منتخب غزلیں

اب کسے دیکھنے بیٹھے ہو لئے درد کی ضو اٹھ گئے لوگ …

اب کسے دیکھنے بیٹھے ہو لئے درد کی ضو
اٹھ گئے لوگ جو آنکھوں میں حیا رکھتے تھے
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی کا جنم دن
16 September 1946
ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے
دل میں جھانکو تو کئی شہر بسا رکھتے تھے
اب کسے دیکھنے بیٹھے ہو لئے درد کی ضو
اٹھ گئے لوگ جو آنکھوں میں حیا رکھتے تھے
اس طرح تازہ خداؤں سے پڑا ہے پالا
یہ بھی اب یاد نہیں ہے کہ خدا رکھتے تھے
چھین کر کس نے بکھیرا ہے شعاعوں کی طرح
رات کا درد زمانے سے بچا رکھتے تھے
لے گئیں جانے کہاں گرم ہوائیں ان کو
پھول سے لوگ جو دامن میں صبا رکھتے تھے
کل جو دیکھا تو وہ آنکھوں میں لئے پھرتا تھا
ہائے وہ چیز کہ ہم سب سے چھپا رکھتے تھے
تازہ زخموں سے چھلک اٹھیں پرانی ٹیسیں
ورنہ ہم درد کا احساس نیا رکھتے تھے
یہ جو روتے ہیں لئے آنکھ میں ٹوٹے تارے
اپنے چہرے پہ کبھی چاند سجا رکھتے تھے
آج وہ شہر خموشاں کی طرح ہیں اجملؔ
کل تلک شہر میں جو دھوم مچا رکھتے تھے
…..
بکھرتی خاک میں کوئی خزانہ ڈھونڈھتی ہے
تھکی ہاری زمیں اپنا زمانہ ڈھونڈھتی ہے
شجر کٹتے چلے جاتے ہیں دل کی بستیوں میں
تری یادوں کی چڑیا آشیانہ ڈھونڈھتی ہے
یقیں کی سر زمیں ظاہر ہوئی اجڑے لہو میں
یہ ارض بے وطن اپنا ترانہ ڈھونڈھتی ہے
بھٹکتی ہے تجھے ملنے کی خواہش محفلوں میں
یہ خواہش خواہشوں میں آستانہ ڈھونڈھتی ہے
ترے غم کا خمار اترا ادھوری کیفیت میں
یہ کیفیت کوئی موسم پرانا ڈھونڈھتی ہے
بکھرتا ہوں جدائی کی اکیلی وسعتوں میں
یہ ویرانی مرے گھر میں ٹھکانہ ڈھونڈھتی ہے
مری مٹی سجائی جا رہی ہے آنگنوں میں
یہ رستوں پر تڑپنے کا بہانہ ڈھونڈھتی ہے
…………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/