہلی شادی سے تھی یوں انکی دوسری بیوی کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ۔تانیہ کے والد کو سب نظر آگیا تھا ۔سو انہوں نے انکی پڑھائی ختم ہونے سے ایک سال پہلے اسکو اپنے دوست کے بیٹے سے بیاہ دیا ۔جو ایک قابل انسان تھا ۔یوں تانیہ کی سوتیلی والدہ اور رانیہ کی دادی کو رانیہ کی پھوپھی سے خار تھی اور یہ اپنے چاروں بیٹوں میں بھی منتقل کی گئ جو انکی عمر کے ساتھ پروان چڑھی ۔جب صلحہ بیاہ کے آئی تھی اسنے محسوس کیا تھا ایک اکلوتی نند ہے اسکی وہ بھی شادی کی رسومات میں بڑھ چڑھ کے حصہ نہیں لے رہی مگر وہ خاموش رہی ۔دھیرے دھیرے اسے سب پتہ چلتا گیا ۔مگر افسوس کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی بس اتنا ہوا تھا کہ صلحہ نے اس سے اچھے تعلقات قائم کر لیے تھے اور اب مہینے میں ایک آدھ بار چکر لگ جاتا تھا ۔طاہر اسے روک ٹوک نہ کرتے تھے ایک دو بار اسکے کہنے پہ خود بھی گئے تھے ۔یوں ان دونوں میں دوستی ہوئی اور تانیہ کا کچھ میل ملاپ اپنے میکے سے بنا رہا ۔یہ سب صلحہ کی ساس کو گوارہ نہیں ہوتا تھا ۔
۔ان میں سے ایک فیملی طاہر صاحب کی تھی انکی صرف دو بیٹیاں ہی تھی۔ زمر اور رانیہ۔
رانیہ جاب کرتی اپنے بابا کے ساتھ آفس میں ۔آفس میں انکا ہاتھ بٹاتی تھی۔اسکی کوشش تھی کہ اسکے بابا کو بیٹے کی کمی محسوس نہ ہو۔زمر کی وجہ سے اسکی تائیوں کا رویہ برداشت کرنا پڑتا تھا ۔مگر اسکے سامنے کسی کے بولنے کی جرات نہ تھی۔وہ کسی کی بات برداشت نہ کرتی تھی ۔از حد با اعتماد ۔سلیقہ مند تھی ۔اور بڑوں کی از حد عزت کرتے تھی۔
دوسری بلکل الٹ تھی۔
دونوں پڑھ چکی تھی۔اس دوران بڑی زمر کو یونی میں کوئی لڑکا پسند آ گیا تھا ۔لیکن طاہر صاحب کو ہرگز یہ بات گوارہ نہ تھی۔اسلئے زمر نے دوسری راہ نکال لی تھی جو اسکے خاندان کی عزت کے لیے سراسر نقصان کی راہ تھی۔مگر اسکو اپنے آگے پرواہ کس کی تھی۔
اور آج وہ یہ حد پار کر گئی تھی۔اور پچھلے لوگوں کو زندہ مار گی۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
تائی کے بیٹے کے ساتھ زمر کا رشتہ طے پایا تھا وہ بھی دادی اور بیٹے کےزور پہ کیونکہ ایسے زمر کا حصے انکے بیٹے کو ملے گا ۔وہ عمر میں ان سا بڑا تھا ۔
فہد کی ماں کو تو زمر ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔وہ مجبور تھیں۔اپنے شوہر اور ساس کے ہاتھوں۔
رانیہ اور زمر کے ساتھ فہد بھائی کا رویہ نہایت اچھا تھا وہ ہمیشہ ان کو اپنی بہنیں سمجھتے تھے مگر اب وہ دونوں مجبور تھے ۔مگر زمر کے دماغ میں کچھ چل رہا تھا ۔جس دن یہ واقعہ ہوا تھا اس سے ایک دن پہلے فہد بھائی دوبئی روانہ ہوئے تھے اپنی جاب پہ ۔سو اب رانیہ کی فیور کے کیے وہاں کوئی بھی نہ تھا ۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
"توبہ توبہ کسیی لڑکی تھی۔مجھے تو پہلی ہی شک تھا۔”بڑی تائی کی طرف سے فتوحہ آیا تھا۔
اس وقت حال میں بیٹھے نفوس میں اسکے تین تایا تھی اور انکی بیگمات تھیں ۔اسکے بابا ،ماما۔اور دادی تھی۔
اور ایک پھوپھو تھی جو اچانک ملنے آئیں تھیں مگر انکو اس قیامت کا نہ پتہ تھا ۔
تھی تو وہ خاندان کا حصہ مگر
"دیکھو بہن اپنی دوسری بیٹی کو بھی چلتا کروں ۔ہماری اولاد پہ کوئی برا اثر پڑے ہمیں یہ برداشت نہیں ۔”منجھلے تائی بولیں تھیں ۔مرد حضرات تو خاموش بیٹھے تھے۔
"لیکن ۔اماں آپ ہی بتائیں اس کا کیا قصور ہے۔اسکو کیوں سزا ملے ۔”اس دوران پہلی مرتبہ انہوں نے لب کھولے تھے۔وہ اپنی بچی کے ساتھ زیادتی برداشت نہ کر سکتے تھے۔صلحہ تڑپ اٹھی تھی۔طاہر صاحب تو خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے۔
"بس بہو۔بہت ہو چکی تمہاری ۔میں تمہیں کہا تھا کہ انکو بے جا آزادی مت دو۔”اسکی ساس بھی گرجی تھی۔
"سعدیہ تم اپنے بھائی کو کال کرو کہ اگر وہ راضی ہے تو اس لڑکی کو شام تک بیاہ کر لے جائے ۔میں اب مزید اسکی بیٹیوں کو برداشت نہیں کر سکتی۔”صلحہ تو تڑپ پڑی تھی۔دو بچوں کا باپ تھا اسکی بیوی فوت ہو چکی تھی۔وہ عیاش آدمی تھا۔
"بس بھابھی ۔بھلائی ایسی میں ہی ہے ہم سب کی۔”بڑی تایا ابا بولے تھے۔
"نہیں اماں میری معصوم بچی کو سزا مت دیں۔طاہر بولے آپ ہی۔”وہ بلک رہی تھی رحم کی اپیل کر رہی تھی۔
"ہونہہ معصوم بچی زمر بھی معصوم ہی تھی۔”تائی طنزاً بولی تھی۔
"تانیہ دیکھوں ناں ۔انکو بتائیں میری بچی کا کوئی قصور نئیں ۔آپ انکو سمجھائیں ناں۔وہ دو بچون کا باپ ہے۔”وہ بے بس مدد کے لئے ہر کسی کے سامنے جھک رہی تھی۔تانیہ بھی اس انکشاف پہ حیران تھی کوئی کسے کسی بے قصور کے ساتھ زیادتی کر سکتا ہے۔
"ہاں تو اور کون کرے کا شادی تمہاری بچی سے۔شکر کر اگر وہ بھی مان جائے ۔”سعدیہ نے ہنکارا بھرا۔
"میں تو اپنے بیٹوں کی کبھی بھی نہ کروں بہن ۔ساری عمر یوں ہی بیٹھی رہے گی۔سب لوگ کہیں گے بہن تو اسکی ہی تھی اثر تو ہو گا سنگت کا۔”منجھلے بھی بولیں تھیں ۔البتہ سب سے چھوٹی خاموش تھی کیونکہ انکے بچے ابھی چھوٹے تھے۔طاہر نے کچھ پسند کی شادی کی تھی ۔اور اوپر سے بیٹیاں ہی پیدا ہوئیں تو ساس نے خوامخواہ ہی ان کی ساتھ بیر باندھ لیا تھا۔باقی سب کے بیٹے بھی تھے ۔
عجیب تضاد ہے معاشرے میں ۔عورت ہی عورت کو سمجھ نہیں پاتی اور دشمنی گانٹھ لیتی ہے۔حالانکہ وہ بھی تو اسی جنس سے تعلق رکھتی ہے۔
"پھر کون کرے گا شادی ۔اتنا واویلا نہ کرو۔”وہ پھر طنزاً بولی۔
"بس کریں آپ سب لوگ ۔کیوں کسی معصوم کو آپ بالی چڑھا رہی ہیں۔”تانیہ نے بھی لب کھولے ۔
"لوں بھلا اور سن لوں ۔بہن ہم اسے اپنے گھر نہیں برداشت کر سکتے اور۔کون کرے گا اس سے شادی اب ۔اسکے بہن نے تو کچھ سوچا نہ۔”سعدیہ سفاکی کی حد پہ تھی۔
"میں بناؤں گی اسے اپنی بیٹی۔میرا بیٹا کرے گا۔مجھے شام تک کا ٹائم دیں۔”تانیہ کے لہجے میں چٹانوں کی سختی تھی۔
"ٹھیک ہے آج شام تک کا آپ کے پاس ٹائم ہے۔ورنہ ۔۔۔”وہ اٹھیں اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔پیچھے ہی بہوؤیں اور بیٹے بھی چلے گئے ۔
اس کے دوران وہ ایسے بیٹھی تھی کہ یہ کسی اور کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا ہو۔کچھ دیر پہلے وہ کتنی بہادر اور پراعتماد رانیہ تھی ۔جو کسی کی بھی بات نہ خود پہ آنے دیتی تھی ۔
لیکن ابھی وہ اپنا مردہ وجود لیے بیٹھی تھی۔وہ بولنا چاہتی تھی لیکن اس سے اب یہ حق بھی چیھن لیا گیا تھا اور رہی سہی کسر اسکے بابا کی خاموشی نے ختم کر دی تھی۔
اسے آج احساس ہوا تھا زندہ لاش کسی کہتے ہیں ۔اسے نہیں تھا پتہ آگے کیا ہونے والا ہے اس کے ساتھ ۔
صلحہ تانیہ کے سامنے شکر گزاری سے جھکے جا رہی تھی۔طاہر صاحب البتہ جوں کے توں بیٹھے تھے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
چاروں اس وقت کمرے میں بیٹھے تھے۔ایس ۔پی ابان کے چہرے پہ چٹانوں کی سی سختی تھی۔
تانیہ نے اسکو فوراً گھر بلایا تھا اور ساتھ افراز کو بھی جو اسکا بیسٹ بڈی تھا۔
"ماما آخر یہ کیسے ممکن ہے۔میں یہ نہیں کر سکتا۔اپنی پاور استعمال کر کے میں ان لوگوں کو اس کام سے روک سکتا ہوں۔”وہ غصے سے بولا تھا۔
بیٹا سمجھنے کی کوشش کروں وہ ممانی ہے تمہاری ۔وہ مشکل میں ہیں ۔بیٹا اب یہ ہی واحد امید ہے۔”تانیہ بولی تھیں انکے سامنے صلحہ کی پرامید نظریں گھومے تھی جب وہ انکو چھوڑنے دروازے تک آئیں تھیں۔
ان آنکھوں میں امید ،ڈر،دکھ کیا کیا نہ تھا۔
"مجھے ناامید نا کروں اب تم۔”وہ جذباتی ہو رہی تھی۔
“اب بیٹھے بیٹھائے ممانی آ گئی آپ بھول گئیں وہاں کیا سلوک ہوتا رہا آپ سے۔”وہ تلخ ہوا۔
“بیٹا وہ انکا ظرف تھا۔”حسن صاحب بولے
"دیکھو بیٹا تم تو محافظ ہو ۔تم پھر کیوں یہ سب کچھ کرتے ہچکچا رہے ہو۔کہی ناں کہی تو شادی کرنی ہی ہے۔”اب کے حسن صاحب بولے تھے۔
"لیکن بابا آپ تو سمجھنے کی کوشش کریں یہ سب آسان نہیں ہے۔”وہ بے بسی سے بولا۔
"بیٹا تو محافظ ہے قوم کا تو نے اس کی حفاظت کی قسم کھائی ہے۔اور یہ بھی تو کسی کمزور کے مدد کا ہی تو ایک طریقہ ہے۔باقی تمہاری مرضی۔”حسن صاحب نے اسے اپنے طریقے سے سمجھایا۔
"افراز تم ہی بولوں اسے۔اس شادی تو کرنی ہی ہے تو اب کیا ہرج ہے۔یا پھر کوئی اور پسند ہے تمہیں۔”تانیہ کی آواز میں اب نمی تھی۔
"فارگاڈسیک ماما۔وائے یو ڈونٹ اینڈرسٹینڈ۔میں ابھی اس سب کے لیے تیار نہیں۔”وہ اب کے اونچی آواز میں بولا تھا۔
"اور جو کچھ وہ لوگ آپ کے ساتھ کر چکے ہیں وہ آپ بھول گئی ہیں ۔”وہ بولا
"ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔اب ہم زور زبردستی تو نہیں کر سکتے جوان اولاد ہے تانیہ تم اب زکر کو چھوڑو۔”حسن صاحب بولی تھے تو ساتھ ہی تانیہ بیگم کے رونے کی آواز آئی تھی۔
"حسن میں کیسے انکو منع کروں ۔میرے بھائی کی بیٹی ہے چاہے حالات جو بھی رہیں ہوں ۔مشکل میں ہے اس بچی کی زندگی۔”وہ بولیں۔اور نم آنکھوں سے بیٹے کی طرف دیکھا ۔
"ٹھیک ہے ماما آپ کی جو مرضی آئیں کریں آپ۔لیکن اس سے زیادہ مجھ سے امید مت رکھیں گا ۔کل کو مجھ سے کوئی شکایت مت کیجئے گا۔”وہ کہتے کمرے سے نکل گیا تھا۔
"میں دیکھتا ہوں آپ لوگ تیاری کریں ۔”افراز انکو تسلی دیتا باہر نکل گیا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وہ اپنی کمرے میں

جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/