منتخب نظمیں

تم ہوش میں ہو؟ اپنی ماں کو شادی میں نہیں بلاؤ گی؟…

💥 تم ہوش میں ہو؟ اپنی ماں کو شادی میں نہیں بلاؤ گی؟” 💔🥹
میرا نام اریبہ ہے۔
عمر اٹھائیس سال۔
میری بڑی بہن کا نام ماہم ہے۔
اور ہماری ماں کا نام فرزانہ ہے۔
یہ تین نام ایک وقت میں ایک ہی گھر کی تین آوازیں تھے۔ امی کی آواز سب سے اونچی، ماہم کی سب سے تیز، اور میری سب سے دھیمی۔
اب بھی ہم تینوں موجود ہیں۔
بس امی کی آواز وقت کے کسی پرانے کمرے میں رہ گئی ہے۔
تین سال پہلے امی کو فالج کا ہلکا سا اٹیک ہوا تھا۔ اللہ نے جان بچا لی، ہاتھ پاؤں بھی زیادہ متاثر نہیں ہوئے، مگر دماغ کا وہ حصہ جس میں رشتوں کے نام رکھے جاتے ہیں، آہستہ آہستہ دھند میں چلا گیا۔
ڈاکٹر نے کہا:
“یہ یادداشت کی بیماری ہے۔ جسم ساتھ دے رہا ہے، مگر وقت کی ترتیب ٹوٹ گئی ہے۔”
امی اب بھی اپنا دوپٹہ خود استری کر لیتی ہیں۔
چائے بنا لیتی ہیں۔
فون اٹھا کر سلام کر لیتی ہیں۔
بازار جائیں تو سبزی والے سے ٹماٹر کے ریٹ پر بحث بھی کر لیتی ہیں۔
مگر انہیں یہ یاد نہیں رہتا کہ ابا کو گزرے آٹھ سال ہو چکے ہیں۔
کبھی شام کو دروازے کی طرف دیکھ کر کہتی ہیں:
“تمہارے انکل آج بھی دیر کر رہے ہیں۔ دفتر سے آئیں تو کہنا چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے۔”
وہ “تمہارے انکل” ہمارے ابا ہوتے ہیں۔
کبھی مجھے دیکھ کر کہتی ہیں:
“اریبہ، تم تو بہت اپنی سی لگتی ہو۔ کس کی بیٹی ہو؟”
میں مسکرا کر کہتی:
“آپ ہی کی ہوں، امی۔”
وہ میری طرف غور سے دیکھتیں، پھر میرے گال پر ہاتھ رکھ کر کہتیں:
“اچھا؟ پھر تم اچھی ہو گی۔ میری بیٹیاں اچھی ہوں گی۔”
اس جملے پر میں ہر بار ٹوٹتی بھی تھی، جڑتی بھی تھی۔
کیونکہ وہ مجھے بیٹی نہیں پہچانتیں تھیں، مگر میرے لیے دعا پھر بھی ماں والی دیتی تھیں۔
ماہم اس سب کو دیکھ نہیں پاتی تھی۔
وہ آتی، امی کے سامنے بیٹھتی، امی اس کا نام لے لیتیں مگر رشتہ بھول جاتیں۔
“ماہم؟ اچھا نام ہے۔ میری بھی ایک بیٹی ہے ماہم۔ بہت ضدی ہے۔”
ماہم کے چہرے پر اس وقت جو چیز آتی تھی، اسے غصہ کہنا آسان ہے، مگر وہ غصہ نہیں تھا۔
وہ ماتم تھا۔
جیتے جی ماں کو کھونے کا ماتم۔
ماہم ہمیشہ سے امی کے زیادہ قریب تھی۔ بچپن میں امی اس کے بال بناتیں تو وہ آئینے میں خود کو نہیں، امی کو دیکھتی رہتی۔ امتحان میں اچھے نمبر آتے تو پہلے امی کو دکھاتی۔ کالج کی پہلی تقریر، پہلی نوکری، پہلی تنخواہ، ہر چیز امی سے شروع ہوتی تھی۔
پھر بیماری آئی اور ماہم سے اس کی ماں چھین کر اسے ایک ایسی عورت دے گئی جو کبھی ماں لگتی، کبھی مہمان، کبھی بچی، کبھی گمشدہ مسافر۔
میں نے وقت کے ساتھ سیکھ لیا کہ امی کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کرو۔
بس ان کے ساتھ چلتے رہو۔
اگر وہ سمجھتی ہیں کہ ابا ابھی دفتر میں ہیں، تو میں کہہ دیتی ہوں:
“آ جائیں گے، آپ چائے پی لیں۔”
اگر وہ مجھے اپنی سہیلی سمجھتی ہیں، تو میں سہیلی بن جاتی ہوں۔
اگر وہ بازار میں اچانک رک کر کہتی ہیں:
“یہ کون سا شہر ہے؟”
تو میں ان کا ہاتھ پکڑ کر کہتی ہوں:
“وہی جہاں آپ کو گول گپے پسند ہیں۔”
وہ ہنس دیتی ہیں۔
مجھے بس اتنا چاہیے ہوتا ہے۔
ماہم یہ نہیں کر سکی۔
یا شاید کرنا نہیں چاہتی تھی۔
یا شاید بہت زیادہ محبت کرنے والے لوگ کبھی کبھی ٹوٹے ہوئے محبوب کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
ماہم کی شادی طے ہوئی تو گھر میں کئی سال بعد خوشی کی کوئی باقاعدہ وجہ آئی۔
ابا نہیں تھے، اس لیے اس نے مجھ سے کہا:
“اریبہ، نکاح کے بعد جب میں ہال میں داخل ہوں گی نا، تم میرے ساتھ چلنا۔ ابا کی جگہ۔”
میں نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔
“میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے میرے دل میں ایک اور تصویر بھی تھی۔
امی ہلکے سبز جوڑے میں، بالوں میں سفید موتیا، ہاتھ میں دعا کے لیے اٹھا ہوا رومال، ماہم کو دیکھ کر شاید ایک لمحے کے لیے پہچان لیں۔
یا نہ بھی پہچانیں۔
تو کیا؟
ماں کی موجودگی پہچان سے بڑی ہوتی ہے۔
دعوت نامے چھپے تو میں نے کارڈ اٹھایا۔
دلہا دلہن کے نام، تاریخ، ہال، وقت، نیچے خاندان والوں کے نام۔
ابا کا نام “مرحوم” کے ساتھ تھا۔
امی کا نام کہیں نہیں تھا۔
میں نے پہلے سمجھا شاید غلطی ہے۔
ماہم سے پوچھا:
“امی کا نام کیوں نہیں ہے؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی:
“میں نے نہیں رکھا۔”
“کیوں؟”
اس نے نظریں چرالیں۔
“اریبہ، امی شادی میں نہیں آئیں گی۔”
مجھے لگا میں نے غلط سنا ہے۔
“کیا مطلب نہیں آئیں گی؟”
“میں نہیں چاہتی وہ آئیں۔”
کمرے میں پنکھا چل رہا تھا مگر میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے۔
“ماہم، تم ہوش میں ہو؟ اپنی ماں کو شادی میں نہیں بلاؤ گی؟”
وہ پھٹ پڑی۔
“تم سمجھتی کیوں نہیں؟ میں وہ سب اپنے نکاح کے دن نہیں دیکھ سکتی۔ وہ مجھے پہچانیں گی نہیں۔ لوگوں کے سامنے پوچھیں گی، کس کی شادی ہے؟ شاید ابا کا پوچھ لیں۔ شاید رو پڑیں۔ شاید بچوں کی طرح ضد کریں۔ سب مجھے نہیں دیکھیں گے، سب امی کو دیکھیں گے۔ میری شادی میری ماں کی بیماری کا تماشا بن جائے گی۔”
میں نے بہت آہستہ کہا:
“وہ تماشا نہیں ہیں۔ وہ ہماری ماں ہیں۔”
ماہم کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
“وہ ہماری ماں تھیں، اریبہ۔ اب جو ہیں، میں انہیں دیکھ نہیں پاتی۔”
یہ جملہ اس نے دھیمی آواز میں کہا تھا، مگر میرے اندر بہت زور سے ٹوٹا۔
میں نے کہا:
“وہ چل پھر سکتی ہیں۔ سفر کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹر نے صرف خیال رکھنے کو کہا ہے۔ میں انہیں مری، لاہور، ملتان تک لے جا چکی ہوں۔ اگلے مہینے ہم ہنزہ جانے کا سوچ رہے ہیں۔ مسئلہ ان کی صحت نہیں، تمہارا دل ہے۔”
وہ رونے لگی۔
“ہاں، میرا دل ہے۔ میرا بھی کوئی حق ہے یا نہیں؟ میں اپنی شادی کے دن ایک بار نارمل محسوس کرنا چاہتی ہوں۔ ایک بار۔ صرف ایک دن۔”
میں چپ ہو گئی۔
کیونکہ اس کی بات جھوٹی نہیں تھی۔
مگر ادھوری تھی۔
بہت سے ظلم جھوٹ نہیں ہوتے، بس ادھورے سچ ہوتے ہیں۔
میں نے آخر میں صرف اتنا کہا:
“اگر امی نہیں آئیں گی تو میں بھی نہیں آؤں گی۔”
ماہم نے میری طرف دیکھا جیسے میں نے اس کی پیٹھ میں چھرا مار دیا ہو۔
“تمہیں میرے ساتھ چلنا تھا۔”
“مجھے امی کا ہاتھ بھی پکڑنا ہے۔”
بات وہیں ختم ہو گئی۔
یا ہم نے سمجھا ختم ہو گئی۔
اصل میں وہ بات خاندان کے اندر دبے ہوئے بارود کی طرح پڑی رہی۔
ایک مہینہ گزر گیا۔
ماہم نے مجھے شادی کی لسٹ سے نہیں نکالا، مگر بولنا کم کر دیا۔ میں نے بھی ضد نہیں کی۔ امی کو کچھ نہیں بتایا۔ وہ کبھی کبھی پوچھ لیتیں:
“ماہم کی شادی کب ہے؟”
میں چونک جاتی۔
“آپ کو یاد ہے؟”
وہ فخر سے کہتیں:
“اتنی بھی گئی گزری نہیں ہوں۔ ماہم کی شادی ہے۔ میں نے اس کے لیے دوپٹہ لینا ہے۔”
پھر اگلے ہی لمحے پوچھتیں:
“ماہم کون ہے؟”
میں مسکرا دیتی۔
“ایک بہت پیاری لڑکی۔”
وہ کہتیں:
“اچھا، پھر اس کے لیے اچھا دوپٹہ لینا۔”
پچھلے ہفتے خالہ نسرین کی سالگرہ تھی۔
خالہ امی کی چھوٹی بہن ہیں۔ بچپن میں امی انہیں “نسرین چڑیا” کہتی تھیں کیونکہ وہ ہر وقت چہکتی رہتی تھیں۔ اب بھی خالہ کا فون آئے تو امی کی آنکھوں میں ایک پرانی روشنی آ جاتی ہے۔
میں نے امی کو فون دیا۔
“امی، خالہ کو سالگرہ مبارک کہیں۔”
امی نے فوراً کہا:
“نسرین چڑیا، بوڑھی ہو گئی ہو مگر آواز ابھی بھی ویسی ہی ہے۔”
خالہ دوسری طرف ہنس پڑیں، پھر رو بھی پڑیں۔
دونوں بہنوں نے پانچ منٹ ایسی بات کی جیسے بیماری کہیں باہر کھڑی رہ گئی ہو۔
کال کے بعد خالہ نے مجھ سے کہا:
“فرزانہ تو بہت اچھی لگ رہی ہے آواز سے۔ افسوس ہے ماہم کی شادی میں شامل نہیں ہو سکتی۔”
میں نے رک کر پوچھا:
“کس نے کہا نہیں کر سکتیں؟”
خالہ نے حیرت سے کہا:
“ماہم نے۔ کہہ رہی تھی ڈاکٹر نے منع کیا ہے، آپا اب لوگوں میں بیٹھ نہیں سکتیں، برداشت نہیں ہو گا۔ اسی لیے شادی میں نہیں آئیں گی۔ بےچاری بچی بہت پریشان تھی۔”
میرے اندر پہلے خاموشی ہوئی۔
پھر غصہ۔
پھر ایک عجیب سا دکھ۔
میں نے کہا:
“خالہ، یہ سچ نہیں ہے۔”
“کیا مطلب؟”
“امی شرکت کر سکتی ہیں۔ میں انہیں لے جاتی رہتی ہوں۔ ڈاکٹر نے منع نہیں کیا۔ ماہم نے انہیں اس لیے نہیں بلایا کیونکہ وہ امی کو اس حالت میں دیکھ نہیں پاتی۔ اسے ڈر ہے شادی کا دن امی کی بیماری کے گرد گھوم جائے گا۔”
دوسری طرف خالہ بالکل خاموش ہو گئیں۔
پھر انہوں نے بہت آہستہ کہا:
“یعنی فرزانہ کو اپنی بیٹی کی شادی سے نکال دیا گیا؟”
میں نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا:
“مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ میں نے ماہم سے کہا ہے امی کے بغیر میں بھی نہیں آؤں گی۔”
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایک سچ خاندان میں اتنی تیزی سے سفر کر سکتا ہے۔
خالہ نے پہلے اپنی بڑی نند کو بتایا۔
پھر ماموں کو۔
پھر خاندان کے واٹس ایپ گروپ میں ایک جملہ لکھ دیا:
“بیٹی کی شادی سے ماں کو اس لیے باہر رکھنا کہ ماں بیمار ہے، ہمارے خاندان کی تربیت نہیں ہو سکتی۔”
بس پھر وہی ہوا جو ہمارے خاندانوں میں ہوتا ہے۔
دعا سے پہلے بحث۔
بحث سے پہلے الزام۔
الزام سے پہلے اسکرین شاٹ۔
کسی نے کہا، ماہم نے زیادتی کی ہے۔
کسی نے کہا، اریبہ نے گھر کی بات باہر نکالی۔
کسی نے کہا، بیمار ماں کو شادی میں لانا بھی ظلم ہے۔
کسی نے کہا، ماں کی بددعا سے ڈرنا چاہیے۔
کسی نے کہا، بددعا وہ دیتی ہے جسے یاد ہو۔
یہ آخری جملہ پڑھ کر میں نے فون بند کر دیا۔
کچھ لوگ سچ کے نام پر بھی بےرحم ہو جاتے ہیں۔
شام کو ماہم آئی۔
اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر غصے سے۔
“تم نے میری شادی تباہ کر دی۔”
میں خاموش رہی۔
وہ بولتی گئی:
“پہلے تم نے کہا تم میرے ساتھ نہیں چلو گی۔ اب تم نے پورے خاندان میں مجھے ظالم بنا دیا۔ خالہ نے پوسٹ لگا دی ہے۔ چار لوگ کارڈ واپس کر چکے ہیں۔ نعمان کے گھر والوں تک بات پہنچ گئی ہے۔ تم خوش ہو؟”
میں نے کہا:
“میں نے جھوٹ نہیں بولا۔”
“ہر سچ بولنا ضروری نہیں ہوتا۔”
میں نے جواب دیا:
“ہر جھوٹ چھپانا بھی ضروری نہیں ہوتا۔”
وہ چیخی:
“تمہیں اندازہ ہے میں کس اذیت سے گزری ہوں؟ میں روز امی کو دیکھتی ہوں اور مرتی ہوں۔ تم نے خود کو نیک بنا لیا ہے کیونکہ تم ان کے ساتھ سفر کر لیتی ہو، ان کا ہاتھ پکڑ لیتی ہو۔ میں نہیں کر سکتی۔ میں کمزور ہوں، ٹھیک ہے؟ مگر تم نے میری کمزوری کو خاندان کے سامنے ننگا کر دیا۔”
اس بار میں چپ ہو گئی۔
کیونکہ پہلی بار اس نے سچ کہا تھا۔
وہ ظالم نہیں تھی۔
وہ کمزور تھی۔
مگر کیا ہر کمزوری کو کسی اور کے حق پر قینچی چلانے کی اجازت ہوتی ہے؟
میں نے دھیمے لہجے میں کہا:
“ماہم، تم امی کو نہ پہچاننے کی سزا دے رہی ہو، حالانکہ نہ پہچاننا ان کا قصور نہیں۔”
وہ رو پڑی۔
“اور جو وہ مجھے نہیں پہچانتیں، وہ میرا قصور ہے؟”
میرے پاس جواب نہیں تھا۔
ہم دونوں بہنیں ایک ہی ماں کی دو مختلف قبریں لیے بیٹھی تھیں۔
میری قبر میں صبر دفن تھا۔
اس کی قبر میں قبولیت۔
اسی رات امی نے الماری سے اپنا ہلکا فیروزی جوڑا نکال لیا۔
میں کمرے میں گئی تو وہ اسے بستر پر پھیلا کر دیکھ رہی تھیں۔
“یہ شادی پر پہن لوں؟”
میرا دل بیٹھ گیا۔
“کون سی شادی؟”
وہ خوش ہو کر بولیں:
“ماہم کی۔ تم نے بتایا تھا نا؟ ماہم کی شادی ہے۔”
“امی، آپ جانا چاہتی ہیں؟”
انہوں نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں نے عجیب سوال پوچھ لیا ہو۔
“بیٹی کی شادی میں ماں نہیں جائے گی تو کون جائے گا؟”
میں نے ہونٹ کاٹ لیے۔
“اگر وہاں بہت لوگ ہوں؟ شور ہو؟ آپ کو الجھن ہو؟”
امی نے دوپٹہ تہہ کرتے ہوئے کہا:
“ماں کو شور سے کیا ڈر؟ بچہ روتا ہے تو ماں شور میں بھی آواز پہچان لیتی ہے۔”
میں بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔
“اور اگر آپ کو ماہم پہچان نہ آئے؟”
امی رک گئیں۔
چند لمحے وہ خالی نظروں سے دیوار کو دیکھتی رہیں۔
پھر بولیں:
“نام یاد نہ رہے تو کیا ہوا؟ دعا تو یاد رہتی ہے۔”
اس رات میں بہت روئی۔
صبح ماہم دروازے پر کھڑی تھی۔
شاید خالہ نے اسے مجبور کیا تھا۔
شاید نعمان نے سمجھایا تھا۔
شاید وہ خود تھک گئی تھی۔
اس کے ہاتھ میں کارڈ تھا۔ وہی شادی کا کارڈ۔
امی ڈرائنگ روم میں بیٹھی سبز دھنیا صاف کر رہی تھیں۔
ماہم اندر آئی تو امی نے اسے دیکھا۔
“آؤ بیٹا، کس سے ملنا ہے؟”
ماہم کی آنکھیں بھر آئیں، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔
“آنٹی… میں ماہم ہوں۔”
امی مسکرا دیں۔
“اچھا، اچھا۔ ماہم۔ بہت پیارا نام ہے۔ میری بھی ایک بیٹی ہے ماہم۔ اس کی شادی ہونے والی ہے۔”
ماہم کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
وہ میرے پاس آ کر نہیں بیٹھی۔
وہ امی کے سامنے فرش پر بیٹھ گئی۔
بالکل ویسے جیسے بچپن میں بیٹھتی تھی جب امی اس کے بالوں میں تیل لگاتی تھیں۔
“آپ اپنی بیٹی کی شادی میں جائیں گی؟”
امی نے دھنیا ایک طرف رکھا۔
“ضرور جاؤں گی۔ ماں کا کام ہے دعا دینا۔”
“اگر بیٹی آپ کو پہچانے نہیں؟”
امی ہنس دیں۔
“بیٹی کو پہچاننا ماں کا کام ہے۔ ماں کو پہچاننا بیٹی کا کام نہیں۔”
ماہم نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔
اس کے کندھے ہل رہے تھے۔
امی گھبرا گئیں۔
“ارے، یہ کیوں رو رہی ہے؟”
میں نے کہا:
“خوشی سے۔”
امی نے ہاتھ بڑھا کر ماہم کے سر پر رکھا۔
“رونا نہیں۔ جس کی بھی شادی ہے، اللہ نصیب اچھے کرے۔”
ماہم اس ہاتھ سے لپٹ گئی۔
“امی…”
یہ لفظ اس کے منہ سے ٹوٹ کر نکلا تھا۔
امی نے شاید اسے سمجھا نہیں۔
مگر انہوں نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔
کبھی کبھی ماں کو یاد نہیں ہوتا کہ یہ اس کی بیٹی ہے۔
مگر ہاتھ کو یاد رہتا ہے کہ سر پر کیسے رکھا جاتا ہے۔
اس دن کوئی معجزہ نہیں ہوا۔
امی نے اچانک سب کچھ یاد نہیں کیا۔
ماہم نے فوراً اپنی غلطی کا اعلان نہیں کیا۔
خاندان کے واٹس ایپ گروپ میں بھی فرشتے نہیں اترے۔
لیکن شام تک ماہم نے نیا میسج بھیج دیا۔
“امی شادی میں آئیں گی۔ مگر ان کے لیے الگ پرسکون کمرہ ہو گا۔ اریبہ ان کے ساتھ رہے گی۔ براہ کرم کوئی ان سے بار بار بیماری کے بارے میں سوال نہ کرے۔ کوئی ویڈیو بنا کر گروپ میں نہ ڈالے۔ کوئی انہیں تماشا نہ بنائے۔ جو آنا چاہے، عزت سے آئے۔ جو نہ آنا چاہے، اللہ حافظ۔”
یہ ماہم کا پہلا سچا دعوت نامہ تھا۔
شادی کے دن امی نے فیروزی جوڑا پہنا۔
بالوں میں میں نے خود موتیا لگایا۔
وہ بار بار پوچھتی رہیں:
“ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
میں ہر بار کہتی:
“ماہم کی شادی میں۔”
وہ ہر بار خوش ہو جاتیں۔
“اچھا؟ ماہم کی شادی؟ میری بیٹی ماہم؟”
کبھی انہیں یاد آتا، کبھی نہیں۔
ہال میں داخل ہوتے وقت ماہم نے مجھ سے کہا:
“تم میرے ساتھ چلو گی؟”
میں نے امی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
“ہم تینوں چلیں گے۔”
ماہم نے امی کی طرف دیکھا۔
امی نے اسے پہچانا یا نہیں، میں نہیں جانتی۔
مگر انہوں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
نکاح کے بعد جب دعا ہوئی تو امی نے ہاتھ اٹھائے۔
وہ آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہی تھیں۔ شاید مکمل دعا نہیں تھی، شاید آدھی آیت، آدھا بھولا ہوا جملہ، آدھی ماں۔
مگر ماہم ان کے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار سمجھ رہی ہو کہ ماں مکمل یادداشت کا نام نہیں۔
ماں اس ہاتھ کا نام ہے جو ٹوٹ کر بھی دعا کی شکل بنانا نہیں بھولتا۔
رخصتی سے پہلے ماہم امی کے سامنے جھکی۔
“دعا دیں۔”
امی نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا۔
“اللہ تمہیں خوش رکھے۔ ماہم کو بھی خوش رکھے۔”
ماہم رو پڑی۔
وہ دعا اپنے لیے بھی تھی، اور اس ماہم کے لیے بھی جسے امی کے دماغ نے کہیں چھپا رکھا تھا۔
بعد میں ماہم نے مجھ سے صرف اتنا کہا:
“تم نے سچ بول کر مجھے ذلیل کیا، اریبہ۔”
میں نے سر جھکا لیا۔
وہ بولی:
“مگر شاید اگر تم نہ بولتیں تو میں ساری عمر خود سے نظریں نہ ملا پاتی۔”
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“میں نے بھی شاید سختی کی۔”
اس نے کہا:
“ہم دونوں نے امی کو اپنے اپنے دکھ میں تقسیم کر دیا تھا۔”
میں نے دور دیکھا۔
امی ایک کونے میں بیٹھی چھوٹی بچی کو موتیا کا پھول دے رہی تھیں اور پوچھ رہی تھیں:
“بیٹا، یہاں کس کی شادی ہے؟”
بچی نے ہنس کر کہا:
“ماہم آپی کی۔”
امی نے اطمینان سے سر ہلا دیا۔
“اچھا۔ پھر بہت دعا دینی چاہیے۔ بیٹی کی شادی ہے۔”
میں نے اس لمحے سمجھا کہ بعض نام دعوت ناموں سے گر بھی جائیں تو اللہ کی فہرست سے نہیں گرتے۔
ہم نے امی کا نام کارڈ پر نہیں چھاپا تھا۔
مگر اس دن ہر دعا کے نیچے وہی نام لکھا تھا۔
فرزانہ۔
ایک ماں۔
جو سب بھول گئی تھی۔
سوائے دعا دینے کے۔

©️ انتخاب سخن

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/