ایک جُملہ عدالَتی اور جائیداد کی خرید و فروخت کے م…

( یہ تو ہَمیں بعد میں کِتابِ رُخ ( fb ) پَر صاحِبانِ فِکر و نَظَر کے تَبصَروں سے معلوم ہُوا کہ یہ عَرَبی لَفظ ( اِشتَراء ) سے ہَے جِس کا معنی ہَے خریدار ۔ )
اب اِسی طرح ایک اُردُو کہاوَت ہے ؛ آوے کا آوا بِگڑا ہونا ۔ اِسکا مَطلَب ہے سب کُچھ بے قاعدہ اور بے ترتیب ہونا یا غَلَط ہونا ۔ یا سادہ الفاظ میں بُنیاد ہی خراب ہونا۔ اب یہ ایسا کِیؤں ہے ؟ اِسکا جواب تلاش کرنے کی لِئے ہمیں معلُوم ہونا چاہئے کہ ، ” آوا ” دراصل کُمہار کا وُہ گَڑھا ہَے کہ جِس میں رَکھ کَر وُہ بَھٹّی میں بَرتَن پَکاتا ہَے ۔ اب اَگَر ایک بار میں جِتنے بھی برتن پَکانے کے لِئے رَکّھے گَئے ہَیں ، یعنی ( ایک کھیپ ) اُنہیں اَچّھی طَرَح سیک نہ لَگ پائے ، اَور وُہ کَچّے رہ جائیں تو کہتے ہَیں کہ آوے کا آوا ہی خَراب / بِگڑا ہُوا ہَے ۔
ادائے خاص سے غالِب ہُوا ہے نُکتہ سرا۔
صلائے عام ہے یارانِ نُکتہ داں کیلِئے ۔
مضامینِ شِبلی
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2110375835859605



