یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 28 امریحہ رکی اور شرا…

قسط نمبر 28
امریحہ رکی اور شرارے اگلتی آنکھوں سے کارل کو دیکھا ۔۔۔
کارل بھی روک گیا بہت مزے سے امریحہ کو دیکھنے لگا پھر اپنی ناک پر انگلی رکھ لی۔ ۔۔۔۔۔تم ایکس مین سیریز میں کام کرتی رہی ہو یہ دیکھو ۔۔۔۔۔میری خال جل کر پھٹ رہی ہے امریحہ نے کانوں میں ایر فون لگی اور میوزک تیز کر دیا
کر دیا۔ کارل کا قہقہہ اس کی پشت پر دیر تک فضا میں منتشر رہا۔
بس میں بیٹھ کر ایسے دانت پر دانت جمائے جیسے ان دانتوں تلے کارل کی گردن ہو۔۔۔ آ۔۔۔خ تھو۔۔۔ کیا سوچ رہی تھی وہ۔۔۔
کاش میں بھی کارل جیسی ہوتی یا ویرا جیسی، پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی۔۔۔ دو بدو جنگ ہوتی۔
الله جی میرے ذہن میں کوئی ترکیب ڈال دیں کہ اس کارل، فال، شال، کو ہی سب عطا کیا ہوا ہے۔
کارل عالیان سے متعلق دھمکی دے کر تقریباً غائب ہی ہو گیا تھا۔ شاید وہ عالیان کو ڈھونڈتا رہا تھا اور جب عالیان واپس آگیا تو دوبارہ امرحہ سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوا تھا۔۔۔ اپنی عادت سے مجبور ہوکر وہ اسے لائبریری میں چھیڑ بیٹھا اور امرحہ نے پھر سے جیسے اسے اپنے پیچھے لگوالیا۔
ویسے بھی اسکے بارے میں مشہور تھا کہ الٹے کام کیے بنا اسے نیند نہیں آیا کرتی تھی۔۔۔ نہ ہی کھانا کھایا جاتا تھا اس سے۔۔۔ اسکے انسانی ڈھانچے میں سپر اسپرنگ فکس تھے جو اسے کسی پل چین سے رہنے نہ دیتے۔ یہ اسپرنگ اتنے کارآمد تھے کہ دس قدم انسانوں کی طرح چلنے کے بعد وہ گیارہویں قدم پر چھلانگ یا چھلانگ نم چال ضرور اپنا لیتا۔
آتے جاتے اسٹوڈنٹس کے ہاتھوں سے کھانے پینے کی چیزیں اچک لینا تو اسکے بائیں کاتھ کی چھوٹی انگلی کا کام تھا۔۔۔۔ یعنی دو ہاتھوں سے برگر پکڑے، منہ کھولے کھانے والا ایک بڑی سی مزےدار سی بائیٹ لینے کے چکروں میں ہے کہ برگر ہی نہیں رہا۔۔۔ عی۔ی شائقین برگر شکار کیطرف ہنس کر دیکھتے ہیں اور اشارے سے بتاتے ہیں۔۔۔
کارل۔۔۔
اب برگر شکار کارل کو بمشکل ڈھونڈتا اسکے پاس جاتا ہے اور اسے شرم دلاتا ہے، تو الٹا کارل اسے انتظامیہ کے پاس جانے کی دھمکی دیتا ہے کہ آخر ایک بزنس اسٹوڈنٹس پر ایسا گھٹیا الزام کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ آخر کیسے۔۔۔
رات کو ویرا آئی اپنی ہنسی دباتی۔
یہ کیا ہے۔۔۔؟ اس نے آئی فون اسکے آگے کیا، وہاں اسکی اسٹاپ پر ننگے پاؤں کھڑی تصویر تھی اور ٹائٹل تھا۔۔۔
مانچسٹر میں سو سالہ سردی کا ریکارڈ ٹوٹنے پر دور جدید کی نیلسن منڈیلا کا احتجاج۔
ویرا کارپٹ پر پیٹ پکڑے کسی افغان بلی کی طرح ہنسی کی زیادتی کیوجہ سے اس سے بات بھی نہیں کی جا رہی تھی۔ تھپڑ کھانے کے بعد آج وہ اسکے کمرے میں آئی تھی اور ایسے لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔۔۔ امرحہ،ویرا کو دیکھ رہی تھی۔
شاید واقعی آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔
امرحہ فون ہاتھ میں لیکر بیٹھ گئی اور بس بیٹھی ہی رہ گئی۔ کارل نے آدھی یونیورسٹی کو کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں اسکی تصویر پر ٹیگ کر دیا تھا۔ امرحہ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آدھی یونی کے کمنٹس اس نادر و نایاب تصویر کے نیچے پڑھتی۔ اپنی ایسی مضحکہ خیز تصویر دیکھ کر ہی اسکی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئی تھیں اسے رونا بھی آ رہا تھا اور ویرا کو دیکھ دیکھ کر ہنسی بھی۔۔۔
ویرا پاگل ہوۓ جارہی تھی۔۔۔ وی زندگی سے بھرپور غبارے چھوڑ اور پھوڑ رہی تھی۔۔۔ چینی پریڈ کے بعد سے امرحہ مسکرا نہیں سکی تھی۔۔۔۔ اسے یقین تھا اب وہ تاعمر نہیں ہنس سکے گی۔ لیک ویرا کی ہنسی جیسے اسے اشارے دے رہی تھی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا پیاری۔۔۔ ایک نہ ایک دن سب ٹھیک ہوہی جاتا ہے۔۔۔
تم جانتی ہو مانچسٹر نے تمہیں کیا تحفہ دیا ہے۔
اپنی ہنسی کی چھکڑ ریل کو بمشکل روک کر ویرا بول پائی۔
"کارل۔۔۔
تمہیں کارل سے نوازا گیا ہے۔
خوش قسمت ہو تم۔”
کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا نے امرحہ کو اپنی موجودگی کا احساس .اب ….ہاں اب…..اسے یہ ہوا نرم لگی……سرگوشیاں کرتی…… اسکے دل کو تھوڑا قرار سا آیا… .سکون کی ایک لہرا اٹھی.
"مانچسٹر یونی میں تعلیمی دورانیہ سے متعلق جو ڈائریز ہم لکھ رہے ہیں نا امرحہ؟وہ سب ایک طرف ہوں گی’ لیکن جو یادیں تمہاری اسٹوڈنٹ ڈائری میں رقم ہوں گی نا نوبل انعام وننگ ہوں گی.تم اپنے پوتے ‘پوتیوں کو ہنسا ہنسا کر مار ڈالو گی.ہر طرح کی یادوں سے مالا مال ہو چکی ہو……کتنی خوش قسمت ہو نا تم…….. مقناطیس کی طرح تم اپنی طرف کھینچتی ہو کہ آو ………مجھے ستاو. ….رلاو. ”
ہنستے ہنستے ویرا کو پھندا لگ گیا تو امرحہ نے جھک کر اسکی کمر میں زوردار گھونسا مارا……ویرا منہ کھول کر حیرت سے اس دیکھنے لگی کہ کیوں مارا.وہ بھی اتنی زور سے ….. .
"کچھ تمہاری ڈائری میں بھی لکھا جانا چاھیےتھا.میں تمہارے پوتے ‘ پوتیوں کو بور ہوتے نہیں دیکھ سکتی.”امرحہ نے معصومیت سے کہا.ویرا نے اسکی بال مٹھیوں میں بھر لیے اور اسکے سر کو جھٹکے دینے لگی.یہی کام امرحہ نے کیا.
دونوں کارپٹ پر لوٹ پوٹ گتھم گتھا ہو گئیں .
"میرے پوتے’ پوتیوں بور نہیں ہوں گے.میں انہیں تمہارے قصے سنا سنا کر ہنسا ہنسا کر خوش گفتار گرینڈ مدر ہونے کا خطاب حاصل کر لوں گی.وہ ہر وقت میرے ساتھ ہی چپکے رہیں گے کہ گرینڈ ماں پلیز اس امرحہ دی لاسٹ ڈک کی باتیں سنائیں نا.”
"میں بھی تمہارے قصے سنایا کروں گی.Ball Gingerفکر نہ کرو.”
************************
"مانچسٹر کے راج ہنس!تم نے مسکراتا کم کردیا ہے یا کفایت کر رہی ہو؟”دادا پوچھ رہے تھے .بہت بار پوچھ چکے تھے
"تھک جاتی ہوں نا …….مشکل ہے زندگی؟”
"مشکل تو ہے.”وہ دادا کو نہ بتا سکی کہ کیا مشکل ہے.
"اگر مجھے نہیں بتاسکتیں تو سائی ہے نا.”
"آپ سائی سے پہلے ہیں میرے لیے دادا.”
"پھر بھی …..کچھ رشتے کتنے ہی قریبی ہوں ‘ان سے سب نہیں کہا جا سکتا.”
دادا ٹھیک کہہ رہے تھے.عالیان کی بات کو لے کر وہ سائی کے پاس ہی گئی تھی.دادا سے وہ سب کہنا چاہتی تھی پر کہہ نہ سکی.
"تمہاری ماں اور دادی دانیہ کی شادی کرنا چاہتے ہیں’لیکن تمہارے ماموں نہیں مان رہے’کہتے ہیں کہ شادی دھوم دھام سے کرنی ہے’ابھی تم لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں.”
"یہ کیا بات کی انہوں نے دادا؟”
"یہی تو میں نے کہا تمہاری ماں سے کہ پوچھو اپنے بھائی سے ‘ہم کیا بھوکے مر رہے ہیں.آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو رہا ہے.واجد کی دکاں ٹھیک ہو رہی ہے.منافع آنے لگا ہے.وہ تمہارے دیے قرض کو جمع کر رہا ہے .خاندان کی ایک تقریب میں اسنے کسی سے کہہ دیا تھا کہ وہ شادی میں فضول خرچی نہیں کرے گا.تمہارے ماموں کو اس بات کی خبر ہو گئی.”
"بابا کیا کہتے ہیں دادا؟”
"واجد کا کہنا ہے کہ اسکے پاس ضائع کرنے کے لیے فضول پیسے ہیں ہی نہیں’پہلے کی بات اور تھی’اب جو کچھ جمع تھا ‘وہ سب دکان میں لگ گیا.واجد نے برا وقت دیکھا ہے .کسی نے اس برے وقت میں اسکا ساتھ نہیں دیا.خاندان میں کسی نے بھی قرض کے نام پر چند ہزار بھی نہ دیئے.واجد بہت بد دل سا ہو گیا ہے سب سے.مشکل ہے یہ منگنی رہے .واجد نے تو دانیہ سے یہ تک کہہ دیا ہے کہ وہ پڑھنے کیلیے تمہارے پاس چلی جائے.ہوتی رہے گی شادی سال دوسال میں …..امرحہ’واجد کہہ رہا تھا کہ اسکا وہی سکہ اسکے کام آیا’جسے اسنے اور خاندان والوں نے کھوٹا سمجھ لیا تھا۔بہت یاد کرتا ہے تمہیں۔بار بار میرے پاس آتا ہے۔کہتا ہے تمہارےساتھ بہت زیاتی ہوتی رہی۔“امرحہ کی آنکھیں نم ہوگئیں….”تو بابا کو احساس ہو گیا ….وانیہ کیا کہتی ہے۔“
”صاف کہہ دیا ہےاس نے مر جاؤں گئی کسی دوسرے ملک نہیں جاؤں گی۔وہاں پڑھو بھی کام بھی کرو ،کیا ضرورت ہے اتنے وبال پالنے کی ،مجھے کون سا منسٹر بننا ہے کسی ملک کا ۔“یا فون پر لگی رہتی ہےیا سوتی رہتی ہے اتنی آرام دہ زندگی چھوڑنے کی اسے کیا ضرورت ہے بھلا۔“ آرام دہ زندگی تو امرحہ کی تھی ۔زندگی کی روح کام ہے….صرف کام….چلتے رہنا…..حرکت میں رہنا…..علم کےکام میں مصروف….عمل کےکام میں مصروف….اتنی سی زندگی میں انسان کے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہےکہ ضائع کرتا پھرے…سو کر….رو کر یا موج مستی میں۔
یہ زندگی انسان کو بھلائی کے کام کرنے کے لیے عطا کی گئی ہے۔خیر اکھٹا کرنے کے لیے ،اسے کھیل تماشے کی نظر نہیں کیا جا سکتا۔شفاف ،میٹھا پانی بھی ٹھہر جائے تو بدبو دینے لگتا ہے۔کیچڑ میں بدل جاتا ہے ،انسان کیونکر خود کو ٹھہرا کر برباد کر سکتا ہے۔کائنات کی ہر شے…..ہر شے ہمہ وقت حرکت میں ہے اور تا قیامت رہے گی۔انسان ساکن ہو کر گناہ کبیرہ کا مرتکب کیسےہو سکتا ہے۔یہ تو انسانی رتبے کی منافی ہے۔سراسر منافی ۔
”ہنستی رہا کرو امرحہ !تمہاری خاموشیاں اتنی گہری کیوں ہوتی جا رہی ہیں۔؟“دادا کو ایک بس اس کی ہی فکر تھی۔امرحہ نے دادا کو ہنس کر دیکھا دیا ۔ٹھیک اسی وقت کارل اس کے قریب سے استہزائیہ ہنس کر گزرا….اس کا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو ….ابھی تمہاری یہ ہنسی بھی غائب کرتا ہوں۔مسئلہ ہی کوئی نہیں۔امرحہ کو جیسے آگ لگ گئی۔دادا کو اس نے بائے کہا اور سائی کے پاس آئی جوتے والے قصےکے بعد اس نے لاکھ ذہن لڑایا،لیکن کارل کو مزا چکھانے کی کوئی ایک بھی ترکیب نہیں سوچ سکی۔
”مجھے مشورا دو۔“سائی کو ساری بات سنا کر اس نے مشورا مانگا ۔”تھوڑا بہت بدلہ تو جم سے بھی لیا جا سکتا ہے ۔“سائی ہنسنے لگا ۔
”ہنستے ہوئے تم بلکل میرے دادا جی جیسے لگتے ہو۔“
”کیا تمہارے دادا میرے جیسے جوان ہیں یا میں ان جتنا بوڑھا ہوں۔“
”ہنستے ہوئے تم ان جتنے سادہ اور معصوم لگتے ہو۔“
امرحہ نے ہونٹ سکیڑے۔وہ سائی کے مشورے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔آخر اسے جم کا خیال کیوں نہیں آیا ۔گو اینٹ کا جواب پتھر تو ہر گز نہیں تھا،لیکن اینٹ کا جواب کچھ تو تھا،وہ بھی صرف پانچ پونڈ میں
”مجھے مشورا دو۔“سائی کو ساری بات سنا کر اس نے مشورا مانگا ۔”تھوڑا بہت بدلہ تو جم سے بھی لیا جا سکتا ہے ۔“سائی ہنسنے لگا ۔
”ہنستے ہوئے تم بلکل میرے دادا جی جیسے لگتے ہو۔“
”کیا تمہارے دادا میرے جیسے جوان ہیں یا میں ان جتنا بوڑھا ہوں۔“
”ہنستے ہوئے تم ان جتنے سادہ اور معصوم لگتے ہو۔“
امرحہ نے ہونٹ سکیڑے۔وہ سائی کے مشورے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔آخر اسے جم کا خیال کیوں نہیں آیا ۔گو اینٹ کا جواب پتھر تو ہر گز نہیں تھا،لیکن اینٹ کا جواب کچھ تو تھا،وہ بھی صرف پانچ پونڈ میں ۔
امرحہ جم کے پاس جائے ،پہلےہمیں اس کی تاریخ تک جانا چاہیے۔تو جم کی تاریخ کچھ یوں تھی کہ وہ اکثرکلاس میں اونگھتا ہوا پایا جاتا تھا۔اب پوری یونی میں وہ اکیلا تو نہیں تھا جو یہ کرتا تھا۔کم او بیش یونی کا ایک ایک اسٹوڈنٹ اپنے پورے تعلیمی سال میں چالیس سے پچاس بار اس عظیم سانحے سے ضرور گزرتا۔کچھ اس سانحے سے زیادہ گزارتے….کچھ کم،لیکن فیض یاب سب ہی ہوتے۔کچھ کلاس میں اونگتے پائے جاتے۔کچھ ہر جگہ اور بہت سے کسی بھی جگہ…..مطلب کسی بھی جگہ…..
آپ بس میں بیٹھے ہیں،آنکھ کھلی ۔
”اوہ میں تو بہت آگے آگیا۔“جلدی سے بس بدلی ….بس چلی…..آنکھ پھرسے لگی۔
”اوف میں تو بہت پیچھے آگیا۔پہلا لیکچر گیا۔
جولی کافی لینے گئی ہے۔جولی واپس نہیں آئی ۔جولی کےکافی کے مگ جو بعدازاں ایک ہوش مند رحم دل اسٹوڈنٹ نے صرف اس خیال سے اٹھا لیے ہیں کہ کافی ٹھنڈی ہو کر بےکار ہو جائے گی اور جولی کو سوتے سے اٹھا دینا توبلکل بھی مناسب نہیں ہے۔بے چاری سو تو رہی ہے نا اور سوتے ہوئے کتنی پیاری بھی تو لگ رہی ہے۔خیر جولی کینٹین کاؤنٹر پر سر رکھے اونگھ رہی ہے اور کاؤنٹر مین اس پر پانی کی چھینٹے بھی مار چکا ہے۔لیکن جولی بدستور اونگھ رہی ہے ۔کاؤنٹر کی طرف آتے کسی مہربان نے اس کے کھلے منہ کی تصویر لےکر The tab بھیج دی ہے۔یعنی یونی کے باغوں میں ،درختوں تلے،کلاس کے دوران ،کوریڈور میں،باتھ رومز،واش رومز،بس ،ٹیوب،بازار ،کیفے،ریسٹورینٹ،لائبریری میں تو خاص طور کر اور کینٹین میں تو ضرور ہی…..کون تھا جو منہ کھول کر اونگھتا پایا نہیں جاتا تھا۔ایگزمز کےدنوں میں تو ٹیبل اور کرسیوں کے نیچے بھی،اور تو اورکوڑا دان کی آڑ میں چھپ کر بھی۔جب کوئی اس اونگھ سے محفوظ نہیں تو سزا صرف ایک جم کو ہی کیوں….اور وہ تو تھا ہی دوسری قسم والوں میں سے۔
پہلی قسم آنکھیں بند کرکے قدرتی اونگھ لینے والی…….
دوسری قسم آنکھیں کھول کر خود پر جبر کرکے غیرقدرتی اونگھ لینے والی …..دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو اپنے تعلیمی ریکارڈ کو بہتر بنانے کے لیے اور ایک اچھے اسٹوڈنٹ کا خطاب پانے کے لیے آنکھیں میچ کر نہیں انہیں کھول کر سوتے ہیں….جی ہاں …..ایسا ممکن ہے۔
مارٹن لائبریری سے کتابیں ایشو کروا رہا ہے ۔
”برائے مہربانی ذرا جلدی کریں اور مجھےیہ ایشو کر دیں۔“ہاتھ کو کتابوں پر رکھتے ہوئے۔
”یہ میرا ہاتھ ہے۔“لائبریرین ۔
”اوہ …..میں مذاق کررہا تھا۔“آنکھیں مسل کر ۔
”یہ رہیں میری تین کتابیں …..انہیں ایشو کر دیں۔“
”معذرت کے ساتھ …….یہ لائبریری کی ملکیت ہے….ہم اپنے زیر استعمال کمپیوٹر اور دیگر مشین ایشو نہیں کر سکتے۔آپ کو صرف کتابیں ہی ایشو کی جا سکتی ہیں۔“
”اوہ آپ سمجھے نہیں ،میں آپ کو ہنسانا چاہ رہا تھا۔“مزید سختی سے آنکھیں مسلتے ہوئے۔
”ویل…..تمہارے جیسے دو تین پہلے ہی مجھے بہت ہنسا گئے ہیں۔مجھ میں مزید سکت نہیں رہی ہنسنے کی…..اب یہ کام تم اپنے پروفیسرز اور یونی ڈین کے ساتھ جا کر کرو۔“
”آپ برا مان گئے، میرا مقصد محض تفریح تھا۔“
”میں اس طرف دائیں رخ کھڑا ہوں اور میرے کافی مگ پرسے بھی ہاتھ اٹھا لو…..یہ بھی ایشو نہیں ہو گا۔“
اب جیکب لائبریری آیا ہے ۔
”مجھے میری مطلوبہ کتابیں نہیں مل رہیں۔“
”ملیں گی بھی کیسے…..ہم کینٹین میں کتابیں نہیں رکھتے….ڈین کا آرڈر نہیں ہے نا۔“
زونی کینٹین گئی ہے۔
”ایک وینلا کوک….نہیں….. میرا خیال ہے مجھےکریم کافی لینی چاہیے۔ایک کریم کافی۔“
”ٹھیک ہے کتابوں کی الماری میں ڈھونڈ لو ….دو ونیلا کوک اور کریم کافی میرے لیے بھی۔“
”جانسن اپنے دوست کے کمر میں زوردار گھونسا مار کر کہتا ہے ۔
”تم نے مجھ سے بیس پونڈ لیے تھے،میرے مرنےطکے بعد واپس کرنےکا ارادہ ہے؟“
”نہیں….ایگزمز میں تمہارے پیپر چیک کرنے کے بعد ….“پروفیسر ویلم کی آواز گونجتی ہے….کوریڈور جو پروفیسر کو گھونسا پڑنے پر ساکت سا ہو گیاتھا۔فلک شگاف قہقہوں سے گونج اُٹھتا ہے….اوہ بے چارے جانسن کا اب کیا ہوگا….خدا پوچھے اس نیند سے۔
تو ہمارا جم ان دوسری قسم والوں میں سے تھا…بےچارہ…پروفیسرکا ماننا تھا کہ وہ رات بھر آورہ گردی کرتا ہے اور پھر ان ہی کی کلاس میں ایسے اونگتا ہے ،جیسے ان کا لیکچر س قابل ہی نہیں کہ اسے سنا جائے….یہ تو سراسر بے عزتی ہوئی نا۔جبکہ جم جاب کرتا تھا اور رات گئے تک پڑھتا ،آورہ گردی کا تو اس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔
آہستہ آہستہ جم کی خدمات دوسرے اسٹوڈنٹس نے بھی حاصل کرنی شروع کر دیں تو جم نے کچھ اصول وضع کر لیے——اب جب بھی کام کرنا ہی تھا تو ذرا طریقے سے کر لینا چاھیے تھا نا .
Continued….
51


