مختصر کہانیاں

#دربار_عشق #عائشہ_اقبال #قسط_نمبر_19 وہ کونے …

#دربار_عشق
#عائشہ_اقبال
#قسط_نمبر_19

وہ کونے پہ بیٹھی اپنی بےبسی پہ آنسو بہارہی تھی۔
مغروریت کا لبادہ اوڑھے وہ کس قدر ظالم تھا۔معلوم نہیں سینے میں دل رکھتا بھی تھا یا نہیں
کیوں میں اس یونی میں آئی۔کیوں میراسامنا اس بے رحم سے ہوا۔ اسکے دونوں گال اب تک درد کررہے تھے آنکھیں رورو کے سوجھ گئی تھی۔ساریہ آج نہیں آئی تھی ورنہ وہ کیا جواب دیتی ۔
یا خدا پلیز تو اسے میری زندگی سے دور کردے یا پھر مجھے اسکی نظروں کے سامنے سے غائب کردیں اب میں واپس اسکا سامنا نہیں کرسکتی مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے وہ اللہ کواپنے دل کا حال سنارہی تھی۔
واش روم میں آئینے کے سامنے اپنے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا صبح تک چہرہ کتنا کھلا کھلا تھا اور ابھی کیسا مرجھاسا گیا ہے ۔رگڑ رگڑ کے اپنا منہ دھویا ۔کلاس میں وہ کیسے ایسا منہ لے کے جاتی۔
مین کلاس تو نکل گئ تھی اب اگلی کلاس کے لیے وہ اپنا بیگ اٹھائے جانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔
محرما آپ ٹھیک تو ہے نہ وہ یونی سے نکل رہی تھی جب شاویز ساتھ ہولیا۔وہ نظریں جھکائے جلدی جلدی چلنے لگی۔ شاویز بھی اسکےہم قدم ہونے کے لیےبڑے بڑے قدم لینے لگا۔
یس آئی ایم فائن وہ ادھر اودھر دیکھ کراب روڈ کراس کررہی تھی
آپ کی آئس اتنی ریڈ کیوں ہورہی ہے وہ اسکی طرف دیکھ کر گویا ہوا۔ وہ آنکھوں میں کچھ چلا گیا تھا۔وہ۔بات بدل گئی۔
ٹھیک۔۔۔۔
آپ رکے تو سہی کتنا تیز چلتی ہے ،بھاگ بھاگ کے اسکی سانس پھول گئی تھی۔
اسے دیکھ کر محرما کو بھی اپنے قدم روکنے پڑے۔
سب خیریت تو ہے نہ شاویز نے پھر سے یہی سوال دھرایا۔
ایک کام کریں مجھے پیپر دیں میں آپ کو لکھ کر دیکھاتی ہوں پھر آپ کو یقین آئے گا۔
وہ بس اسٹاپ کے پاس کھڑی اپنی مطلوبہ بس کا انتظار کررہی تھی۔لوگوں کا رش آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا ۔
اچھا اچھا سوری مجھے یقین آگیا اگر برا نہ مانے تو یہاں بیٹھ کر بقیہ گفتگو جارہی کرسکتے ہیں اسنے بس اسٹاپ کے پاس رکھے بینچ کی طرف اشارہ کیا۔
میری بس آںے والی ہے ۔
تو یہی پر ہی رکے گی نہ۔
وہ اپنا بیگ سنبھالتی ہوئی وہاں بیٹھ گئی۔
صبح تو آپ اچھی خاصی تھی ۔۔وہ بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔
آپ نے کب دیکھا مجھے۔
وہ آپ کھڑی کسی اسٹوڈینت سے باتیں کررہی تھی جب، پھر میں آپکی طرف آرہا تھا کہ آپ اچانک غائب ہوگئی کسی کے بتانے پہ میں لائبریری بھی گیا لیکن وہاں بھی موجود نہیں تھی ۔اسکے چہرے کا رنگ متغیر ہونے لگا۔
کس نے بتایا آپکو کہ میں لائبریری میں ہوں وہ منہ نیچے کیے پوچھنے لگی۔معلوم نہیں کوئی اسٹوڈینت ہی ہوگا۔
شاویز کی نظر اس کی انگلی پہ ٹھر گئی۔
آپ نے آج کی پریزشن بھی مس کردی ۔کل تک تو آپ اس پریزیشن کو لے کر اتنی اسائٹڈ تھی۔وہ حیرت زدہ تھا
میری طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی وہ اپنی انگلی میں موجود رنگ کو گول گول گھماتے بولی۔
آئی نو میں نے اپنی قیمتی پریزیشن مس کردی مجھے افسوس ہے وہ ابھی بھی بنا دیکھے جواب دے رہی تھی ۔
اسے ڈر تھا ۔کئی اسکا جھوٹ پکڑا نہیں جائے ۔بس دور سے آتی ہوئی نظر آرہی تھی اسٹاپ پہ لوگوں کا رش بڑھ چکا تھا وہ خدا حافظ کہتے ہوئے فورا کھڑی ہوئ۔
جلدی جلدی میں وہ رنگ اسکی انگلی سے پھسل کر گر گئی ۔
میری رنگ وہ بینچ کے آس پاس دیکھنے لگی جہاں ابھی ابھی رنگ گری تھی۔
کہا گری وہ ڈھوندے لگا ۔بس کچاکچ لوگوں سے بھرنے لگی۔ آپ جائیے ورنہ جگہ نہیں ملے گی میں ڈھونڈ کے کل آپکو لوٹا دونگا ۔
نہیں میں کیسے جاسکتی ہو۔میری آپی نے کتنے پیار سے دی تھی ۔وہ رنگ کو کھوجتے بولی۔مگر رش ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہاں گئی۔
ارے بس چلی جائے گی پھر اتنی دیر تک آپ کو دوسری بس کا انتظار کرنا پڑے گا۔
آپ جائیے۔
وہ اسے بس میں بٹھاکر واپس اسی جگہ آیا
لیکن لوگوں کے رش میں کہاں غائب ہوئی تھی
بینچ کی طرف ،روڈ کے کنارے ،دکانوں کے آس پاس سب جگہ چھان لیا مگر وہ رنگ ناجانے کہاں غائب ہوگئی تھی۔
بس کے جانے کےبعد اسٹاپ کھالی ہوگیا تھا چند راہ گیر رھے جو فٹ پاتھ پہ چل رہے تھے ۔ٹریفک بھی کافی تھی وہ سڑک کراس کرنے لگا۔نظریں آتی جاتی گاڑیوں کے علاوہ سڑک پہ بھی جمی تھی۔ تھوڑے فاصلے پہ عین سڑک کے درمیان کوئی چیز چمک رہی تھی وہ تیزی سے وہاں پہنچا غور سے دیکھا تو مڑی ہوئی انگوٹھی وہاں پڑی تھی۔لوگوں کے پیروں سے لگ کر وہ سڑک پہ آگئی تھی چھوٹی چیز ہونے کی وجہ شاید کوئی گاڑی وغیرہ کچل کے چلی گئی ہوگی۔جس کی وجہ
سے رنگ کا نقشہ بدل چکا تھا۔اسنے رنگ اٹھا کر پوکٹ میں ڈال دی۔
ایسی رنگ پہنے کے قابل ہی نہیں بچی تھی۔
میں رنگ ڈھونڈے بغیر کیسےجاسکتی ہوں میری آپی نےکتنی پیار سے گفٹ کی تھی محرما کی آواز اسکے کانوں میں گونجی۔ وہ ایک شاپنگ مال میں کاونٹر پہ حساب کتاب کا کام کرتا تھا والدین دیہات میں رہائش پذیر تھے۔
دیہات کے اسکول میں اول جماعت سے بارہ جماعت تک پورے دیہات میں وہ ٹاپ آتا رہا تھا۔
اسکی ذہنی صلاحیتوں کو دیکھ کر دیہات کے زمیندارو ں نے اسے شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔تاکہ انکے گاؤں کا نام روشن ہو اور دوسری وجہ چھوٹے کسانوں پہ اپنا رعب ڈبڈبہ ڈالنا بھی تھا
باپ معمولی سا کسان تھا۔
جاگیرداروں کی زمینوں پہ اناج اگانے کی مزدوری کرتا تھا مان مشکل سے اسے قرضے لے لے کر بارہویں تک پڑھایا ورنہ ان کے پاس کل تک کے کھانے کے بھی پیسے نہیں ہوتے تھےبیٹے کو شہر کیسے بھیج سکتے تھے۔
بوڑھے ماں باپ بچارے اپنی اکلوتی اولاد کو خود سے دور کرنے پہ راضی ہوگئے کہ شاید انکی قسمت بدل جائے۔
شہر وہ اکیلا آیا تھا باپ نے قرضہ لے کر اسے کچھ پیسے ساتھ دیے تھے
کتنے دن تک اتنے سے پیسے چلتے یہاں آکر معلوم ہوا کہ مہنگائی آسمان کو چھوڑہی ہے ۔دیہات کی کسان کی سالانہ تنخواہ یہاں پہ مہینے کی آخری تاریخ آنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی ہے۔
پہلی فرصت میں اسنے جاب ڈھونڈھی ۔ کم تنخواہ سے اسے غرض نہیں تھی۔
اسے بس کمانا تھا تاکہ گھر کے رینٹ اور راشن وغیرہ کے لیے اسے کسی سے مانگنا نہیں پڑے۔نئا عزم لے کے وہ شہر آیا تھا جہاں پر اسکی تمام خواہشیں والدین کی تمام حسرتیں پوری ہوسکتی تھی نئے شہر کے راستے بھی انجان تھے ۔لیکن چار پانچ ماہ سے وہ کافی حد تک جان چکا تھا۔
وہ اپنا ایم بی اے اسکولرشپ کے ذریعے کمپلیٹ کرنے شہر آیا ہوا تھا۔۔اسکا بچپن کا دیکھا خواب پورا ہورہا تھا لیکن ڈگری حاصل کرنے کے لیے اسے انتھک محنت کرنی ہوگی
۔۔۔۔۔۔
………
بازاروں کے اتنے چکر لگا کر بھی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔کہ کیا لے اپنی نکاح میں پہننے کےلیے۔
کچھ بھی پہن لو صرف نکاح ہی ہے کونسا تم یہاں سے رخصت ہوکے جارہی ہو ۔مہرام نے اسے چھیڑا۔
آپ پہن لینا نا اپنی نکاح میں یہی والا جوڑا اسنے مہرام کے پہنے ہوئے ہوئے کپڑے کی طرف اشارہ کیا۔
کیوں ،مہرام نے ایک آئی برو اونچی کرکے بڑا سا کیوں کہا۔
بیٹا آج جاکر اسے جوڑا دلاکر ہی آؤ کل نکاح ہے اور ابھی تک اسکی شوپنگ ہی پوری نہیں ہوئی۔مسز عالم کسی کو فون لگانے لگی۔
نو مام ۔۔اسکو شوپنگ کرانا کنویں میں گری ہوئی بھینس کو، نکالنے کے مترادف ہے۔
بیٹا دو دن سے میں ہی اسکے ساتھ جارہی ہوں ۔آج مجھے بہت کام ہے اسلیے تمہیں ہی جانا پڑے گا ۔وہ اٹل لہجے میں بول کے اپنی فون کال پر متوجہ ہوئی ۔
حد ہوگئی ان لیڈیس کے کام بھی مجھے کرنے ہونگے
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شام تک ٹینشن میں تھا
تھا کس طرح اس رنگ کو واپس اصلی حالت میں لایا جاسکتا ہے برابر میں بیٹھی کولیگ کو دیکھائی عورت کو جیولری کے بارے میں زیادہ معلومات ہوتی ہوگی یہ سوچ کر اسے دیکھائی جس پہ اسنے عجیب سی نگاہ شاویز پہ ڈالی۔پینڈو لوگ بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں وہ دل میں کہنے لگی۔
شہر کی لڑکیاں واقعی نک چڑھی ہوتی ہے لیکن محرما نے کبھی اسے دیہاتی ہونے کا طعنہ نہیں دیا باقی لوگ اسے ہمیشہ عجیب نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں جیسے وہ جاہل ہو۔اس میں اسکا کوئی قصور نہیں تھا کہ بڑے شہر میں پیدا ہونے کے بجائے چھوٹے سے گاؤں کے معمولی سے کسان کے گھر پیدا ہوا تھا۔
لوگ اپنی قسمت کو ناجانے اپنا کمال کیوں سمجھ لیتے ہیں ۔
وہ لڑکی کے منہ پھیر لینے پہ
اپنے ہی مال میں وہ رنگ کسی کودیکھائی۔ اگر اسکی مرمت کرکے ٹھیک کی جائے تو۔۔ اسنے کہا۔
سامنے والی نے اسے گھورا رنگ کی مرمت کون کرتاہے پاگل ۔
اب اسے کیا معلوم دیہات میں تو ہر چیز کی مرمت کردی جاتی ہے اماں کی چوڑیا مڑ گئی تھی ۔اسنے دو ہتھوڑے کی ضرب سے منٹوں میں واپس گول بنادی تھی۔
اتنی چھوٹی رنگ کو ہتھوڑا کیسے لگائے۔
وہ رنگ لے کر کسی اور
جیولری شاپ میں داخل ہوا۔
سر اس رنگ کو آپ جاکر پھینک دیں ۔رنگ دیکھانے پر شاپ کیپر نے کہا۔۔کیونکہ یہ اب اپنی اصلی حالت میں نہیں آسکتی اگر آپ کہے تو میں اس کی دوبلیکیٹ رنگ دے سکتا ہوں ۔شاپ کیپر نے مشورہ دیا۔
خوشی سے اسکی اتری ہوئی شکل پہ رونق در آئی۔
آپ کے پاس ایسا ڈیزائن ہے تو دیکھایے نا میں تو پریشان ہوگیا تھا ۔
برابر میں شاپ کیپر ابیرہ کو جیولری سیٹ دیکھا رہا تھا۔
بھائی ادھر آئیے نہ یہ کیسا ہے وہ خود پہ سیٹ رکھ کے بولی۔جو دور کھڑا اپنے فون میں مصروف تھا۔
اچھی ہے وہ سرسری نگاہ ڈالے بولا۔
جانی پہچانی آواز سنتے ہی اسنے تھوڑا سا فاصلے پہ مڑ کر دیکھا۔پہچاننے میں ایک سیکنڈ نہیں لگی اپنے رقیب کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے ۔
یہ یہاں کیا کررہا ہے وہ اب کان لگاکر اسکی اور شاپ کیپر کی باتیں سننے کی کوشش کررہا تھا۔
کتنی قیمت ہے شاویز نے سرسری پوچھا۔
چار ہزار ۔
یہ سن کر اسکی کی ہوائیاں اڑگئی ایسا تو کچھ نہیں ہے اس میں اتنی بڑی رقم سن کر اسکی آنکھیں نکل آئی اتنی رقم میں تو اسکے دو سوٹ اور جوتے کی جوڑی آرام سے آجایا کرتی تھیں۔
سر آپ نے پسند بھی یہ والی کی ہے ۔اگر کہے تو دوسری دیکھادوں شاپ کیپر نے یہ انگوٹھی واپس شو کیس میں رکھتے ہوئے کہا۔۔نہیں
مجھے یہی والی چاہیئے اسکے نازک انگلی میں یہ بہت اچھی لگتی ہے۔مہرام نے شاپ کیپر کے ہاتھ میں انگوٹھی کو غور سے دیکھا۔ٹھیک ہے آپ پیک کردے وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
ایک ماہ تک اسے پیدل چل کر کام پہ آنا جانا ہوگا اور فضول خرچ بھی آج سے بند ۔۔وہ دل میں اب سوچنے لگا۔
مہرام نے طیش سے اسے دیکھا ۔وہ شخص اسے بلکل بھی پسند نہیں تھا جسکی بڑی وجہ محرما کا دوست ہونا ہے۔
وہ اب جاچکا تھا لیکن مہرام کے دل کو بےچین کرگیا تھا۔ اسکا خلوص قابل دید تھا ۔ مہرام کو دال میں کچھ کالا لگاشاید جسم کا کچھ حصہ اس سے جدا کردیا گیا ہو ۔یا پھر محض وہم تھا ۔ شاید کسی اور کے لیے لی ہو پھر اپنی منگیتر وغیرہ کو دینی ہو۔ وہ یہی کھڑے کھڑے اپنے بے قرار دل کو تسلی دینے لگا۔
جس سے دل کو ڈھارس ملی ہو یا نہ ملی ہو اسے کافی سکون ملا تھا ۔لیکن وہ آنے والے کل سے بلکل انجان تھا۔

………۔
آخر کار ابیرہ نے جوڑا منتخب کر ہی لیا۔
اب وہ میچنگ جیولری لینے یہاں آئی تھی۔
مسز عالم نے مہرام کے ہاتھ میں شاپنگ بیگ دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔
شکر ہے مل گیا ۔۔ورنہ ہمیں نکاح ملتوی کرنا پڑتا مہرام نے آدھا فقرہ مکمل کیا۔
اور وجہ صرف یہ ہوتی کہ دلہن کے پاس پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہے ۔مہرام نے اسے چھیڑا ۔
یہ آئیڈیا پہلے کیوں نہیں دیا دنیا کی پہلی ایسی دلہن میں میرانام شمار ہوجاتا۔
یعنی میرا نام گینیس ولڈ رکارڈ میں آجاتا وہ چہکی۔
مام آپ اسکی شادی کررہے ہیں میری مانے تو اسے مینٹل ہسپتال میں داخل کروادیں ورنہ اگلے سال واثق اسکے ساتھ خود کو بھی ایڈمٹ کرادے گا۔
مہرام آنکھیں پھیرتے بولا۔
جس پہ ابیرہ غبارے جتنا منہ پھولا گئی۔
ہہہنہ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
محرما تم کل آرہی ہو۔۔ابیرہ نے کال پہ کہا۔جو اسکے نکاح میں آنے سے انکاری تھی۔یار تم سمجھتی کیوں نہیں ہو میرے پیر میں اب تک درد ٹھیک نہیں ہوا ڈاکٹر نے زیادہ چلنے سے منع کیا ہے۔
ہیں ں ں۔۔۔۔ زمانے ہوگئے تمہیں چوٹ آئی ہے اور اب تک تمہیں منع ہے ۔اتنا جھوٹ مت بولو یونیورسٹی تو تم جاتی ہو ابیرہ نے ٹکا لگایا۔
تمہیں کس نے بتایا وہ حیرت سے سیل کو تکنے لگی۔تم شاید بھول رہی ہو اس یونیورسٹی میں میرا بھائی بھی پڑھتا ہے۔
یہی تو دکھرے ہیں کہ تمہارا بھائی بھی پڑھتا ہے ورنہ میں تمھارے نہ انوائیٹ کرنے پہ بھی آجاتی ۔یہ بات وہ دل میں کہہ گئی۔
اسنے تمہیں بتایا ہے ۔۔۔محرما نے پوچھا۔
وہ کیا بتائے گا میں نے ٹکا لگایا تھا کیونکہ مجھے معلوم ہے طوفان آئے یا آندھی تم یونیورسٹی زیادہ دن تک نہیں چھوڑ سکتی ۔بس بہت ہوگئے نکھرے مجھے تم کل دکھنی چاہئے اسنے حکم دے کر کال کاٹ لی۔۔
۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/