ماہین کو آج بھی وہ تین سیکنڈ یاد تھے۔ وہ تین سیکن…
وہ تین سیکنڈ جن میں ارمغان نے کچھ نہیں کہا تھا، صرف دیکھا تھا۔
اور شاید یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
اس نے اُن تین سیکنڈوں کو محبت سمجھ لیا تھا۔
—
لاہور کی اُس شام بارش ابھی تھمی تھی۔
پرانی حویلی کے صحن میں گیلی مٹی کی خوشبو، چائے کی بھاپ اور بھیگے ہوئے پتوں کی مہک گھلی ہوئی تھی۔ لوگ کتابوں اور شاعری کے گرد جمع تھے، مگر ماہین کا دل کہیں نہیں تھا۔
وہ آنا نہیں چاہتی تھی۔
ارمغان بھی نہیں۔
دونوں الگ الگ دوستوں کے اصرار پر وہاں پہنچے تھے۔
پھر اچانک—
ماہین نے سر اٹھایا۔
ارمغان سامنے کھڑا تھا۔
نہ کوئی تعارف۔
نہ سلام۔
نہ کوئی جملہ۔
صرف آنکھیں ملیں۔
ایک سیکنڈ۔
دو سیکنڈ۔
تین سیکنڈ۔
اور ماہین کے اندر جیسے کسی نے برسوں سے بند پڑی کھڑکی کھول دی۔
اُسے عجیب سا یقین ہوا:
یہ شخص مجھے سمجھ سکتا ہے۔
یہ یقین کہاں سے آیا تھا؟
وہ نہیں جانتی تھی۔
ارمغان اسے جانتا تک نہیں تھا۔
مگر دل کو دلیل کب درکار ہوتی ہے؟
—
اُس رات گھر آ کر ماہین نے اپنی منگنی کی انگوٹھی اتار کر میز پر رکھ دی۔
لڑکا برا نہیں تھا۔
بلکہ شاید بہت اچھا تھا۔
تعلیم یافتہ، سلجھا ہوا، شریف خاندان سے تعلق، اچھی ملازمت۔
گھر والے خوش تھے۔
مگر ماہین کے اندر کچھ ہل گیا تھا۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید وہ ایک ایسی زندگی میں داخل ہونے جا رہی ہے جسے اُس نے خود کبھی چنا ہی نہیں۔
ارمغان کے ساتھ چند ملاقاتوں نے اس احساس کو اور گہرا کر دیا۔
وہ لمبی گفتگو کرتا۔
ماہین کی بات سنتا۔
اُس کے ادھورے جملے مکمل کر دیتا۔
کبھی وہ کہتا:
’’تم بہت زیادہ سوچتی ہو۔‘‘
اور ماہین ہنس کر جواب دیتی:
’’اور تم بہت کم۔‘‘
پھر دونوں ہنس دیتے۔
ماہین کو لگتا، یہی تو ہم آہنگی ہے۔
یہی تو وہ چیز ہے جس کی اسے برسوں سے تلاش تھی۔
ایک شام ارمغان نے پوچھا:
’’اگر تمہیں اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کا موقع ملے تو کیا کرو گی؟‘‘
ماہین نے دیر تک خاموش رہ کر کہا:
’’پتا نہیں۔ شاید پہلی بار خود سے پوچھوں گی کہ مجھے چاہیے کیا۔‘‘
ارمغان نے کہا:
’’تو پوچھو۔‘‘
بس۔
یہ دو لفظ تھے۔
مگر ماہین نے انہیں تقدیر کا اشارہ سمجھ لیا۔
—
منگنی ٹوٹ گئی۔
گھر میں کئی دن خاموشی رہی۔
امی روئیں۔
ابو ناراض ہوئے۔
رشتہ داروں نے طرح طرح کی باتیں کیں۔
کسی نے کہا:
’’لڑکی کے دماغ پر محبت سوار ہے۔‘‘
کسی نے کہا:
’’دیکھنا، دو دن میں عقل آ جائے گی۔‘‘
ماہین نے کسی کو جواب نہیں دیا۔
اُس نے صرف اتنا کہا:
’’میں غلط شادی سے ڈر گئی ہوں۔‘‘
چند ماہ بعد ماہین اور ارمغان کا رشتہ طے ہو گیا۔
گھر میں پھر رونق آ گئی۔
مہندی، نکاح، دعائیں، رشتے دار، ہنسی، تصویریں۔
ماہین نے اُس رات جب نکاح کے بعد پہلی بار ارمغان کو اپنے پاس بیٹھے دیکھا تو دل میں سوچا:
میں جیت گئی۔
اُسے معلوم نہیں تھا کہ شادی کوئی مقابلہ نہیں ہوتی۔
اور جسے ہم جیت سمجھ رہے ہوں، کبھی کبھی وہی زندگی کا سب سے طویل امتحان نکلتا ہے۔
—
شادی کے پہلے چند ہفتے خوبصورت تھے۔
ارمغان اسے دفتر سے واپسی پر لینے آتا۔
راستے میں چائے پیتے۔
ہفتے کی شام کہیں نکل جاتے۔
ماہین کو لگتا، اُس نے صحیح فیصلہ کیا تھا۔
پھر معمول زندگی پر غالب آنے لگا۔
ارمغان کو گھر کے معاملات میں مداخلت پسند نہیں تھی۔
ماہین چاہتی تھی کہ ہر بات پر گفتگو ہو۔
ارمغان کہتا:
’’ہر بات پر بات کرنا ضروری نہیں ہوتا۔‘‘
ماہین کہتی:
’’اور ہر بات خاموش کر دینا بھی ضروری نہیں۔‘‘
چھوٹی سی بات بحث بن جاتی۔
بحث خاموشی میں بدل جاتی۔
خاموشی کئی دنوں تک چلتی۔
پھر کسی معمولی جملے سے پرانی بات دوبارہ نکل آتی۔
’’تم پہلے ایسے نہیں تھے۔‘‘
ماہین کا یہ جملہ ارمغان کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتا۔
وہ جواب دیتا:
’’تم نے مجھے پہلے جانا ہی کب تھا؟‘‘
یہ جملہ ماہین کے دل میں تیر کی طرح لگتا۔
کیونکہ وہ جانتی تھی—
وہ درست کہہ رہا تھا۔
وہ اسے جانتی ہی کب تھی؟
تین سیکنڈ میں؟
—
وقت گزرتا گیا۔
ان کے درمیان محبت تھی، مگر سکون کم ہوتا گیا۔
وہ ایک دوسرے سے جدا بھی نہیں ہونا چاہتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی تھک جاتے تھے۔
ارمغان کبھی دیر سے گھر آتا تو ماہین سوال کرتی۔
’’کہاں تھے؟‘‘
’’کام تھا۔‘‘
’’ایک فون نہیں کر سکتے تھے؟‘‘
’’ہر وقت جواب دینا ضروری ہے؟‘‘
پھر بات بڑھتی۔
کبھی ماہین کی آواز بلند ہوتی۔
کبھی ارمغان دروازہ زور سے بند کر دیتا۔
کبھی دونوں گھنٹوں ایک ہی گھر میں اجنبی بنے بیٹھے رہتے۔
اور عجیب بات یہ تھی کہ ہر جھگڑے کے بعد ماہین کو وہ پہلی شام یاد آتی۔
بارش۔
حویلی۔
چائے۔
اور وہ تین سیکنڈ۔
وہ سوچتی:
ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے؟
—
ایک رات جھگڑا بہت بڑھ گیا۔
ارمغان نے غصے میں کہا:
’’تم نے مجھ سے شادی نہیں کی تھی، تم نے اُس آدمی سے شادی کی تھی جو تم نے اپنے ذہن میں بنا لیا تھا۔‘‘
ماہین ساکت رہ گئی۔
ارمغان نے بھی شاید پہلی بار اپنے ہی الفاظ کی شدت محسوس کی۔
مگر اب دیر ہو چکی تھی۔
ماہین اپنے کمرے میں چلی گئی۔
دراز کھولی۔
وہاں ایک پرانا کاغذ پڑا تھا۔
وہی ادبی نشست کا دعوت نامہ۔
کونے پر اُس دن کی تاریخ اب بھی لکھی تھی۔
ماہین نے اسے ہاتھ میں لیا۔
اور اچانک اُسے لگا جیسے پوری زندگی ایک لمحے کے اندر سمٹ آئی ہو۔
اُس نے آنکھیں بند کیں۔
پھر ایک سوال خود سے کیا:
**اگر اُس شام ارمغان کی آنکھیں میری آنکھوں سے نہ ملتیں تو؟**
شاید منگنی نہ ٹوٹتی۔
شاید شادی کسی اور سے ہوتی۔
شاید زندگی مختلف ہوتی۔
شاید بہتر۔
شاید بدتر۔
کون جانتا ہے؟
مگر پھر ایک اور سوال آیا۔
اور یہ سوال زیادہ خوفناک تھا:
**اگر وہ تین سیکنڈ محبت نہیں تھے تو کیا تھے؟**
—
اگلے دن ماہین نے ارمغان سے کہا:
’’مجھے تم سے ایک بات پوچھنی ہے۔ سچ سچ جواب دینا۔‘‘
ارمغان خاموش رہا۔
ماہین نے پوچھا:
’’اُس شام جب ہماری پہلی بار نظریں ملی تھیں… تمہیں کیا محسوس ہوا تھا؟‘‘
ارمغان نے کافی دیر تک اسے دیکھا۔
پھر آہستہ سے کہا:
’’سچ سننا چاہتی ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مجھے کچھ خاص محسوس نہیں ہوا تھا۔‘‘
ماہین جیسے پتھر کی ہو گئی۔
ارمغان نے نظریں جھکا لیں۔
’’میں تمہیں خوبصورت سمجھا تھا۔ بس۔ پھر بات ہوئی تو تم اچھی لگیں۔ لیکن وہ جو تم تین سیکنڈ کی کہانی بناتی رہی ہو… وہ شاید تمہاری طرف سے تھی۔‘‘
ماہین کے چہرے پر کوئی رنگ نہ رہا۔
ارمغان نے مزید کہا:
’’میں نے تمہیں کبھی نہیں کہا تھا کہ تم میری تقدیر ہو۔ یہ سب تم نے خود سمجھا تھا۔‘‘
ماہین نے آنکھیں بند کر لیں۔
اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ محبت کبھی کبھی دو انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی۔
ایک انسان کے دل میں ہوتی ہے، اور دوسرا صرف اُس کا سبب بن جاتا ہے۔
—
اُس رات ماہین دیر تک جاگتی رہی۔
صبح فجر کی اذان ہوئی تو وہ چھت پر چلی گئی۔
آسمان ابھی سیاہ تھا۔
دور کہیں مرغ نے بانگ دی۔
شہر نیند سے بیدار ہو رہا تھا۔
ماہین نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اسے ارمغان سے نفرت نہیں تھی۔
محبت بھی شاید پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
مگر ایک عجیب سی سمجھ اُس کے اندر اتر رہی تھی۔
زندگی میں بعض فیصلے غلط نہیں ہوتے۔
ہم صرف اُن سے **وہ نتیجہ مانگ لیتے ہیں جو اُن کے اندر ہوتا ہی نہیں۔**
ارمغان شاید اُس کی منزل نہیں تھا۔
مگر اُس نے ماہین کو اُس کے اپنے سوال سے ضرور ملوایا تھا۔
اور کبھی کبھی انسان کسی شخص سے محبت نہیں کرتا۔
وہ اُس احساس سے محبت کرتا ہے جو اُس شخص کے آنے سے اپنے اندر پیدا ہوتا ہے۔
—
کئی سال بعد ایک شام ماہین اسی پرانی حویلی کے سامنے سے گزری۔
گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو قدم جیسے اندر ہی اندر رک گئے۔
وہی صحن۔
وہی زرد روشنیاں۔
وہی جگہ جہاں کبھی تین سیکنڈ نے اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔
اس نے ڈرائیور سے کہا:
’’گاڑی روک دیں۔‘‘
وہ کچھ دیر باہر کھڑی رہی۔
حویلی میں آج پھر ادبی نشست تھی۔
لوگ آ جا رہے تھے۔
ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں۔
چائے کے کپ بج رہے تھے۔
اور ماہین کو اچانک محسوس ہوا کہ وقت نے کوئی چکر مکمل کر لیا ہے۔
وہ اندر نہیں گئی۔
بس دروازے پر کھڑی رہی۔
اتنے میں ایک نوجوان لڑکا تیزی سے باہر نکلا۔ شاید کسی دوست کو تلاش کر رہا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں کتاب تھی، چہرے پر بے فکری، آنکھوں میں وہی بے ساختہ چمک جو کبھی ماہین نے ارمغان کی آنکھوں میں دیکھی تھی۔
ایک لمحے کے لیے اُس لڑکے کی نظر ماہین پر پڑی۔
پھر وہ آگے بڑھ گیا۔
بس ایک لمحہ۔
ماہین کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اس نے سوچا:
کتنی عجیب بات ہے… انسان ایک عمر میں جس چیز کو تقدیر سمجھ لیتا ہے، دوسری عمر میں اُسی چیز کو محض ایک لمحہ سمجھنے لگتا ہے۔
وہ واپس گاڑی میں بیٹھ گئی۔
راستے بھر بارش ہوتی رہی۔
—
رات کو گھر آ کر ماہین نے اپنی پرانی ڈائری کھولی۔
پہلے صفحے پر ایک جملہ لکھا تھا:
’’تین سیکنڈ کافی ہوتے ہیں زندگی بدلنے کے لیے۔‘‘
ماہین نے قلم اٹھایا۔
کافی دیر تک اُس جملے کو دیکھتی رہی۔
پھر اُس کے نیچے لکھا:
’’مگر سنوارنے کے لیے نہیں۔‘‘
وہ دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔
باہر بارش شروع ہو چکی تھی۔
بالکل ویسی ہی بارش جیسی اُس شام ہوئی تھی۔
ماہین نے کھڑکی کھولی۔
ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔
اور اُسے محسوس ہوا کہ زندگی کے سب سے بڑے حادثے ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں آتے۔
کبھی وہ صرف ایک نظر ہوتے ہیں۔
ایک مسکراہٹ۔
ایک جملہ۔
چند لمحوں کا دل میں اُٹھتا ہوا ارتعاش۔
اور انسان سمجھتا ہے کہ شاید تقدیر نے دروازہ کھولا ہے۔
پھر وہ اُس دروازے سے گزر جاتا ہے۔
کئی سال بعد معلوم ہوتا ہے کہ دروازہ منزل کا نہیں تھا۔
وہ صرف ایک **بہت گہری آزمائش** کا دروازہ تھا۔
ماہین نے ڈائری بند کر دی۔
بارش تیز ہو گئی۔
اور اسے اچانک خیال آیا—
کبھی کبھی تین سیکنڈ اور چند لمحوں کا دل میں اُٹھا ہوا ارتعاش پوری زندگی میں ایسا بحران لے آتا ہے کہ انسان برسوں اُس کی قیمت ادا کرتا رہتا ہے۔
اور کبھی—
وہی تین سیکنڈ انسان کو اُس شخص سے نہیں،
**خود اُس سے ملا دیتے ہیں جسے وہ عمر بھر سب سے زیادہ نظرانداز کرتا رہا ہوتا ہے:**
اپنے آپ سے۔ 🙂
افسانہ : تین سیکنڈ
انتخاب سخن
~Faizaan ~
#loveatfirstsight #LoveOrNothing