عالمی ادب

برٹولٹ بریخت — ایک تعارف برٹولٹ بریخت 10 فروری 1…

برٹولٹ بریخت — ایک تعارف

برٹولٹ بریخت 10 فروری 1898ء میں آؤس برگ میں پیدا ہوا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب جرمنی کو متحد ہوئے 27 سال ہوئے تھے اور اس عرصہ میں اس کی آبادی 61 سے بڑھ کر 65 میلین ہوگئی تھی۔ نہ صرف آبادی کی وجہ سے بلکہ سیاسی و معاشی و سماجی حالات نے بھی جرمن معاشرہ میں انقلابی تبدیلیاں کردیں تھیں۔ اب تک وہ معاشرہ کہ جس کی بنیاد زراعت پر تھی، اب کسانوں اور دست کاروں کی جگہ، سائنس دانوں اور فنی ماہرین نے لے لی تھی۔ انہوں نے جرمن معاشرے کو صنعتی بنا دیا تھا۔ صنعت و حرفت کی ترقی نے دیات کی اہمیت کو کمزور کردیا تھا اور کھیت مزدوروں نے شہروں کی طرف رخ کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے ان کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا، اس کے ساتھ صنعتکار و مزدور اور ریاست و عسام کے تعلقات میں بھی تبدیلی آنی شروع ہوگئی۔ سرمایہ داری کی بنیادیں مضبوط ہوئیں تو اس نے قوم پرستی کو فروغ دیا اور قوم پرستی نے جرمن قوم کی امنگوں کو آگے بڑھایا۔ یہی وہ حالات تھے کہ جن میں جنگ ناگزیر بن گئی۔ تاکہ اس کے ذریعے سے جرمن قوم عظمت و بڑائی کو حاصل کرسکے۔

برٹولٹ بریخت نے جرمنی کی اس بدلتی ہوئی صورت حال میں آنکھیں کھولیں۔ میونخ یونیورسٹی میں اس نے میڈیسن اور سائنس کی تعلیم حاصل کی اور پہلی جنگِ عظیم کے موقع پر میڈیکل سروس میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے اس نے جنگ کی ہولناکیوں کو دیکھا۔ ہسپتالوں میں میدان جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی اذیت اور قربانی نے اس سوال کو ذہن میں پیدا کیا کہ یہ سب کچھ کیوں؟ کس لیے اور کس کے واسطے؟

پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کو شکست کے المیہ سے گزرنا پڑا۔ اس جنگ میں جرمنی نے وہ سب کچھ کھو دیا کہ جو اس نے جرمنی کے اتحاد کے بعد سے حاصل کیا تھا۔ یہ نہ صرف فوجی شکست تھی بلکہ معاشی اور سماجی بدحالی تھی کہ جس نے ہف فرد کو مجبور کیا کہ وہ جنگ کی قیمت ادا کرے۔ معاشرے کی اس ٹوٹ پھوٹ اور عدم استحکام کا نتیجہ تھا کہ جرمنی میں نازی جماعت کا عروج ہوا۔ ہٹلر کی سیاسی کامیابی نہ صرف جرمنی کے صنعتکار و سرمایہ دار شریک تھے بلکہ اسے یورپی اور امریکی سرمایہ دارروں کی بھی حمایت حاصل تھی۔ یورپ اور امریکہ ہٹلر کو جرمنی کو طاقتور بنا کر اسے روس سے لڑانا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ہٹلر کی ابتدائی جارحانہ سرگرمیوں کو قبول کرلیا۔ انہوں نے ہٹلر کے خلاف اس وقت جنگ لڑی جب خود ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا۔

جب جرمنی میں ہٹلر کی حکومت مستحکم ہوگئی تو اس نے ریاست کا درجہ گھٹا کر نازی پارٹی کو ملک کا سب سے مظبوط ادارہ بنا دیا۔ اب پارٹی کا مقصد ریاست کی خدمت کرنا نہیں بلکہ ریاست کا کام تھا کہ وہ پارٹی کے مفاد کے لیے کام کرے۔ لہٰذا پارٹی کے نظریات اور مفادات کی خلاف ورزی غداری کے مترادف تھی۔ ہٹلر نے پارٹی کو مقبولِ عام بنانے اور لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جو طریقے اپنائے ان میں جلسے و جلوس، نوجوان، عورتوں اور بچوں کی جماعتیں، یونیفارم، موسیقی، گیت اور جوشیلی تقاریر تھیں کہ جنہوں نے پوری جرمن قوم میں قوم پرستی اور شخصیت پرستی کے جزبات کو ابھارا۔ ہٹلر ایک ایسی بھرپور شخصیت کے روپ میں ابھرا کہ جو جرمن قوم کا نجات دہندہ اور مسیحا تھا۔ نازی پارٹی نے پروپیگنڈے کے نئے طریقوں کو اپنایا۔ یک طرفہ بیانات اور دلائل نے پوری قوم کی سوچ کو ایک ہی دھارے پر ڈال دیا۔

ایک مرتبہ جب مخالفین غدار اور جرمن قوم کے دشمن بن گئے تو پھر انہیں جیلوں میں ڈالنا، اذیت دینا۔ اور قتل کرنا سب جائز ہوگیا۔ خاص طور سے نازی پارٹی کا نشانہ وہ دانشور جنہوں نے پارٹی کے اغراض و مقاصد سے انحراف کیا۔ وہ دانشور کہ جو خاموش رہے یا جنہوں نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا انہیں پارٹی نے باقی رہنے دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مخرف دانشوروں کو جرمنی چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس وسیع پیمانہ پر ہجرت کی وجہ سے جرمنی کے سماجی و ثقافتی ادارے اور یونیورسٹیاں بنجر ہوگئیں۔ علم و ادب کا ایک ہی مقصد رہ گیا کہ پارٹی کے مفادات کے لیے کام کیا جائے۔

نازی پارٹی کے اقتدار کے زمانہ میں بریخت کو بھی جرمنی چھوڑنا پڑا، کیونکہ نہ صرف یہ کہ اس کی کتابوں پر پابندی لگادی گئی تھی بلکہ اس کے لیے ناممکن ہوگیا تھا کہ وہ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کرسکے۔ جلاوطنی کا زمانہ اس نے آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، امریکہ اور سوئزرلینڈ میں گذارا۔ جلاوطنی کے اس پورے عرصہ میں وہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعہ نازی ازم اور فاشزم کے خلاف لڑاتا رہا۔

جنگ کے خاتمہ کے بعد اسے اتحادیوں کی جانب سے مغربی جرمنی نہیں آنے دیا، اس لیے وہ مشرقی جرمنی میں رہا۔ جنگ کے بعد اس کی تمام مصروفیات تھیٹر کے لیے تھیں۔ 14 اگست 1956ء کو اس نے وفات پائی۔

بریخت ڈرامہ نگار، کہانی نویس، مضمون نگار اور شاعر کی حیثیت سے مشہور ہے۔ اس نے اپنی تحریروں کے ذریعے مظلوم اور کچلے ہوئے عوام میں شعور پیدا کیا اور ادب کو عوام کے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اس کی وہ تمام تحریریں جو فاشزم کے خلاف ہیں۔ ان میں وہ شخصیت پرستی کی مخالفت کرتا ہے۔ جن معاشروں میں شخصیتیں چھا جاتی ہیں وہاں لوگوں کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ جس طرح ایک چھاؤں دار درخت کے نیچے اور کوئی پودہ یا درخت سرسبز نہیں رہتا، یہی صررتحال عظیم شخصیتوں کی تشکیل سے ہوتی ہے۔ اپنے مشہور ڈرامے گلیلیو اس نے خاص طور سے اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شخصیتیں قوموں کو پس ماندگی کی طرف لے جاتی ہیں۔

بریخت کے سامنے ہٹلر کی شخصیت بھی تھی کہ جس نے اپنے زور بیان اور شخصیت کے اثر سے پوری جرمن قوم کے ذہنوں پر قبضہ جما لیا تھا اور لوگ جذبات میں مدہوش اس کی تقلید کررہے تھے۔ شخصیت پرستی کی وجہ سے مخالفت اور اظہارِ رائے پر پابندی ہوجاتی ہے۔ یہی وہ حالات تھے کہ جن میں بریخت اس بات پر زور دیتا ہے کہ شانشوروں کو پارٹی و ریاست کے جبرسے لڑنا چاہیئے۔ اردگرد پابندیاں ہوں تو ان کے خلاف نئے راستے تلاش کرنا چاہیئں۔

وہ غیر جانبدرانہ رویہ کے بھی خلاف ہے، کیونکہ یہ رویہ ریاستی جبر کو تقویت دیتا ہے۔ اس لیے ریاستی جبر و تشدد کے خلاف مزاحمت ضروری ہے۔ اس کے بغیر معاشرے کے جمود کو نہیں توڑا جاسکتا۔

بریخت نے جو کچھ لکھا اس کے پس منظر میں جرمنی کے حالات تھے۔ مگر ایسے تمام معاشروں میں کہ جہاں فاشزم کی روایات ہوں اور جہاں ایک نظریہ کی حکمرانی ہو وہاں بریخت کی تحریریں پر اثر ہوجاتی ہیں۔

* * * ڈاکٹر مبارک علی * * *


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2149292048634650

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/