مختصر کہانیاں

#میری_چاہت_بس_تیری_حقدار #تحریر_شگفتہ_نواز #آخ…

#میری_چاہت_بس_تیری_حقدار
#تحریر_شگفتہ_نواز
#آخری_قسط
#قسط_نمبر_13

تو انکار کر دو ادھر تم بہت پرسکون سا جواب آیا
وہاٹ یہ کوئی مذاق نہی ہے وہاج جو میں جب چاہے رشتہ بناؤں اور جب چاہے توڑ دوں ایٹلیسٹ تمہری طرح سلفش تو نہی ہوں میں صبا نے طعنہ مارنے کا موقع ہاتھ سے نہی جانے دیا تھا
لیکن تم تو مجھ سے محبت کرتی تھی تو پھر شادی کسی اور سے کیسے کر سکتی ہو وہاج نے اس کے اور قریب آتے ہوے کہا بھلے بدل چکا تھا وو لیکن اک بار منہل کو کھو کے وو اب دوبارہ صبا کو کھونا نہی چاہتا تھا اس لیے اپنی پرانی حرکتوں پے اتر رہا تھا
دور ہٹو مجھ سے صبا نے وہاج کو پیچھے دھکا دے دیا
اہ جان من اتنا غصہ وہاج صبا کی اس ادا پر بھی جان چھڑکنھے کو تیار بیٹھا تھا اس لیے مسکرانے لگ گیا
صبا کو بھی وہاج کا یہ روپ دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی کہاں تو وہاج اک چوٹھی سی بات بھی اپنی مرضی کے خلاف برداشت نہی کر سکتا تھا اور کہاں دھکا کہا کر بھی مسکرا رہا ہے
وہاج پلز جہاں سے چلے جاؤ میں اب تم سے کوئی رشتہ نہی رکھنا چاہتی صبا نے منہ دسری طرف موڑ کر کہاکیوں کے وو کمزور نہی پڑنا چاہتی تھی
لیکن میں رشتہ رکھنا چاہتا ہوں اور وو بھی بہت پیار سا وہاج نے مسکراتے ہیوے کہا اور چلا گیا
وقت بھی کتنا عجیب ہوتا ہے کبھی کبھی جس کو جب چاھتے ہیں وو اس وقت پاس نہی ہوتا اور جب ہم سب کچھ سب درد اس کیجدائی سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں اور صبر کا دامن پکڑ لیتے ہیں تب وو پھر کہی سے دوبارہ ہلچل مچانے کے لیے آ جاتے ہیں صبا سوچتے سوچتے وہی بیٹھ گئی کتنے عجیب دوراہے پے کھڑی تھی وو
………………………………..
آنٹی میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہی ہے کے میں اپنے چند دوستوں کو لے کر آؤں اور منہل سے نکاح کر لوں کیوں کے میرے گھر والے کبھی بھی نہی مانیں گے زوہیب شازیہ بیگم کو سمجھا رہا تھا جو کے ماننے کو تیار نہی تھی کل کو کدھر رکھو گے اسے تمہری امی تو اس کو ساری زندگی طعنے دیتی رہے گی شازیہ بیگم کے خدشے بھی کسی حد تک سہی تھے
آنٹی اک دفع نکاح ہو جایا پھر میں کسی طرح انھیں منا لوں گا پلز آپ میری بات مان لیں
آخر بہت مشکل سے زوہیب اور منہل نے گھر والوں کو منایا اور جمعہ کے نیک دن میں نکاح کا پروگرام بنا
زوہیب اپنے چند دوستوں کو لے کر آ گیا اور سادگی سے نکاح سر انجام پایا سب دوست جا چکے تھے اب کچھ دیر کے لیے منہل اور زوہیب کو اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا
اہم آہم زوہیب روم میں داخل ہوا تو منہل سرخ جوڑے میں ملبوس کوئی شیزادی لگ رہی تھی نظریں جھکی ہوئی اور گھونگٹ اوڑھا ہوا کب سے زوہیب کے انتظار میں بیٹھی تھی
آگے آپ منہل نے اپنے پہلے والے انداز میں تھوڑا سا گھونگٹ کو اپر اوپر اٹھا کر کہا کتنی دیر لگا دی آپ نے منہل نے منہ بناتے ہوے کہا
اہ سنا تھا کے دلہنیں شرماتی ہیں پہلی رات چپ کر کے بیٹھتی ہیں اور اک میری دلہن جو آتے ہی روایتی بیوی بن گئی ہے زوہیب منہ بناتے ہوے کہا
تو آپ پھر کسی ایسی سے شادی کر لیتے جو چپ رہتی اور شرماتی رہتی منہل نے بھی منہ پھلا کر جواب دیا
ہاں ویسے یہ آئیڈیا بھی برا نہی ہے ابھی تو میرے پاس چوائس ہے دسری شادی ایسی ہی کسی لڑکی سے کر لوں گا زوہیب نے بہت سیریس ہو کر کہا
اچھا تو پھر جایئں ابھی ڈھونڈ لیں جا کر منہل نےغصے سے اتھتے ہوے کہا
ہاہاہاارے کدھر جا رہی ہو میری شیزادی زوہیب نے منہل کا ھاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کر لیا
بھاڑ میں ،منہل نے تپ کر کہا اکیلی ہی جا رہی ہو اپنی جان کو بھی ساتھ لے جاؤ زوہیب نے اسے مزید اپنے قریب کر لیا تھا
جان کو کسی اور کے ساتھ جانے کا شوق ہے تو میں کیا کروں منہل نے ابھی تک منہ پھلایا ہوا تھا
اچھا جی بس کریں میری جان آج تو لڑائی چھوڑ دو کتنی خوبصرت رات ہے آج ہمری جس کا ہم دونوں نے بے صبری سے انتظار کیا ہے اور تم ایسے کر رہی ہو میرے ساتھ زوہیب نے اس کا چہرہ اوپر کر کے اس کو بالوں کو سیٹ کرتے ہوے کہا
تو آپ بھی تو مجھے تنگ کررہے ہیں منہل نے اپنا سر زوہیب کے سینے پر رکھ دیا زوہیب نے اس کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا تھا ور اب انھیں کسی اور بات کو نہی سوچنا تھا
……………………………
ہاہے صبا کیا کر رہی ہو تم وہاج نے صبا کو مال میں شوپنگ کرتے دیکھا تو ادھر ہی آ گیا جب وو خود اپنے لیے شرٹس لینے آیا تھا
ڈانس کر رہی ہوں صبا نے تپ کر جواب دیا جسے پھلے ہی کوئی چیز پسند نہی آ رہی تھی اور اوپر سے وہاج بھی ٹپک پڑا تھا
اچھا تو اکیلے کیوں کر رہی ہو آ جاؤ مل کر کوپل ڈانس کرتے ہیں وہاج نے بھی ویسا ہی جواب دیا
تم ادھر کیا کر رہے ہو صبا نے منہ بناتے ہوے پوچھا میں کبڈی کھیلنے آیا تھا اور تم جہاں ڈانس کرتی مل گئی بس پھر اب ڈانس کا ارادہ ہے وہاج آج فل مذاق کے موڈ میں تھا
ہاہاہا ویری فنی صبا نے مصنوئی مسکرہٹ دکھائی
آپی یہ کلر آپ پر بہت سوٹ کرے گا حنا اک پنک کلر کا لہنگا لے کر صبا کو دکھانے آ گئی تھی صبا نے اسے خود سے لگا کر دیکھا تو انجنانے میں ہی اس کی نظر وہاج پر اٹھ گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
اور تو تم کسی کام کے نہی اپنی چوائس ہی بتا دو صبا نے وہاج کو اسے اپنے آپ میں مگن دیکھا تو بول پڑی
میری چوائس تو ہے کے میری دلہن ریڈ کلر کا جوڑا پھنے برات والے دن جو کے تریڈشنل ڈریس ہے وہاج نے اس جوڑے کو ہاتھ لگا کر اوپر نیچے کرتے ہوے کہا
پر میں نے تمہری برات کا نہی اپنی برات کا پوچھا ہے صبا نے دانت پیستے ہوے کہا
ہاں تو تم میری ہی دلہن بنو گی وہاج نے بھی اک اک لفظ چبا کر کہا
تمھرا تو دماغ چل گیا ہے وہاج صبا کو اس کی یہ بات بہت عجیب لگ رہی تھی شادی کی مکمل تیاری ہو چکی تھی بس اک ہفتہ رہتا تھا رخصتی میں اور وہاج کیسی باتیں کر رہا تھا
ہاں تو پھر دیکھ لینا تم بھی کے کیسے چلے ہوے دماغ والا بندہ کیا کیا کر سکتا ہے وہاج نے صبا کے قریب آ کر سرگوشی کی صبا جلدی سے پیچھے ہٹ گئی
تم بھی نہ وہاج چلو نکلو جہاں سے جدھر دیکھو آ جاتے ہو میرا پیچھا کر رہے ہو صبا نے منہ کو تھوڑا سا موڑتے ہوے کہا
ہاہاہاہاہا پیچھے تو تم نے خود لگایا ہوا ہے مجھے وہاج ہںستے ہوے کتنا اچھا لگ رہا تھا صبا تو ابھی سے اپنا دل ہارنے لگی تھی اس لیے وو فورن سے وہاں سے نکل گئی وہاج اس کو آوازیں دیتا رہا لیکن اس نے اک نہی سنی
……………………………..
زوہیب تم۔آج کل کدھر گم رهتے ہو زوہیب کی امی نے اس سے پوچھا جو اب بھی کسی سے کال پے لگا ہوا تھا .کہی نہی امی ادھر ہی ہوتا ہوں بس دوستوں کے پاس نکل جاتا ہوں زوہیب نے نظریں بچاتے ہوے کہا جس کو پکڑے جانے کا ڈر بھی لگ رہا تھا وو بس کسی اچھے موقعے کی تلاش میں تھا کے کب اپنی امی کو بتایا منہل اور اپنے نکاح کے بارے میں
میں بتاتا ہوں یہ آج کل کدھر ہوتا ہے زوہیب کا بھائی آج بہت غصے میں تھا زوہیب کو دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا
حبیب بھائی نے آتے ہی زوہیب کو گریبان سے پکڑ لیا تمہری اتنی ہمت ہو گئی کے ہم سے پوچھے بنا نکاح کر لیا تم نے
کیا کھ رہے ہو تم زوہیب کی امی کا تو بی پی ہائی ہونے لگا
اس نے منہل سے نکاح کر لیا ہے اس بدنام زمانہ لڑکی سے ہم تو کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہی رہے حبیب نے اس کو مارنا شرحو کر دیا تھا یہ کیا رہے ہو آپ سوہیب نے حبیب کو پیچھے کیا جوان بھائی پے ہاتھ اٹھا رہے ہیں آپ کچھ تو ہوش کریں
اس نے اب ہوش رهنے ہی کہاں دیا ہے نکل جاؤ نمک حرام زوہیب کی امی نے اسے دھکے دے کر نکال دیا زوہیب کو پھلے سے ہی پتا تھا کے یہ سب ہونے والا ہے اس لیے وو اپنا انتظام پھلے ہی کر چکا تھا وو سیدھا اپنے اپارٹ منٹ میں گیا جو اسنیے کچھ دن پھلے ہی اپنی کمیٹی کو اڈوانس میں لے کر خرید لیا تھا
_______________
کیا آپ کو وہاج کمال ولد محمّد کمال حق مہر 50،000 کے ہوز قبول ہے مولوی صاحب نکاح پڑھا رہے تھے کیا یہ کیا ہو گیا ہے مجھے, اتنا سوچ لیا ہے میں نے وہاج کو کے اب اسی کا نام نکاح میں سنائی دے رہا ہے صبا نے اچانک سے سنا تو سوچ میں پڑ گئی کیوں کے وو جانتی تھی کے کسی صورت بھی اس کا نکاح وہاج کے ساتھ نہی ہو سکتا اس لیے وو اس کو اپنا وہم سمجھ رہی تھی
بیٹا ہاں بولو اب 3 دفع مولوی صاحب پوچھ چکے ہیں صبا کی امی نے صبا کو آہستہ سے قریب ہوتے ہوے کہا جو اپنے خیالوں میں کھو گئی تھی کہی
ہاں قبول ہے صبا نے آہستہ سے کہا
مبارک ہو ہر طرف سے مبارک بعد موصول ہو رہی تھی اس کی دوستیں اسے گلے سے لگا کر مبارک بعد دے رہی تھی لیکن وو وہاج کے وھم سے ہی نہی نکل پا رہی تھی
وہاج نے جب صبا کی شادی کی انفارمیشن نکالی تو جس لڑکے سے اس کی شادی ہونی تھی وو وہاج کا کہی اک ٹریپ پے بنا ہوا دوست تھا وو فورن اس کے گھر گیا اور اسے ساری صورتحال بتائی اس کی کافی منت سماجت کے بعد آخر وہاج نے اسے شادی سے انکار کرنے پر منا لیا تھا
اگلا سٹیپ صبا کے گھر والوں کو منانا تھا جو کے بہت مشکل تھا لیکن اس بار کمال صاحب نے وہاج کا ساتھ دیا اور وو با قاعدہ رشتہ لے کر آیے اور کافی منت سماجت کے بعد انھیں بھی منا لیا لیکن یہ ساری باتیں صبا سے چھپائ گئی تھی کیوں کے وہاج اسے سرپرایز دینا چاہتا تھا اس لیے اس دن شوپنگ کرتے وقت بھی حنا نے وہاج کو صبا سے چوری مسج کر دیا تھا
صبا کی رخصتی کا ٹائم ہو چکا تھا اسے ابھی تک یہ نہی پتا چل سکا تھا کے وو کس کے سنگ رخصت ہو رہی ہے
……………………………….
ہاہے میرا بچہ اس لڑکی کی خاطر ذلیل ہو رہا ہے رفیقی صاحب آپ اسے معاف کر دیں اور اسے گھر لے آیئں کافی دن ہو چکے تھے زوہیب ابھی تک گھر واپس نہی آیا تھا اس کی امی کا دل تو نرم ہو چکا تھا لیکن رفیقی صاحب اسے معاف کرنے کو بلکل تیار نہی تھے آخر امی کی منت سماجت کام آ گئی وو بھی باپ تھے اولاد کی محبت سے مجبور ہو کر زوہیب کے ایپارٹ منٹ چلے گے اور زوہیب کو گھر لے جانے کی بات کی تو زوہیب نےصاف صاف کھ دیا کے منہل کو آپ لوگ قبول کریں گے تو ہی میں اس گھر میں قدم رکھوں گا ہمیں قبول ہے وو بھی بس تم اپنے گھر چلو
………………………………..
ہاں جی تو کیا حال میری خوبصرت بیوی کا وہاج نے آتے ہی حال پوچھا تھا تو صبا چونک گئی
آپ جہاں کیوں آیے ہیں کیوں میری زندگی خراب کرنے چاھتے ہیں آپ پلز چلیں جایئں جہاں سے صبا اس کے آگے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی وو ابھی آتے ہی ہوں گے
ارے کون آتا ہو گا وہاج کو اس کی اس حالت کی کوئی سمجھ نہی آ رہی تھی
دامیر میرے ہسبنڈ اور کون صبا کو وہاج کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا تھا
صبا تمھرا ہسبنڈ تمھرے سامنے کھڑا ہے تمہری شادی مجھ سے ہوئی ہے دامیر سے نہی وہاج نے اسے سمجھاتے ہیوے کہا
نہی یہ ہو ہی نہی سکتا تم میرے ہسبنڈ ہو ہی نہی سکتے صبا نے وہاج کو پیچھے کیا جو اسے سمجھانے کے لیے اس کے بہت قریب آ چکا تھا
صبا یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے میں تمہری محبت تمھرا ہسبنڈ ہوں
کو ن سی محبت کیسی محبت جب میری محبت کو روند کر چلے گے تھے تم، اس وقت کہاں تھی یہ محبت ۔جب میں روتی رہی تمہری منتیں کرتی رہی اس وقت کہاں تھی یہ محبت، تو آج یہ محبت کہاں سے جاگ اٹھی صبا اپنی پچھلے وقت کی حالت کو یاد کر کے رونے لگ گئی تھی جو اس نے بہت مشکل سے اکیلا کاٹا تھا
صبا میں جانتا ہوں میں تمھرے ساتھ بہت برا کیا لیکن میں تم سے معافی مانگنے بھی تو آیا تھا اور تم نے مجھے معاف بھی تو کر دیا تھا میں بہت ازیتوں سے گزرا ہوں تمہیں ٹھکرا دیا تھا تو بدلے میں بھی ٹھکرا دیا گیا تھا سچ کھتے ہیں یہ دنیا مکافات عمل ہے جو جس کے ساتھ جیسا کرتا ہے وو ویسا بھرتا ہے میں نے بھی اپنی سزا پالی ہے اب مزید کسی سزا کو برداشت نہی کر سکتا پلز میرے سے اتنی بے رخی مت رکھو وہاج اس کے قریب اس کے ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا صبا کب اس کو روتا دیکھ سکتی تھی وو بھی اسے کتنا یاد کرتی رہی تھی آج وو واپس آ چکا تھا صرف اس کا بن کر اور اگر صبح کا بھولا شام کو واپس آ جایا تو اسے بھولا نہی کھتے
وہاج پلز چپ کر جاؤ تمھرے بنا اک اک پل کانٹوں پے گزارا ہے آج پھول مل رہے ہیں تومیں ہی پاگل ہوں جو انھیں مسلنے کی کوشش کر رہی ہوں وہاج نے اسے مزید اپنے قریب کر لیا تھا
لیکن آپ کا کیا بھروسہ کل کو کوئی اور پسند آ گئی تو صبا نے منہ پھولا تے ہوے کہا
تو اسے بھی بیوی بنا لوں گا وہاج نے شر ا ر ت سے آنکھ مارتے ہوے کہا
اور میں آپ کی جان بھی لے لوں گی صبا نے وہاج کے گلے میں باہیں ڈالتے ہیوے غصے سے کہا وہاج ہںنسنے لگ گیا اور صبا اسے یوہی دیکھتی رہی، کیوں اب دیکھتے ہی رہنا ہے یا ہاہاہا وہاج نے قہقہ لگایا صبا بھی شرمانے لگی اور وہاج کی باہوں میں خود کو چھپا لیا
……………………………..
آج منہل کی رخصتی تھی زوہیب کی امی نے اپنے سارے ارمان پورے کیا ساری بری خود خریدی انہوں نے زوہیب کو معاف کر دیا تھا اور وو ویسے بھی جان چکی تھی کے منہل بے قصور تھی
یہ اس کی پہلی رات تھی اس گھر میں جو بھی سپنے دیکھے تھے منہل نے وہ سب پورے ہوچکے تھے
کتنے دکھ منہل نے دیکھے تھے لیکن پھر بھی اپنی چاہت کا حق صرف زوہیب کو دیا تھا ارر اسی لیے زوہیب اپنے آپ کو خو ش قسمت سمجھتا تھا کے جسے اس نے چاہا وو بھی اسے ٹوٹ کے چاہتی ہے
ختم شد

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/