منتخب نظمیں

ابا کے ہاتھوں سے ہمیشہ لکڑی اور پسینے کی ملی جلی خ…

ابا کے ہاتھوں سے ہمیشہ لکڑی اور پسینے کی ملی جلی خوشبو آتی تھی۔

سترہ برس کی عمر سے بڑھئی کا کام شروع کیا تھا اور اب اڑسٹھ برس کے ہو چکے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی عادت نہیں بدلی تھی۔ گھر کے برآمدے میں پڑی پرانی لکڑی کی میز، ہتھوڑی، آری اور پیمانہ ان کے لیے کسی خزانے سے کم نہ تھے۔

وہ کہا کرتے تھے:

"بیٹا، آدمی کی اصل پہچان اس کے وعدے سے ہوتی ہے۔”

میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ یہ بات شاید ان کے زمانے میں درست رہی ہوگی۔

آج کے زمانے میں نہیں۔

ہمارے محلے میں چند ماہ پہلے کاشف نام کا ایک آدمی آ کر آباد ہوا تھا۔ اچھا گھر، نئی گاڑی، مہنگے کپڑے اور باتوں میں ایسی مٹھاس کہ پہلی ملاقات میں آدمی اسے اپنا پرانا جاننے لگتا۔

ایک دن اس نے ابا کو اپنے گھر کے پچھلے برآمدے کی طرف بلایا۔

چھت ٹوٹی ہوئی تھی، لکڑی گل چکی تھی اور فرش جگہ جگہ سے بیٹھا ہوا تھا۔

کاشف نے کہا:

"حاجی صاحب، آپ کے ہاتھ کا کام پورے علاقے میں مشہور ہے۔ بس یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں۔”

ابا خوش ہو گئے۔

طے ہوا کہ چھ ہفتے میں کام مکمل ہوگا اور مزدوری سمیت سات لاکھ پچاس ہزار روپے میں پورا برآمدہ دوبارہ بنا دیا جائے گا۔

میں نے فوراً کہا:

"ابا، کم از کم آدھے پیسے پہلے لے لیں۔ سامان بھی تو خریدنا ہے۔”

ابا نے ہنس کر کہا:

"کاشف اپنا آدمی ہے۔ کام ختم ہوگا تو پورے پیسے دے دے گا۔”

میں نے کہا:

"لیکن سامان کے پیسے آپ کہاں سے دیں گے؟”

ابا نے الماری کھولی اور اپنی تمام عمر کی بچی ہوئی رقم میں سے کچھ پیسے نکال لیے۔

"بس اتنا ہی تو ہے۔ کام ختم کرو، پیسے واپس آ جائیں گے۔”

پہلے ہفتے لکڑی آئی۔

دوسرے ہفتے لوہے کے اینگل اور پیچ آئے۔

تیسرے ہفتے چھت کا کام شروع ہوا۔

ہر ہفتے ابا کا کچھ نہ کچھ خرچ ہوتا گیا۔

اور ہر ہفتے کاشف کا ایک ہی جواب ہوتا:

"حاجی صاحب، بس ذرا ادائیگی آنے والی ہے۔ پورا حساب ایک ساتھ کر دوں گا۔”

ابا کچھ نہ کہتے۔

وہ صبح فجر کے بعد گھر سے نکلتے اور شام تک کام کرتے۔

جون کی سخت گرمی میں پسینے سے ان کی شلوار قمیض بھیگ جاتی۔ کبھی گھٹنوں میں درد ہوتا، کبھی کمر پکڑ لیتے، مگر اگلے دن پھر اسی برآمدے میں پہنچ جاتے۔

ایک دن میں نے غصے سے کہا:

"آپ اس آدمی کے لیے اپنی جمع پونجی کیوں لگا رہے ہیں؟”

ابا نے چائے کا کپ اٹھایا۔

"اس نے وعدہ کیا ہے۔”

میں خاموش ہو گئی۔

کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ ابا سے بحث کرنا آسان نہیں۔

چھٹے ہفتے کی جمعرات کو آخری ریلنگ بھی لگ گئی۔

ابا نے اسے ہاتھ سے ہلا کر دیکھا۔

ذرا بھی نہیں ہلی۔

وہ مسکرائے۔

"دیکھا؟ اب اس کے بچے بھی اس پر جھولیں تو نہیں گرے گی۔”

جمعہ کی شام کام مکمل ہو گیا۔

ابا نے سامان سمیٹا، اپنے اوزار ایک کپڑے میں باندھے اور کاشف کو آواز دی۔

کاشف باہر آیا۔

ابا نے کہا:

"بس بیٹا، اب حساب کر دو۔”

کاشف چند لمحے انہیں دیکھتا رہا۔

پھر اچانک ہنس پڑا۔

"کون سا حساب؟”

ابا کے چہرے پر حیرت آ گئی۔

"وہی جو طے ہوا تھا۔ سات لاکھ پچاس ہزار۔”

کاشف نے موبائل جیب میں ڈالا۔

"حاجی صاحب، آپ کے پاس کوئی لکھت ہے؟”

ابا خاموش۔

"کوئی اسٹامپ پیپر؟ معاہدہ؟”

خاموشی۔

کاشف مسکرایا۔

"تو پھر آپ ثابت کیسے کریں گے کہ میں نے آپ کو اتنے پیسے دینے تھے؟”

ابا نے آہستہ سے کہا:

"بیٹا، تم نے میرے سامنے وعدہ کیا تھا۔”

کاشف نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا:

"حاجی صاحب، یہ عدالت ہے، پنچایت نہیں۔”

پھر اس نے ایک آخری جملہ کہا:

"آپ نے زندگی لکڑی کے ساتھ گزاری ہے، کاغذ کے ساتھ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے۔”

اور دروازہ بند کر دیا۔

ابا کافی دیر وہیں کھڑے رہے۔

میں ان کے پاس پہنچی تو ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔

"ابا، پولیس کو بلائیں؟”

انہوں نے سر ہلا دیا۔

"نہیں۔”

"تو پھر؟”

ابا نے کچھ نہیں کہا۔

اگلی صبح وہ سیدھے اس لکڑی کی دکان پر گئے جہاں سے سامان خریدا تھا۔

دکاندار نے تمام رسیدیں نکال دیں۔

پھر ابا نے اپنے پرانے موبائل میں محفوظ WhatsApp پیغامات دیکھے۔

کاشف کے پیغامات تھے:

"حاجی صاحب، کام جاری رکھیں، پیمنٹ میں کوئی مسئلہ نہیں۔”

"ریلنگ بھی اچھی بنا دیں، حساب آخر میں کر لیں گے۔”

"بس آخری کام رہ گیا ہے، پیسے ایک ساتھ مل جائیں گے۔”

ابا پہلی بار مسکرائے۔

پھر انہوں نے ایک وکیل سے رابطہ کیا۔

کچھ دن بعد کاشف کو قانونی نوٹس پہنچا۔

تب معلوم ہوا کہ ابا اکیلے نہیں تھے۔

کاشف نے محلے کے دو اور لوگوں سے بھی کام کروایا تھا اور دونوں کو ادائیگی نہیں کی تھی۔

تینوں نے اپنے ثبوت جمع کر دیے۔

رسیدیں۔

WhatsApp پیغامات۔

بینک ریکارڈ۔

گواہ۔

اس بار کاشف کے پاس ہنسنے کی وجہ نہیں تھی۔

تقریباً ایک ماہ بعد وہ خود ابا کے گھر آیا۔

اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔

"حاجی صاحب، یہ آپ کے پیسے ہیں۔”

ابا نے لفافہ نہیں لیا۔

"پورے ہیں؟”

"جی۔”

"سامان کے بھی؟”

کاشف نے نظریں جھکا لیں۔

"جی۔”

ابا نے لفافہ لے لیا۔

کاشف جانے لگا تو ابا نے اسے آواز دی۔

"کاشف۔”

وہ رک گیا۔

ابا نے کہا:

"میں نے تمہارا برآمدہ مضبوط بنایا تھا۔”

کاشف خاموش کھڑا رہا۔

"تم نے سوچا تھا کہ میرا نرم ہونا میری کمزوری ہے۔”

ابا نے لفافہ میز پر رکھا۔

"اصل میں میں صرف یہ بھول گیا تھا کہ ہر لکڑی پر کیل نہیں ٹھونکا جاتا۔ کچھ لکڑیوں کو پہلے دیمک سے بچانا پڑتا ہے۔”

کاشف کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

وہ چلا گیا۔

میں نے ابا سے پوچھا:

"آپ نے اسے معاف کر دیا؟”

ابا نے اپنی پرانی ہتھوڑی اٹھائی اور اسے صاف کرنے لگے۔

"معاف تو کر دیا۔”

میں نے حیرت سے دیکھا۔

وہ بولے:

"لیکن دوبارہ اعتبار نہیں کروں گا۔”

پھر چند لمحے خاموش رہے اور آہستہ سے کہا:

"اعتبار معافی سے نہیں، کردار سے واپس آتا ہے۔”

میں نے دیکھا، ابا کی انگلیوں میں اب بھی لکڑی کی گرد جمی ہوئی تھی۔

مگر اس دن پہلی بار مجھے لگا کہ ان ہاتھوں نے صرف لکڑی نہیں تراشی تھی۔

انہوں نے ایک سبق بھی تراشا تھا:

ہر وعدہ سننے کے لیے نہیں ہوتا، کچھ وعدے لکھوانے کے لیے ہوتے ہیں۔

اور کبھی کبھی زندگی کی سب سے مضبوط ریلنگ وہ ہوتی ہے جو آدمی اپنے لیے بناتا ہے—
اپنی حد کی۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/