گارسیا مارکیز کے ذہن میں ’’سو برس کی تنہائی‘‘ ناول…

گارسیا مارکیز کے ذہن میں ’’سو برس کی تنہائی‘‘ ناول مکمل طور پر ترتیب پا چکا تھا لیکن اسے سوجھ نہیں رہا تھا کہ وہ اس کا آغاز کیسے کرے۔ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ چھٹیاں منانے کے لیے کسی دور دراز کے ساحلی مقام پر اپنے کار میں جارہا تھا۔ بچے ساتھ تھے اور اس مقام پر ہوٹل کی بکنگ ہو چکی تھی اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے بھی وہ سوچ بچار میں مبتلا تھا جب اس نے اپنے پہلو میں بیٹھی ہوئی بیوی سے کہا ’’میرے ذہن میں وہ فقرہ آ گیا ہے جو‘‘ سو برس کی تنہائی کے آغاز میں مجھے لکھنا ہے۔ اس کی بیوی نے سٹیئرنگ پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’گارسیا، لوٹ چلو۔ گھر چلو اوراپنے ناول کا آغاز کرو۔‘‘ گارسیا کہنے لگا، نہیں۔ ہوٹل کی بکنگ ہو چکی ہے۔ بچے چھٹیاں منانے کے لیے پرامید اور جوش میں ہیں تو ذرا ان سے فارغ ہو کر واپس چلے جائیں گے تو اس کی بیوی کہنے لگی ’’نہیں، واپس گھر چلو۔ تمہارا ناول زیادہ اہم ہے۔ گھر واپسی پر شنید ہے کہ اس کی بیوی نے اسے ایک کمرے میں بند کردیا کہ اب اس تنہائی میں بیٹھ کر سوبرس کی تنہائی کا آغاز کردو۔ تب باہر آنا جب یہ ناول مکمل ہو جائے گا۔ اسے پڑھنے والو، ہم جو برصغیر کے باسی ہیں، ادیب اور شاعر ہیں، ہم بیویوں کے بارے میں اتنے خوش نصیب نہیں رہے، ہماری بیویاں تو ہمیں کوستی ہی رہیں۔ وہ غالب کی بیوی ہو، شفیق الرحمن یا محمد خالد اختر کی بیوی ہو۔ مجید امجد یا کرنل محمد خان کی غائبانہ بیوی ہوں۔ یہ سب ہم سے شاکی ہی رہیں۔ جیسے یوسفی صاحب نے جب مختار مسعود سے پوچھا تھا کہ ان دنوں آپ کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا ’’میں صوفیا کرام کی عائلی زندگی کے بارے میں تحقیق کر رہا ہوں۔‘‘ تو یوسفی صاحب نے نہایت متانت سے کہا تھا۔ ان کی عائلی زندگی بری ہی ہوگی اس لیے تو یہ صوفی ہو گئے۔ تو ہم لوگ شکر گزار ہیں ان بیویوں کے۔ اگر وہ ہمیںدن رات نہ کوستیں، بیلن یا چمٹا اٹھا کر ہمارا پیچھا نہ کرتیں تو ہم اتنا بڑا ادب تخلیق کرنے سے قاصر ہوتے۔ ہمارے ہاں مفاہمت اور محبت سے نہیں، ڈانٹ ڈپٹ اور پھٹکار سے نہ صرف بڑے ناول بلکہ بڑی شاعری وجود میں آتی ہے
گارسیا مارکیز کی بیوی اور ہماری بیویاں
مستنصر حسین تارڑ
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2595673450663172



