ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے۔ دور سے ایک انس…

ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے۔
دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔
چڑی نے چڑے سے کہا کہ اڑ جاتے ہیں، یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ بھلی لوگ دیکھو! ذرا اسکی دستار اور پہناوا ، شکل سے شرافت ٹپک رہی ہے یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا۔ چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہو گئی۔
شکاری کو طلب کیا گیا۔
شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ باد شاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جوچاہے سزا دے۔ چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جائے کہ اگر یہ شکاری ہے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔
Rumi – مولای روم
sparrow and male sparrow were sitting on a branch. A man was seen coming from a distanc sparrow said to male sparrow that fly away, otherwise he will kill us. male sparrow said, he looks like a noble person by his dress and will not kill us. When he got close, he drew his bow and shot male sparrow. sparrow complained to the king. The hunter was summoned. The hunter confessed his crime. The king gave the sparrow the power to punish whoever wanted. Sparrow said that he should be told to wear the clothes of a hunter if he is a hunter.
Take off the cloak of nobility.
Rumi – رومی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2961911767372670



