مجھے افسوس ہے کہ تمہیں یہ بات بتیس سال بعد سمجھ آئ…
بتیس سال کی شادی میں پہلی بار سلیم نے اپنی بیوی سے کہا تھا:
’’اگر تمہیں میرے ساتھ رہنا اتنا ہی مشکل لگتا ہے تو طلاق لے لو۔‘‘
اور نائلہ نے بھی پہلی بار جواب دینے میں دیر نہیں کی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
بس ایک لفظ۔
مگر بعض لفظ جب بتیس سال بعد بولے جائیں تو گھر کی دیواروں میں برسوں سے لٹکی ہوئی تصویریں بھی جیسے کانپ جاتی ہیں۔
ان کے دونوں بیٹے اسی رات گھر پہنچے۔
بڑا بیٹا، جو لاہور میں اپنی کمپنی چلاتا تھا، اور چھوٹا، جو اسلام آباد میں ڈاکٹر تھا، دونوں نے الگ الگ اپنے باپ کو سمجھایا۔
’’ابو، آپ دونوں پاگل ہو گئے ہیں؟‘‘
سلیم خاموش بیٹھے رہے۔
نائلہ دوسرے کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی۔
بات طلاق تک پہنچ چکی تھی۔
اور وجہ؟
نہ دوسری عورت۔
نہ جائیداد۔
نہ پیسہ۔
نہ کوئی پرانا راز۔
صرف ایک سوال۔
’’آپ نے مجھے شادی کی رات منہ دکھائی میں کیا دیا تھا؟‘‘
سلیم کو یہ سوال سمجھ ہی نہیں آیا تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
نائلہ نے الماری کھولی، پرانے کپڑوں اور شادی کے جوڑوں کے نیچے سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا۔
’’دیکھیں۔‘‘
ڈبہ خالی تھا۔
’’میری بہن کو اس کے شوہر نے سونے کی انگوٹھی دی تھی۔ خالہ کو چوڑیاں ملی تھیں۔ صائمہ کو ہار ملا تھا۔ ہر عورت اپنی منہ دکھائی سنبھال کر رکھتی ہے۔ میری شادی کی رات آپ نے مجھے کچھ نہیں دیا۔‘‘
سلیم ہنس پڑے۔
’’نائلہ، تمہیں بتیس سال بعد یہ بات یاد آئی ہے؟‘‘
وہ ہنسی نہیں۔
’’مجھے یاد نہیں آئی۔ مجھے یاد دلائی گئی ہے۔‘‘
سلیم کا چہرہ بدل گیا۔
’’کس نے؟‘‘
’’کل صائمہ آئی تھی۔‘‘
یہ نام سنتے ہی سلیم خاموش ہو گئے۔
صائمہ نائلہ کی پرانی سہیلی تھی۔
اس شام بات یہاں ختم ہو جانی چاہیے تھی۔
مگر نہیں ہوئی۔
صائمہ نے جاتے جاتے بس اتنا کہا تھا:
’’نائلہ، ایک بات بتاؤ… سلیم نے تمہیں شادی کی رات منہ دکھائی میں کچھ نہیں دیا تھا؟‘‘
نائلہ نے ہنس کر کہا تھا:
’’نہیں۔‘‘
صائمہ نے حیرت سے آنکھیں پھیلائی تھیں۔
’’کچھ بھی نہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
صائمہ نے چند لمحے اسے دیکھا۔
پھر بہت معمولی انداز میں کہا:
’’عجیب ہے۔ میں تو ہوتی تو کبھی نہ بھولتی۔‘‘
یہی وہ جملہ تھا۔
نائلہ نے اس رات پہلی مرتبہ اپنی بتیس سالہ شادی کو پیچھے مڑ کر دیکھا۔
اور اسے سب کچھ کم نظر آنے لگا۔
سلیم نے کبھی زیور نہیں دیا تھا؟
دیا تھا۔
شادی کے تیسرے سال سونے کی چوڑیاں۔
پانچویں سال والدین کے لیے عمرے کے ٹکٹ۔
ساتویں سال وہ چھوٹا سا پلاٹ جس پر بعد میں گھر بنا۔
دسویں سال، جب نائلہ کی کمر کا آپریشن ہوا، سلیم نے تین ہفتے دکان بند رکھی تھی۔
بچوں کی پیدائش کے بعد ہر عید پر وہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ لاتے تھے۔
مگر عجیب بات تھی۔
اس رات کے بعد نائلہ کو وہ سب یاد نہیں آ رہا تھا۔
اسے صرف ایک خالی ڈبہ نظر آ رہا تھا۔
اور خالی ڈبے کے اندر ایک سوال۔
’’تمہیں ملا کیا تھا؟‘‘
سلیم نے غصے میں کہا:
’’میں نے بتیس سال تمہیں دیا کیا ہے؟‘‘
نائلہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
’’یہی تو مسئلہ ہے! تم سمجھتے ہو جو تم نے دیا وہ کافی ہے۔ کبھی یہ نہیں سوچا کہ مجھے کیا چاہیے تھا۔‘‘
’’تو بتا دیتیں!‘‘
’’ہر چیز بتانی پڑتی ہے؟‘‘
سلیم نے میز پر ہاتھ مارا۔
’’بتیس سال سے تو بتا رہی تھیں کہ خوش ہو!‘‘
نائلہ چیخی:
’’کیونکہ میں خوش تھی!‘‘
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر سلیم نے وہ جملہ کہہ دیا جس نے بتیس سال کی محبت کو ایک لمحے کے لیے اجنبی بنا دیا۔
’’تو پھر اب کیا چاہیے؟‘‘
نائلہ نے آنسو پونچھے۔
’’اب؟ کچھ نہیں۔‘‘
اسی رات دونوں الگ کمروں میں سوئے۔
اور اگلے دن ان کے بیٹوں نے گھر سنبھال لیا۔
طلاق نہیں ہونے دی۔
مگر صلح بھی نہیں ہوئی۔
وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔
ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔
ایک دوسرے کے سامنے سے گزرتے تھے۔
مگر بات نہیں کرتے تھے۔
پھر ایک ہفتے بعد سلیم میرے پاس آئے۔
وہ کرسی پر بیٹھے رہے اور کافی دیر تک فرش کو دیکھتے رہے۔
میں نے پوچھا:
’’آپ دونوں میں اصل مسئلہ کیا ہوا؟‘‘
انہوں نے کہا:
’’مجھے بھی نہیں معلوم۔‘‘
پھر اچانک ان کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’بس ایک سوال نے میری پوری زندگی مشکوک کر دی۔‘‘
میں نے کہا:
’’کون سا سوال؟‘‘
انہوں نے میری طرف دیکھا۔
’’آپ نے اپنی بیوی کو کبھی بتایا کہ وہ آپ کے لیے کیا ہے؟‘‘
وہ خاموش ہو گئے۔
میں نے نائلہ کو فون کیا۔
وہ بھی رو پڑیں۔
کافی دیر تک دونوں ایک دوسرے کی شکایتیں کرتے رہے۔
پھر میں نے صائمہ کا ذکر کیا۔
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
نائلہ نے آہستہ سے کہا:
’’مجھے نہیں معلوم اس نے یہ بات کیوں کہی تھی۔‘‘
میں نے پوچھا:
’’اور اگر وہ نہ کہتی؟‘‘
نائلہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔
کافی دیر بعد بولیں:
’’تو شاید میں کبھی سوچتی ہی نہیں کہ مجھے کیا نہیں ملا۔‘‘
سلیم نے پہلی مرتبہ اس گفتگو میں اپنی بیوی کو مخاطب کیا۔
’’نائلہ۔‘‘
وہ خاموش ہوئیں۔
’’میں نے تمہیں منہ دکھائی نہیں دی تھی۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’لیکن میں نے تمہیں کبھی چھوڑا بھی نہیں۔‘‘
دوسری طرف سے سسکی کی آواز آئی۔
سلیم بولتے رہے۔
’’مجھے یاد نہیں تھا کہ شادی کی رات کیا ہوا تھا۔ مجھے صرف یہ یاد ہے کہ اگلے دن تم میرے ساتھ ناشتے پر بیٹھی تھیں اور تمہارے بال کھلے ہوئے تھے۔ تم بہت ڈری ہوئی تھیں۔ میں نے کہا تھا فکر نہ کرو، میں ہوں نا۔‘‘
نائلہ رونے لگیں۔
سلیم کی آواز بھی بھیگ گئی۔
’’شاید وہی میری منہ دکھائی تھی… مگر میں اتنا بے وقوف تھا کہ اسے تحفہ سمجھ ہی نہیں سکا۔‘‘
نائلہ نے پہلی بار ہنسنے کی کوشش کی۔
’’اور میں اتنی بے وقوف تھی کہ بتیس سال بعد ایک خالی ڈبہ دیکھ کر سب کچھ بھول گئی۔‘‘
دونوں طرف خاموشی رہی۔
پھر نائلہ نے پوچھا:
’’سلیم؟‘‘
’’ہاں؟‘‘
’’اس دن غصے میں جو میری چاولوں کی پلیٹ تم پر گری تھی… کپڑے خراب ہوئے تھے؟‘‘
سلیم ہنس پڑے۔
’’کپڑے بھی۔ عزت بھی۔‘‘
نائلہ بھی ہنسنے لگیں۔
کمرے کے باہر کھڑے دونوں بیٹوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
بڑے نے آہستہ سے کہا:
’’لگتا ہے امی ابو واپس آ گئے ہیں۔‘‘
—
کچھ دن بعد نائلہ نے اپنی سہیلی صائمہ سے ملاقات کی۔
صائمہ نے معمول کے مطابق پوچھا:
’’اب کیسی ہو؟‘‘
نائلہ نے مسکرا کر کہا:
’’بہتر۔‘‘
’’سلیم سے صلح ہو گئی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
صائمہ نے حیرت سے پوچھا:
’’اتنی جلدی؟‘‘
نائلہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’ایک سوال نے ہمارا گھر توڑ دیا تھا۔ ایک جواب نے بچا لیا۔‘‘
صائمہ خاموش ہو گئی۔
نائلہ اٹھنے لگیں تو صائمہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔
’’میں نے تو بس بات کی تھی۔‘‘
نائلہ نے نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔
’’ہاں۔ بات ہی تو تھی۔‘‘
وہ دروازے تک گئیں، پھر پلٹ کر بولیں:
’’لیکن کبھی کبھی انسان کے پاس گھر توڑنے کے لیے پتھر نہیں ہوتے… صرف سوال ہوتے ہیں۔‘‘
—
اس رات نائلہ نے اپنی الماری کھولی۔
وہی پرانا ڈبہ نکالا۔
اب بھی خالی تھا۔
اس نے اسے کچھ دیر دیکھا۔
پھر ڈبہ واپس رکھنے کے بجائے سلیم کے سامنے لے آئی۔
’’اس میں کچھ رکھ دیں۔‘‘
سلیم نے حیرت سے پوچھا:
’’کیا؟‘‘
نائلہ نے کہا:
’’جو بتیس سال پہلے نہیں رکھ سکے تھے۔‘‘
سلیم مسکرائے۔
اگلی صبح نائلہ نے ڈبہ کھولا تو اس میں ایک چھوٹی سی پرچی تھی۔
صرف ایک جملہ:
’’مجھے افسوس ہے کہ تمہیں یہ بات بتیس سال بعد سمجھ آئی کہ تم میری زندگی کی سب سے قیمتی چیز تھیں۔‘‘
نائلہ نے پرچی تہہ کی، ڈبے میں رکھی اور الماری بند کر دی۔
اس دن پہلی بار اسے خالی ڈبہ خالی نہیں لگا۔
اسے سمجھ آ گیا تھا کہ بعض چیزیں دیر سے ملتی ہیں، مگر اگر محبت زندہ ہو تو دیر ہمیشہ بہت دیر نہیں ہوتی۔
اور بعض لوگ ہماری زندگی میں زہر لے کر نہیں آتے۔
وہ صرف ایک ایسا سوال لے کر آتے ہیں…
جس کے بعد ہمیں اپنی خوشیوں کی قیمت نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔
اس لیے ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
کچھ سوالوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہیے جہاں وہ پیدا ہوئے ہوں۔
ورنہ ممکن ہے آپ اپنی پوری زندگی کے سکون کو صرف اس لیے کھو دیں کہ کسی نے آپ سے پوچھ لیا تھا:
’’تمہیں آخر ملا کیا ہے؟‘‘
افسانہ: منہ دکھائی
©️ انتخاب سخن