عالمی ادب
::: "احمد علی: ایک سچے اور کھرے رجحان ساز ادیب اور…

::: "احمد علی: ایک سچے اور کھرے رجحان ساز ادیب اور سفارت کار ” ::: {کچھ یادیں}
*** تحریر: احمد سہیل ***
احمد علی ،نئی دہلی میں 1910 – 14 جنوری میں دہلی میں پیدا ھوئے اور کراچی میں جنوری 1994 میں ان کا انتقال ہوا ۔۔ گلشن اقبال کراچی کے قبرستان میں پیوند زمین ہیں۔ احمد علی کا نام افسانوی مجموعے ’’انگارے‘‘ کے حوالے سے جانا جاتا ہے جسے ترقی پسند تحریک کا نقطہ آغاز کہنا چاہئے۔ انگارے کے چار مصنفین میں سے احمد علی کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ بعد میں آنے والے برسوں میں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کے بڑے مصنف بن کر ابھرے۔ احمد علی نے اردو افسانے کے اسلوب کو متنوع کیا لیکن ان کا تذکرہ افسانوی دنیا میں اس لئے کم ہو گیا کہ احمد علی نے ایک تو ترقی پسند تحریک سے کنارہ کشی اختیار کر لی، دوسرے، انہوں نے انگریزی زبان کو وسیلہ اظہار بنا لیا۔
احمد علی ایک بھارتی ناول نگار (جو بعد میں پاکستان)، شاعر، تنقید، مترجم سفارت کار، اور عالم تھے۔ احمد علی نے گڑھ اور لکھنؤ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کی، انھوں نے بی۔اے میں درجہ اؤل امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ 1930میں بی۔اے (اعزازی) کیا، اور ایم اے انگریزی کیا۔ وہ 1932-46 سے لکھنؤ اور الہ آباد سمیت معروف بھارتی یونیورسٹیوں میں تدویس سے منسلک رھے۔ پھر پروفیسر بنے اور پریسیڈینسی کالج میں انگریزی کے شعبے کے سربراہ کے طور پر بنگال سینئر تعلیمی سروس میں شمولیت اختیار کی، علی احمد نے 1942-44 کے دوران بھارت میں بی بی سی کے نمائندے اور ڈائریکٹر رھے. ہندوستان کی تقسیم کے دوران، انہوں نے کے طور پر بھارت کے برطانوی حکومت کی طرف سے انھیں چین کی جامعہ نینکن میں برٹش کونسل کی جانب سے انھیں چنیی یونیورسٹی میں مہمان پروفیسر مقرر کیا گیا۔ . جب احمد علی نے 1948 میں بھارت واپس جانے کی کوشش کی،تو چین میں بھارت کے سفیر کے۔پی۔ایس مینن نے انھیں بھارت واپس نہ آنے دیا اور انھیں پاکستان جانے کرنے پر مجبور کردیا گیا تھا ۔
1948 میں وہ کراچی منتقل ہو گئے – یہ شہر انھیں کبھی پسند نہیں آیا اس کے بعد، وہ پاکستان کی وزارت خارجہ کےپروموشن ڈائریکٹر، مقرر ھوئے. وزیر اعظم لیاقت علی خان کے کہنے پر، انہوں نے 1950 میں پاکستان فارن سروس میں شمولیت اختیار کی. انھیں سب سے پہلے جو فائل سب سے پہلے موصول ہوئی اس پر”چین” لکھا ہوا تھا۔ جب انھوں نے فائل کو کھولا کیا گیا تھا تو اس کے تمام صفحات سادہ تھے۔ اس پر کچھ نہیں لکھا گیا تھا۔ احمد علی پاکستان کے پہلے سفیر کے طور پر چین گئے تھے اور 1951 میں عوامی جمہوریہ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں اھم کردار ادا کیا۔احمد علی کا ایک افسانہ ’’مہاوتوں کی ایک رات‘‘ ہمایوں (1932) کے سالانہ نمبر میں منصہ شہود پر آیا۔
احمد علی کو شہرت ان کے پہلے ناول ’’TWILIGHT IN DEHLI‘‘ کی اشاعت سے ملی۔ احمد علی کے ناول پر برطانیہ، امریکہ اور پاکستان بہت سے مضامین اور مقالات شائع ہوئے۔ جب احمد کا ناول ’’TWILIGHT IN DEHLI‘‘ برطانیہ میں شائع ہوا تو اس کے ناشر کو تاج برطانیہ کے حوالے سے چند جملوں پر اعتراض ہوا اور وہ قابل ا عتراض حصوں کو حذف کروانے پر مصر تھا۔ احمد علی اپنے ناول میں سے ایک لفظ بھی حذف کرنے کے لئے راضی نہ تھے۔ اس وقت ممتاز ناول نگار ای۔ ایم فاریسٹر Passage To India کے مصنف کو ثالث مقرر کیا گیا تھا۔ ای ایم فاریسٹر نے یہ فیصلہ دیا کہ احمد علی کا ناول منشائے مصنف کے مطابق شائع ہو گا۔ اس ناول کا اردو، جرمن، ہسپانوی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور دنیا کی بہت سی جارحات میں نصاب کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ اردو میں احمد علی کے ناول کا ترجمہ ’’دلی کی شام‘‘ کے عنوان سے ا ن کی اہلیہ محترمہ بلقیس جہاں نے کیا تھا۔ ڈاکٹر کامران صاحب نے احمد علی کی اردو افسانہ نگاری پر بھی تحقیقی و تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ احمد علی کا ’’ہماری گلی‘‘ ایک شاہکار افسانہ ہے۔ احمد نے اردو افسانے میں جدید تکنیک متعارف کرائی۔ اس ناول میں احمد علی نے اپنے مضمون ’’TWILIGHT IN DEHLI‘‘ The Raison D` Ctre of میں انگریزوں کی برصغیر میں آمد اور 1857ء کے بعد ان کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے واقعات بیان کئے ہیں اور برطانوی مؤرخین، مستشرقین، مشنریوں اور اینگلو انڈین صحافیوں کی پیش کردہ متحدہ ہندوستان کی بگڑی تصویروں اور مسلمانوں کے احساس کمتری کا تذکرہ کیا ہے ۔ پروفیسر احمد علی انگریزی کی تصانیف میں ہماری گلی، شعلے اور قید خانہ کے علاوہ انگریزی زبان میں لکھی گئیں Muslim China، Ocean of Night، The Golden Tradition، Twilight in Delhi اور Of Rats and Diplomats کے
احمد علی نے 1988 ء میں قرآن ایک ʾ معاصر دو لسانی ترجمہ (انگریزی اور اردو) شائع کی ہے.1992 میں وہ میں اردو شاعری کا انگریزی ترجمہ، گولڈن روایت (ان کے انتخاب کے ایک نظر ثانی شدہ ایڈیشن اصل ایڈیشن 1973 میں شائع کیا گیا تھا ۔ (1940)، جو کہ انگریزی میں لکھا گیا ہے کی اشاعت کے ساتھ بین الاقوامی قبولیت حاصل ھوئی. یہ ھندوستان کے مسلمان ناسٹلجیا کے موضوع لکھا گیا۔ ان کے دوسرے ناول، "رات کے سمندرمیں” 1964کے بھارتی ثقافتی بٹوارے کا احوال ھے ۔ 1947 ء میں بھارت اور پاکستان کے قیام سے پہلے کا جائیزہ. "رات کے چوہی "اور سفارتکاروں کے سمندر کی طرح” (1984) ۔۔۔۔ اس کی اشاعت سے پہلے دہائیوں لکھا گیا ہے. جو ایک سفارت کار ratlike جن کے دم ان کی اخلاقی تحلیل کا جسمانی اظہار ہے۔ یہ آبلہ فریبی پر مشتمل ناول ھے. احمدعلی کا دوسرا قابل ذکر کام "جامنی سنہری چٹان” (1960)ہے جو شاعری کا مجموعہ اور اس کے بعد جیل ہاؤس (1985)، مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ شامل ہیں.احمد علی نے 1988 ء میں قرآن ایک ʾ معاصر دو لسانی ترجمہ (انگریزی اور اردو) شائع کی ہے. 1992 میں انہوں نے اردو انگریزی ترجمہ، سنہری روایت (اصل ایڈیشن 1973 میں شائع کیا گیا تھا) میں شاعری کی اور ان کے انتخاب کے ایک نظر ثانی شدہ ایڈیشن شائع کیا۔علی نے 1988 ء میں قرآن ایک ʾ معاصر دو لسانی ترجمہ (انگریزی اور اردو) شائع کی ہے.1992 میں انھوں نے اس میں اردو شاعری کا انگریزی ترجمہ، سنہری روایت (ان کے انتخاب کے ایک نظر ثانی شدہ ایڈیشن 1973 میں شائع ھوا۔ دسمبر 1932 میں ” انگارے” شائع ھرئی جس نے ہندوستانی معاشرے کی کھوکلی اقدار اور تحریمات کے خلاف اپنی بے چینٰی کا احتجاج قلم بند کیا۔ "انگارے” کے افسانہ نگارون میں احمد علی، محمود الظفر، سجاد ظہیر اور رشیدہ جہاں شامل تھے۔ "انگارے پر الزام لگایا جاتا ھے کی اس نے مشرقی تمدن کی روایتی بنیادوں پردراڑیں ڈالنے کی کوشش کی لہذا اس کتاب کو حکومت نے ضبط کرلیا اور سڑکوں پر نذر آتش بھی کیا گیا۔اس میں نئے اور نوجوان لکھنے والوں کو رومانویت سے دور رھنے کو کہا اور زندگی کے مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ احمد علی نے ” انگارے” بھی لکھی۔ 1974۔1976 میں وہ جامعہ کراچی کے مرکزی کتب خانے میں مطالعہ کرنے آتے تھے۔ میں نے ایک دن ان سے پوچھا ” آپ کو ترقی پسندوں نے اپنی صفوں سے کیوں نکالا”۔۔۔۔۔ پہلے تو ٹالتے رھے بعد میں کہا کہ "یہ کچے ذہنوں کا گروہ تھا جن کے مقاصد ادبی نہیں بلکہ سیاسی تھے۔”۔۔۔۔
کراچی میں "الفلاح سوسائٹی” ( پرانی سبزی منڈی اور ٹیلی وژن کے درمیان) قیام رہا۔ اپنی موت تک لکھنے پڑھنے میں مشغول رھے۔ ادبی اور ثقافتی نشتوں میں کم ھی آتے تھے۔ ان کے صاحب زادے ” عروج” جامعہ کراچی میں میرے ہم مکتب تھے۔ (احمد سھیل) ***
*** تحریر: احمد سہیل ***
احمد علی ،نئی دہلی میں 1910 – 14 جنوری میں دہلی میں پیدا ھوئے اور کراچی میں جنوری 1994 میں ان کا انتقال ہوا ۔۔ گلشن اقبال کراچی کے قبرستان میں پیوند زمین ہیں۔ احمد علی کا نام افسانوی مجموعے ’’انگارے‘‘ کے حوالے سے جانا جاتا ہے جسے ترقی پسند تحریک کا نقطہ آغاز کہنا چاہئے۔ انگارے کے چار مصنفین میں سے احمد علی کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ بعد میں آنے والے برسوں میں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کے بڑے مصنف بن کر ابھرے۔ احمد علی نے اردو افسانے کے اسلوب کو متنوع کیا لیکن ان کا تذکرہ افسانوی دنیا میں اس لئے کم ہو گیا کہ احمد علی نے ایک تو ترقی پسند تحریک سے کنارہ کشی اختیار کر لی، دوسرے، انہوں نے انگریزی زبان کو وسیلہ اظہار بنا لیا۔
احمد علی ایک بھارتی ناول نگار (جو بعد میں پاکستان)، شاعر، تنقید، مترجم سفارت کار، اور عالم تھے۔ احمد علی نے گڑھ اور لکھنؤ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کی، انھوں نے بی۔اے میں درجہ اؤل امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ 1930میں بی۔اے (اعزازی) کیا، اور ایم اے انگریزی کیا۔ وہ 1932-46 سے لکھنؤ اور الہ آباد سمیت معروف بھارتی یونیورسٹیوں میں تدویس سے منسلک رھے۔ پھر پروفیسر بنے اور پریسیڈینسی کالج میں انگریزی کے شعبے کے سربراہ کے طور پر بنگال سینئر تعلیمی سروس میں شمولیت اختیار کی، علی احمد نے 1942-44 کے دوران بھارت میں بی بی سی کے نمائندے اور ڈائریکٹر رھے. ہندوستان کی تقسیم کے دوران، انہوں نے کے طور پر بھارت کے برطانوی حکومت کی طرف سے انھیں چین کی جامعہ نینکن میں برٹش کونسل کی جانب سے انھیں چنیی یونیورسٹی میں مہمان پروفیسر مقرر کیا گیا۔ . جب احمد علی نے 1948 میں بھارت واپس جانے کی کوشش کی،تو چین میں بھارت کے سفیر کے۔پی۔ایس مینن نے انھیں بھارت واپس نہ آنے دیا اور انھیں پاکستان جانے کرنے پر مجبور کردیا گیا تھا ۔
1948 میں وہ کراچی منتقل ہو گئے – یہ شہر انھیں کبھی پسند نہیں آیا اس کے بعد، وہ پاکستان کی وزارت خارجہ کےپروموشن ڈائریکٹر، مقرر ھوئے. وزیر اعظم لیاقت علی خان کے کہنے پر، انہوں نے 1950 میں پاکستان فارن سروس میں شمولیت اختیار کی. انھیں سب سے پہلے جو فائل سب سے پہلے موصول ہوئی اس پر”چین” لکھا ہوا تھا۔ جب انھوں نے فائل کو کھولا کیا گیا تھا تو اس کے تمام صفحات سادہ تھے۔ اس پر کچھ نہیں لکھا گیا تھا۔ احمد علی پاکستان کے پہلے سفیر کے طور پر چین گئے تھے اور 1951 میں عوامی جمہوریہ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں اھم کردار ادا کیا۔احمد علی کا ایک افسانہ ’’مہاوتوں کی ایک رات‘‘ ہمایوں (1932) کے سالانہ نمبر میں منصہ شہود پر آیا۔
احمد علی کو شہرت ان کے پہلے ناول ’’TWILIGHT IN DEHLI‘‘ کی اشاعت سے ملی۔ احمد علی کے ناول پر برطانیہ، امریکہ اور پاکستان بہت سے مضامین اور مقالات شائع ہوئے۔ جب احمد کا ناول ’’TWILIGHT IN DEHLI‘‘ برطانیہ میں شائع ہوا تو اس کے ناشر کو تاج برطانیہ کے حوالے سے چند جملوں پر اعتراض ہوا اور وہ قابل ا عتراض حصوں کو حذف کروانے پر مصر تھا۔ احمد علی اپنے ناول میں سے ایک لفظ بھی حذف کرنے کے لئے راضی نہ تھے۔ اس وقت ممتاز ناول نگار ای۔ ایم فاریسٹر Passage To India کے مصنف کو ثالث مقرر کیا گیا تھا۔ ای ایم فاریسٹر نے یہ فیصلہ دیا کہ احمد علی کا ناول منشائے مصنف کے مطابق شائع ہو گا۔ اس ناول کا اردو، جرمن، ہسپانوی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور دنیا کی بہت سی جارحات میں نصاب کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ اردو میں احمد علی کے ناول کا ترجمہ ’’دلی کی شام‘‘ کے عنوان سے ا ن کی اہلیہ محترمہ بلقیس جہاں نے کیا تھا۔ ڈاکٹر کامران صاحب نے احمد علی کی اردو افسانہ نگاری پر بھی تحقیقی و تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ احمد علی کا ’’ہماری گلی‘‘ ایک شاہکار افسانہ ہے۔ احمد نے اردو افسانے میں جدید تکنیک متعارف کرائی۔ اس ناول میں احمد علی نے اپنے مضمون ’’TWILIGHT IN DEHLI‘‘ The Raison D` Ctre of میں انگریزوں کی برصغیر میں آمد اور 1857ء کے بعد ان کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے واقعات بیان کئے ہیں اور برطانوی مؤرخین، مستشرقین، مشنریوں اور اینگلو انڈین صحافیوں کی پیش کردہ متحدہ ہندوستان کی بگڑی تصویروں اور مسلمانوں کے احساس کمتری کا تذکرہ کیا ہے ۔ پروفیسر احمد علی انگریزی کی تصانیف میں ہماری گلی، شعلے اور قید خانہ کے علاوہ انگریزی زبان میں لکھی گئیں Muslim China، Ocean of Night، The Golden Tradition، Twilight in Delhi اور Of Rats and Diplomats کے
احمد علی نے 1988 ء میں قرآن ایک ʾ معاصر دو لسانی ترجمہ (انگریزی اور اردو) شائع کی ہے.1992 میں وہ میں اردو شاعری کا انگریزی ترجمہ، گولڈن روایت (ان کے انتخاب کے ایک نظر ثانی شدہ ایڈیشن اصل ایڈیشن 1973 میں شائع کیا گیا تھا ۔ (1940)، جو کہ انگریزی میں لکھا گیا ہے کی اشاعت کے ساتھ بین الاقوامی قبولیت حاصل ھوئی. یہ ھندوستان کے مسلمان ناسٹلجیا کے موضوع لکھا گیا۔ ان کے دوسرے ناول، "رات کے سمندرمیں” 1964کے بھارتی ثقافتی بٹوارے کا احوال ھے ۔ 1947 ء میں بھارت اور پاکستان کے قیام سے پہلے کا جائیزہ. "رات کے چوہی "اور سفارتکاروں کے سمندر کی طرح” (1984) ۔۔۔۔ اس کی اشاعت سے پہلے دہائیوں لکھا گیا ہے. جو ایک سفارت کار ratlike جن کے دم ان کی اخلاقی تحلیل کا جسمانی اظہار ہے۔ یہ آبلہ فریبی پر مشتمل ناول ھے. احمدعلی کا دوسرا قابل ذکر کام "جامنی سنہری چٹان” (1960)ہے جو شاعری کا مجموعہ اور اس کے بعد جیل ہاؤس (1985)، مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ شامل ہیں.احمد علی نے 1988 ء میں قرآن ایک ʾ معاصر دو لسانی ترجمہ (انگریزی اور اردو) شائع کی ہے. 1992 میں انہوں نے اردو انگریزی ترجمہ، سنہری روایت (اصل ایڈیشن 1973 میں شائع کیا گیا تھا) میں شاعری کی اور ان کے انتخاب کے ایک نظر ثانی شدہ ایڈیشن شائع کیا۔علی نے 1988 ء میں قرآن ایک ʾ معاصر دو لسانی ترجمہ (انگریزی اور اردو) شائع کی ہے.1992 میں انھوں نے اس میں اردو شاعری کا انگریزی ترجمہ، سنہری روایت (ان کے انتخاب کے ایک نظر ثانی شدہ ایڈیشن 1973 میں شائع ھوا۔ دسمبر 1932 میں ” انگارے” شائع ھرئی جس نے ہندوستانی معاشرے کی کھوکلی اقدار اور تحریمات کے خلاف اپنی بے چینٰی کا احتجاج قلم بند کیا۔ "انگارے” کے افسانہ نگارون میں احمد علی، محمود الظفر، سجاد ظہیر اور رشیدہ جہاں شامل تھے۔ "انگارے پر الزام لگایا جاتا ھے کی اس نے مشرقی تمدن کی روایتی بنیادوں پردراڑیں ڈالنے کی کوشش کی لہذا اس کتاب کو حکومت نے ضبط کرلیا اور سڑکوں پر نذر آتش بھی کیا گیا۔اس میں نئے اور نوجوان لکھنے والوں کو رومانویت سے دور رھنے کو کہا اور زندگی کے مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ احمد علی نے ” انگارے” بھی لکھی۔ 1974۔1976 میں وہ جامعہ کراچی کے مرکزی کتب خانے میں مطالعہ کرنے آتے تھے۔ میں نے ایک دن ان سے پوچھا ” آپ کو ترقی پسندوں نے اپنی صفوں سے کیوں نکالا”۔۔۔۔۔ پہلے تو ٹالتے رھے بعد میں کہا کہ "یہ کچے ذہنوں کا گروہ تھا جن کے مقاصد ادبی نہیں بلکہ سیاسی تھے۔”۔۔۔۔
کراچی میں "الفلاح سوسائٹی” ( پرانی سبزی منڈی اور ٹیلی وژن کے درمیان) قیام رہا۔ اپنی موت تک لکھنے پڑھنے میں مشغول رھے۔ ادبی اور ثقافتی نشتوں میں کم ھی آتے تھے۔ ان کے صاحب زادے ” عروج” جامعہ کراچی میں میرے ہم مکتب تھے۔ (احمد سھیل) ***
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2147080358855819



