عالمی ادب

۔ رابرٹ فراسٹ کی نظم Asking For Roses کا اردو تر…

۔
رابرٹ فراسٹ کی نظم
Asking For Roses
کا اردو ترجمہ

گلابوں کی چاہت میں
……………………..

ترجمہ نگار : پروفیسر انور زاہدی

۔
۔
ایک گھر جو مالک اور مالکہ کی غیر موجودگی سے عبارت ہے
جس کے دروازوں کو ہوا کے علاوہ کوئی نہیں بند کرتا
گھر کےفرش پر شیشے اور پلاسٹر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں
یہ گھر گلابوں کے ایک قدیمی وضح کے باغ میں واقع ہے
۔
میں میری کے ہمراہ اس کے قریب سے گزرتا ہوں
میں حیران ہو کر کہتا ہوں، ان سب کا مالک کون ہے ؟
وہ مجھے ہوا کے انداز میں کہتی ہے، تم جانتے ہو، کوئی نہیں
لیکن اگر ہمیں گلاب چاہئیں تو ہمیں یقینا کسی سے پوچھنا ہو گا
۔
لہذا سرد موسم میں آتے ہوئے شبنم سے ہاتھ ملانے ہوں گے
اس جنگل کی خاموشی میں جو پرسکون نظر آتا ہے
مُڑو اور جرات کے ساتھ کھلے ہوئے دروازے تک چلے جاؤ
اور ان گونجوں کے لئے دستک دو، جیسے گلابوں کے لیئے بھکاری
۔
دعا کرو کیا تم وہاں اندر موجود ہو ؟ مالکہ تم کون ہو ؟
یہ میری ہے جو بات کر رہی ہے اور ہمارا خادم بتاتا ہے
دعا کرو کیا تم وہاں اندر موجود ہو ؟بیسٹر تم ، بیسٹر تم
گرمیوں کا موسم ہے، وہ لوگ گلابوں کے لیے آئے ہیں
۔
۔
ایک حرف تمہارے ساتھ، اس گلوکار کو یاد کرتے ہوئے
بوڑھا ہیرک ایک ضرب المثل ، جو ہر خادمہ جانتی ہے
ایک پھول جسے نہ توڑا گیا، گرنے کے لیے رہ جاتا ہے
اور گلابوں کے جمع نہ کرنے سے، کچھ بھی تو حاصل نہیں ہوتا
۔
ہم اپنے ہاتھوں کو ملتے ہوئے ضائع نہیں کرتے
(اس کی کچھ زیادہ پرواہ نہ کرتے ہوئے کیا وہ سوچتی ہے)
وہاں جب وہ ہم تک دھند کی طرح چمکتی ہوئی آتی ہے
اور ہمیں خاموشی سے اپنے گلابوں سے نوازتی ہے
۔
۔
۔

Asking For Roses – Poem by Robert Frost
.
.
.
A house that lacks, seemingly, mistress and master,
With doors that none but the wind ever closes,
Its floor all littered with glass and with plaster;
It stands in a garden of old-fashioned roses.

I pass by that way in the gloaming with Mary;
‘I wonder,’ I say, ‘who the owner of those is.’
‘Oh, no one you know,’ she answers me airy,
‘But one we must ask if we want any roses.’

So we must join hands in the dew coming coldly
There in the hush of the wood that reposes,
And turn and go up to the open door boldly,
And knock to the echoes as beggars for roses.

‘Pray, are you within there, Mistress Who-were-you? ‘
‘Tis Mary that speaks and our errand discloses.
‘Pray, are you within there? Bestir you, bestir you!
‘Tis summer again; there’s two come for roses.

‘A word with you, that of the singer recalling-
Old Herrick: a saying that every maid knows is
A flower unplucked is but left to the falling,
And nothing is gained by not gathering roses.’

We do not loosen our hands’ intertwining
(Not caring so very much what she supposes) ,
There when she comes on us mistily shining
And grants us by silence the boon of her roses.
.
.

Robert Frost


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2146947612202427

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/