منتخب نظمیں

وہ بچہ روٹی لے کر ایسے اٹھا جیسے اسے کوئی خزانہ م…

💥 وہ بچہ روٹی لے کر ایسے اٹھا جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔”🥹💔

رات کے کھانے پر حارث نے روٹی کا آخری نوالہ منہ میں ڈالا، پلیٹ میں پڑی دو روٹیاں اٹھا کر فرش پر پھینک دیں اور ماں کی طرف دیکھے بغیر بولا،

"اماں، آدمی ایک وقت کا کھانا بھی ڈھنگ سے نہ کھائے تو پھر ایسی روٹی کا کیا فائدہ؟”

ماں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

وہ جھکی، فرش سے روٹیاں اٹھائیں، ان پر لگی مٹی انگلیوں سے جھاڑی اور انہیں اپنے پرانے اسٹیل کے ٹفن میں رکھ دیا۔

وہی ٹفن جس کا ڈھکن کئی سال پہلے ایک طرف سے پچک گیا تھا۔

حارث نے ناک سکیڑی۔

"یہ بھی اٹھا کر رکھ لیتی ہو؟”

ماں مسکرائی۔

"روٹی ہے بیٹا، کوئی اخبار نہیں کہ کل کی ہو تو ردی میں پھینک دیں۔”

حارث نے کرسی پیچھے سرکائی۔

"اماں، میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ دفتر میں بھی وقت نہیں ملا۔ گھر آ کر یہ باسی روٹیاں مل رہی ہیں۔”

ماں نے ٹفن بند کرتے ہوئے صرف اتنا کہا،

"تمہارے لیے ہر رات تازہ بنتی ہیں۔”

حارث رک گیا۔

"پھر مجھے باسی کیوں دی؟”

ماں کے ہاتھ ایک لمحے کو ٹھہرے۔

پھر اس نے نظریں جھکا لیں۔

"تازہ تمہارے ابا کے لیے رکھ دی تھیں۔”

"ابا کے لیے؟”

"ہاں۔”

"وہ تو دوپہر کا کھانا گھر سے لے جاتے ہیں۔”

ماں نے ٹفن میز پر رکھا اور آہستہ سے بولی،

"چار پانچ دن سے دوپہر میں یہی روٹیاں لے جا رہے ہیں۔”

حارث کے چہرے پر جھنجھلاہٹ کی جگہ کچھ اور اترنے لگا۔

"لیکن کیوں؟”

ماں نے پہلی مرتبہ اس کی طرف دیکھا۔

"کیونکہ تم نے کھانی چھوڑ دی تھیں۔”

کمرے میں پنکھے کی چرچراہٹ سنائی دینے لگی۔

ماں نے نظریں ہٹا لیں۔

"تم کبھی کھا لیتے ہو، کبھی باہر سے کھا کر آتے ہو، کبھی پلیٹ میں چھوڑ دیتے ہو۔ تمہارے ابا نے کہا تھا، جو بچ جائے میرے ٹفن میں رکھ دیا کرو۔”

وہ ٹفن اٹھا کر باورچی خانے کی طرف چل دی۔

دروازے پر پہنچ کر رکی۔

"آج میں نے ان کے لیے تازہ روٹی رکھی تھی۔”

وہ چلی گئی۔

حارث دیر تک فرش کو دیکھتا رہا۔

وہی فرش جس پر ابھی کچھ دیر پہلے اسے باسی روٹی نظر آ رہی تھی۔

اب اسے وہاں کسی کا جھکا ہوا ہاتھ دکھائی دے رہا تھا۔

اگلی صبح اس نے دفتر جانے کے بجائے موٹر سائیکل نکالی اور سیدھا کھیتوں کی طرف چل پڑا۔

ستمبر کی دھوپ میں زمین کا رنگ زرد ہو گیا تھا۔ دور ایک ٹیوب ویل چل رہا تھا اور پانی کی مسلسل آواز میں کسی تھکے ہوئے آدمی کی سانس جیسی اداسی تھی۔

حارث نے ابا کو کپاس کی کیاری کے کنارے بیٹھے دیکھا۔

ان کے سامنے وہی پچکا ہوا اسٹیل کا ٹفن کھلا پڑا تھا۔

حارث کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔

پھر بولا،

"ابا۔”

بوڑھے نے سر اٹھایا۔

"آ گیا؟ دفتر نہیں گیا؟”

حارث نے ٹفن کی طرف دیکھا۔

"آپ یہ روٹیاں کیوں کھاتے ہیں؟”

ابا نے روٹی کا ٹکڑا توڑا۔

"روٹی ہے۔ کھا لیتا ہوں۔”

"باسی ہوتی ہیں۔”

ابا نے ٹکڑا سالن میں ڈبویا۔

"ہوتی ہیں۔”

"تازہ کیوں نہیں لے جاتے؟”

بوڑھے نے اس کی طرف دیکھا۔

کچھ دیر تک دیکھتے رہے، جیسے سوال روٹی کا نہیں، کسی اور چیز کا ہو۔

پھر بولے،

"تازہ تمہارے لیے بنتی ہے نا۔”

حارث نے نظریں جھکا لیں۔

ابا نے روٹی کا نوالہ منہ میں رکھا۔

"مجھے باسی سے کوئی شکایت نہیں۔”

حارث نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس آدمی کے ہاتھ کتنے بوڑھے ہو چکے ہیں۔

انگلیوں کے بیچ مٹی بھری ہوئی تھی۔

ناخنوں کے کناروں پر دراڑیں تھیں۔

اور کلائی پر وہی پرانی گھڑی بندھی تھی جو شاید پندرہ سال سے چل نہیں رہی تھی، مگر ابا اسے ہر روز باندھتے تھے۔

حارث نے دھیمی آواز میں پوچھا،

"آپ کو یاد ہے جب میں چھوٹا تھا؟”

ابا ہنسے۔

"تمہیں کیا یاد ہے؟ تم تو ہر وقت کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے تھے۔”

حارث کے ہونٹوں پر معمولی سی مسکراہٹ آئی۔

"ایک دفعہ میں نے روٹی نہیں کھائی تھی۔”

ابا کا ہاتھ رک گیا۔

"تمہیں یاد ہے؟”

"نہیں۔”

"مجھے ہے۔”

دھوپ میں اچانک جیسے کوئی پرانا دروازہ کھل گیا۔

ابا نے ٹفن کا ڈھکن بند کیا اور دور کھیت کی طرف دیکھنے لگے۔

"تم چھ سات سال کے تھے۔ سردیوں کا زمانہ تھا۔ تم نے آدھی روٹی کھائی، پھر رونے لگے کہ ٹافی چاہیے۔ میں تمہیں دکان پر لے جا رہا تھا۔ گھر سے باہر نکلے تو گلی کے کونے پر ایک بچہ بیٹھا تھا۔”

حارث خاموش سنتا رہا۔

"اس کے کپڑے گندے تھے۔ پاؤں ننگے تھے۔ میں نے پوچھا، ٹافی کھاؤ گے؟”

ابا مسکرائے۔

"اس نے کہا، ‘نہیں، روٹی چاہیے۔'”

حارث کی نظریں ٹفن پر جم گئیں۔

"تمہارے ہاتھ میں آدھی روٹی تھی۔ تم اسے ٹافی کے بدلے پھینکنے والے تھے۔ میں نے وہ روٹی اس بچے کو دے دی۔”

"اور؟”

"اور کچھ نہیں۔”

ابا نے کندھے اچکائے۔

"وہ بچہ روٹی لے کر ایسے اٹھا جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔”

حارث نے پوچھا،

"پھر آپ نے ٹافی نہیں دلائی؟”

ابا ہنسے۔

"دلائی تھی۔”

"مجھے یاد نہیں۔”

"اسی لیے تو کہہ رہا ہوں، تمہیں کچھ یاد نہیں۔”

حارث کی آنکھیں ٹفن پر جمی رہیں۔

ابا نے آہستہ سے کہا،

"مگر مجھے وہ بچہ آج تک یاد ہے۔”

کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔

پھر ابا نے جیب سے رومال نکالا، پیشانی کا پسینہ پونچھا اور بولے،

"بیٹا، آدمی کو اللہ کبھی کبھی کتاب کھول کر سبق نہیں دیتا۔ کسی بھوکے کے ہاتھ میں تمہاری آدھی روٹی رکھ دیتا ہے۔”

حارث نے سر اٹھایا۔

ابا کی آواز میں نصیحت نہیں تھی۔

صرف تھکن تھی۔

اور ایک پرانی یاد۔

"تمہیں معلوم ہے اس روٹی میں کیا تھا؟”

حارث نے نفی میں سر ہلایا۔

"گندم۔”

وہ ہنسے۔

"مگر صرف گندم نہیں۔”

انہوں نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی اٹھائی۔

"اس میں یہ مٹی بھی تھی۔ بارش بھی۔ کسان کا پسینہ بھی۔ تمہاری ماں کی رات کی جاگ بھی۔ اور اس دعا کا حصہ بھی جو ہم کھاتے وقت نہیں سوچتے۔”

حارث کچھ کہنا چاہتا تھا مگر الفاظ حلق میں اٹک گئے۔

ابا نے ٹفن اپنی طرف کھینچ لیا۔

"اسی لیے روٹی پھینکتے ہوئے ذرا احتیاط کیا کرو۔ کبھی کبھی آدمی روٹی نہیں پھینکتا، کسی دوسرے کی امید پھینک دیتا ہے۔”

حارث نے نظریں چرا لیں۔

ٹیوب ویل کی آواز بدستور چل رہی تھی۔

پانی زمین میں جا رہا تھا۔

حارث نے پہلی بار سوچا کہ شاید رزق بھی پانی جیسا ہوتا ہے۔

جہاں اس کی قدر نہ ہو، وہاں بھیجا ہوا پانی کسی اور کھیت کا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔

اس دن وہ ابا کے ساتھ کافی دیر کھیت میں بیٹھا رہا۔

واپسی پر ابا نے ٹفن موٹر سائیکل کے ہینڈل پر لٹکا دیا۔

حارث نے اسے ہاتھ میں لے لیا۔

"میں اٹھا لیتا ہوں۔”

ابا نے کچھ نہیں کہا۔

صرف موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھ گئے۔

گھر پہنچ کر ماں نے حسبِ معمول پوچھا،

"کھانا لگا دوں؟”

حارث نے کہا،

"اماں، آج پہلے ٹفن دھو دوں؟”

ماں کے ہاتھ میں پکڑا گلاس وہیں رک گیا۔

اس نے بیٹے کی طرف دیکھا۔

پھر ٹفن کی طرف۔

اور پہلی بار اسے ایسا لگا جیسے پچکا ہوا ڈھکن سیدھا ہو گیا ہو۔

رات کو دسترخوان پر حارث نے اپنی پلیٹ میں ایک ہی روٹی رکھی۔

ماں نے حیرت سے دیکھا۔

"بس؟”

حارث نے مسکرا کر کہا،

"جتنی ضرورت ہے۔”

اس رات سالن کچھ زیادہ بچ گیا تھا۔

ماں نے پیالہ فریج میں رکھنے کے لیے اٹھایا تو حارث نے روک لیا۔

"اماں، کل اسے گرم کر لینا۔”

ماں نے کچھ نہیں کہا۔

صرف پیالہ واپس رکھ دیا۔

چند دن بعد حارث نے ایک نیا ٹفن خرید کر لایا۔

چمکتا ہوا، اچھا سا۔

ماں نے پرانا ٹفن دیکھ کر کہا،

"یہ اب کیا کرو گے؟”

حارث نے اسے دھویا، خشک کیا اور الماری کے اوپر رکھ دیا۔

"یہ رہنے دیں۔”

"کیوں؟”

حارث نے جواب نہیں دیا۔

وہ جانتا تھا کہ کچھ چیزیں استعمال کے لیے نہیں ہوتیں۔

صرف یاد رکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔

اگلی صبح ابا کھیت جانے لگے تو حارث نے نیا ٹفن ان کے ہاتھ میں دیا۔

ابا نے اسے دیکھا۔

پھر پرانے ٹفن کی طرف دیکھا۔

اور ہنس دیے۔

"اس میں روٹی گرم رہے گی؟”

حارث نے کہا،

"ہاں۔”

ابا نے سر ہلایا۔

"پھر پرانا کس کام کا؟”

حارث نے کچھ دیر سوچ کر کہا،

"اس میں ایک سبق گرم رہ گیا ہے، ابا۔”

ابا نے اسے دیکھا، مگر کچھ نہیں کہا۔

صرف اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

اور گھر سے باہر نکل گئے۔

حارث دروازے پر کھڑا انہیں دور جاتا دیکھتا رہا۔

کچھ فاصلے پر ابا نے مڑ کر ہاتھ ہلایا۔

حارث نے بھی ہاتھ اٹھایا۔

پھر اچانک اسے یاد آیا کہ آج ناشتہ کرتے ہوئے اس نے پلیٹ میں روٹی کا ایک ٹکڑا چھوڑ دیا تھا۔

وہ اندر گیا۔

ٹکڑا اٹھایا۔

کچھ دیر ہاتھ میں پکڑے رکھا۔

پھر اسے باہر پھینکنے کے بجائے پرانے ٹفن میں رکھ دیا۔

اس دن اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ باسی روٹی وہ نہیں ہوتی جو رات بھر پڑی رہے؛ باسی تو وہ نظر ہوتی ہے جو نعمت کو دیکھتے دیکھتے اس کی قیمت بھول جائے۔

اور الماری کے اوپر رکھا وہ پچکا ہوا ٹفن، جس میں اب کوئی روٹی نہیں رکھی جاتی تھی، ہر صبح اسے یاد دلاتا رہا کہ کسی زمانے میں ایک آدھی روٹی نے ایک باپ کو امیر کر دیا تھا۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/