مجھے اصل دکھ یہ نہیں تھا کہ ماں نے جھوٹ بولا۔ اصل…
اصل دکھ یہ تھا کہ مجھے بیس سال لگ گئے یہ سمجھنے میں کہ وہ جھوٹ کیوں بولی تھی💔🥹
بار کے شیشوں پر بارش مسلسل بج رہی تھی۔
باہر یورپ کا ایک سرد شہر اپنی معمول کی بے نیازی کے ساتھ روشن تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں پھسلتی ہوئی گزرتیں، سرخ بتیوں میں بھیگے ہوئے لوگ چھتریاں سنبھالتے اور پھر کسی گرم عمارت کے اندر گم ہو جاتے۔
اندر پانچ آدمی ایک گول میز کے گرد بیٹھے تھے۔
وہ سب مختلف ملکوں سے آئے تھے، مگر عمر نے ان کے درمیان وہ فاصلے مٹا دیے تھے جو نقشوں پر بڑی آسانی سے دکھائی دیتے ہیں۔
گلاس چل رہے تھے۔
قصے چل رہے تھے۔
اور پھر اچانک بات ماؤں تک پہنچ گئی۔
"آج مدرز ڈے تھا نا؟”
مائیکل نے پوچھا۔
"تھا نہیں، ہے۔”
ژاں ہنسا۔
"تمہیں اپنی ماں یاد بھی ہے یا صرف مدرز ڈے پر یاد آتی ہے؟”
سب ہنس پڑے۔
مائیکل نے بھی ہنستے ہوئے سر جھٹکا۔
"یاد ہے۔ کل گیا تھا اس کے پاس۔”
"اچھا! کیا کھلایا اس نے؟”
"اس نے مجھے نہیں، میں نے اسے کھلایا۔”
"کیا؟”
"اس کا پسندیدہ کھانا۔”
وہ ایک لمحے کو خاموش ہوا، پھر بولا:
"وہ ہمیشہ سے مشروم پاستا پسند کرتی ہے۔ میں نے بنایا۔ پھر اس کا پرانا چشمہ بدلوا کر نیا دیا۔”
"اسے نیا چشمہ چاہیے تھا؟”
"ہاں۔ پرانے کے شیشے پر اتنی خراشیں تھیں کہ اخبار پڑھتے ہوئے آنکھیں سکیڑتی تھی۔”
"تمہیں کیسے معلوم کہ اسے کیا پسند ہے؟”
مائیکل نے عجیب نظروں سے سب کو دیکھا۔
"کیونکہ وہ میری ماں ہے۔”
بات ختم ہو گئی۔
مگر نہیں ہوئی۔
کچھ دیر بعد وہی سوال میز کے دوسرے سرے تک پہنچا۔
"اور تم؟”
مائیکل نے علی کو دیکھا۔
"تمہاری ماں کو کیا پسند ہے؟”
علی نے گلاس سے نظریں اٹھائیں۔
"کیا؟”
"کھانے میں۔”
علی مسکرایا۔
"پتہ نہیں۔”
سب ہنسے۔
"کیا مطلب پتہ نہیں؟”
"بس… پتہ نہیں۔”
وہ بھی ہنسنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس کی ہنسی کہیں راستے میں رک گئی۔
پھر اس نے سوچا۔
ماں کو کیا پسند تھا؟
سوال بہت چھوٹا تھا۔
مگر اس کے پیچھے اچانک ایک پورا گھر کھل گیا۔
مٹی کا صحن۔
کچی دیواریں۔
چولہے کا دھواں۔
باپ کی مزدوری سے پھٹی ہوئی ایڑیاں۔
دادا کی چارپائی۔
دادی کی سلائی۔
چھوٹے بہن بھائیوں کا شور۔
اور ان سب کے درمیان ایک عورت…
اس کی ماں۔
وہ عورت جو فجر سے پہلے اٹھتی تھی اور سب سے آخر میں سوتی تھی۔
جس کے ہاتھوں میں صابن کی سفیدی سے زیادہ آٹے کی سفیدی رہتی تھی۔
جس نے غربت کو کبھی گھر کے بیچوں بیچ بیٹھنے نہیں دیا تھا۔
دال ہوتی تو وہ دال کو بھی تہوار بنا دیتی۔
آلو ہوتے تو کبھی آلو گوشت بن جاتے، کبھی آلو کے پراٹھے۔
چاول بچ جاتے تو اگلے دن ان میں کچھ مصالحہ ڈال کر کہتی:
"آج تو مزے کی چیز بن گئی۔”
بچپن میں علی سمجھتا تھا کہ امی کو واقعی ہر چیز پسند ہے۔
اب اسے معلوم ہو رہا تھا کہ شاید وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ گھر میں کچھ کم ہے۔
اسے یاد تھا:
ابو کو گرم روٹی پسند تھی۔
دادی کو نرم۔
دادا کو سالن میں مرچ کم چاہیے تھی۔
اس کی چھوٹی بہن کو آلو زیادہ۔
اس کے بڑے بھائی کو گوشت کا ٹکڑا۔
اور اسے؟
اسے یاد آیا۔
اس کی ماں کو معلوم تھا کہ اسے سالن کے ساتھ روٹی کا کون سا کنارہ پسند ہے۔
وہ کنارہ ہمیشہ اس کی پلیٹ میں آتا تھا۔
علی نے آنکھیں کھول دیں۔
مگر ایک سوال پھر بھی اپنی جگہ کھڑا تھا۔
ماں کو کیا پسند تھا؟
وہ بچپن کے دنوں میں اترتا گیا۔
عید۔
رمضان۔
جمعہ۔
بارش۔
سردی۔
بخار۔
شادی۔
مہمان۔
نئی فصل۔
باپ کی پوری مزدوری والا ایک نایاب دن۔
اس نے سالوں کو الٹا۔
پھر مہینوں کو۔
پھر دنوں کو۔
مگر ماں کی پلیٹ کہیں نہیں ملی۔
"علی؟”
ژاں کی آواز نے اسے واپس کھینچ لیا۔
"کہاں کھو گئے؟”
علی نے اسے دیکھا۔
پھر اپنے ہاتھوں کو۔
پھر میز پر پڑے کھانے کو۔
اچانک اس کی آنکھوں میں کچھ تیرنے لگا۔
"مجھے…”
اس نے کہنا چاہا۔
آواز نہ نکلی۔
اس نے گلا صاف کیا۔
"مجھے یاد نہیں۔”
"کیا؟”
"میری ماں کو کیا پسند تھا۔”
کسی نے ہنسی نہیں۔
علی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
چند لمحوں بعد ہاتھ ہٹائے تو آنسو خاموشی سے گالوں پر اتر رہے تھے۔
"عجیب بات ہے نا؟”
وہ ہنسا۔
"مجھے گھر کے ہر آدمی کی پسند یاد ہے۔”
اس نے انگلیوں پر گننا شروع کیا۔
"ابو کو کیا اچھا لگتا تھا… دادی کو کیا… دادا کو کیا… میرے بھائی کو… میری بہن کو…”
وہ اچانک رک گیا۔
"بس امی…”
اس نے نظریں جھکا لیں۔
"امی کی پسند مجھے کبھی معلوم ہی نہیں ہوئی۔”
مائیکل نے بہت آہستہ پوچھا:
"پھر آج یاد آیا؟”
علی نے سر اٹھایا۔
اس بار اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جسے دیکھ کر میز پر بیٹھے ہر آدمی نے اپنی نظریں چرا لیں۔
"ہاں۔”
وہ بولا۔
"آج یاد آیا۔”
"کیا؟”
علی نے جواب دینے سے پہلے آنکھیں بند کیں۔
پھر بولا:
"میری ماں کو بچی ہوئی روٹی اور بچا ہوا سالن پسند تھا۔”
کمرے میں کچھ دیر صرف بارش کی آواز رہی۔
ژاں نے بے اختیار کہا:
"واقعی؟”
علی نے سر ہلایا۔
"ہاں۔”
پھر جیسے کسی پرانے راز کی گواہی دے رہا ہو، آہستہ آہستہ بولا:
"تازہ روٹیاں ہم سب کے لیے بنتی تھیں۔”
"سالن بھی۔”
"اور جب سب کھا لیتے تھے تو جو بچ جاتا…”
اس نے اپنی انگلی سے میز پر پڑے خالی پیالے کے کنارے کو چھوا۔
"…وہ امی کی پلیٹ میں چلا جاتا تھا۔”
کسی نے کچھ نہیں کہا۔
علی نے جیب سے فون نکالا۔
اسکرین پر ایک نام روشن ہوا:
امی
اس نے کال ملا دی۔
ایک گھنٹی۔
دوسری۔
تیسری۔
پھر ایک بھاری سی، مانوس آواز آئی:
"ہاں پتر؟”
علی نے آنکھیں بند کر لیں۔
"امی…”
"خیریت ہے؟”
"آپ نے کھانا کھایا؟”
"ہاں۔”
"کیا کھایا؟”
دوسری طرف ہلکی سی ہنسی سنائی دی۔
"جو تمہارا باپ چھوڑ گیا تھا، وہی گرم کر لیا۔”
علی کا سانس جیسے سینے میں کہیں اٹک گیا۔
اس نے بہت دیر بعد پوچھا:
"امی… آپ کو کیا پسند ہے؟”
خاموشی۔
پھر ماں نے پوچھا:
"کیا ہوا ہے تجھے؟”
"کچھ نہیں۔ بس بتائیں۔”
وہ دیر تک خاموش رہی۔
پھر بولی:
"مجھے؟”
"جی۔”
"مجھے تو…”
اس کی آواز ذرا دور چلی گئی، جیسے وہ بھی کسی بہت پرانے کمرے میں اتر گئی ہو۔
"مجھے وہ سب اچھا لگتا تھا جو تم لوگوں کو اچھا لگتا تھا۔”
علی کے ہونٹ کانپے۔
"اپنی پسند بتائیں نا، امی۔”
ماں ہنس دی۔
"اپنی پسند؟”
وہ جیسے پہلی بار اس لفظ کو پرکھ رہی تھی۔
پھر بولی:
"پتر، ماں کی اپنی پسند کہاں ہوتی ہے؟”
علی نے آنکھیں کھول دیں۔
سامنے مائیکل بیٹھا تھا۔
اس کے ہاتھ میں اب بھی گلاس تھا، مگر وہ اسے ہونٹوں تک نہیں لے جا رہا تھا۔
علی نے فون کان سے لگائے رکھا۔
دوسری طرف ماں بول رہی تھی:
"اچھا چل، اب فون رکھ۔ دوا کا وقت ہو گیا ہے۔”
علی نے بے اختیار پوچھا:
"امی…”
"ہاں؟”
"اگر میں آج آپ کے پاس ہوتا تو کیا بناتیں میرے لیے؟”
ماں کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر ہنس کر بولی:
"وہی جو بچپن میں بناتی تھی۔”
"کیا؟”
"تجھے جو پسند تھا۔”
کال ختم ہو گئی۔
علی کافی دیر فون کو دیکھتا رہا۔
پھر اس نے میز پر پڑی پلیٹ اپنی طرف کھینچی۔
اس میں تازہ روٹی کا ایک ٹکڑا تھا۔
اس نے اسے ہاتھ میں لیا۔
اور پہلی بار اسے معلوم ہوا کہ اس کے ہاتھ میں صرف روٹی نہیں تھی۔
اس کے ہاتھ میں اپنی ماں کا پورا بچپن تھا۔
وہ بچپن جو اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
وہ خواہشیں جن کا کوئی نام نہیں تھا۔
وہ پسندیں جنہیں ہر روز بچوں کی پسند کے نیچے دفن کیا گیا تھا۔
اور اچانک اسے ایک منظر یاد آیا۔
بہت پرانا۔
شاید وہ سات برس کا تھا۔
رات کا کھانا ختم ہو چکا تھا۔
سب جا چکے تھے۔
وہ پانی پینے کے لیے اٹھا تو دیکھا، ماں چولہے کے پاس بیٹھی تھی۔
اس کی پلیٹ میں دو ٹکڑے باسی روٹی کے تھے اور ایک پیالی میں بچا ہوا سالن۔
علی نے تب پوچھا تھا:
"امی، آپ یہ کھا رہی ہیں؟”
ماں نے ہنس کر کہا تھا:
"ہاں، مجھے یہی پسند ہے۔”
سات برس کا علی مطمئن ہو کر واپس سو گیا تھا۔
اس رات پہلی بار اسے سمجھ آیا کہ ماں جھوٹ بھی بہت محبت سے بولتی ہے۔
مگر اصل دکھ یہ نہیں تھا کہ ماں نے جھوٹ بولا تھا۔
اصل دکھ یہ تھا کہ اسے بیس سال لگ گئے یہ سمجھنے میں کہ وہ جھوٹ کیوں بولی تھی۔
بارش شیشے پر پہلے سے زیادہ تیز ہو چکی تھی۔
اور علی نے اس رات پہلی بار سوچا:
ہم میں سے کتنے لوگ اپنی ماؤں کی پسند جانتے ہیں؟
اور کتنے صرف یہ جانتے ہیں کہ
ہمیں کیا پسند تھا۔
افسانہ: ممتا
ماخوذ
©️ انتخاب سخن
#Motherhood