"میں اپنے دوستوں کو کیا بتاؤں گا؟ "کہ میری بیوی مج…
"فیصلہ کرنے کے لیے۔ نوکری یا گھر۔۔۔۔ 🥹💔
رات کے کھانے کے بعد عادل نے دسترخوان سمیٹنے میں میری مدد نہیں کی۔ اس نے صرف اپنی چائے کا کپ اٹھایا، کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اتنی دیر تک باہر دیکھتا رہا کہ چائے ٹھنڈی ہو گئی۔
پھر اس نے کہا،
"تمہارے پاس تین دن ہیں۔”
میں نے پلیٹ میں پڑی آدھی روٹی کی طرف دیکھا۔
"کس لیے؟”
وہ مڑا نہیں۔
"فیصلہ کرنے کے لیے۔ نوکری یا گھر۔ دونوں ساتھ نہیں چلیں گے۔”
گیارہ سال کی شادی میں پہلی مرتبہ مجھے لگا کہ ہمارے درمیان رکھی ہوئی میز بہت لمبی ہو گئی ہے۔
میں نے خاموشی سے اپنا کپ اٹھایا۔ کپ کے کنارے پر چائے کی ایک بھوری لکیر جم گئی تھی۔ میں نے انگلی سے اسے صاف کیا۔
"اور اگر میں نوکری رکھ لوں؟”
اب وہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔
"تو میں وکیل سے بات کر لوں گا۔”
—
عادل سے میری ملاقات یونیورسٹی کے آخری سال میں ہوئی تھی۔
وہ مجھ سے دو سال بڑا تھا، ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور ہر بار بل آنے پر بڑے اطمینان سے جیب سے بٹوا نکالتا تھا۔
مجھے اس کی یہ عادت اچھی لگتی تھی۔
شاید اس لیے نہیں کہ وہ خرچ کرتا تھا، بلکہ اس لیے کہ اس وقت مجھے لگتا تھا کہ زندگی واقعی اتنی سادہ ہے۔
ایک گھر ہوگا۔
ایک شوہر ہوگا۔
دو بچے ہوں گے۔
اور تنخواہ ہر مہینے گھر کے خرچ کے بعد کچھ نہ کچھ بچا لیا کرے گی۔
شادی کے بعد جب میں نے پہلی بار کہا کہ میں اپنی ملازمت جاری رکھنا چاہتی ہوں تو عادل نے مسکرا کر کہا تھا،
"کرتی رہو، جب تک دل چاہے۔”
"اور اگر ہمیشہ دل چاہا؟”
وہ ہنسا تھا۔
"پھر دیکھیں گے۔”
میں نے اس وقت نہیں سمجھا تھا کہ بعض مردوں کا "دیکھیں گے” میں ایک پورا مستقبل دفن ہوتا ہے۔
—
میرا نام مریم ہے اور پندرہ سال کی ملازمت میں میری میز کئی بار بدلی، عہدے کئی بار بدلے، مگر میری عادت نہیں بدلی۔
میں ہر صبح وقت پر دفتر پہنچتی۔
فائلیں مکمل کرتی۔
میٹنگز میں نوٹس لیتی۔
اور شام کو گھر آ کر بچوں کا ہوم ورک دیکھتی۔
عادل کو ہمیشہ لگتا رہا کہ میری ترقی کے ساتھ گھر میں میری آواز بھی اونچی ہو رہی ہے۔
حالانکہ میں نے اپنی آواز کبھی بلند نہیں کی۔
ہاں، میری تنخواہ ضرور بلند ہوتی گئی تھی۔
پہلی بار جب میری آمدنی عادل سے زیادہ ہوئی تو اس نے رات کے کھانے پر مذاق کیا۔
"واہ بھئی، اب تو گھر کا اصل کمانے والا آ گیا۔”
میں ہنس دی۔
اس نے بھی ہنسنے کی کوشش کی۔
لیکن اس رات اس نے الماری سے اپنی پرانی گھڑی نکالی، کافی دیر تک اسے صاف کرتا رہا، پھر دوبارہ ڈبے میں رکھ دی۔
میں نے دیکھا تھا۔
کچھ چیزیں مرد زبان سے نہیں، چیزوں سے کہتے ہیں۔
—
اس کے بعد مذاق بدل گئے۔
"آج باس نے گھر آنے کی اجازت دے دی؟”
"میڈم کی میٹنگ ختم ہوئی یا ابھی قوم منتظر ہے؟”
کبھی بچوں کے سامنے:
"اپنی امی سے پوچھو، ان کے پاس وقت کہاں ہے؟ وہ بہت بڑی افسر ہیں۔”
میں ہر بار مسکرا دیتی۔
بچے بھی ہنس دیتے۔
عادل بھی۔
صرف میرے اندر کوئی چیز ہر بار خاموش ہو جاتی۔
پھر ایک دن میری بیٹی نے اپنی اسکول کی ڈرائنگ دکھاتے ہوئے کہا،
"امی، آپ گھر میں کیوں نہیں ہوتی جتنا ابو ہوتے ہیں؟”
میں نے اسے سینے سے لگا لیا۔
"کیونکہ امی کام کرتی ہے۔”
اس نے معصومیت سے پوچھا،
"ابو بھی تو کام کرتے ہیں۔”
میں نے جواب نہیں دیا۔
اس عمر میں بچوں کو یہ سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی محنت کو خاندان کا فرض کہا جاتا ہے اور بعض کی محنت کو خاندان سے غداری۔
—
پچھلے جمعے کو دفتر میں مجھے بلایا گیا۔
میرے سامنے کاغذ رکھا تھا۔
نیا عہدہ۔
زیادہ اختیار۔
زیادہ تنخواہ۔
ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے کی سہولت۔
وہ سب کچھ جس کے لیے میں نے پندرہ سال صبحوں کو جلدی اٹھ کر، بخار میں دفتر جا کر، بچوں کے اسکول فنکشن چھوڑ کر اور کئی عیدوں پر چھٹی نہ لے کر حاصل کیا تھا۔
میرے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔
میں نے کاغذ پر اپنا نام دیکھا۔
مریم صدیقی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر۔
مجھے پہلی بار اپنی زندگی میں لگا کہ میرے نام کے آگے کوئی لفظ واقعی میرا ہے۔
گھر پہنچتے ہوئے میں نے راستے سے عادل کی پسند کے سموسے لیے۔
بچوں کے لیے جلیبی۔
اور اپنے لیے کچھ نہیں۔
خوشی میں مجھے بھوک نہیں لگ رہی تھی۔
دروازہ کھولا تو عادل صحن میں بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا۔
میں نے لفافہ اس کے سامنے رکھ دیا۔
"کیا ہے؟”
"کھولو۔”
اس نے کھولا۔
پڑھا۔
پھر دوبارہ پڑھا۔
"مبارک ہو۔”
بس اتنا کہا۔
میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔
"تم خوش نہیں ہو؟”
اس نے کاغذ تہہ کیا۔
"خوش ہوں۔”
"واقعی؟”
"ہاں۔”
پھر اس نے پوچھا،
"کتنی تنخواہ ہے؟”
میں نے بتا دی۔
اس نے موبائل کی اسکرین بند کر دی۔
کمرے میں پنکھے کی آواز اچانک بہت تیز محسوس ہونے لگی۔
—
اسی رات اس نے پہلی بار کہا،
"میں اپنے دوستوں کو کیا بتاؤں گا؟”
میں نے سمجھا شاید مذاق ہے۔
"کیا بتاؤ گے؟”
"کہ میری بیوی مجھ سے زیادہ کماتی ہے۔”
میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔
وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔
"تمہیں اندازہ ہے آدمی پر کیا گزرتی ہے؟”
"کون سا آدمی؟”
وہ رک گیا۔
"مجھ پر۔”
میں نے پہلی مرتبہ اسے غور سے دیکھا۔
وہ وہی آدمی تھا جس نے کبھی مجھے نوکری کرنے کی اجازت دی تھی۔
لیکن شاید وہ مجھے آگے بڑھنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔
"عادل، یہ میری ترقی ہے۔ ہماری نہیں تو کم از کم میری تو ہے۔”
وہ تلخی سے ہنسا۔
"بس یہی مسئلہ ہے۔ تمہاری۔”
—
اگلے دن اس کی والدہ آئیں۔
امی جان ہمیشہ کی طرح تسبیح ہاتھ میں لیے بیٹھی تھیں۔
انہوں نے مجھے چائے بناتے دیکھا تو بولیں،
"بیٹی، عورت جتنی بھی آگے نکل جائے، آخر گھر ہی سنبھالنا ہوتا ہے۔”
میں نے کپ میز پر رکھا۔
"جی۔”
وہ مجھے دیکھ کر مسکرائیں۔
"تمہارا عہدہ بہت بڑا ہو گیا ہے، سنا ہے۔”
"جی۔”
"اچھی بات ہے۔ مگر عادل کا بھی خیال رکھا کرو۔ مرد کو گھر میں اپنی جگہ چاہیے ہوتی ہے۔”
میں نے پہلی بار پوچھا،
"اور عورت کی؟”
ان کی انگلیاں تسبیح کے دانے پر رک گئیں۔
وہ کچھ نہ بولیں۔
عادل دوسرے کمرے سے سب سن رہا تھا۔
—
تیسرے دن صبح میں نے الماری کھولی۔
وہیں ایک چھوٹا سا لوہے کا ڈبہ رکھا تھا۔
اس میں گھر کی اصل چابی پڑی تھی۔
وہی چابی جو شادی کے دوسرے دن عادل نے میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا تھا،
"اب یہ تمہارا گھر ہے۔”
مجھے یاد تھا۔
تب چابی بہت بڑی لگتی تھی۔
اب بہت چھوٹی۔
میں نے اسے ہتھیلی میں رکھا۔
عادل ناشتے کی میز پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔
"آج آخری دن ہے،” اس نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر کہا۔
میں نے ناشتہ اس کے سامنے رکھا۔
"ہاں۔”
"فیصلہ؟”
میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
"کر لیا۔”
اس نے اخبار تہہ کیا۔
"تو؟”
میں نے گھر کی چابی میز پر رکھ دی۔
اس کی نظریں چابی پر جم گئیں۔
"یہ کیا ہے؟”
"گھر کی چابی۔”
"مجھے معلوم ہے۔”
"نہیں۔ آج سے اس کا مطلب بدل گیا ہے۔”
وہ خاموش رہا۔
میں نے گہری سانس لی۔
"میں نے نوکری نہیں چھوڑی۔”
اس کے چہرے پر جیسے کسی نے اچانک پردہ گرا دیا۔
"تو پھر؟”
"تو پھر تم نے جو کہا تھا، وہ کر لو۔ وکیل سے بات کر لو۔”
اس نے میز پر ہاتھ مارا۔
"بچے؟”
"بچے میرے بھی ہیں۔”
"تم انہیں چھوڑ دو گی؟”
میں نے پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔
"نہیں۔”
پھر چابی اٹھائی۔
"میں صرف وہ گھر چھوڑ رہی ہوں جس میں رہنے کے لیے مجھے اپنی زندگی چھوڑنی پڑے۔”
وہ کچھ دیر تک مجھے دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
"تمہیں لگتا ہے تم جیت گئی ہو؟”
میں نے دروازہ کھولا۔
باہر صبح کی دھوپ صحن کے فرش پر پڑ رہی تھی۔
"نہیں۔”
میں نے بچوں کے جوتے سیدھے کیے۔
"مجھے لگتا ہے میں نے پہلی بار کسی مقابلے میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے۔”
—
تین ماہ بعد عدالت میں عادل نے بچوں کی تحویل کا مطالبہ کیا۔
وکیل نے مجھ سے پوچھا،
"آپ کے پاس گھر کون سا ہے؟”
میں نے اپنے بیگ سے وہی پرانی چابی نکالی۔
کچھ لمحے اسے دیکھا۔
پھر واپس بیگ میں رکھ دی۔
"گھر؟”
میں نے کہا۔
"ابھی بنا رہی ہوں۔”
کھڑکی کے باہر عدالت کی راہداری میں بہت سے لوگ اپنے اپنے کاغذ لیے بیٹھے تھے۔
کسی کے پاس جائیداد کے کاغذ تھے۔
کسی کے پاس نکاح نامہ۔
کسی کے پاس طلاق کا نوٹس۔
اور میرے ہاتھ میں ایک ایسی چابی تھی جو کسی دروازے کو نہیں کھولتی تھی۔
پھر بھی میں نے اسے پھینکا نہیں۔
کیونکہ کچھ چابیاں دروازے نہیں کھولتیں۔
وہ انسان کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ دروازہ کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔
لیکن کیا میرا فیصلہ درست تھا؟
افسانہ: الٹیمیٹم
©️ انتخاب سخن