منتخب غزلیں
اندرا ورما کا یومِ پیدائش 01 October 1940 مجھے رنگ…

اندرا ورما کا یومِ پیدائش
01 October 1940
مجھے رنگ دے نہ سُرور دے، مِرے دِل میں خود کو اُتار دے
مِرے لفظ سارے مہک اُٹھیں، مجھے ایسی کوئی بہار دے
مجھے دُھوپ میں تُو قریب کر، مجھے سایہ اپنا نصیب کر
مِری نِکہتوں کو عرُوج دے مجھے پُھول جیسا وقار دے
مِری بکھری حالت زار ہے، نہ تو چین ہے نہ قرار ہے
مجھے لمس اپنا نواز کے، مِرے جسم و جاں کو نِکھار دے
تِری راہ کتنی طوِیل ہے، مِری زِیست کتنی قلِیل ہے
مِرا وقت تیرا اسِیر ہے، مجھے لمحہ لمحہ سنْوار دے
مِرے دِل کی دُنیا اُداس ہے، نہ تو ہوش ہے نہ حواس ہے
مِرے دِل میں آ کے ٹھہر کبھی، مِرے ساتھ عُمر گزُار دے
مِری نیند مُونسِ خواب کر، مِری رتجَگوں کا حِساب دے
مِرے نام فصلِ گلاب کر، کبھی ایسا مجھ کو بھی پیار دے
شبِ غم اندھیری ہے کِس قدر، کرُوں کیسے صُبح کا میں سفر
مِرے چاند آ مِری لے خبر ، مجھے روشنی کا حِصار دے
……
یوں وفا کے سارے نبھاؤ غم کہ فریب میں بھی یقین ہو
کوئی بات ایسی کہو صنم کہ فریب میں بھی یقین ہو
یہ دیار شیشہ فروش ہے یہاں آئینوں کی بساط کیا
یہاں اس طرح سے رکھو قدم کہ فریب میں بھی یقین ہو
مری چاہتوں میں غرور ہو دلِ ناتواں میں سرور ہو
تمہیں اب کے کھانا ہے وہ قسم کہ فریب میں بھی یقین ہو
یہی بات کہہ دو پکار کے وہی سلسلے رہیں پیار کے
اسی ناز میں رہے پھر بھرم کہ فریب میں بھی یقین ہو
مرے عشق کا یہ معیار ہو کہ وصال بھی نہ شمار ہو
اسی اعتبار پہ ہو کرم کہ فریب میں بھی یقین ہو
مرے انتظار کو کیا خبر تمہیں اختیار ہے اس نقدر
مجھے دو سلیقہ یہ کم سے کم کہ فریب میں بھی یقین ہو
جہاں ذکرِ مہر و وفا ملے وہیں اندرا کا قلم چلے
یہ کتابِ عشق میں ہو رقم کہ فریب میں بھی یقین ہو
…….
01 October 1940
مجھے رنگ دے نہ سُرور دے، مِرے دِل میں خود کو اُتار دے
مِرے لفظ سارے مہک اُٹھیں، مجھے ایسی کوئی بہار دے
مجھے دُھوپ میں تُو قریب کر، مجھے سایہ اپنا نصیب کر
مِری نِکہتوں کو عرُوج دے مجھے پُھول جیسا وقار دے
مِری بکھری حالت زار ہے، نہ تو چین ہے نہ قرار ہے
مجھے لمس اپنا نواز کے، مِرے جسم و جاں کو نِکھار دے
تِری راہ کتنی طوِیل ہے، مِری زِیست کتنی قلِیل ہے
مِرا وقت تیرا اسِیر ہے، مجھے لمحہ لمحہ سنْوار دے
مِرے دِل کی دُنیا اُداس ہے، نہ تو ہوش ہے نہ حواس ہے
مِرے دِل میں آ کے ٹھہر کبھی، مِرے ساتھ عُمر گزُار دے
مِری نیند مُونسِ خواب کر، مِری رتجَگوں کا حِساب دے
مِرے نام فصلِ گلاب کر، کبھی ایسا مجھ کو بھی پیار دے
شبِ غم اندھیری ہے کِس قدر، کرُوں کیسے صُبح کا میں سفر
مِرے چاند آ مِری لے خبر ، مجھے روشنی کا حِصار دے
……
یوں وفا کے سارے نبھاؤ غم کہ فریب میں بھی یقین ہو
کوئی بات ایسی کہو صنم کہ فریب میں بھی یقین ہو
یہ دیار شیشہ فروش ہے یہاں آئینوں کی بساط کیا
یہاں اس طرح سے رکھو قدم کہ فریب میں بھی یقین ہو
مری چاہتوں میں غرور ہو دلِ ناتواں میں سرور ہو
تمہیں اب کے کھانا ہے وہ قسم کہ فریب میں بھی یقین ہو
یہی بات کہہ دو پکار کے وہی سلسلے رہیں پیار کے
اسی ناز میں رہے پھر بھرم کہ فریب میں بھی یقین ہو
مرے عشق کا یہ معیار ہو کہ وصال بھی نہ شمار ہو
اسی اعتبار پہ ہو کرم کہ فریب میں بھی یقین ہو
مرے انتظار کو کیا خبر تمہیں اختیار ہے اس نقدر
مجھے دو سلیقہ یہ کم سے کم کہ فریب میں بھی یقین ہو
جہاں ذکرِ مہر و وفا ملے وہیں اندرا کا قلم چلے
یہ کتابِ عشق میں ہو رقم کہ فریب میں بھی یقین ہو
…….












