منتخب غزلیں
اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن اب دل کو یہ …

اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن
اب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں
…
ہادی مچھلی شہری کی پیدائش
October 01, 1878
ہادی مچھلی شہری. قلمی نام. ہادی مچھلی شہری. نام. سید محمد ہادی. نام والد سید عبدالرزاق شاکر. شاعر. کراچی(سندھ) , پاکستان
. پیدائش 1878-10-01 مچھلی شہر – بھارت
وفات : October 25, 1961
——
منتخب کلام
——
مجھ کو کسی کی شمعِ تجلی سے کیا غرض
پروانہ ہوں میں اپنے دلِ بیقرار کا
——
دل کی بلندیاں نہ دیکھ ، دل کی رسائیاں نہ پوچھ
میری فضائے شوق میں زحمتِ بال و پر نہیں
——
بے تابیٔ فرقت میں گماں ہوتا ہے ہادیؔ
دامن مرے دل کا نہ قیامت سے ملا ہو
——
اتنا تو سمجھتا ہوں کہ سجدے میں جبیں ہے
اب تیرے تصور میں نہ دنیا ہے نہ دیں ہے
——
تجھ سے ہو کر الگ رہا کیا ہے
اے خدا شانِ ماسوا کیا ہے
——
راحت نصیب سینکڑوں دنیا میں ہیں مگر
تقدیر ہے اسی کی جو درد آشنا ہوا
——
دلِ شکستہ کے مٹنے کا غم نہیں لیکن
ہے غم یہی کہ کوئی محرمِ وفا نہ رہا
——
ان کی نگاہ رہ گئی جھک کر جواب میں
کیا جانے میں نے کہہ دیا کیا اضطراب میں
——
کوئی ملے بھی زمانے میں رازدانِ حیات
میں کس سے جا کے پوچھوں کہ زندگی کیا ہے
——
ایک شوریدہ سرِ غم کو جگہ اور سہی
اس میں کیا جائے گا اے وسعتِ صحرا تیرا
——
نازاں تو عبادت پہ میں رحمت کا طلبگار
زاہد تری جنت کہیں دھوکا تو نہیں ہے
——
عجیب مشکل کا سامنا ہے کروں گا کس طرح عرض مطلب
مری تمنا ہزاروں شکلیں بنا بنا کر مٹا رہی ہے
——
اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن
اب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں
مرنا مری قسمت ہے مرنے سے نہیں ڈرتا
پیمانۂ ہستی کو لبریز تو کر جاؤں
تو اور مری ہستی میں اس طرح سما جائے
میں اور تری نظروں سے اس طرح اتر جاؤں
دنیائے محبت میں دشوار جو جینا ہے
مر کر ہی سہی آخر کچھ کام تو کر جاؤں
——
ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں
مآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میں
کہاں یہ وسعت جلوہ کہاں یہ دیدۂ تنگ
کبھی تجھے کبھی اپنے کو دیکھتا ہوں میں
شہید عشق کے جلوے کی انتہا ہی نہیں
ہزار رنگ سے عالم میں رونما ہوں میں
مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا
فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں
ہے تیری آنکھ میں پنہاں مرا وجود و عدم
نگاہ پھیر لے پھر دیکھ کیا سے کیا ہوں میں
مرا وجود بھی تھا کوئی چیز کیا معلوم
اس اعتبار سے پہلے ہی مٹ چکا ہوں میں
شمار کس میں کروں نسبت حقیقی کو
خدا نہیں ہوں مگر مظہر خدا ہوں میں
مرا نشاں نگہ حق نگر پہ ہے موقوف
نہ خود شناس ہوں ہادیؔ نہ خود نما ہوں میں
——
محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جا
اپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جا
جلوہ ہے بے خودی طلب عشق ہے ہمت آزما
دیدۂ مست یار سے آنکھ ملا کے بھول جا
لطف جفا اسی میں ہے یاد جفا نہ آئے پھر
تجھ کو ستم کا واسطہ مجھ کو مٹا کے بھول جا
لوث طلب کے ننگ سے عشق کو بے نیاز رکھ
ہو بھی جو کوئی آرزو دل سے مٹا کے بھول جا
——
شک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا
جس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلا
کس قدر دست جنوں بے سروساماں نکلا
تجھ میں اک تار نہ اے چاک گریباں نکلا
اف وہ تقدیر جو تدبیر کی پابند رہی
حیف وہ درد جو منت کش درماں نکلا
خاک ہو کر بھی رہا جلوہ طرازی کا دماغ
میرا ہر ذرۂ دل طور بداماں نکلا
الاماں وہ خلش جاں جو مٹائے نہ مٹی
ہائے وہ دم جو بصد کاوش پنہاں نکلا
….
ہادی مچھلی شہری کے لوح مزار کے لئے خود ان کے اپنے لکھے ہوئے یہ دو شعر چکبست کے شعر کی تائید کرتے ہیں کہ:
اک کھلونا ٹوٹتے جس کو نہیں لگتی ہے دیر
زندگی کیا ہے فقط ترکیبِ آب و گلِ کی بات
عہدِپیری تک تھیں جتنی منزلیں سب آگئیں
رہ گئی ہے اب تو ہادی آخری منزل کی بات
………
اب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں
…
ہادی مچھلی شہری کی پیدائش
October 01, 1878
ہادی مچھلی شہری. قلمی نام. ہادی مچھلی شہری. نام. سید محمد ہادی. نام والد سید عبدالرزاق شاکر. شاعر. کراچی(سندھ) , پاکستان
. پیدائش 1878-10-01 مچھلی شہر – بھارت
وفات : October 25, 1961
——
منتخب کلام
——
مجھ کو کسی کی شمعِ تجلی سے کیا غرض
پروانہ ہوں میں اپنے دلِ بیقرار کا
——
دل کی بلندیاں نہ دیکھ ، دل کی رسائیاں نہ پوچھ
میری فضائے شوق میں زحمتِ بال و پر نہیں
——
بے تابیٔ فرقت میں گماں ہوتا ہے ہادیؔ
دامن مرے دل کا نہ قیامت سے ملا ہو
——
اتنا تو سمجھتا ہوں کہ سجدے میں جبیں ہے
اب تیرے تصور میں نہ دنیا ہے نہ دیں ہے
——
تجھ سے ہو کر الگ رہا کیا ہے
اے خدا شانِ ماسوا کیا ہے
——
راحت نصیب سینکڑوں دنیا میں ہیں مگر
تقدیر ہے اسی کی جو درد آشنا ہوا
——
دلِ شکستہ کے مٹنے کا غم نہیں لیکن
ہے غم یہی کہ کوئی محرمِ وفا نہ رہا
——
ان کی نگاہ رہ گئی جھک کر جواب میں
کیا جانے میں نے کہہ دیا کیا اضطراب میں
——
کوئی ملے بھی زمانے میں رازدانِ حیات
میں کس سے جا کے پوچھوں کہ زندگی کیا ہے
——
ایک شوریدہ سرِ غم کو جگہ اور سہی
اس میں کیا جائے گا اے وسعتِ صحرا تیرا
——
نازاں تو عبادت پہ میں رحمت کا طلبگار
زاہد تری جنت کہیں دھوکا تو نہیں ہے
——
عجیب مشکل کا سامنا ہے کروں گا کس طرح عرض مطلب
مری تمنا ہزاروں شکلیں بنا بنا کر مٹا رہی ہے
——
اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن
اب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں
مرنا مری قسمت ہے مرنے سے نہیں ڈرتا
پیمانۂ ہستی کو لبریز تو کر جاؤں
تو اور مری ہستی میں اس طرح سما جائے
میں اور تری نظروں سے اس طرح اتر جاؤں
دنیائے محبت میں دشوار جو جینا ہے
مر کر ہی سہی آخر کچھ کام تو کر جاؤں
——
ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں
مآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میں
کہاں یہ وسعت جلوہ کہاں یہ دیدۂ تنگ
کبھی تجھے کبھی اپنے کو دیکھتا ہوں میں
شہید عشق کے جلوے کی انتہا ہی نہیں
ہزار رنگ سے عالم میں رونما ہوں میں
مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا
فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں
ہے تیری آنکھ میں پنہاں مرا وجود و عدم
نگاہ پھیر لے پھر دیکھ کیا سے کیا ہوں میں
مرا وجود بھی تھا کوئی چیز کیا معلوم
اس اعتبار سے پہلے ہی مٹ چکا ہوں میں
شمار کس میں کروں نسبت حقیقی کو
خدا نہیں ہوں مگر مظہر خدا ہوں میں
مرا نشاں نگہ حق نگر پہ ہے موقوف
نہ خود شناس ہوں ہادیؔ نہ خود نما ہوں میں
——
محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جا
اپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جا
جلوہ ہے بے خودی طلب عشق ہے ہمت آزما
دیدۂ مست یار سے آنکھ ملا کے بھول جا
لطف جفا اسی میں ہے یاد جفا نہ آئے پھر
تجھ کو ستم کا واسطہ مجھ کو مٹا کے بھول جا
لوث طلب کے ننگ سے عشق کو بے نیاز رکھ
ہو بھی جو کوئی آرزو دل سے مٹا کے بھول جا
——
شک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا
جس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلا
کس قدر دست جنوں بے سروساماں نکلا
تجھ میں اک تار نہ اے چاک گریباں نکلا
اف وہ تقدیر جو تدبیر کی پابند رہی
حیف وہ درد جو منت کش درماں نکلا
خاک ہو کر بھی رہا جلوہ طرازی کا دماغ
میرا ہر ذرۂ دل طور بداماں نکلا
الاماں وہ خلش جاں جو مٹائے نہ مٹی
ہائے وہ دم جو بصد کاوش پنہاں نکلا
….
ہادی مچھلی شہری کے لوح مزار کے لئے خود ان کے اپنے لکھے ہوئے یہ دو شعر چکبست کے شعر کی تائید کرتے ہیں کہ:
اک کھلونا ٹوٹتے جس کو نہیں لگتی ہے دیر
زندگی کیا ہے فقط ترکیبِ آب و گلِ کی بات
عہدِپیری تک تھیں جتنی منزلیں سب آگئیں
رہ گئی ہے اب تو ہادی آخری منزل کی بات
………












