ٹی وی ٹوٹنے سے پہلے مجھے کبھی معلوم نہیں تھا کہ شی…
ہم نے وہ ٹی وی بڑی مشکل سے خریدا تھا۔
چھ ماہ تک میں نے چھوٹی چھوٹی خواہشیں ملتوی کیں۔ شوہر نے اپنی گاڑی کی سروس آگے ڈال دی۔ میں نے وہ سونے کی بالیاں نہیں خریدیں جو مجھے پسند تھیں۔
پھر ایک دن پچاسی انچ کی اسکرین ہمارے ڈرائنگ روم کی سفید دیوار پر لگ گئی۔
وہ صرف ٹی وی نہیں تھا۔
وہ چھ ماہ کی روک تھام، جمع کی ہوئی رقم اور ہماری چھوٹی چھوٹی قربانیوں کا ثبوت تھا۔
میرے شوہر نے صوفے پر بیٹھ کر ریموٹ ہاتھ میں لیا اور کہا:
"اب گھر واقعی گھر لگ رہا ہے۔”
میں نے ہنس کر کہا:
"بس کسی کی نظر نہ لگ جائے۔”
اس نے مذاق میں میری طرف دیکھا۔
"تم بھی نا…”
مجھے نہیں معلوم تھا کہ نظر ہمیشہ باہر سے نہیں لگتی۔
کبھی کبھی وہ گھر کے اندر بیٹھ کر لگائی جاتی ہے۔
—
میرے شوہر کی سالگرہ تھی۔
گھر میں لوگ تھے، بچوں کا شور تھا، کچن میں برتنوں کی آوازیں تھیں اور ڈائننگ ٹیبل پر اتنا کھانا تھا کہ اگلے دن تک ختم نہ ہوتا۔
اس کی بڑی بہن، رابعہ، بھی اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ آئی تھی۔
رابعہ کی عادت تھی کہ وہ کسی چیز کی تعریف مکمل نہیں کرتی تھی۔
"اچھا ہے پردہ… بس رنگ کچھ عجیب ہے۔”
"گھر خوبصورت ہے، لیکن تم نے کچن اتنا مہنگا کیوں بنوایا؟”
"یہ صوفہ تو جلدی خراب ہو جائے گا۔”
اور اگر میں کھانا بناتی تو وہ ایک لقمہ لے کر کہتی:
"نمک ٹھیک ہے، بس ہمارے ہاں اس میں ذرا اور مزہ ہوتا ہے۔”
میں مسکرا دیتی۔
کچھ رشتوں میں خاموشی ہی سب سے سستی سفارت کاری ہوتی ہے۔
اس رات بھی میں نے کچھ نہیں کہا۔
کھانے کے بعد رابعہ کے بچے ڈرائنگ روم میں چلے گئے۔
ہم لوگ میز پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
اچانک اندر سے ایک خوفناک آواز آئی۔
**ٹھااااک!**
پھر کچھ ٹوٹنے کی آواز۔
ہم سب بھاگے۔
میرا شوہر دروازے پر ہی رک گیا۔
میں نے سامنے دیکھا۔
ٹی وی کی پوری اسکرین اندر سے پھٹ چکی تھی۔
درمیان میں ایک سیاہ دائرہ تھا، جس سے باریک دراڑیں چاروں طرف پھیل گئی تھیں۔
فرش پر فٹ بال پڑی تھی۔
دونوں بچے خاموش کھڑے تھے۔
رابعہ نے بچوں کو دیکھا۔
پھر ٹی وی کو۔
پھر مجھے۔
"ارے…”
بس اتنا کہا۔
میرے شوہر نے دانت بھینچ کر پوچھا:
"یہ گیند یہاں کیسے آئی؟”
رابعہ نے فوراً جواب دیا:
"بچے ہیں۔ ہو گیا حادثہ۔”
میں نے خود کو سنبھالا۔
"حادثہ ہے تو ٹھیک ہے۔ لیکن ٹی وی کی مرمت تو کروانی پڑے گی۔”
رابعہ نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں نے اس سے اس کے گھر کا مطالبہ کر دیا ہو۔
"تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟”
"بچے آپ کے ہیں۔”
وہ ہنس دی۔
"تو؟ بچے کیا ہر چیز کا نقصان بھرنے لگیں؟ تم نے اتنا مہنگا ٹی وی ایسی جگہ رکھا ہی کیوں جہاں بچے تھے؟”
میرے شوہر نے کچھ کہنا چاہا۔
میں نے ہاتھ سے روک دیا۔
"رہنے دیں۔”
میں کچن کی طرف چلی گئی۔
دستانے لینے۔
کچرے کا تھیلا لینے۔
اور شاید اپنی آواز کو بھی کہیں رکھ آنے۔
—
جب میں واپس آئی تو ڈرائنگ روم کا دروازہ آدھا بند تھا۔
اندر سے رابعہ کی آواز آ رہی تھی۔
"شاباش!”
میں رک گئی۔
"بالکل ویسے ہی کیا جیسے میں نے کہا تھا۔”
میرے ہاتھ میں موجود پلاسٹک کا تھیلا نیچے لٹک گیا۔
ایک بچے نے شاید پوچھا:
"اب کھلونا ملے گا؟”
رابعہ نے ہنس کر کہا:
"جو پسند ہے لے لینا۔”
پھر وہ جملہ آیا جس نے میرے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
"ان کے پاس بہت پیسہ ہے۔ نیا لے لیں گے۔”
میں نے دروازہ نہیں کھولا۔
میں نے اپنے شوہر کو نہیں بلایا۔
میں نے شور نہیں کیا۔
میں صرف چند سیکنڈ وہاں کھڑی رہی۔
پھر واپس کچن میں چلی گئی۔
مجھے اس وقت غصہ نہیں آیا تھا۔
مجھے کچھ اور محسوس ہوا تھا۔
جیسے کسی نے میرے گھر میں موجود کسی چیز کو نہیں، **میرے وجود کو نشانہ بنایا ہو۔**
—
رات کو سب چلے گئے۔
شوہر سو گیا۔
میں ڈرائنگ روم میں اکیلی بیٹھی ٹوٹی ہوئی اسکرین دیکھتی رہی۔
بجلی بند تھی۔
اسکرین میں میرا دھندلا سا عکس دکھائی دے رہا تھا۔
میں نے اپنا چہرہ دیکھا۔
پھر ٹوٹی ہوئی اسکرین کو۔
مجھے اچانک خیال آیا:
اگر یہ ٹی وی نہ ہوتا تو رابعہ کیا توڑتی؟
صوفہ؟
میز؟
پردہ؟
یا کچھ اور؟
اور پھر مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ وہ چیزوں سے نہیں لڑ رہی تھی۔
وہ **ہماری زندگی سے لڑ رہی تھی۔**
اس رات میں نے رابعہ کے بارے میں سوچا۔
وہ ہمیشہ ہمارے گھر میں داخل ہو کر پہلے اسے دیکھتی تھی، پھر مجھے۔
جیسے وہ گھر کا معائنہ نہیں کرتی تھی۔
اپنی زندگی کا موازنہ کرتی تھی۔
اور ہر موازنے میں ہار جاتی تھی۔
—
اگلی صبح میں نے اسے فون کیا۔
"رابعہ، کل آ سکتی ہو؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی۔
"کیوں؟”
"بس آ جاؤ۔”
وہ آئی۔
اکیلی۔
میں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔
ٹوٹی ہوئی اسکرین ابھی تک دیوار پر لٹکی تھی۔
میں نے چائے رکھی۔
وہ ٹی وی کو دیکھتی رہی۔
پھر بولی:
"میں پیسے دے دوں گی۔”
"مجھے پیسوں کی بات نہیں کرنی۔”
وہ میری طرف دیکھنے لگی۔
میں نے پوچھا:
"تم نے بچوں کو گیند کیوں دی تھی؟”
اس کا چہرہ ایک دم بدل گیا۔
"میں نے نہیں دی۔”
"میں نے سن لیا تھا۔”
وہ خاموش ہو گئی۔
کافی دیر تک۔
پھر اس نے کپ اٹھایا مگر چائے نہیں پی۔
"تم ہمیشہ خوش کیوں رہتی ہو؟”
میں چونک گئی۔
"کیا؟”
وہ مسکرائی، لیکن اس مسکراہٹ میں کچھ ٹوٹا ہوا تھا۔
"یہی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے سب سے زیادہ غصہ آتا ہے۔”
"کیوں؟”
"کیونکہ تمہیں چیزیں ملتی نہیں ہیں۔”
میں اسے دیکھتی رہی۔
"تم انہیں حاصل کر لیتی ہو۔”
اس نے کپ میز پر رکھ دیا۔
"مجھے بھی کبھی ایسا گھر چاہیے تھا۔”
پھر اچانک اس کی آواز بدل گئی۔
"لیکن مجھے نہیں ملا۔”
میں نے کچھ نہیں کہا۔
وہ بولتی رہی۔
"میرے شوہر نے کبھی گھر بنانے کا خواب نہیں دیکھا۔ جو کماتے ہیں، خرچ کر دیتے ہیں۔ میں نے کبھی نئی چیز خریدی تو اگلے مہینے کوئی نہ کوئی مسئلہ آ گیا۔”
اس نے ٹوٹی ہوئی اسکرین کی طرف دیکھا۔
"اور تم…”
وہ رک گئی۔
"تمہارے گھر میں ہر چیز ایسے کھڑی رہتی ہے جیسے اسے یقین ہو کہ وہ کل بھی یہیں ہوگی۔”
مجھے پہلی بار اس کی بات سمجھ آئی۔
وہ ٹی وی نہیں توڑنا چاہتی تھی۔
وہ اس یقین کو توڑنا چاہتی تھی۔
یہ یقین کہ کسی کے پاس کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو محفوظ رہے۔
—
میں نے میز کی دراز سے ایک لفافہ نکالا۔
اس کے سامنے رکھا۔
وہ گھبرا گئی۔
"یہ کیا ہے؟”
"کھولو۔”
اندر ٹی وی کی رسید، مرمت کا تخمینہ اور ایک کاغذ تھا۔
اس نے کاغذ پڑھا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
**”اس نقصان کی قیمت تم ادا کرو گی، لیکن اس سے زیادہ قیمت اپنے بچوں کو نہیں سکھاؤ گی۔”**
وہ مجھے دیکھنے لگی۔
"اس کا مطلب؟”
"تم نے انہیں سکھایا ہے کہ جس چیز کی قدر تمہارے پاس نہیں، اسے توڑ دینا جائز ہے۔”
وہ خاموش رہی۔
"میں چاہتی ہوں تم انہیں واپس لے کر آؤ۔”
اس نے میری طرف دیکھا۔
"کیوں؟”
"انہیں بتانے کے لیے کہ انہوں نے غلط کیا تھا۔”
وہ کچھ دیر سوچتی رہی۔
پھر بولی:
"اور اگر میں نہ لاؤں؟”
میں نے کہا:
"پھر میں انہیں کبھی اپنے گھر میں اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔”
"بس؟”
"بس۔”
وہ شاید کسی بڑے انتقام کی توقع کر رہی تھی۔
شاید میں چاہتی کہ خاندان میں اس کی رسوائی ہو۔
شاید میں اس کے شوہر کو بتاؤں۔
شاید سب کے سامنے اس کی حقیقت کھول دوں۔
لیکن میں نے کچھ نہیں کیا۔
اس نے لفافہ اٹھایا۔
دروازے تک گئی۔
پھر مڑی۔
"تمہیں پتا ہے، سب سے بری بات کیا ہے؟”
میں خاموش رہی۔
"مجھے خوشی ہوئی تھی جب وہ ٹوٹا۔”
میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
"مجھے معلوم ہے۔”
وہ چلی گئی۔
—
دو ہفتے بعد نیا ٹی وی آ گیا۔
اسی دیوار پر۔
وہی پچاسی انچ۔
مگر میں نے اسے دیکھ کر خوشی محسوس نہیں کی۔
کچھ چیزیں مرمت کے بعد پہلے جیسی نہیں رہتیں۔
ایک شام دروازے کی گھنٹی بجی۔
رابعہ کے دونوں بچے تھے۔
اس نے انہیں اندر دھکیلا۔
چھوٹے والے نے ہاتھ میں ایک لفافہ پکڑا ہوا تھا۔
وہ میرے پاس آیا۔
"آنٹی…”
میں جھکی۔
اس نے لفافہ مجھے دیا۔
اندر چند سو روپے تھے۔
شاید ان کی جمع کی ہوئی عیدی۔
"یہ ٹی وی کے لیے ہیں۔”
میں نے بچے کو دیکھا۔
"تمہیں کس نے دیے؟”
اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
"امی نے کہا تھا، جو چیز توڑو، اسے ٹھیک کرنے میں حصہ بھی ڈالو۔”
میں نے پیسے واپس نہیں کیے۔
بس کہا:
"ٹھیک ہے۔”
وہ دونوں ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد چھوٹے نے اچانک پوچھا:
"آنٹی؟”
"ہاں؟”
"اگر کوئی چیز بہت اچھی ہو تو کیا اسے توڑ دینا چاہیے؟”
میں نے جواب دینے سے پہلے رابعہ کی طرف دیکھا۔
وہ دروازے کے پاس کھڑی تھی۔
اس کے چہرے پر نہ شرمندگی تھی، نہ مسکراہٹ۔
صرف تھکن۔
میں نے بچے سے کہا:
"نہیں۔”
وہ بولا:
"اگر وہ چیز ہماری نہ ہو؟”
میں نے کہا:
"تب بھی نہیں۔”
وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔
پھر بولا:
"اور اگر ہمیں اس لیے برا لگے کہ وہ کسی اور کے پاس ہے؟”
اس بار کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
میں نے رابعہ کو دیکھا۔
وہ نظریں چرا چکی تھی۔
میں نے بچے کے بالوں پر ہاتھ رکھا۔
"تب بھی نہیں۔”
بچہ مطمئن ہو کر ٹی وی دیکھنے لگا۔
رابعہ خاموشی سے واپس چلی گئی۔
دروازہ بند ہوا تو میں ڈرائنگ روم میں آ کر نئی اسکرین کے سامنے بیٹھ گئی۔
اس پر ایک کارٹون چل رہا تھا۔
اسکرین بالکل صاف تھی۔
مگر مجھے اس میں اپنا عکس نظر نہیں آ رہا تھا۔
صرف کمرے کے پیچھے ایک خالی کرسی دکھائی دے رہی تھی۔
میں کافی دیر اسے دیکھتی رہی۔
پھر مجھے خیال آیا—
کچھ لوگ ہماری چیزیں اس لیے نہیں توڑتے کہ وہ ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
وہ صرف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ **جو خوشی ان کے پاس نہیں، وہ کسی اور کے پاس بھی محفوظ نہیں رہنی چاہیے۔**
اور شاید انسان کی سب سے خوفناک غربت پیسوں کی نہیں ہوتی۔
یہ یقین ہے کہ اگر دوسرا خوش ہے…
تو اس خوشی میں اس کا اپنا حصہ کیوں نہیں؟
اسی دن میں نے پہلی بار سمجھا کہ رابعہ نے ٹی وی نہیں توڑا تھا۔
**اس نے اپنے اندر موجود اس شخص کو توڑنے کی کوشش کی تھی، جو برسوں سے دوسروں کی زندگیوں میں اپنا حصہ ڈھونڈ رہا تھا۔**
اور شاید اسی لیے…
اسکرین بدل گئی۔
مگر دراڑ کہیں اور رہ گئی۔….
افسانہ: دراڑ
©️ انتخاب سخن