منتخب نظمیں

حمزہ کے ننھے ہاتھوں میں دو سرخ سیب تھے۔ باپ نے مس…

حمزہ کے ننھے ہاتھوں میں دو سرخ سیب تھے۔

باپ نے مسکرا کر کہا:

’’بیٹا، ایک سیب مجھے دے دو۔‘‘

حمزہ نے فوراً ایک سیب دانتوں سے کاٹ لیا۔

باپ نے کچھ کہنا چاہا ہی تھا کہ بچے نے دوسرا سیب بھی کاٹ لیا۔

اس کے چہرے کی مسکراہٹ بجھ گئی۔

اس نے دل ہی دل میں سوچا، میں نے تو صرف ایک سیب مانگا تھا…

وہ خاموشی سے بچے کے پاس بیٹھ گیا۔

حمزہ نے دونوں سیب غور سے دیکھے۔ پھر اچانک ایک سیب باپ کی طرف بڑھا دیا۔

’’ابو، یہ والا لے لیں۔‘‘

باپ نے حیرت سے پوچھا:

’’کیوں؟‘‘

بچے نے معصومیت سے کہا:

’’یہ زیادہ میٹھا ہے۔‘‘

باپ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔

اس نے سیب لیا، مگر اس سے پہلے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔

اسے پہلی بار احساس ہوا کہ ہم اکثر کسی کے عمل کو دیکھ کر اس کی نیت کا فیصلہ کر لیتے ہیں، جبکہ کہانی کا آخری جملہ ہمیں ابھی معلوم ہی نہیں ہوتا۔

شاید زندگی کے بہت سے رشتے بھی اسی طرح ٹوٹتے ہیں۔

ہم آدھی بات دیکھتے ہیں، پورا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

اور کبھی کبھی…

جس ہاتھ کو ہم خودغرض سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ دراصل ہمارے لیے زیادہ میٹھا سیب بچا رہا ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/