میرے والد مرتے وقت اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ…
باہر نیم کا درخت تھا، جس کے نیچے کبھی ہماری سائیکلیں کھڑی رہتی تھیں، اور ذرا دور وہ پرانی سڑک تھی جس پر والد صاحب نے شاید اپنی زندگی کے آخری پینتیس برس گاڑی چلائی تھی۔
میں نے ان کی انگلیاں دبائیں۔
انہوں نے میری طرف دیکھا۔
آنکھوں میں پہچان تھی یا نہیں، میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکا۔
"گاڑی کی چابی کہاں ہے؟”
یہ ان کے آخری جملوں میں سے ایک تھا۔
میں نے نظریں جھکا لیں۔
"ابو، گاڑی نہیں چلانی۔”
وہ ناراض ہو گئے۔
"میں نے کہا ہے چابی دو۔ عدالت کا وقت ہو رہا ہے۔”
میں نے کچھ نہیں کہا۔
عدالت کو ریٹائر ہوئے انہیں گیارہ برس ہو چکے تھے۔
اور ڈرائیونگ چھوڑے ہوئے شاید ایک ہفتہ بھی نہیں۔
—
میرے والد وکیل تھے۔
پھر جج بنے۔
لوگ انہیں **جسٹس سلیم محمود** کہتے تھے۔
گھر میں وہ صرف ابو تھے۔
اور بڑھاپے نے ان دونوں آدمیوں کے درمیان عجیب سا فاصلہ پیدا کر دیا تھا۔
جسٹس سلیم محمود کی یادداشت میں فیصلے محفوظ تھے، مقدمات محفوظ تھے، قانون کی دفعات محفوظ تھیں، بڑے بڑے لوگوں کے نام محفوظ تھے۔
مگر ابو…
وہ اپنی عینک کہاں رکھتے تھے، بھول جاتے تھے۔
دوپہر کو پوچھتے کہ کھانا کب ملے گا، حالانکہ ابھی کھا کر اٹھے ہوتے۔
امی کو کبھی بہن سمجھتے، کبھی کسی پرانے مقدمے کی گواہ۔
اور مجھے دیکھ کر غصے سے کہتے:
"تمہیں کس نے حق دیا میری گاڑی روکنے کا؟”
"ابو، آپ بھول جاتے ہیں۔”
"میں کچھ نہیں بھولتا!”
یہ جملہ وہ اتنے یقین سے کہتے کہ چند لمحوں کے لیے مجھے خود شک ہونے لگتا۔
شاید واقعی وہ نہیں بھولتے۔
شاید بھولنے والا میں ہوں۔
وہ شخص جس نے میرے ہاتھ میں پہلی بار قلم دیا تھا۔
جس نے مجھے عدالت لے جا کر کہا تھا:
"بیٹا، آدمی کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا طاقتور ہے۔ اصل پہچان یہ ہے کہ طاقت اس کے ہاتھ میں آ کر دوسروں کے ساتھ کیا کرتی ہے۔”
وہی آدمی اب کبھی کبھی پانی کا گلاس اٹھا کر بھول جاتا تھا کہ پینا کیوں تھا۔
اور میں…
میں تھک گیا تھا۔
سچ کہوں تو بہت تھک گیا تھا۔
—
ان کی وفات سے کچھ ماہ پہلے ایک دن انہوں نے گاڑی نکال لی۔
امی نے مجھے فون کیا۔
"تمہارے ابو پھر گاڑی لے کر نکل گئے ہیں۔”
میں دفتر سے اٹھا اور سڑکوں پر انہیں تلاش کرتا رہا۔
جب ملے تو گاڑی ایک دکان کے باہر کھڑی تھی۔
وہ اندر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔
میں نے دروازہ کھولا۔
"ابو!”
انہوں نے غصے سے اخبار تہہ کیا۔
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟”
"آپ کو لینے۔”
"میں بچہ نہیں ہوں۔”
میں خاموش رہا۔
انہوں نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
میں نے چابی نکال لی۔
پھر جو ہوا، وہ شاید میری زندگی کی سب سے بڑی شرمندگی ہے۔
انہوں نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میں ان کا بیٹا نہیں، ان کا مخالف وکیل ہوں۔
"میری چیزیں مجھ سے چھیننے لگے ہو؟”
میں کچھ کہہ نہ سکا۔
اس رات وہ مجھ سے بات نہیں کرتے رہے۔
اور میں اپنے کمرے میں بیٹھا یہ سوچتا رہا کہ میں جس باپ کو بچا رہا ہوں، وہ میرے لیے کہاں چلا گیا ہے؟
—
وہ ایک سال پہلے مر گئے۔
اور میں نے محسوس کیا کہ آدمی صرف اس دن نہیں مرتا جب اس کی سانس رکتی ہے۔
کبھی کبھی وہ بہت پہلے مر جاتا ہے۔
جب اس کے اپنے لوگ اسے یاد کرنے سے تھک جاتے ہیں۔
—
جنازے میں شہر بھر کے لوگ تھے۔
مسجد کا صحن بھر گیا تھا۔
وہ لوگ بھی آئے جنہیں میں جانتا تھا۔
وہ بھی جنہیں میں نہیں جانتا تھا۔
کسی نے کہا:
"جسٹس صاحب نے میرا مقدمہ جتوایا تھا۔”
کسی نے کہا:
"انہوں نے میری نوکری بچائی تھی۔”
ایک بوڑھا شخص آیا اور میرے ہاتھ چوم کر بولا:
"بیٹا، آپ کے ابو بڑے آدمی تھے۔”
مجھے ان جملوں سے کوئی خاص تسلی نہیں ہوئی۔
میرے لیے تو وہ آخری دنوں والا آدمی تھے۔
وہی جو چابی مانگتا تھا۔
وہی جو چیختا تھا۔
وہی جو کبھی مجھے پہچانتا تھا، کبھی نہیں۔
مجھے اپنے باپ کا وہ آدمی یاد ہی نہیں آ رہا تھا جسے باقی دنیا یاد کر رہی تھی۔
—
تعزیتی ریفرنس میں ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
پرانے ساتھی، وکیل، جج، سرکاری افسر، شاگرد، رشتے دار…
اسٹیج پر ان کی تصویر رکھی تھی۔
سیاہ کوٹ۔
سفید بال۔
وہی آنکھیں جن میں جوانی میں شاید عدالت کا پورا کمرہ خاموش ہو جاتا تھا۔
ایک سابق چیف جسٹس نے ان کے بارے میں بات کی۔
ایک معروف وکیل نے ان کی دیانت داری کا ذکر کیا۔
پھر ایک خط پڑھا گیا۔
ملک کے ایک بڑے سیاست دان کا۔
اس میں لکھا تھا کہ نوجوانی میں جب وہ قانون پڑھنے کا سوچ بھی نہیں رہے تھے، میرے والد نے ان سے ایسی گفتگو کی تھی جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
لوگ تالیاں بجاتے رہے۔
میں خاموش بیٹھا رہا۔
میرے اندر کچھ ہلکا سا ضرور ہوا، مگر مکمل نہیں۔
پھر پروگرام کے آخر میں منتظم نے کہا:
"اگر کوئی اور بھی کچھ کہنا چاہے تو تشریف لائے۔”
ہال میں چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر پچھلی صفوں سے ایک عورت اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ تقریباً ساٹھ برس کی ہوں گی۔
سادہ سا لباس۔
سر پر دوپٹہ۔
ان کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا اور ایک نوجوان لڑکی تھی۔
وہ تینوں آہستہ آہستہ اسٹیج کی طرف بڑھے۔
میں نے امی کی طرف دیکھا۔
امی نے نفی میں سر ہلایا۔
میری بہن نے بھی۔
ہم میں سے کوئی انہیں نہیں جانتا تھا۔
عورت مائیک کے سامنے کھڑی ہوئی۔
اس نے ہال کو دیکھا۔
پھر میرے والد کی تصویر کو۔
اور مسکرائی۔
"آپ لوگ مجھے نہیں جانتے۔”
اس کی آواز میں لرزش تھی، مگر الفاظ صاف تھے۔
"لیکن میں آپ کے والد کو بہت اچھی طرح جانتی تھی۔”
ہال بالکل خاموش ہو گیا۔
—
"تقریباً تیس سال پہلے کی بات ہے۔”
وہ بولی۔
"میں ایک اکیلی عورت تھی۔”
اس نے ذرا توقف کیا۔
"میرے شوہر دنیا میں نہیں تھے۔ آمدنی بہت کم تھی۔ اور میرے گھر میں ایک بچہ تھا… جو میرا خون نہیں تھا، مگر میری جان تھا۔”
لڑکے نے سر جھکا لیا۔
"میں اسے گود لینا چاہتی تھی۔”
وہ مسکرائی۔
"لیکن مجھے قانون کا کچھ پتا نہیں تھا۔ کاغذوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔ عدالتوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔ بس اتنا جانتی تھی کہ اگر میں اسے اپنا نام نہ دے سکی تو شاید ایک دن کوئی اسے مجھ سے لے جائے گا۔”
ہال میں کسی نے کھانسی تک نہیں کی۔
"لوگوں سے پوچھا تو کسی نے کہا، اگر اچھا وکیل چاہیے اور پیسے نہیں ہیں تو سلیم محمود کے پاس جاؤ۔”
میری گردن خود بخود سیدھی ہو گئی۔
وہ میری طرف دیکھ رہی تھی۔
"میں ڈرتے ڈرتے ان کے دفتر گئی۔”
وہ ہنس دی۔
"باہر بیٹھ کر تقریباً آدھا گھنٹہ سوچتی رہی کہ اندر جاؤں یا نہیں۔ آخرکار چپڑاسی نے کہا، بی بی، اگر کام ہے تو اندر جائیں۔ یہاں بیٹھنے سے کام نہیں ہوگا۔”
ہال میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی۔
"میں اندر گئی۔ آپ کے والد نے میری بات سنی۔ بہت دیر تک سنی۔”
وہ خاموش ہوئی۔
"پھر انہوں نے کہا: ‘بچے کو تم نے پال رکھا ہے؟'”
"میں نے کہا: ‘جی۔'”
"پوچھا: ‘وہ تمہیں ماں کہتا ہے؟'”
"میں نے کہا: ‘جی۔'”
"انہوں نے فائل بند کی اور کہا: ‘پھر باقی کام قانون کرے گا۔ تم فکر نہ کرو۔'”
عورت کی آواز بھر آئی۔
"انہوں نے میرا مقدمہ لڑا۔”
وہ ذرا جھکی۔
"اور میں اپنے بچے کو قانونی طور پر اپنا بیٹا بنا سکی۔”
لڑکے نے پہلی بار سر اٹھایا۔
میں اسے دیکھنے لگا۔
وہ میرے باپ کو نہیں، باپ کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔
—
"مقدمہ ختم ہوا تو میں نے پوچھا، فیس کتنی ہے؟”
عورت نے مسکرا کر سر ہلایا۔
"آپ کے والد نے کہا: ‘فیس؟'”
پھر اس نے والد کی آواز کی نقل کرتے ہوئے کہا:
"‘یہ کام فیس کے لیے نہیں کیا۔'”
ہال میں کئی لوگ مسکرائے۔
"میں نے کہا، ‘لیکن صاحب، کچھ تو لے لیجیے۔'”
وہ ہنس پڑے تھے۔
"انہوں نے کہا: ‘بی بی، یہ اچھا کام ہے۔ اچھے کام کی قیمت نہیں لگاتے۔'”
عورت کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
"پھر کہا تھا…”
وہ چند لمحے بول نہ سکی۔
میں آگے کو جھک گیا۔
"انہوں نے کہا تھا:”
"‘وکیل اگر کسی کو اس کا حق دلانے کے بعد بھی صرف اپنی فیس گنے، تو وہ وکیل ہے۔ لیکن اگر کبھی کبھی کسی کو اس کی پوری زندگی واپس دے دے… تو شاید وہ انسان بھی ہے۔'”
میرے سینے میں کچھ ٹوٹا۔
—
عورت نے اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"یہ وہی بچہ ہے۔”
ہال میں ایک گہری سانس کی آواز ابھری۔
"آج اس کی عمر بتیس سال ہے۔”
لڑکے کی آنکھیں نم تھیں۔
"اور چند سال بعد مجھے محسوس ہوا کہ اسے ایک بہن چاہیے۔”
عورت نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا:
"ماں ہونے کے باوجود میں ایک بار پھر قانون سے ڈر گئی۔”
کچھ لوگ مسکرائے۔
"لیکن میں دوبارہ آپ کے والد کے پاس گئی۔”
اس بار میری آنکھیں تصویر سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔
"انہوں نے دوسری بچی کا مقدمہ بھی اسی طرح لڑا۔”
وہ لڑکی آگے بڑھی۔
"یہ وہ بچی ہے۔”
ہال میں تالی بجی۔
ایک آدمی نے شاید بے اختیار اپنے آنسو پونچھے۔
عورت بولتی رہی۔
"دوسری بار بھی میں نے فیس دینی چاہی۔”
اس نے سر ہلایا۔
"انہوں نے پھر نہیں لی۔”
پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولی:
"آپ کے والد نے ہم سے کہا تھا: ‘بچوں کو گھر ملتا دیکھنا میری فیس ہے۔'”
—
ہال میں اب کوئی اپنی آنکھیں چھپانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔
وہ عورت بولی:
"میں نے اپنے بچوں کو ہمیشہ بتایا کہ وکیل صرف عدالت میں دلائل نہیں دیتے۔”
"کبھی کبھی وہ ٹوٹے ہوئے لوگوں کو بھی جوڑتے ہیں۔”
"میں نے انہیں بتایا کہ ایک مسلمان، ایک انسان، ایک باپ، ایک وکیل…”
اس نے تصویر کی طرف دیکھا۔
"کبھی کسی اجنبی کے لیے بھی اتنا بڑا دروازہ کھول سکتا ہے کہ اس کے بعد اس اجنبی کو کبھی اجنبی رہنے کی ضرورت نہ پڑے۔”
وہ لڑکے کی طرف متوجہ ہوئی۔
"میرے بیٹے نے یونیورسٹی میں قانون پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
ہال میں پھر سرگوشی سی ہوئی۔
"اور میری بیٹی…”
اس نے لڑکی کا ہاتھ تھاما۔
"وہ لاء اسکول میں ہے۔”
اس بار تالیاں بہت دیر تک بجتی رہیں۔
تعزیتی مجلس میں تالیاں اچھی نہیں لگتیں۔
مگر اس دن کسی کو پروا نہیں تھی۔
وہ تالیاں میرے والد کے لیے نہیں تھیں۔
وہ اس نیکی کے لیے تھیں جس کا انہیں خود بھی شاید کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنی دور تک جائے گی۔
—
عورت نے مائیک دوبارہ تھاما۔
"میں آپ سب سے ایک بات کہنے آئی تھی۔”
وہ میری طرف دیکھ رہی تھی۔
"آپ نے اپنے والد کو بہت سے لوگوں میں تقسیم کیا ہوگا۔”
میں نے آنکھیں جھکا لیں۔
"کسی کے لیے وہ جج تھے۔”
"کسی کے لیے وکیل۔”
"کسی کے لیے استاد۔”
"کسی کے لیے دوست۔”
پھر اس نے اپنے دونوں بچوں کو دیکھا۔
"لیکن ہمارے لیے…”
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
"وہ وہ شخص تھے جس نے ہمیں ایک خاندان بنا دیا۔”
خاموشی۔
"آپ شاید ان کے بارے میں سب کچھ نہیں جانتے۔”
اس نے مسکرا کر کہا۔
"لیکن ہم جانتے ہیں۔”
پھر وہ پیچھے ہٹی۔
لڑکا آگے بڑھا۔
اس نے میرے والد کی تصویر کو سلام کیا۔
لڑکی نے بھی۔
اور تینوں آہستہ آہستہ ہال سے باہر جانے لگے۔
—
میں اپنی نشست پر بیٹھا رہا۔
امی میرے برابر تھیں۔
میری بہن دوسری طرف۔
اور میرے سامنے میرے والد کی تصویر۔
اچانک مجھے وہ سب کچھ یاد آنے لگا جو برسوں سے میرے ذہن کے کسی اندھیرے کمرے میں بند پڑا تھا۔
مجھے وہ دن یاد آیا جب ایک غریب آدمی ہمارے گھر آیا تھا اور ابو نے امی سے کہا تھا:
"کھانا کھلایا ہے؟”
مجھے یاد آیا جب ایک طالب علم کی فیس انہوں نے خاموشی سے جمع کروائی تھی۔
مجھے یاد آیا کہ عید پر ان کے پاس آنے والے لوگوں کی قطار کیوں کبھی ختم نہیں ہوتی تھی۔
مجھے یاد آیا کہ وہ اکثر کہتے تھے:
"کسی کا کام ہو جائے تو اس سے شکریہ مت مانگو۔ بس دعا کرنے دو۔”
مجھے یاد آیا کہ میں بچپن میں پوچھتا تھا:
"ابو، آپ سب کی مدد کیوں کرتے ہیں؟”
وہ اخبار سے نظریں اٹھائے بغیر کہتے:
"بیٹا، آدمی کو زندگی میں دو چیزیں ضرور چھوڑنی چاہییں۔ ایک اچھا نام، دوسری کسی کے دل میں اپنے لیے جگہ۔”
تب میں نہیں سمجھا تھا۔
آج سمجھ آیا۔
—
تعزیتی مجلس ختم ہو چکی تھی۔
لوگ جا رہے تھے۔
کرسیاں خالی ہو رہی تھیں۔
میز پر پڑے گلاس اٹھائے جا رہے تھے۔
اور میں پہلی بار اپنے والد کے ساتھ اکیلا تھا۔
میں نے تصویر کے قریب جا کر اسے دیکھا۔
وہی سیاہ کوٹ۔
وہی سنجیدہ چہرہ۔
مگر اب مجھے اس تصویر کے پیچھے ایک اور چہرہ نظر آ رہا تھا۔
وہ آدمی جو کسی غریب عورت سے فیس نہیں لیتا تھا۔
وہ آدمی جو دو بچوں کو قانونی کاغذوں سے زیادہ، ایک خاندان دیتا تھا۔
وہ آدمی جو عدالت میں لوگوں کے مقدمے لڑتا تھا۔
اور شاید زندگی بھر خاموشی سے ایک اور مقدمہ بھی لڑتا رہا تھا۔
**اس مقدمے کا نام تھا: انسان کو انسان سے ملانا۔**
میں نے تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر پہلی بار اپنے والد سے معافی مانگی۔
اس لیے نہیں کہ میں نے ان کی گاڑی روک لی تھی۔
اس لیے نہیں کہ میں ان کے غصے سے تنگ آ گیا تھا۔
اس لیے بھی نہیں کہ میں نے ان کے بھولنے کو ان کی پوری زندگی سمجھ لیا تھا۔
بلکہ اس لیے کہ میں نے ایک وقت کے لیے یہ مان لیا تھا کہ میرے باپ کی آخری شکل ہی ان کی اصل شکل ہے۔
میں غلط تھا۔
بڑھاپا آدمی سے بہت کچھ چھین لیتا ہے۔
یادداشت بھی۔
آواز بھی۔
اختیار بھی۔
مگر اس کی پوری زندگی نہیں چھین سکتا۔
اگر اس نے اچھا کیا ہو تو…
اس کی نیکی اس کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔
کبھی کسی اجنبی کے بچوں میں۔
کبھی کسی شاگرد کے فیصلے میں۔
کبھی کسی بوڑھے کی دعا میں۔
اور کبھی…
اپنے بیٹے کی آنکھوں میں۔
میں نے تصویر کو آخری بار دیکھا۔
مجھے یوں لگا جیسے ابو پھر سے وہی پرانی بات کہہ رہے ہوں:
"بیٹا، آدمی کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنا طاقتور تھا۔”
"اصل پہچان یہ ہے کہ اس کی طاقت سے کتنے کمزور لوگ محفوظ ہوئے۔”
میں مسکرا دیا۔
اور بہت دیر بعد…
مجھے اپنا باپ واپس مل گیا۔
افسانہ: اصلی شخصیت
انتخاب سخن