عالمی ادب

بلوچ پہلا حصہ بروفیسر رابنسن …

بلوچ پہلا حصہ
بروفیسر رابنسن نے بلوچ کا نام بیلوس یا بعل سے اخذ کیا ہے۔ بعل جو کہ سامی دیوتا تھا اور یہ ممکن ہے، یہاں بعل کے پجاری آئے ہوں آرہیوگزبلر کا کہنا ہے کہ بلوچ ابتدا میں مکران اور جنوب کرمان میں ایرانی بلوچستان میں آباد تھے۔ الفسٹن نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ۶۶۴ء میں عربوں کے اولین حملے کے وقت بلوچ مکران کے پہاڑوں میں آباد تھے اور دسویں صدی میں ابن حوقل لکھتا ہے کہ کوچ و بلوچ ایران کی سرزمین پر آباد تھے، جو ہند و سندھ کی سرزمین ہے۔ پشتو و قدیم فارسی میں کوچی و کوچان کا ماند بلوچ کا مطلب ہے خانہ بدوش و جہاں گرد۔
ایرانی بلوچستان اور مکران میں آباد ہونے سے پہلے بلوچوں کا ماخذ دھندکوں میں ہے اور علماء کا اس میں اختلاف ہے۔ کچھ شامی کہانی کو برحق سمجھتے ہیں اور کچھ انہیں ترکمان کی نسل بتاتے ہیں۔ عرب حملہ آور اغلب کو ۴۶۶ء میں کیکنان میں حملہ کے وقت اٹھارا ترک سواروں کا سامناہ کرنا پڑا جو دم کٹے گھوڑوں پر سوار تھے۔ یہ واقع اس پر دال ہے کہ بلوچوں کا وسط ایشیائی ماخذ کا نظریہ اصل میں بے بنیاد نہیں ہے۔
وادی سندھ کے بلوچوں متداولہ روایات جو جلال خان یا جلدہان کے گرد گھومتی ہے۔ جس کے چار بیٹے رند، ہوت، لاشاری اور کورائی تھے اور ایک بیٹی مائی جتو تھی، پر شک و شبہ کی گنجایش ہے بالخصوس مکران کے ہوت متفقہ طور پر قدیمی باشندے سمجھے جاتے ہیں اور وہ خود بھی رندوں اور علاقہ کے دیگر بلوچ قبائل سے علیحدہ نسل کے دعویدار ہیں۔ ممکن ہے وہ اریطائی یا ہورتائی کے باقیات ہوں جو سکندر اعظم کو مکران سے مغرب کی جانب جاتے ہوئے ملے تھے۔
میجر موکلر لکھتا ہے کہ نام بلوچ کے سلسلے میں ایک رائے دینے کی جسارت کروں گا۔ جس میں صداقت کا عنصر بھی موجود ہے۔ شاید مجھ سے بہتر کوئی ماہر لسانیات اس کی تصدیق کرے۔
وہُوہذا۔ جب کسی بلوچ سے اس کے نام کے معنی پوچھا تو اس نے لازماً یہی جواب دی ہے۔ (گویا یہ ایک ضرب المثل ہے) بلوک و بدروک۔ (بدروش۔ علاقہ کے بعض حصوں میں بد معنی برا اور روک یا روش کے معنی ہیں دن۔ (روز موجودہ فارسی کا تلفظ ہے)۔ گویا گد پہلوی یا زند (قدیم فارسی) میں بلوچی یا جدید فارسی میں بد کے ہم معنی ہے۔ لہذا بدروک یا بدروش یا باررس مترادف ہے قدیم تر پہلوی یا زند کے گد روک یا گدروش کے، یونانیوں کے گدروسی یا گید روشی کے ’ر‘ اور ’ل‘ بہامی تغیر پزیری کی وجہ سے بدروک یا بدلوک کے مساوی ہوجاتا ہے جس میں سے ’ڈ‘ قدرتاً حذف ہوجاتا ہے اور یہ بلوک جید روشی کا مساوی ہوجاتا ہے۔ اگر اس انداز مین گدروک سے بلوک کا اشفاق لسانی لحاظ سے قابل قبول گردانا جائے تو ہم فرض کرسکتے ہیں کہ یونانیوں کے وقت بلوک یا گدروش کہلاتی تھے اور یونانیوں نے اسے اس نام کے بدلے لکھا ہے ہے، جو یقینا بیلوص (بیلوچ) ماخذ ہے۔
عرب دعویٰ کی کہانی جو ہم تک ایک نظم تک پہنچی ہے۔اس کے علاوہ کسی اور زرائع سے تصدیق نہیں ہوتی ہے کہ بلوچ سامی النسل ہیں، اور رند جو ٹھیٹ بلوچ ہونے کے دعویدار ہیں اور حلب سے آئے ہیں سراسر مشکوک ہے۔ بلوچی حروف تہجی ایرانی سے ماخذ ہیں، جس میں دس سامی حروف شامل نہیں ہیں۔ اس مطب یہی ہے کہ بلوچ ان آوازوں کو ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ اس طرح بلوچی زبان کے خاص حروف دندانے دار ہیں جو کہ سامی زبانوں میں استعمال نہیں ہوتے ہیں۔ یعنی سامی ان حروف کی ادائیگی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ بلوچ سامی النسل نہیں ہیں ان کا دعویٰ وہ عرب ہیں بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ بلوچی سامی اور اور سامی دندانے دار حرف کی ادائیگی نہیں کرسکتے ہیں، اور ان کے مخرج علحیدہ ہیں تو یہ یک نسلی سرچشمہ سے کسی بھی طرح تعلق نہیں رکھ سکتے ہیں۔
مکران گزٹیر میں لکھا ہوا ہے کہ مکران کی قدیم آبادی کے بارے میں آرین لکھتا ہے کہ اندرونی آبادی اوریطائی اور جدروضوئی یا جدرشیہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سے قبیلے ہیں۔ اس کے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔
بلوچستان گزٹیر کے مطابق جاٹ یہاں کے قدیم باشندے ہیں اور یہ یہاں جدگال کی شکل میں موجود ہیں اور آبادی کا بڑا حصہ ان پر مشتمل ہے۔ اس کلمہ کا ابتدائی حصہ جد یونانیوں کے جد کی طرح ہے اور گال مجموعہ کو کہتے ہیں۔ اس طرح اس کے معنی جاٹوں کا مجمع کے ہیں۔ جس کو یونانیوں نے روشیہ یا روسیہ سے ادا کیا ہے۔ جو مجموع کے ہم معنی ہے اور یہ کلمہ یونانیوں نے بہت سی قوموں کے ناموں میں استعمال کیا ہے۔ اس طرح گال اور روسیہ دونوں نسبتی کلمے ہیں۔ بلوچستان میں جدگال کے علاوہ جٹ النسل، جت، جتک اور جتوئی کی شکل میں بھی موجود ہیں۔ جب کہ اوتائی کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں یہ ہوت ہیں اور اوریطائی اس کا یونانی تلفظ ہے۔
جاٹ، جٹ، جت غالباً قدیم النسل قبائل ہیں۔ کیوں کے عادت و اطوار میں یہ قدیم سھتیوں سے بہت قریب ہیں۔ یہ انہی کی طرح وسیع المشروب ہیں، یہ جینسی معملات میں بہت حد تک آزاد ہیں۔ اس کی بہت سی خصوصیات ان جٹوں میں اب بھی بہت حد موجود ہیں۔اس لیے بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سھتیوں کے اخلاف ہیں۔ دارا نے بہت سے سیتھی النسل قبائل کو ان کی شورش پسندی کی وجہ سے انہیں ان کی شورش پسندی کی وجہ سے انہیں اپنی سلطنت کے مشرقی حصہ یعنی بلوچستان کی جانب جلاالوطن کردیا تھا۔ سکندر اعظم کے زمانے میں یہاں جدروشیہ قبائل کا ذکر ملتا ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں یہ سھتی قبائل پوری طرح یہاں کے ماحول میں ہم آہنگ ہوچکے تھے۔
گو بعد میں یونانیوں کے بعد برصغیر میں سھتی قبائل کی یلغار ہوئی تھی۔ اور یہاں بھی سھتی قبائل چھاگئے تھے اور اس علاقہ کو اپنا دست نگر بنا لیا تھا۔ گو یہ بنیادی طور پر ایک ہی نسلی سر چشمہ سے تعلق رکھتے تھے، مگر سیکڑوں سال سے زیادہ وقت کے فاصلے اور ہزاروں میل کی دوری نے ان کے درمیان تفریق پیدا کردی تھی۔ اس دوران ان میں مذہب، لسانی، اور مذہبی تفریق کے علاوہ رہن سہن ثقافت میں تبدیلی پیدا کردی تھی۔ یہی وجہ ہے بعد کے دور میں عرب آئے تو انہوں نے جٹوں کو یہاں کے قدیم باشندے بتایا ہے، جب کہ عربوں نے آباد ترکوں کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں توران کی ریاست کا ذکر ملتا ہے جہاں عربوں سے اٹھارا سواروں نے مقابلہ کیا تھا۔ اس لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ترک تھے یا سھتی تھے؟
بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سھتی نہیں تھے بلکہ ترک تھے۔ کیوں کہ سھتیوں کو یہاں آئے ہوئے پانسو سال ہوچکے تھے اور وہ یہاں کے ماحول میں پوری طرح ہم آہنگ ہوچکے تھے۔ یہ ترک ہی تھے جو کہ عربوں کی آمد سے کچھ پہلے نوشیروان کے زمانے میں افغانستان میں ہنوں کو نکال کر اپنا قبضہ جما چکے تھے۔ اور وہان سے برصغیر کی جانب بھی آئے تھے۔ یہ افغانستان سے ہی بلوچستان میں پھیلے تھے۔ یہاں روایات میں بتایا جاتاہے کہ براہویوں نے مغلوں سے اقتدار حاصل کیا تھا۔ یہ دراصل ترک سے جنہیں بعد میں مغلوں میں بدل دیا گیا۔ اس طرح یہاں عربوں کی آمد کے وقت سھتی اور ترک قبائل آباد تھے۔
یہاں ایک بات صاف ظاہر کہ اگر جدروشیہ یا گدروش کا اشقاق بلوچ ہے تو یہ بات کسی طور پر درست نہیں ہے۔ کیوں کہ جٹ یا جدگال برصغیر کی ثقافت کے تابع تھے اور ان کا وسط اشیا، ایران اور افغانستان سے ان کا تعلق ٹوٹ چکا تھا۔ اگر جدروش یا گدروش سے کلمہ بلوچ کی اختراح ہوئی ہوتی تو یہ کلمہ بلوچ پہلے پہل دریائے سندھ کے کنارے ملتا۔ مگر ہمیں یہ کلمہ پہلے پہل ہم کو کرامان اور مکران میں ملتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ گو میجر موکلر کا استدالال لسانی اعتبار سے درست ہو لیکن تاریخ اعتبار سے درست نہیں اور دورے ذرائع بھی اس کی تردید ہوتی ہے، اس لیے یہ قطعی طور پر درست نہیں ہے۔
عبدالمعین انصاری
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2090957937801395

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/